Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 174 · Chapter 2605

کتاب الفضائل

امت کے ابتدائی ادوار کی فضیلت پر مشتمل ابواب باب اول: اس دور کی فضیلت، جس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مبعوث ہوئے

2 hadiths in this chapter

12519

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12519

Sahih

۔ (۱۲۵۱۹)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ، أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((بُعِثْتُ مِنْ خَیْرِ قُرُونِ بَنِی آدَمَ قَرْنًا فَقَرْنًا حَتَّی بُعِثْتُ مِنَ الْقَرْنِ الَّذِی کُنْتُ فِیہِ۔)) (مسند احمد: ۹۳۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں زمانہ بہ زمانہ بنی آدم کے بہترین زمانہ میں مبعوث ہوا ہوں، تاآنکہ میں اس دور میں آیا۔

12520

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12520

Sahih

۔ (۱۲۵۲۰)۔ عَنْ أَبِی مُوسَی قَالَ: صَلَّیْنَا الْمَغْرِبَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قُلْنَا: لَوِ انْتَظَرْنَا حَتّٰی نُصَلِّیَ مَعَہُ الْعِشَائَ، قَالَ: فَانْتَظَرْنَا فَخَرَجَ إِلَیْنَا، فَقَالَ: ((مَا زِلْتُمْ ہَاہُنَا۔)) قُلْنَا: نَعَمْ، یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قُلْنَا: نُصَلِّی مَعَکَ الْعِشَائَ، قَالَ: ((ٔأَحْسَنْتُمْ أَوْ أَصَبْتُمْ۔)) ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ قَالَ: وَکَانَ کَثِیرًا مَا یَرْفَعُ رَأْسَہُ إِلَی السَّمَائِ فَقَالَ: ((النُّجُومُ أَمَنَۃٌ لِلسَّمَائِ فَإِذَا ذَہَبَتِ النُّجُومُ أَتَی السَّمَائَ مَا تُوعَدُ وَأَنَا أَمَنَۃٌ لِأَصْحَابِی، فَإِذَا ذَہَبْتُ أَتٰی أَصْحَابِی مَا یُوعَدُونَ وَأَصْحَابِی أَمَنَۃٌ لِأُمَّتِی، فَإِذَا ذَہَبَتْ أَصْحَابِی أَتٰی اُمَّتِیْ مَا یُوْعَدُوْنَ۔)) (مسند احمد: ۱۹۷۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے مغرب کی نماز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ ادا کی، اس کے بعد ہم نے سوچا کہ ہم انتظار کر لیں اور عشاء کی نماز بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ ادا کر لیں، سو ہم نے انتظار کیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عشاء کے وقت تشریف لائے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم مغرب سے اب تک یہیں ٹھہرے ہوئے ہو؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! جی ہاں، ہم نے سوچا تھا کہ عشاء کی نماز بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ ادا کرلیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اچھا کیا۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اکثر و بیشتر اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کرتے تھے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تار ے آسمان کے محافظ ہیں، جب یہ ختم ہو جائیں گے تو اللہ نے آسمان کے ساتھ جو وعدہ کیا ہے، وہ پورا ہوگا اور میں اپنے صحابہ کا محافظ ہوں، جب میں چلا جاؤں گا تو میرے صحابہ پر وہ حالات پیش آ جائیں گے، جن کا ان کے ساتھ وعدہ کیا گیا ہے اور میرے صحابہ میری امت کے محافظ ہیں،جب میرے صحابہ چلے جائیں گے تو میری امت پر وہ شدید حالات درپیش ہوں گے، جن کا ان سے وعدہ کیا گیا ہے۔