Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 3 · Chapter 16

ہمارے دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کے سب سے محبوب دین ہونے کا بیان

دین اسلام کی عالی ظرفی اور اس پر فخر کرنے کا بیان

6 hadiths in this chapter

104

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #104

Sahih

۔ (۱۰۴)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ؓ قَالَ: قِیْلَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : أَیُّ الْأَدْیَانِ أَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ؟ قَالَ: (( الْحَنِیْفِیَّۃُ السَّمْحَۃُ۔)) (مسند أحمد: ۲۱۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباسؓ سے مروی ہے کہ کسی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے یہ سوال کیا: کون سا دین اللہ تعالیٰ کو سب سے زیادہ پسندیدہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: حضرت ابراہیم ؑکی ملت، جو کہ سہولت والی ہے۔

105

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #105

Sahih

۔ (۱۰۵)۔عَنْ غَاضِرَۃَ بْنِ عُرْوَۃَ الفُقَیْمِیِّ حَدَّثَنِیْ أَبِیْ عُرْوَۃُ (ؓ) قَالَ: کُنَّا نَنْتَظِرُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَرَجَ رَجِلًا یَقْطُرُ رَأسُہُ مِنْ وُضُوْئٍ أَوْ غُسْلٍ فَصَلّٰی فَلَمَّا قَضَی الصَّلَاۃَ جَعَلَ النَّاسُ یَسْأَلُوْنَہُ، یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! أَعَلَیْنَا حَرَجٌ فِی کَذَا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ دِیْنَ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فِی یُسْرٍ ۔)) ثَلَاثًا یَقُوْلُہَا۔ (مسند أحمد: ۲۰۹۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عروہؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کا انتظار کر رہے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے بالوں میں کنگھی کی ہوئی تھی اور وضو یا غسل کی وجہ سے سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے نماز پڑھائی، جب نماز سے فارغ ہوئے تو لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ سے سوال کرنے لگے کہ اے اللہ کے رسول! کیا اس طرح کرنے میں ہم پر کوئی حرج ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کا دین آسانی والا ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے تین دفعہ یہ جملہ ارشاد فرمایا۔

106

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #106

Sahih

۔ (۱۰۶)۔عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الْأَسْوَدِ ؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا یَبْقٰی عَلٰی ظَہْرِ الْأَرْضِ بَیْتُ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَہُ اللّٰہُ کَلِمَۃَ الْاِسْلَامِ بِعِزِّ عَزِیْزٍ أَوْ ذُلِّ ذَلِیْلٍ، إِمَّا یُعِزُّہُمُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ فَیَجْعَلُہُمْ مِنْ أَہْلِہَا أَوْ یُذِلُّہُمْ فَیَدِیْنُوْنَ لَہَا۔)) (مسند أحمد: ۲۴۳۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا مقداد بن اسودؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: روئے زمین پر اینٹوں والا گھر بچے گا نہ خیمے والا، مگر اللہ تعالیٰ اس میں کلمۂ اسلام کو داخل کر دیں گے، یہ عزت والے کی عزت کے ساتھ ہو گا یا ذلت والے کی ذلت کے ساتھ ہو گا، اس کی تفصیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بعض لوگوں کو اس طرح عزت دے گا کہ ان کو اہل اسلام بنا دے گا اور بعض لوگوں کو اس طرح ذلیل کرے گا کہ وہ بھی (بالآخر) اس کے مطیع ہو جائیں گے۔

107

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #107

Sahih

۔ (۱۰۷)۔عَنْ سُلَیْمِ بْنِ عَامِرٍ عَنْ تَمِیْمٍ الدَّارِیِّ ؓ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَیَبْلُغَنَّ ھٰذَا الْأَمْرُ مَا بَلَغَ الَّلیْلُ وَالنَّہَارُ، وَلَا یَتْرُکُ اللّٰہُ بَیْتَ مَدَرٍ وَلَا وَبَرٍ إِلَّا أَدْخَلَہُ اللّٰہُ ھٰذَا الدِّیْنَ بِعِزِّ عَزِیْزٍ أَوْ بِذُلِّ ذَلِیْلٍ، عِزٍّا یُعِزُّ اللّٰہُ بِہِ الْاِسْلَامَ أَوْ ذُلًّا یُذِلُّ اللّٰہُ بِہِ الْکُفْرَ۔)) وَکَانَ تَمِیْمٌ الدَّارِیُّ یَقُوْلُ: قَدْ عَرَفْتُ ذَالِکَ فِی أَہْلِ بَیْتِیْ لَقَدْ أَصَابَ مَنْ أَسْلَمَ مِنْہُمُ الْخَیْرَ وَ الشَّرَفَ وَالْعِزَّ وَلَقَدْ أَصَابَ مَنْ کَانَ مِنْہُمْ کَافِرًا الذُّلَّ وَالصِّغَارَ وَ الْجِزْیَۃَ۔ (مسند أحمد: ۱۷۰۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا تمیم داریؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: یہ دین وہاں تک پہنچ جائے گا، جہاں تک دن رات پہنچے ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ اینٹوں والے یا خیمے والے کسی گھر کو نہیں چھوڑے گا، مگر عزت والوں کی عزت کے ساتھ اور ذلت والوں کی ذلت کے ساتھ اس میں اس دین کو داخل کر دے گا، عزت اس طرح کہ اللہ تعالیٰ ان کے ذریعے اسلام کو غلبہ اور عزت عطا کرے گا اور ذلت اس طرح کہ اللہ تعالیٰ کفر کو ذلیل کر دے گا۔ سیدنا تمیم داریؓ کہتے ہیں: میں نے (عزت و ذلت والے اس معاملے کو) اپنے گھر والوں میں دیکھ لیا، ہم میں سے مشرف باسلام ہونے والوں نے خیر، شرف اور عزت کو پا لیا اور ہم میں سے جو لوگ کافر رہے، ذلت و حقارت اور جزیہ ان کا مقدر بنا۔

108

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #108

Sahih

۔ (۱۰۸)۔عَنْ أَبِی بَکْرَۃَؓ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَ تَعَالَی سَیُؤَیِّدُ ھٰذَا الدِّیْنَ بِأَقْوَامٍ لَا خَلَاقَ لَہُمْ۔)) (مسند أحمد: ۲۰۷۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوبکرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے ذریعے اس دین کی مدد کرے گا، جن کا دین میں کوئی حصہ نہیں ہو گا۔

109

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #109

Sahih

۔ (۱۰۹)۔عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ ؓ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ یُؤَیِّدُ ھٰذَا الدِّیْنَ بِالرَّجُلِ الْفَاجِرِ۔)) (مسند أحمد: ۸۰۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ فاجر آدمی کے ذریعے اس دین کی مدد کرتا ہے۔