Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 176 · Chapter 2735

قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان

فیصلے میں اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف ، اس کے اپنے مومن بندے پر رحم کرنے اور اس کی ستر پوشی کرنے اور کافراور منافق کو ذلیل و رسوا کرنے کا بیان

8 hadiths in this chapter

13168

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13168

Sahih

۔ (۱۳۱۶۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا بَہْزٌ وَ عَفَّانُ قَالَا ثَنَا ھَمَّامٌ ثَنَا قَتَادَۃُ قَالَ عَفَّانُ: عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ قَالَ: کُنْتُ اٰخِذًا بِیَدِ ابْنِ عُمَرَ ( ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) اِذْ عَرَضَ لَہُ رَجُلٌ فَقَالَ: کَیْفَ سَمِعْتَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ فِی النَّجْوٰییَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یُدْنِی الْمُوْمِنَ فَیَضَعُ عَلَیْہِ کَنَفَہُ وَیَسْتُرُہُ مِنَ النَّاسِ وَیُقَرِّرُہُ بِذُنُوْبِہٖوَیَقُوْلُ لَہُ: اَتَعْرِفُ ذَنْبَ کَذَا، اَتَعْرِفُ ذَنْبَ کَذَا، اَتَعْرِفُ ذَنْبَ کَذَا، حَتّٰی اِذَا قَرَّرَہُ بِذُنُوْبِہٖوَرَاٰی فِیْ نَفْسِہٖاَنَّہُقَدْھَلَکَقَالَ: فَاِنِّیْ قَدْ سَتَرْتُھَا عَلَیْکَ فِی الدُّنْیَا وَاِنِّیْ اَغْفِرُھَا لَکَ الْیَوْمَ ثُمَّ یُعْطٰی کِتَابَ حَسَنَاتِہٖ،وَاَمَّاالْکُفَّارُوَالْمُنَافِقُوْنَ {فَیَقُوْلُ الْاَشْہَادُ ھٰؤُلَائِ الَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلٰی رَبِّہِمْ اَلَا لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلٰی الظَّالِمِیْنَ۔} [ھود: ۱۸] (مسند احمد: ۵۴۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

صفوان بن محرز کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ہاتھ تھاما ہوا تھا، اسی اثنا میں ایک آدمی نے ان کے سامنے آکر کہا: اللہ تعالیٰ کا قیامت والے دن اپنے بندے سے سرگوشی کرنا، اس بارے میں آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کیا بیان کرتے ہوئے سنا؟ انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے قریب کرے گا، اس پر اپنا بازو رکھے گا اور اسے لوگوں سے اوجھل کر کے اس سے اس کے گناہوں کا اعتراف کرائے گا اور کہے گا: کیا تجھے فلاں گناہ یاد ہے؟ کیا تجھے فلاں گناہ کا بھی علم ہے؟ کیا تجھے فلاں گناہ کا بھی پتہ ہے؟ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اس سے اس کے تمام گناہوں کا اعتراف کرا لے گا اور اس آدمی کو دل سے یقین ہوجائے گا کہ وہ ہلاک ہونے والا ہے، پھراللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے دنیا میں تیرے ان گناہوں کو لوگوں سے پوشیدہ رکھا اور آج میں ان تمام گناہوں کو معاف کرتا ہوں، اس کے بعد اسے نیکیوں کا اعمال نامہ تھما دیا جائے گا، رہا مسئلہ کافروں اور منافقوں کا تو ان کے بارے میں گواہ کہیں گے کہ یہ وہ لوگ ہیں، جو دنیا میں اپنے ربّ پر جھو ٹ باندھتے رہے، خبردار ! ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہے۔

13169

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13169

Sahih

۔ (۱۳۱۶۹)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) حَدَّثَنَا عَبْدُاللّٰہِ حَدَّثَنِیْ اَبِیْ ثَنَا عَبْدُالْوَہَّابِ بْنُ عَطَائٍ اَنَا سَعِیْدٌ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ قَالَ: بَیْنَمَا ابْنُ عُمَرَ یَطُوْفُ بِالْبَیْتِ اِذْ عَرَضَہُ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ کَیْفَ سَمِعْتَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: فِی النَّجْوٰی فَذَکَرَ نَحْوَہُ وَفِیْہِ ((وَاَمَّاالْکُفَّارُ وَالْمُنَافِقُوْنَ فَیُنَادِیْ بِہِمْ عَلٰی رُؤُوْسِ الْاَشْہَادِ ھٰؤُلَائِ الَّذِیْنَ کَذَبُوْا عَلٰی رَبِّہِمْ اَلَا لَعْنَۃُ اللّٰہِ عَلٰی الظَّالِمِیْنَ۔)) قَالَ سَعِیْدٌ: وَقَالَ قَتَادَۃُ: فَلَمْ یَخْزَیَوْمَئِذٍ اَحَدٌ فَخَفِیَ خِزْیُہُ عَلٰی اَحَدٍ مِنَ الْخَلَائِقِ۔ (مسند احمد: ۵۸۲۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) صفوان بن محرز کہتے ہیں: سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم طواف کر رہے تھے کہ ایک آدمی نے ان کے سامنے آکر کہا: اے ابو عبدالرحمن ! آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان سرگوشی کے متعلق کیسے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: پھر گزشتہ حدیث کی مانند ہی بیان کیا، البتہ اس میں یہ اضافہ ہے: رہا مسئلہ کافروں اور منافقوں کا تو تمام لوگوں کے سامنے ان کے بارے میں کہا جائے گا:یہی وہ لوگ ہیں، جنہوں نے اپنے ربّ پر جھوٹ باندھے ، خبردار! ظالموں پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے۔ قتادہ نے کہا: اس دن جس آدمی کی رسوائی ہو گئی، تو اس کی یہ رسوائی کسی سے بھی مخفی نہیں رہے گی۔

13170

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13170

Sahih

۔ (۱۳۱۷۰)۔ وَعَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ الْحُبُلِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَقُوْلُ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ یَسْتَخْلِصُ رَجُلًا مِنْ اُمَّتِیْ عَلٰی رُؤُوْسِ الْخَلاَئِقِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِفَیَنْشُرُ عَلَیْہِ تِسْعَۃً وَتِسْعِیْنَ سِجِلَّا، کُلُّ سِجِلٍّ مَدَّ الْبَصَرِ ثُمَّ یَقُوْلُ: اَتُنْکِرُ مِنْ ہٰذَا شَیْئًا، اَظَلَمَتْکَ کَتَبَتِیْ الْحَافِظُوْنَ؟ قَالَ: لَا، یَارَبِّ! فَیَقُوْلُ: اَلَکَ عُذْرٌ اَوْ حَسَنَۃٌ؟ فَیَبْہُتُ الرَّجُلُ، فَیَقُوْلُ: لَا، یَارَبِّ! فَیَقُوْلُ: بَلٰی اِنَّ لَکَ عِنْدَنَا حَسَنَۃً وَاحِدَۃً، لَاظُلْمَ الْیَوْمَ عَلَیْکَ فَتُخْرَجُ لَہُ بِطَاقَۃٌ، فِیْہَا اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ، فَیَقُوْلُ: اَحْضِرُوْہُ فَیَقُوْلُ: یَارَبِّ! مَا ہٰذِہِ الْبِطَاقَۃُ مَعَ ہٰذِہِ السِّجِلَّاتِ! فَیُقَالُ: اِنَّکَ لَاتُظْلَمُ، قَالَ: فَتُوْضَعُ السِّجِلاَّتُ فِیْ کَفَّۃٍ، قَالَ: فَطَاشَتِ السِّجِلَّاتُ وَثَقُلَتِ الْبِطَاقَۃُ وَلَایَثْقُلُ شَیْئٌ بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔)) (مسند احمد: ۶۹۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ قیامت کے دن ایک آدمی کو لوگوں کے سامنے سے الگ کر ے گا اور ا س کے سامنے اس کے گناہوں کے ننانوے رجسٹر پھیلا دئیے جائیں گے، ہر رجسٹر تاحدِّ نگاہ ہو گا، اللہ تعالیٰ اس بندے سے فرمائے گا :کیا تو ان گناہوں میں سے کسی گناہ کا انکار کرتا ہے؟ کیا میرے مقرر کر دہ لکھنے والے محافظ فرشتوں نے تجھ پر ظلم کیا ہے؟ وہ کہے گا: اے میرے رب! نہیں، جی نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تیرے پاس کوئی عذر یا نیکی ہے؟ وہ آدمی حیران و پریشان ہو کر کہے گا: اے میرے ربّ ! نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: ہمارے پاس تیری ایک نیکی ہے، آج تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا، اس کے سامنے ایک ٹکڑا لایا جائے گا، اس پر کلمہ شہادت اَشْہَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَاَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ تحریر ہوگا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اس کو بھی سامنے لاؤ۔ وہ بندہ کہے گا: اے میرے ربّ ! اتنے بڑے بڑے رجسٹروں کے مقابلے میں اس معمولی سے ٹکڑے کی کیا وقعت ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جائے گا: آج تجھ پر ظلم نہیں کیا جائے گا، چنانچہ وہ تمام رجسٹر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھ دئیے جائیں گے اور وہ ہلکا ہونے کی وجہ سے اوپر اٹھ جائیں گے اور وہ ٹکڑا بھاری ہو جائے گا، اصل بات یہ ہے کہ مہربان اور نہایت رحم والے اللہ کے نام کے مقابلے میں کوئی چیز وزنی نہیں ہو سکتی۔

13171

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13171

Sahih

۔ (۱۳۱۷۱)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اَحَدَکُمْ لَیُسْاَلُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰییَکُوْنَ فِیْمَایُسْاَلُ عَنْہُ اَنْ یُّقَالَ مَا مَنَعَکَ اَنْ تُنْکِرَ الْمُنْکَرَ اِذَا رَاَیْتَہُ قَالَ: فَمَنْ لَقَّنَہُ اللّٰہُ حُجَّتَہُ قَالَ: رَبِّ رَجَوْتُکَ وَخِفْتُ النَّاسَ۔)) (مسند احمد: ۱۱۲۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن تم میں سے ایک آدمی سے مختلف سوالات کیے جائیں گے، یہاں تک کہ اس پوچھ گچھ کے دوران اس سے یہ بھی پوچھا جائے گا: جب تو نے دنیا میں گناہ کو دیکھا تھا تو نے اس سے روکا کیوں نہیں تھا؟ تو جس بندے کو اللہ تعالیٰ جواب سمجھا دے گا، وہ کہے گا: اے میرے رب! مجھے تیری رحمت کی امید تھی اور میں لوگوں سے ڈر گیا تھا۔

13172

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13172

Zaeef

۔ (۱۳۱۷۲)۔ وَعَنْ فَضَالَۃَ بْنِ عُبَیْدٍ وَعُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ حَدَّثَاہُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا کَانَ یَوْمُ الْقِیَامَۃِ وَفَرَغَ اللّٰہُ مِنْ قَضَائِ الْخَلْقِ فَیَبْقٰی رَجُلَانِ فَیُوْمَرُ بِہِمَا اِلَی النَّارِ فَیَلْتَفِتُ اَحَدُھُمَا، فَیَقُوْلُ الْجَبَّارُ تَبَارَکَ اِسْمُہُ: رُدُّوْہُ، فَیَرُدُّوْہُ فَیَقُوْلُ لَہُ: لِمَ اِلْتَفَتَّ یَعْنِیْ فَیَقُوْلُ: قَدْکُنْتُ اَرْجُوْ اَنْ تُدْخِلَنِی الْجَنَّۃَ قَالَ: فَیُوْمَرُ بِہٖاِلَی الْجَنَّۃِ قَالَ: فَیَقُوْلُ: لَقَدْ اَعْطَانِیْ رَبِّیْ عَزَّوَجَلَّ حَتّٰی لَوْ اَنِّیْ اَطْعَمْتُ اَھْلَ الْجَنَّۃِ مَا نَقَصَ ذٰلِکَ مِمَّا عِنْدِیْ شَیْئًا۔)) وَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِذَا ذَکَرَہُیُرَی السُّرُوْرُ فِیْ وَجْہِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۲۴۴۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا فضالہ بن عبید اور سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہوگا اور اللہ تعالیٰ لوگوں کے فیصلوں سے فارغ ہو گا، تو اُدھر دو آدمی بچے ہوئے ہوں گے۔پھر ا نہیں جہنم کی طرف لے جانے کا حکم دیا جائے گا، ان میں سے ایک آدمی مڑ مڑ کر دیکھے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اسے واپس لاؤ، فرشتے اسے واپس لے آئیں گے،اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا: تو پیچھے مڑ مڑ کر کیوں دیکھ رہا تھا؟ وہ کہے گا: مجھے تو یہ امید تھی کہ تو مجھے جنت میں داخل کرے گا۔ پھر اسے جنت میں داخل کرنے کا حکم دیا جائے گا، وہ جنت میں جا کر کہے گا: اللہ تعالیٰ نے مجھے اس قدر نعمتیں دی ہیں کہ اگر میں تمام اہل ِ جنت کو بھی کھانا کھلاؤں تو میری نعمتوں میں کوئی کمی نہیں ہو گی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب یہ واقعہ بیان فرماتے تو آپ کے چہرے پر خوشی کے آثار دکھائی دیتے۔

13173

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13173

Sahih

۔ (۱۳۱۷۳)۔ وَعَنِ الْمَعْرُوْرِ بْنِ سُوَیْدٍ عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((یُوْتٰی بِالرَّجُلِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُقَالُ: اعْرِضُوْا عَلَیْہِ صِغَارَ ذُنُوْبِہٖ،قَالَ: فَتُعْرَضُعَلَیْہِ وَیُخْبَاُ عَنْہُ کِبَارُھَا، فَیُقَالُ: عَمِلْتَیَوْمَ کَذَا وَکَذَا کَذَا وَکَذَا، وَھُوَ مُقِرٌّ لَایُنْکِرُ، وَھُوَ مُشْفِقٌ مِنَ الْکِبَارِ فَیُقَالُ: اَعْطُوْہُ مَکَانَ کُلِّ سَیِّئَۃٍ حَسَنَۃً، قَالَ: فَیَقُوْلُ: اِنَّ لِیْ ذُنُوْبًا مَا اَرَاھَا۔)) قَالَ: قَالَ اَبُوْ ذَرٍّ: فَلَقَدْ رَاَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ضَحِکَ حَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ایک آدمی کو اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کیا جائے گا، کہا جائے گا کہ اس کے چھوٹے گناہ اس پر پیش کرو، پس اس کے صغیرہ گناہ اس پر پیش کیے جائیں گے اور بڑے بڑے گناہوں کو اس سے اوجھل رکھا جائے گا۔ اس سے کہا جائے گا کہ تو نے فلاں فلاں دن فلاں فلاں گناہ کیا تھا؟ وہ ان گناہوں کا اعتراف کرتا جائے گا اور انکار نہیں کرے گا، جبکہ وہ اپنے بڑے بڑے گناہوں سے ڈر رہا ہوگا، لیکن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کہا جائے گا کہ اسے ہر گناہ کے عوض ایک ایک نیکی دے دو، تب وہ بولے گا اور کہے گا: میں نے تو ایسے گناہ بھی کیے تھے، جو یہاں مجھے نظر نہیں آ رہے۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ حدیث بیان کی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر مسکرائے کہ آپ کی داڑھیں بھی نمایاں ہوگئیں۔

13174

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13174

Sahih

۔ (۱۳۱۷۴)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنِّیْ لَاَعْرِفُ آخِرَ اَھْلِ النَّارِ خُرُوْجًا مِنَ النَّارِ وَ آخِرَ اَھْلِ الْجَنَّۃِ دُخُوْلاً الْجَنَّۃَ، یُوْتٰی بِرَجُلٍ، فَذَکَرَ نَحْوَہُ وَفِیْہِ بَعْدَ قَوْلِہٖحَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ قَالَ: ((فَیُقَالُ لَہُ: فَاِنَّ لَکَ مَکَانَ کُلِّ سَیِّئَۃٍ حَسَنَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس آدمی کو جانتا ہوں جسے سب سے آخرمیں جہنم سے نکال کر سب سے آخر میں جنت میں داخل کیا جائے گا، ایک آدمی کو لایا جائے گا، … …، یہاں تک کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھیں ظاہر ہونے لگیں یہاں تک پہلی حدیث کی طرح ہی ہے۔ اور یہ بات زیادہ ہے کہ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پس اسے کہا جائے گا: پس بیشک تیرے لیے ہر برائی کے بدلے نیکی ہے۔

13175

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13175

Sahih

۔ (۱۳۱۷۵)۔ وَعَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ اللّٰہَ لَا یَظْلِمُ الْمُوْمِنَ حَسَنَۃًیُعْطٰی عَلَیْہَا فِی الدُّنْیَا وَیُثَابُ عَلَیْہَا فِی الْآخِرَۃِ، وَاَمَّا الْکَافِرُ فَیُعْطِیْہِ حَسَنَاتِہِ فِی الدُّنْیَا حَتّٰی اِذَا اَفْضٰی فِی الْآخِرَۃِ، لَمْ یَکُنْ لَہُ بِہَا حَسَنَۃٌیُعْطٰی بِہَا خَیْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۲۲۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کسی مومن پر ایک نیکی کے سلسلہ میں بھی ظلم نہیں کرے گا، بلکہ مومن کو دنیا میں نیکی کا عوض بھی دیا جاتا ہے اور آخرت میں ثواب بھی دیا جاتا ہے، رہا مسئلہ کافر کا تو اللہ تعالیٰ اسے اس کی نیکیوں کا بدلہ دنیا میں ہی چکا دیتا ہے، جب وہ آخرت تک پہنچتا ہے تو کوئی نیکی نہیں ہوتی کہ اسے بدلہ دیا جائے۔