Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 176 · Chapter 2734

قیامت کے برپا ہونے، صور میں پھونکے جانے اور لوگوں کے قبروں سے اٹھائے جانے کا بیان

قیامت کے دن قصاص اور مظلوموں کو ان کے حقوق دلائے جانے کا بیان

7 hadiths in this chapter

13161

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13161

Sahih

۔ (۱۳۱۶۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَتُؤَدَّنَّ الْحُقُوْقُ اِلٰی اَھْلِہَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰییُقْتَصَّ لِلشَّّاۃِ الْجَمَّائِ مِنَ الشَّاۃِ الْقَرْنَائِ تَنْطِحُہَا اَوْ قَالَ ابْنُ جَعْفَرٍ (اَحَدُ الرُّوَاۃِ) یَعْنِیْ فِیْ حَدِیْثِہٖیُقَادُ لِلشَّاۃِ الْجَلْحَائِ۔)) (مسند احمد: ۷۲۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن حق داروں کو ان کے حقوق دلوائے جائیں گے، یہاں تک کہ سینگ والی بکری نے جو سینگ بے سینگ بکری کو مارا ہو گا، اس کا اسے قصاص دلوایا جائے گا۔

13162

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13162

Zaeef

۔ (۱۳۱۶۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلَا وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ لَیَخْتَصِمَنَّ کُلُّ شَیْئٍیَوْمَ الْقِیَامَۃِ حَتّٰی الشَّاتَانِ فِیْمَا اِنْطَتَحَتَا۔)) (مسند احمد: ۹۰۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہی روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خبردار! اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت کے دن ہر چیز (یعنی ہر مظلوم ، ہر ظالم سے جھگڑا کرے گا اور اس سے بدلہ لے گا) حتیٰ کہ دو بکریاں جنھوں نے ایک دوسرے کو سینگ مارے ہوں گے۔ (ان میں سے ظالم سے قصاص دلایا جائے گا)۔

13163

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13163

Sahih

۔ (۱۳۱۶۳)۔ وَعَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِنَّ الْجَمَّائَ لَتُقَصُّ مِنَ الْقَرْنَائِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۵۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عثمان بن عفان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن بغیر سنگ والی بکری کو سینگ والی بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا۔

13164

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13164

Sahih

۔ (۱۳۱۶۴)۔ وَعَنْ اَبِیْ ذَرٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ جَالِسًا وَشَاتَانِ تَقْتَرِنَانِ، فَنَطَحَتْ اِحْدَاھُمَا الْاُخْرٰی، فَأَجْہَضَتْہَا، قَالَ: فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقِیْلَ: مَا یُضْحِکُکَیَارَسُوْلَ اللّٰہِ!؟ قَالَ: ((عَجِبْتُ لَھَا وَالَّذِیْ نَفْسِیْ بِیَدِہٖ! لَیُقَادَنَّ لَھَا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف فرما تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے دو بکریاں آپس میں لڑنے لگیں اور ایک نے دوسری کو سینگ مارا اور اسے دور بھگا دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ منظر یہ دیکھ کر مسکرا پڑے، کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے مسکرانے کی کیا وجہ ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: مجھے اس بکری پر تعجب ہو رہا ہے، اس ذا ت کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! قیامت کے دن اس مظلوم بکری کو اس ظالم بکری سے بدلہ دلوایا جائے گا۔

13165

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13165

Sahih

۔ (۱۳۱۶۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) فَذَکَرَ مَعْنَاہُ، اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی شَاتَیْنِ تَنْتَطِحَانِ فَقَالَ: ((یَا اَبَا ذَرٍّ! ھَلْ تَدْرِیْ فِیْمَ تَنْتَطِحَانِ؟)) قَالَ: لَا، قَالَ: ((لٰکِنَّ اللّٰہَ یَدْرِیْ وَسَیَقْضِیْ بَیْنَہُمَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۷۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو بکریوں کو دیکھا کہ وہ ایک دوسری کو ٹکریں مار رہی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابوذر ! تم جانتے ہو یہ کیوں ایک دوسری کو ٹکر مار رہی ہیں؟ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لیکن اللہ جانتا ہے اور وہ عنقریب ان کے درمیان فیصلہ بھی کرے گا۔

13166

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13166

Sahih

۔ (۱۳۱۶۶)۔ وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَلَغَنِیْ حَدِیْثٌ عَنْ رَجُلٍ سَمِعَہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاشْتَرَیْتُ بَعِیْرًا ثُمَّ شَدَدْتُّ عَلَیْہِ رَحْلِیْ فَسِرْتُ اِلَیْہِ شَہْرًا حَتّٰی قَدِمْتُ عَلَیْہِ الشَّامَ، فَاِذَا عَبْدُاللّٰہِ بْنُ اُنَیْسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقُلْتُ لِلْبَوَّابِ: قُلْ لَہُ جَابِرٌ عَلٰی الْبَابِ، فَقَالَ: ابْنُ عَبْدِاللّٰہِ؟ قُلْتُ: نَعَمْ، فَخَرَجَ یَطَاُ ثَوْبَہُ فَاعْتَنَقَنِیْ وَاعْتَنَقْتُہُ، فَقُلْتُ: حَدِیْثًا بَلَغَنِیْ عَنْکَ اَنَّکَ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْقِصَاصِ، فَخَشِیْتُ اَنْ تَمُوْتَ اَوْ اَمُوْتَ قَبْلَ اَنْ اَسْمَعَہُ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((یُحْشَرُ النَّاسُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ اَوْ قَالَ الْعِبَادُ عُرَاۃً غُرْلًا بُہْمًا۔)) قَالَ: قُلْنَا: وَمَا بُہْمًا؟ قَالَ: ((لَیْسَ مَعَہُمْ شَیْئٌ، ثُمَّ یُنَادِیْہِمْ بِصَوْتٍ یَسْمَعُہُ مِنْ قُرْبٍ: اَنَا الْمَلِکُ اَنَا الدَّیَّانُ وَلَایَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِنْ اَھْلِ النَّارِ اَنْ یَّدْخُلَ النَّارَ وَلَہُ عِنْدَ اَحَدٍ مِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ حَقٌّ حَتّٰی اَقُصَّہُ مِنْہُ، وَلَایَنْبَغِیْ لِاَحَدٍ مِنْ اَھْلِ الْجَنَّۃِ اَنْ یَّدْخُلَ الْجَنَّۃَ وَلِاَحَدٍ مِنْ اَھْلِ النَّارِ عِنْدَہُ حَقٌّ حَتّٰی اَقُصَّہُ مِنْہُ حَتّٰی الَّلطْمَۃَ۔)) قَالَ: قُلْنَا: کَیْفَ وَاِنَّا اِنَّمَا نَاْتِی اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ عُرَاۃً غُرْلًا بُہْمًا، قَالَ: ((بِالْحَسَنَاتِ وَالسَّیِّئَاتِ۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:مجھے ایک حدیث کے متعلق پتہ چلا کہ (شام میں سکونت پذیر) ایک آدمی نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے وہ حدیث سنی ہوئی ہے،میں نے ایک اونٹ خریدا، اس پر پالان کسا اور ایک ماہ کا سفر طے کر کے شام کے علاقے میں اس کے پاس پہنچا، وہ سیدنا عبد اللہ بن انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، میں نے دربان سے کہا: ان سے جا کر کہو کہ دروازے پر جابر آیا ہے، انھوں نے پوچھا: عبد اللہ کا بیٹا جابر؟ میں نے کہا: جی ہاں، وہ اتنی تیزی سے باہر آئے کہ کپڑان کے پاؤں کے نیچے آرہا تھا،پھر انھوں نے مجھ سے اور میں نے ان سے معانقہ کیا، میں نے ان سے کہا، مجھے معلوم ہوا کہ آپ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی قصاص سے متعلقہ ایک حدیث بیان کرتے ہیں، پھر خطرہ لاحق ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ آپ فوت ہو جائیں اور میں مر جاؤں، (اس لیے آپ سے وہ حدیث سننے کے لیے آیا ہوں)۔ انھوں نے کہا: جی ہاں، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: قیامت کے دن لوگوں کو برہنہ جسم، غیر مختون اور خالی ہاتھ اٹھایا جائے گا۔ ہم نے کہا: حدیث میں وارد لفظ بُھْمًا کا کیا معنی ہے؟ انھوں نے کہا: وہ لوگ جن کے پاس کوئی چیز نہیں ہو گی (اور وہ خالی ہاتھ ہوں گے)۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو پکارے گا، ہر کوئی اسے قریب سے آنے والی آواز کی طرح سنے گا، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں بادشاہ ہوں،میں بدلے دینے والاہوں ، کوئی آدمی جو جہنم میں جانے والا ہو، اگر اس کا کسی جنتی کے ذمے کوئی حق یا بدلہ ہو تو بتائے تاکہ اسے بدلہ دلواؤں، اسی طرح جو آدمی جنت میں جانے والا ہے، اگر اس کا کسی جہنمی کے ذمہ کوئی حق یا بدلہ ہو، خواہ وہ ایک تھپڑ کی صورت میں ہو، تو وہ بھی بتائے تاکہ میں اسے بدلہ دلواؤں۔ پھر سیدنا عبد اللہ بن انیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! بدلے کیسے پورے ہوں گے جب کہ ہم تو اللہ تعالیٰ کے ہاں برہنہ جسم ، غیر مختون اور خالی ہاتھ جائیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس دن نیکیوں اور گناہوں کے ذریعے دلوائے جائیں گے۔

13167

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #13167

Sahih

۔ (۱۳۱۶۷)۔ وَعَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((ھَلْ تَدْرُوْنَ مَنِ الْمُفْلِسُ؟)) قَالَ: اَلْمُفْلِسُ فِیْنَایَارَسُوْلَ اللّٰہِ! مَنْ لَادِرْھَمَ لَہُ وَلَا مَتَاعَ۔ قَالَ: ((اِنَّ الْمُفْلِسَ مِنْ اُمَّتِیْ مَنْ یَّاْتِیْیَوْمَ الْقِیَامَۃِ بِصِیَامٍ وَصَلَاۃٍ وَزَکَاۃٍ وَیَاْتِیْ قَدْ شَتَمَ عِرْضَ ہٰذَا وَقَذَفَ ہٰذَا وَاَکَلَ مَالَ ہٰذَا فَیَقْعُدُ فَیَقْتَصُّ ہٰذَا مِنْ حَسَنَاتِہٖوَہٰذَامِنْحَسَنَاتِہٖفَاِنْفَنِیَتْ حَسَنَاتُہُ قَبْلَ اَنْ یَّقْضِیَ مَا عَلَیْہِ مِنَ الْخَطَایَا اُخِذَ مِنْ خَطَایَاھُمْ فَطُرِحَتْ عَلَیْہِ ثُمَّ طُرِحَ فِی النَّارِ۔)) (مسند احمد: ۸۰۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: کیا تم جانتے ہو کہ مفلس کون ہے؟ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول ! ہمارے اندر مفلس وہ ہوتا ہے، جس کے پاس درہم اور دنیوی سازو سامان نہ ہو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میری امت کا مفلس وہ ہے، جو قیامت کے دن روزے، نمازیں اور زکوتیں لے کر آئے گا، لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس نے کسی کی عزت پر ڈاکہ زنی کی ہو گی، کسی پر تہمت لگائی ہوگی اور کسی کا مال کھا یا ہو گا، ایسا آدمی بیٹھا ہوگا، ایک مظلوم آکر اس سے نیکیاں لے کر قصاص لے گا، پھر دوسرا آکر اس کی نیکیاں لے کر بدلہ لے گا، پس اگر اس کے مظالم کے بدلے پورے ہونے سے قبل اس کی نیکیاں ختم ہوگئیں تو مظلوموں کے گناہ اس پر ڈال دئیے جائیں گے اوربالآخر اسے جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔