Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 2 · Chapter 15

ایمان اور اسلام کی کتاب

ایمان کی خصلتوں اور اس کی نشانیوں کا بیان

15 hadiths in this chapter

89

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #89

Sahih

۔ (۸۹)۔عَنْ سُفْیَانَ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ الثَّقَفِیِّ ؓ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! قُلْ لِیْ فِیْ الْاِسُلَامِ قَوْلًا لَا أَسْأَلُ عَنْہُ أَحَدًا غَیْرَکَ، قَالَ أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ: بَعْدَکَ، قَالَ: ((قُلْ آمَنْتُ بِاللّٰہِ ثُمَّ اسْتَقِمْ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۴۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سفیان بن عبد اللہ ثقفیؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اسلام کے بارے میں کوئی ایسی بات بتائیں کہ آپ کے علاوہ (ابو معاویہ نے آپ کے بعد کے لفظ بولے ہیں) کسی سے اس کے بارے میں سوال کرنے کی گنجائش باقی نہ رہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم کہو کہ میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا ہوں اور پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔

90

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #90

Sahih

۔ (۹۰) (وَ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ)۔قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! حَدِّثْنِیْ بِأَمْرٍ أَعْتَصِمُ بِہِ، قَالَ: ((قُلْ رَبِّیَ اللّٰہُ ثُمَّ اسْتَقِمْ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! مَا أَخْوَفُ مَا تَخَافُ عَلَیَّ؟ قَالَ: فَأَخَذَ بِلِسَانِ نَفْسِہِ ثُمَّ قَالَ: ((ہٰذَا۔)) (مسند أحمد: ۱۵۴۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے کوئی ایسی چیز بیان کرو کہ اس کے ساتھ چمٹ جاؤں (اور اس کا اہتمام کروں)۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: تم کہو کہ میرا ربّ اللہ ہے اور پھر اس پر ڈٹ جاؤ۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ میری کس چیز سے سب سے زیادہ خوفزدہ ہیں؟ جواباً آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اپنی زبان پکڑی اور فرمایا: اس سے۔

91

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #91

Zaeef

۔ (۹۱)۔عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ اللّٰہَ قَسَمَ بَیْنَکُمْ أَخْلَاقَکُمْ کَمَا قَسَمَ بَیْنَکُمْ أَرْزَاقَکُمْ، وَإِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُعْطِی الدُّنْیَا مَنْ یُحِبُّ وَمَنْ لَا یُحِبُّ وَلَا یُعْطِی الدِّیْنَ إِلَّا لِمَنْ أَحَبَّ، فَمَنْ أَعْطَاہُ الدِّیْنَ فَقَدْ أَحَبَّہُ، وَالَّذِی نَفْسِیْ بِیَدِہِِ! لَا یُسْلِمُ عَبْدٌ حَتَّی یُسْلِمَ قَلْبُہُ وَلِسَانُہُ وَلَا یُؤْمِنُ حَتَّی یَأْمَنَ جَارُہُ بَوَائِقَہُ۔)) قَالُوا: وَمَا بَوَائِقُہُ؟ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! قَالَ: ((غَشْمُہُ وَ ظُلْمُہُ، وَلَا یَکْتَسِبُ عَبْدٌ مَالًا مِنْ حَرَامٍ فَیُنْفِقُ مِنْہُ فَیُبَارَکُ لَہُ فِیْہِ، وَلَا یَتَصَدَّقُ بِہٖ فَیُقْبَلُ مِنْہُ، وَلَا یَتْرُکُ خَلْفَ ظَہْرِہِ إِلَّا کَانَ زَادَہُ اِلَی النَّارِ، لَا یَمْحُو السَّیِّئَ بِالسَّیِّء وَلَکِنْ یَمْحُوْ السَّیِّئَ بِالْحَسَنِ، إِنَّ الْخَبِیْثَ لَا یَمْحُو الْخَبِیْثَ۔)) (مسند أحمد: ۳۶۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن مسعودؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے جس طرح تمہارے درمیان رزق کو تقسیم کیا ہے، اسی طرح اس نے تمہارے مابین تمہارے اخلاق کو بھی تقسیم کیا ہے اور بیشک اللہ تعالیٰ دنیا اس کو بھی عطا کر دیتا ہے، جس سے وہ محبت کرتا ہے اور اس کو بھی دے دیتا ہے، جس سے وہ محبت نہیں کرتا، لیکن دین کی نعمت صرف اس کو عطا کرتا ہے، جس سے محبت کرتا ہے، اللہ تعالیٰ نے جس کو دین عطا کر دیا، اس کا مطلب یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ اس سے محبت کرتا ہے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی اس وقت تک مسلمان نہیں ہو سکتا، جب تک اس کا دل اور زبان مطیع نہ ہو جائیں اور کوئی بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک ایسا نہ ہو جائے کہ اس کا ہمسائیہ اس کے شرور سے محفوظ رہے۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے نبی! بَوَائِق سے کیا مراد ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کا ظلم و زیادتی کرنا اور جو آدمی حرام مال کما کر اس کو خرچ کرے گا تو اس میں برکت نہیں ہو گی اور اس سے کیا ہوا صدقہ قبول نہیں ہو گا اور ایسا آدمی اس قسم کا جو مال بھی اپنے ترکہ میں چھوڑ کر جائے گا، وہ اس کی جہنم کے لیے اس کا زادِ راہ ہو گا، بیشک اللہ تعالیٰ برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا، بلکہ برائی کو اچھائی سے مٹاتا ہے اور بیشک خبیث چیز، خبیث چیز کو نہیں مٹا سکتی۔ (حرام مال خرچ کرنے سے گناہ نہیں مٹتے بلکہ حلال مال خرچ کرنے سے گناہوں کی صفائی ہوتی ہے)۔

92

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #92

Sahih

۔ (۹۲)۔عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ ؓ أَنَّہُ سَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ أَفْضَلِ الْاِیْمَانِ قَالَ: ((أَنْ تُحِبَّ لِلّٰہِ وَ تُبْغِضَ لِلّٰہِ وَ تُعْمِلَ لِسَانَکَ فِی ذِکْرِ اللّٰہِ۔)) قَالَ: وَمَا ذَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((وَأَنْ تُحِبَّ لِلنَّاسِ مَا تُحِبُّ لِنَفْسِکَ وَ تَکْرَہَ لَہُمْ مَا تَکْرَہُ لِنَفْسِکَ۔)) (زَادَ فِی رِوَایَۃٍ:وَأَنْ تَقُوْلَ خَیْرًا أَوْ تَصْمُتَ)۔)) (مسند أحمد: ۲۲۴۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا معاذ بن جبل ؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے افضل ایمان کے بارے میں سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ یہ ہے کہ تو اللہ تعالیٰ کے لیے محبت کرے، اللہ تعالیٰ کے بغض رکھے اور اپنی زبان کو اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مصروف رکھے۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مزید کچھ فرما دیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اور تو لوگوں کے لیے وہی چیز پسند کرے، جو اپنے لیے پسند کرے اور ان کے لیے اس چیز کو ناپسند کرے، جس کو اپنے لیے ناپسند کرے۔ ایک روایت میں ہے : اور بھلائی والی بات کہے یا پھر خاموش رہے۔

93

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #93

Sahih

۔ (۹۳)۔عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عَبْدِالْمُطَّلِبِ ؓ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((ذَاقَ طَعْمَ الْاِیْمَانِ مَنْ رَضِیَ بِاللّٰہِ رَبًّا وَ بِالْاِسْلَامِ دِیْنًا وَ بِمُحَمَّدٍ نَبِیًّا وَ رَسُوْلًا۔)) (مسند أحمد: ۱۷۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عباس بن عبد المطلبؓ سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اس بندے نے ایمان کا ذائقہ چکھ لیا ، جو اللہ تعالیٰ کے ربّ ہونے، اسلام کے دین ہونے اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے نبی اور رسول ہونے پر راضی ہو گیا۔

94

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #94

Sahih

۔ (۹۴)۔عَنْ أَبِی مُوْسَی الْأَشْعَرِیِّ ؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ عَمِلَ حَسَنَۃً فَسُرَّ بِہَا وَ عَمِلَ سَیِّئَۃً فَسَائَتْہُ فَہُوَ مُؤْمِنٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۹۷۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو موسی اشعریؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جو نیکی کر کے خوش ہوا اور برائی کر کے پریشان ہوا، وہ مؤمن ہے۔

95

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #95

Sahih

۔ (۹۵)۔عَنْ عَامِرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمَعْنَاہُ۔ (مسند أحمد: ۱۵۷۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عامر بن ربیعہؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اس کی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔

96

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #96

Sahih

۔ (۹۶)۔عَنْ أَبِیْ أُمَامَۃَؓ قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: مَا الْاِثْمُ؟ قَالَ: ((إِذَا حَکَّ فِی نَفْسِکَ شَیْئٌ فَدَعْہُ۔)) قَالَ: فَمَا الْاِیْمَانُ؟ قَالَ: ((إِذَا سَائَ تْکَ سَیِّئَتُکَ وَ سَرَّتْکَ حَسَنَتُکَ فَأَنْتَ مُؤْمِنٌ۔)) (مسند أحمد: ۲۲۵۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوامامہؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا: گناہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب کوئی چیز تیرے دل میں کھٹکنے لگے تو اسے چھوڑ دے۔ اس نے کہا: ایمان کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: جب تیری برائی تجھے بری لگے اور تیری نیکی تجھے خوش کر دے تو تو مؤمن ہو گا۔

97

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #97

Sahih

۔ (۹۷)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍؓ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسِیْ بِیَدِہِ! لَا یُؤْمِنُ عَبْدٌ حَتَّی یُحِبَّ لِأَخِیْہِ مَا یُحِبُّ لِنَفْسِہِ مِنَ الْخَیْرِ۔)) (مسند أحمد: ۱۳۶۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کوئی بندہ اس وقت تک مؤمن نہیں ہو سکتا، جب تک اس طرح نہ ہو جائے کہ جو خیر و بھلائی وہ اپنے لیے پسند کرے، وہی اپنے بھائی کے لیے پسند کرے۔

98

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #98

Sahih

۔ (۹۸)۔عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ (ؓ) أَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُْولَ اللّٰہِ! أَیُّ الْاِسْلَامِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُوْنَ مِنْ لِسَانِہِ وَ یَدِہِ۔)) (مسند أحمد: ۶۷۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاصؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کون سا اسلام افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: وہ مسلمان کہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ اور سالم رہیں۔

99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #99

Sahih

۔ (۹۹)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہُ إِلَّا أَنَّہُ قَالَ فِیْہِ: أَیُّ الْمُسْلِمِیْنَ بَدْلَ قَوْلِہِ أَیُّ الْاِسْلَامِ۔ (مسند أحمد: ۱۵۲۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ نے بھی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ کون سا اسلام افضل ہے کے بجائے یہ سوال کیا گیا: کون سے مسلمان افضل ہیں۔

100

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #100

Sahih

۔ (۱۰۰)۔عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ أَبِی الشَّرِیْدِ (بْنِ سُوَیْدٍ الثَّقَفِیِّ ؓ) أَنَّ أُمَّہُ أَوْصَتْ أَنْ یُعْتِقَ عَنْہَا رَقَبَۃً مُؤْمِنَۃً فَسَأَلَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ ذَالِکَ، فَقَالَ: عِنْدِیْ جَارِیَۃٌ سَوْدَائُ نُوْبِیََّۃٌ فَأُعْتِقُہَا؟ فَقَالَ: ((ائْتِ بِہَا۔)) فَدَعَوْتُہَا فَجَائَ تْ فَقَالَ لَہَا: (( مَنْ رَبُّکِ؟)) قَالَتْ: اللّٰہُ، قَالَ: ((مَنْ أَنَا؟)) فَقَالَتْ: رَسُوْلُُ اللّٰہِ، فَقَالَ: ((أَعْتِقْہَا فَإِنَّہَا مُؤْمِنَۃٌ۔)) (مسند أحمد: ۱۸۱۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو شرید بن سوید ثقفیؓ سے مروی ہے کہ اس کی ماں نے یہ وصیت کی تھی کہ وہ اس کی طرف سے مسلمان غلام آزاد کرے، پس اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا کہ اس کے پاس کالے رنگ کی سوڈانی لونڈی ہے، کیا وہ اس کو آزاد کر سکتا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو میرے پاس لے آؤ۔ پس میں نے اس کو بلایا اور وہ آگئی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے فرمایا: تیرا ربّ کون ہے؟ اس نے کہا: اللہ تعالی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پھر فرمایا: میں کون ہوں؟ اس نے کہا: آپ اللہ کے رسول ہیں، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو آزاد کر دے، کیونکہ یہ مؤمنہ ہے۔

101

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #101

Sahih

۔ (۱۰۱)۔ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ عَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ (ؓ) أَنَّہُ جَائَ بِأَمَۃٍ سَوْدَائَ وَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ عَلَیَّ رَقَبَۃً مُؤْمِنَۃً فَإِنْ کُنْتَ تَرٰی ہَذِہِ مُؤْمِنَۃً أَعْتِقْہَا، فَقَالَ لَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَتَشْہَدِیْنَ أَنِّی رَسُوْلُ اللّٰہِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ((أَتُؤْمِنِیْنَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: ((أَعْتِقْہَا۔)) (مسند أحمد: ۱۵۸۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

ایک انصاری صحابی سے روایت ہے کہ وہ سیاہ رنگ کی ایک لونڈی لے کر آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے مسلمان گردن آزاد کرنی ہے، اب اگر آپ اس لونڈی کو مومنہ خیال کرتے ہیں تو اس کو آزاد کر دیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس سے فرمایا: کیا تو یہ گواہی دیتی ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے پھر فرمایا: کیا تو مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر ایمان رکھتی ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اس کو آزاد کردے۔

102

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #102

Sahih

۔ (۱۰۲)۔عَنِ الْحُسَیْنِ بْنِ عَلِیٍّ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مِنْ حُسْنِ إِسْلَامِ الْمَرْئِ قِلَّۃُ الْکَلَامِ فِیْمَا لَا یَعْنِیْہِ، (وَفِی رِوَایَۃٍ) تَرْکُہُ مَا لَا یَعْنِیْہِ۔)) (مسند أحمد: ۱۷۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حسین بن علیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بندے کے حسنِ اسلام میں سے یہ ہے کہ جس چیز میں اس کا کوئی مقصد نہ ہو، وہ اس کے بارے میں باتیں کم کرے۔ اور ایک روایت میں ہے: جس چیز میں اس کا کوئی مقصد نہ ہو، وہ اسے چھوڑ دے۔

103

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #103

Zaeef

۔ (۱۰۳)۔عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ ؓ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَجِلُّوْا اللّٰہَ یَغْفِرْلَکُمْ۔)) قَالَ ابْنُ ثَوْبَانَ (أَحَدُ الرُّوَاۃِ) یَعْنِی أَسْلِمُوْا۔ (مسند أحمد: ۲۲۰۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو الدرداء ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرو، وہ تم کو بخش دے گا۔ ابن ثوبان راوی نے کہا: اس کا معنی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے مطیع ہو جاؤ۔