Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 177 · Chapter 2755

جہنم اور جنت کے متعلقہ مسائل

اہل ِ اسلام کی اولادکے بارے میں

3 hadiths in this chapter

13256

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13256

Sahih

۔ (۱۳۲۵۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ذِرَارِیُّ الْمُسْلِمِیْنَ فِی الْجَنَّۃِیَکْفُلُہُمْ اِبْرَاہِیْمُ علیہ السلام ۔)) (مسند احمد: ۸۳۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اہل ِ اسلام کی اولاد جنت میں ہے، ابراہیم علیہ السلام ان کی کفالت کرتے ہیں۔

13257

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13257

Sahih

۔ (۱۳۲۵۷)۔ وَعَنْ عَائِشَۃَ اُمِّ الْمُوْمِنِیْنَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: دُعِیَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی جَنَازَۃِ غُلَامٍ مِنَ الْاَنْصَارِ فَقُلْتُ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! طُوْبٰی لِہٰذَا، عُصْفُوْرٌ مِنْ عَصَافِیْرِ الْجَنَّۃِ، لَمْ یُدْرِکِ الشَّرَّ وَلَمْ یَعْمَلْہُ، قَالَ: ((اَوَ غَیْرُ ذٰلِکَ یَاعَائِشَۃُ! اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّّ خَلَقَ لِلْجَنَّۃِ اَھْلًا، خَلَقَہَا لَھُمْ وَھُمْ فِیْ اَصْلَابِ آبَائِہِمْ وَخَلَقَ لِلنَّارِ اَھْلًا، خَلَقَہَا لَھُمْ وَھُمْ فِیْ اَصْلَابِ آبَائِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۶۲۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

ام المومنین سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کابیان ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ایک انصاری بچے کے جنازے کے لیے بلایا گیا، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس بچے کے لیے تو خوشخبری ہے،یہ تو جنت کی چڑیوں میں سے ایک چڑیا ہے، اس نے نہ گناہ کو پایا اور نہ اس پر عمل کیا۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! کوئی اور بات بھی ہے، حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو جنت کے لیے اور جنت کو لوگوں کے لیے اس وقت پیدا کیا، جب کہ یہ لوگ ابھی تک اپنے باپوں کی پشتوں میں تھے، اور اس نے لوگوں کو جہنم کے لیے اور جہنم کو لوگوں کے لیے اس وقت پیدا کیا جبکہ یہ لوگ ابھی تک اپنے آباء کی پشتوں میں تھے۔

13258

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13258

Sahih

۔ (۱۳۲۵۸)۔ وَعَنْ شُرَحْبِیْلِ بْنِ شُفْعَۃَ عَنْ بَعْضِ اَصْحَابِ النِّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنَّہُ سَمِعَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یُقَالُ لِلْوِلْدَانِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اُدْخُلُوْا الْجَنَّۃَ فَیَقُوْلُوُنَ: یَارَبِّ! حَتّٰییَدْخُلَ آبَاوُنَا وَاُمَّہَاتُنَا، قَالَ: فَیَاْتُوْنَ، قَالَ: فَیَقُوْلُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ: مَالِیْ اَرَاھُمْ مُحْبَنْطِئِیْنَ، اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ، قَالَ: فَیَقُوْلُوْنَ: یَارَبِّ! آبَاوُنَا وَاُمَّہَاتُنَا، قَالَ: فَیَقُوْلُ: اُدْخُلُوا الْجَنَّۃَ اَنْتُمْ وَآبَاؤُکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۰۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

ایک صحابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن چھوٹے بچوں سے کہا جائے گا کہ تم جنت میں چلے جاؤ، لیکن وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! جب تک ہمارے باپ اور مائیں جنت میں داخل نہیں ہو جاتے، اس وقت تک ہم نہیں جائیں گے، پھر وہ آگے چلیں گے، اللہ تعالیٰ ان سے پوچھے گا: کیا وجہ ہے کہ تم غصے میں اور آہستہ آہستہ چلے رہے ہو؟ چلو جنت میں داخل ہو جاؤ، لیکن وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! ہمارے باپ اور ہماری مائیں۔ بالآخر اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اچھا تم بھی جنت میں داخل ہو جاؤ اور اور تمہارے ماں باپ بھی۔