Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 177 · Chapter 2754

جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل

اس امر کا بیان کہ ہر بچہ فطرت ِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، نیز پیدا ہونے والے ہر بچے کو شیطان کے چو کا دینے کا بیان

5 hadiths in this chapter

13251

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13251

Sahih

۔ (۱۳۲۵۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلٰی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ وَیُنَصِّرَانِہٖ وَیُمَجِّسَانِہٖ کَمَا تُنْتَجُ الْبَھِیْمَۃُ ھَلْ تُحِسُّوْنَ فِیْہَا مِنْ جَدْعَائَ ثُمَّ یَقُوْلُ: وَاقْرَؤُوْا اِنْ شِئْتُمْ {فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَالنَّاسَ عَلَیْھَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ }۔)) (مسند احمد: ۹۰۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پیدا ہونے والا ہر بچہ دینِ فطرت یعنی دین اسلام پر پیدا ہوتا ہے، بعد میں اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی یا مجوسی بنا دیتے ہیں،یہ بات بالکل ایسے ہی ہے جیسے جانور کا بچہ سالم پیدا ہوتا ہے، کیا تم ان میں سے کسی کا کان کٹا ہوا دیکھتے ہو؟اگراس بات کی تصدیق چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: {فِطْرَتَ اللّٰہِ الَّتِیْ فَطَرَالنَّاسَ عَلَیْھَا لَا تَبْدِیْلَ لِخَلْقِ اللّٰہِ } (اللہ تعالیٰ کی فطرت کو یعنی اس کے اس دین کو اختیار کرو، جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، کسی کو اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں تبدیلی کا حق حاصل نہیں ہے۔

13252

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13252

Sahih

۔ (۱۳۲۵۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلٰی الْفِطْرَۃِ فَاَبَوَاہُ یُہَوِّدَانِہٖ وَیُنَصِّرَانِہٖ مِثْلَ الْاَنْعَامِ تُنْتَجُ صِحَاحًا، فَتُکْوٰی آذَانُہَا۔)) (مسند احمد: ۷۷۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت یعنی دینِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، بعد میں اس کے والدین اسے یہودی یا نصرانی بنا دیتے ہیں، یہ بات ایسے ہی ہے جیسے چوپائے صحیح سالم پیدا ہوتے ہیں، بعد میں ان کے کانوں کو داغ دیا جاتا ہے۔

13253

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13253

Zaeef

۔ (۱۳۲۵۳)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((کُلُّ مَوْلُوْدٍ یُوْلَدُ عَلٰی الْفِطْرَۃِ حَتّٰییُعْرِبَ عَنْہُ لِسَانُہُ فَاِذَا اَعْرَبَ عَنْہُ لِسَانُہُ اِماَّ شَاکِرًا وَاِمَّا کَفُوْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۴۸۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پیدا ہونے والا ہر بچہ فطرت یعنی دینِ اسلام پر پیدا ہوتا ہے، یہاں تک کہ اس کی زبان اس کی طرف سے وضاحت کرنا شروع کر دے، اور جب ایسے ہوتا ہے توپھر پتہ چلتا ہے کہ اب وہ شکر گزار مسلمان ہے یا ناشکرا کافر۔

13254

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13254

Sahih

۔ (۱۳۲۵۴)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((کُلُّ بَنِیْ آدَمَ یَطْعَنُ الشَّیْطَانُ بِاِصْبَعِہٖفِیْ جَنْبِہٖحِیْنَیُوْلَدُ اِلَّا عِیْسٰی بْنَ مْرَیَمَ، ذَھَبَ یَطْعَنُ فَطَعَنَ فِی الْحِجَابِ۔)) (مسند احمد: ۱۰۷۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بنو آدم کے ہر بچے کو پیدائش کے وقت شیطان اپنی انگلی سے چوکا لگاتا ہے، ما سوائے عیسی بن مریم کے، شیطان چوکا لگانے کے لیے گیا تو تھا، لیکن پردے میں چوکا لگا کر واپس آ گیا۔

13255

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13255

Zaeef

۔ (۱۳۲۵۵)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ: ثَنَا السَّرِیُّ بْنُ یَحْیٰی ثَنَا الْحَسَنُ حَدَّثَنَا الْاَسْوَدُ بْنُ سَرِیْعٍ، وَکَانَ رَجُلًا مِنْ بَنِیْ سَعْدٍ وَکَانَ اَوَّلَ مَنْ قَصَّ فِیْ ہٰذَا الْمَسْجِدِیَعْنِی الْمَسْجِدَ الْجَامِعَ قَالَ: غَزَوْتُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَرْبَعَ غَزَوَاتٍ قَالَ: فَتَنَاوَلَ قَوْمُ نِ الذُّرِّیَّۃَ بَعْدَ مَا قَتَلُوْا الْمُقَاتِلَۃَ فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اَلَا! مَا بَالُ اَقْوَامٍ قَتَلُوْا الْمُقَاتِلَۃَ حَتّٰی تَنَاوَلُوا الذُّرِّیَّۃَ؟)) قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اَوَلَیْسَ اَبْنَائُ الْمُشْرِکِیْنَ؟ قَالَ: فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ خِیَارَکُمْ اَبْنَائُ الْمُشْرِکِیْنَ، اِنَّہَا لَیْسَتْ نَسَمَۃٌ تُوْلَدُ اِلَّا وُلِدَتْ عَلٰی الْفِطْرَۃِ، فَمَا تَزَالُ عَلَیْہَا حَتّٰییُبِیِّنَ عَنْہَا لِسَانُہَا فَاَبَوَاھَا یُہَوِّدَانِہَا اَوْ یُنَصِّرَانِہَا۔)) قَالَ: وَاَخْفَاھَا الْحَسَنُ۔ (مسند احمد: ۱۶۴۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا اسود بن سریع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، یہ قبیلہ بنو سعد کے فرد تھے اور انہوں نے سب سے پہلے مسجد جامع وعظ شروع کیا تھا، ان سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ چار غزووں میں شرکت کی، ایک دفعہ مسلمانوں نے لڑنے والے مخالفین کو قتل کرنے کے بعد ان کے چھوٹے بچوں کو بھی قتل کر دیا، لیکن جب یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان لوگوں کو کیا ہو گیا کہ انہوں نے پہلے لڑنے والوں کو قتل کیا ہے اور پھر ان کے بچوں کو بھی قتل کر دیا۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا وہ بھی ان مشرکوں کی ہی اولاد نہیں ہیں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے بہترین لوگ مشرکوں کے ہی بیٹے ہیں، بات یہ ہے کہ ہر روح جب پیدا ہوتی ہے تو وہ دین ِ فطرت پر ہی پیدا ہوتی ہے اور وہ اسی پر برقرار رہتی ہے، یہاں تک کہ اس کی زبان اس کی طرف سے وضاحت کرنا شروع کر دے، پھر اس کے والدین اسے یہودی یا عیسائی بنا دیتے ہیں۔ حسن نے آخری الفاظ کی ادائیگی پست آواز سے کی۔