Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 174 · Chapter 2604

کتاب الفضائل

باب ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی امت کے حق میں دعاؤں کا بیان

7 hadiths in this chapter

12512

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12512

Sahih

۔ (۱۲۵۱۲)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِی وَقَّاصٍ قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی مَرَرْنَا عَلٰی مَسْجِدِ بَنِی مُعَاوِیَۃَ، فَدَخَلَ فَصَلّٰی رَکْعَتَیْنِ، وَصَلَّیْنَا مَعَہُ، وَنَاجٰی رَبَّہُ عَزَّ وَجَلَّ طَوِیلًا، قَالَ: ((سَأَلْتُ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا، سَأَلْتُہُ أَنْ لَا یُہْلِکَ أُمَّتِی بِالْغَرَقِ فَأَعْطَانِیہَا، وَسَأَلْتُہُ أَنْ لَا یُہْلِکَ أُمَّتِی بِالسَّنَۃِ فَأَعْطَانِیہَا، وَسَأَلْتُہُ أَنْ لَا یَجْعَلَ بَأْسَہُمْ بَیْنَہُمْفَمَنَعَنِیہَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ سفر سے واپس ہوئے، ہمارا مسجد بنی معاویہ کے پاس سے گزر ہوا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد کے اندر تشریف لے گئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دو رکعت نماز ادا کی، ہم نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ نماز ادا کی، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کافی دیر تک اللہ سے مناجات کی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کی ہیں، میں نے ایک دعا یہ کی کہ اللہ میری امت کو غرق کے ذریعے ہلاک نہ کرے، اللہ تعالیٰ نے میری دعا قبول فرمائی، میں نے دوسری دعا یہ کی کہ وہ میری امت کو قحط کے ذریعے ہلاک نہ کرے،اللہ نے میری یہ دعا بھی قبول فرمائی، میں نے تیسری دعا یہ کی کہ ان کا آپس میں اختلاف نہ ہو، اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہیں کی۔

12513

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12513

Sahih

۔ (۱۲۵۱۳)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی سَفَرٍ صَلّٰی سُبْحَۃَ الضُّحٰی ثَمَانَ رَکَعَاتٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((إِنِّی صَلَّیْتُ صَلَاۃَ رَغْبَۃٍ وَرَہْبَۃٍ، سَأَلْتُ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ ثَلَاثًا، فَأَعْطَانِی اثْنَتَیْنِ، وَمَنَعَنِی وَاحِدَۃً، سَأَلْتُہُ أَنْ لَا یَبْتَلِیَ أُمَّتِی بِالسِّنِینَ، وَلَا یُظْہِرَ عَلَیْہِمْ عَدُوَّہُمْ فَفَعَلَ، وَسَأَلْتُہُ أَنْ لَا یَلْبِسَہُمْ شِیَعًا فَأَبٰی عَلَیَّ۔)) (مسند احمد: ۱۲۶۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سفر میں دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چاشت کے وقت آٹھ رکعت نماز ادا کی، نماز سے فراغت کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آج میں نے انتہائی رغبت اور اللہ سے ڈرتے ہوئے نما ز پڑھی ہے، میں نے اپنے رب سے تین دعائیں کی ہیں،اس نے میری دو دعاؤں کو قبول اورایک کو قبول نہیں کیا، میں نے دعا کی کہ وہ میری امت کو قحط میں مبتلا نہ کرے،اس نے اسے قبول کر لیا، پھر میں نے دعا کی کہ ان کا دشمن ان پر غالب نہ آئے، اس نے یہ دعا بھی قبول کر لی اور میں نے دعا کی کہ ان کے آپس میں اختلافات نہ ہوں، تو اللہ تعالیٰ نے میری یہ دعا قبول نہیں کی۔

12514

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12514

Sahih

۔ (۱۲۵۱۴)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ خَبَّابٍ، عَنْ أَبِیہِ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ مَوْلٰی بَنِی زُہْرَۃَ، وَکَانَ قَدْ شَہِدَ بَدْرًا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، أَنَّہُ قَالَ: رَاقَبْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی لَیْلَۃٍ، صَلَّاہَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کُلَّہَا حَتّٰی کَانَ مَعَ الْفَجْرِ سَلَّمَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ صَلَاتِہِ، جَائَ ہُ خَبَّابٌ فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی، لَقَدْ صَلَّیْتَ اللَّیْلَۃَ صَلَاۃً مَا رَأَیْتُکَ صَلَّیْتَ نَحْوَہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَجَلْ إِنَّہَا صَلَاۃُ رَغَبٍ وَرَہَبٍ، سَأَلْتُ رَبِّی تَبَارَکَ وَتَعَالٰی ثَلَاثَ خِصَالٍ، فَأَعْطَانِی اثْنَتَیْنِ، وَمَنَعَنِی وَاحِدَۃً، سَأَلْتُ رَبِّی تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَنْ لَا یُہْلِکَنَا بِمَا أَہْلَکَ بِہِ الْأُمَمَ قَبْلَنَا فَأَعْطَانِیہَا، وَسَأَلْتُ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا ٔیُظْہِرَ عَلَیْنَا عَدُوًّا غَیْرَنَا فَأَعْطَانِیہَا، وَسَأَلْتُ رَبِّی تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَنْ لَا یَلْبِسَنَا شِیَعًا فَمَنَعَنِیہَا۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا خباب بن ارت سے روایت ہے، یہ صحابی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے، وہ کہتے ہیں: ایک دفعہ میں نے ساری رات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نگاہ رکھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ساری رات نماز پڑھنے میں گزاردی، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فجر کے وقت سلام پھیرا، تو میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آج رات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسی نماز پڑھی ہے کہ میں نے قبل ازیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس طرح نماز پڑھتے نہیں دیکھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں یہ انتہائی رغبت اور اللہ سے ڈروالی نماز تھی،میں نے اپنے رب تعالیٰ سے تین دعائیں کیں تو اس نے دو کو قبول اور ایک کو رد کردیا، میں نے اپنے رب تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ ہمیں ان عذابوں کے ساتھ ہلاک نہ کرے جن کے ساتھ اس نے گزشتہ قوموں کو ہلاک کیا تھا، تو اس نے یہ دعا قبول کرلی اور میں نے اپنے رب عزوجل سے دعا کی کہ وہ ہمارے دشمنوں کو ہم پر غالب نہ کرے، اس نے میری یہ دعا بھی قبول کرلی اور میں نے اپنے رب عزوجل سے دعاکی کہ وہ ہمارے درمیان آپس میں اختلافات نہ ڈالے، تو اس نے میری دعا قبول نہیں کی۔

12515

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12515

Sahih

۔ (۱۲۵۱۵)۔ عَنْ أَبِی بَصْرَۃَ الْغِفَارِیِّ صَاحِبِ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((سَأَلْتُ رَبِّی عَزَّ وَجَلَّ أَرْبَعًا فَأَعْطَانِی ثَلَاثًا وَمَنَعَنِی وَاحِدَۃً، سَأَلْتُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا یَجْمَعَ أُمَّتِی عَلٰی ضَلَالَۃٍ فَأَعْطَانِیہَا، وَسَأَلْتُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا یُہْلِکَہُمْ بِالسِّنِینَ کَمَا أَہْلَکَ الْأُمَمَ قَبْلَہُمْ فَأَعْطَانِیہَا، وَسَأَلْتُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ لَا یَلْبِسَہُمْ شِیَعًا وَیُذِیقَ بَعْضَہُمْ بَأْسَ بَعْضٍ فَمَنَعَنِیہَا۔)) (مسند احمد: ۲۷۷۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

صحابی ٔ رسول سیدنا ابو بصرہ غفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے اپنے رب سے چار دعائیں کی ہیں، اس نے تین کو قبول کر لیا اور ایک کو قبول نہ کیا، میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ میری امت کو گمراہی پراکٹھا نہ کرے، اس نے میری یہ دعا قبول فرمائی، میں نے دوسری دعا یہ کی کہ اس نے جس طرح گزشتہ اقوام کو قحط کے ذریعے ہلاک کیا تھا، میری امت کو اس طرح ہلاک نہ کرے، اس نے اسے بھی قبول کر لیا اور میں نے یہ دعا بھی کی کہ وہ میری امت کو آپس کے اختلافات میں نہ ڈالے، لیکن اس نے میری یہ دعا قبول نہیں کی۔

12516

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12516

Sahih

۔ (۱۲۵۱۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((اللَّہُمَّ مَنْ رَفَقَ بِأُمَّتِی فَارْفُقْ بِہِ، وَمَنْ شَقَّ عَلَیْہِمْ فَشُقَّ عَلَیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! جو آدمی میری امت سے نرمی کا برتاؤ کرے تو بھی اس پرنرمی فرما اور جو آدمی ان سے سختی کرے اس پر تو بھی سختی فرما۔

12517

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12517

Sahih

۔ (۱۲۵۱۷)۔ عَنْ أَبِی بُرْدَۃَ بْنِ قَیْسٍ أَخِی أَبِی مُوسَی الْأَشْعَرِیِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((اللَّہُمَّ اجْعَلْ فَنَائَ أُمَّتِی فِی سَبِیلِکَ بِالطَّعْنِ وَالطَّاعُونِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بھائی سیدنا ابوبردہ بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! تو میری امت کی موت اس طرح بنا دے کہ وہ تیرے راستے میں نیزے کے ذریعے موت پائیں یا طاعون کے ذریعے۔

12518

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12518

Zaeef

۔ (۱۲۵۱۸)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْقَاہِرِ بْنُ السَّرِیِّ، قَالَ: حَدَّثَنِی ابْنٌ لِکِنَانَۃَ بْنِ عَبَّاسِ بْنِ مِرْدَاسٍ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ أَبَاہُ الْعَبَّاسَ بْنَ مِرْدَاسٍ حَدَّثَہُ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَعَا عَشِیَّۃَ عَرَفَۃَ لِأُمَّتِہِ بِالْمَغْفِرَۃِ وَالرَّحْمَۃِ فَأَکْثَرَ الدُّعَائَ، فَأَجَابَہُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: أَنْ قَدْ فَعَلْتُ وَغَفَرْتُ لِأُمَّتِکَ إِلَّا مَنْ ظَلَمَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا، فَقَالَ: یَا رَبِّ! إِنَّکَ قَادِرٌ أَنْ تَغْفِرَ لِلظَّالِمِ، وَتُثِیبَ الْمَظْلُومَ خَیْرًا مِنْ مَظْلَمَتِہِ، فَلَمْ یَکُنْ فِی تِلْکَ الْعَشِیَّۃِ إِلَّا ذَا، فَلَمَّا کَانَ مِنْ الْغَدِ دَعَا غَدَاۃَ الْمُزْدَلِفَۃِ فَعَادَ یَدْعُو لِأُمَّتِہِ، فَلَمْ یَلْبَثِ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تَبَسَّمَ، فَقَالَ بَعْضُ أَصْحَابِہِ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی، ضَحِکْتَ فِی سَاعَۃٍ لَمْ تَکُنْ تَضْحَکُ فِیہَا، فَمَا أَضْحَکَکَ أَضْحَکَ اللّٰہُ سِنَّکَ؟ قَالَ: ((تَبَسَّمْتُ مِنْ عَدُوِّ اللّٰہِ إِبْلِیسَ حِینَ عَلِمَ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ اسْتَجَابَ لِی فِی أُمَّتِی وَغَفَرَ لِلظَّالِمِ، أَہْوٰییَدْعُو بِالثُّبُورِ وَالْوَیْلِ، وَیَحْثُو التُّرَابَ عَلٰی رَأْسِہِ، فَتَبَسَّمْتُ مِمَّا یَصْنَعُ جَزَعُہُ))۔ (مسند احمد: ۱۶۳۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عباس بن مرداس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عرفہ کی شام کو اپنی امت کے حق میں مغفرت و رحمت کی بہت سی دعائیں کیں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے آپ کی یہ دعائیں قبول کر لیں ہیں اور میں نے آپ کی امت کی مغفرت کر دی ہے، البتہ لوگوں میں سے کوئی کسی پر ظلم کرے تو یہ جرم معاف نہ ہوگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے میرے رب! تو اس بات پر قادر ہے کہ ظالم کو معاف کر دے اور مظلوم کو اس کے ظلم کے بقدر بدلہ اپنی طرف سے عطا فرما دے۔ اس رات صرف اتنی با ت ہوئی،دوسرا دن ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مزدلفہ کو صبح کی دوبارہ امت کے حق میں دعائیں کیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اچانک مسکرانے لگ گئے، کسی صحابی نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں، آپ نے ایک ایسے وقت میں تبسم فرمایا ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وقت تبسم نہیں فرمایا کرتے تھے، اللہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مسکراتا رکھے، اس مسکراہٹ کی وجہ کیا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اللہ کے دشمن ابلیس کی حالت دیکھ کر مسکرایا ہوں، جب اسے پتہ چلا کہ اللہ تعالیٰ نے امت کے حق میں میری دعا قبول کر لی ہے اور ظالم کو بھی بخشنے کا وعدہ کیا ہے تو وہ ہاتھ اٹھا اٹھا کر اپنی ہلاکت و تباہی کی باتیں کرنے لگا اور اپنے سر پر خاک ڈالنے لگا، تو میں اس کی پریشانی اور گھبراہٹ دیکھ کر مسکرا دیا۔