Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 174 · Chapter 2603

کتاب الفضائل

باب پنجم: اس امر کا بیان کہ قیامت کے دن باقی امتوں میں سے صرف امت محمدیہ کی امتیازی علامت یہ ہوگی کہ ان کے ہاتھ پائوں روشن ہوں گے

4 hadiths in this chapter

12508

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12508

Sahih

۔ (۱۲۵۰۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُسْرٍ الْمَازِنِیِّ، عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہُ قَالَ: ((مَا مِنْ أُمَّتِی مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالُوْا: وَکَیْفَ تَعْرِفُہُمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! فِی کَثْرَۃِ الْخَلَائِقِ؟ قَالَ: ((أَرَأَیْتَ لَوْ دَخَلْتَ صَبْرَۃً فِیہَا خَیْلٌ دُہْمٌ بُہْمٌ، وَفِیہَا فَرَسٌ أَغَرُّ مُحَجَّلٌ، أَمَا کُنْتَ تَعْرِفُہُ مِنْہَا؟)) قَالَ: بَلٰی، قَالَ: ((فَإِنَّ أُمَّتِییَوْمَئِذٍ غُرٌّ مِنَ السُّجُودِ، مُحَجَّلُونَ مِنَ الْوُضُوئِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے روز میں اپنی امت کے ہر فرد کو پہچان لوں گا۔ صحابہ کرام نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس قدر لوگوں میں سے آپ اپنی امت کے لوگوں کو کیسے پہچان لیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا خیال ہے، اگر تم کسی اصطبل میں جاؤ، وہاں خالص سیاہ فام گھوڑے ہوں اور ان میں ایک ایسا گھوڑا ہو، جس کی پیشانی اور چاروں پاؤں سفید ہوں، تو کیا تم اسے جلدی سے پہچان نہ لوگے؟ صحابی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی ہاں! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر میری امت کے افراد کی پیشانی سجدہ کی وجہ سے اور ہاتھ پاؤں وضو کی وجہ سے چمکتے ہوں گے۔

12509

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12509

Sahih

۔ (۱۲۵۰۹)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَا مِنْ أُمَّتِی أَحَدٌ إِلَّا وَأَنَا أَعْرِفُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَنْ رَأَیْتَ وَمَنْ لَمْ تَرَ؟ قَالَ: ((مَنْ رَأَیْتُ وَمَنْ لَمْ أَرَ غُرًّا مُحَجَّلِینَ مِنْ أَثَرِ الطُّہُورِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن اپنی امت کے ہر فرد کو پہچان لوں گا۔ صحابہ کرام نے کہاـ: اے اللہ کے رسول! خواہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی کودیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو، ہر ایک کو پہچان لیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے کسی کو دیکھا ہو یا نہ دیکھا ہو، وضو کی وجہ سے ان کی پیشانیاں اور ہاتھ پاؤں چمکتے ہوں گے۔

12510

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12510

Sahih

۔ (۱۲۵۱۰)۔ عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَنَا أَوَّلُ مَنْ یُؤْذَنُ لَہُ بِالسُّجُودِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، وَأَنَا أَوَّلُ مَنْ یُؤْذَنُ لَہُ أَنْ یَرْفَعَ رَأْسَہُ، فَأَنْظُرَ إِلٰی بَیْنِیَدَیَّ، فَأَعْرِفَ أُمَّتِی مِنْ بَیْنِ الْأُمَمِ، وَمِنْ خَلْفِی مِثْلُ ذٰلِکَ، وَعَنْ یَمِینِی مِثْلُ ذٰلِکَ، وَعَنْ شِمَالِی مِثْلُ ذٰلِکَ۔)) فَقَالَ لَہُ رَجُلٌ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَیْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَکَ مِنْ بَیْنِ الْأُمَمِ فِیمَا بَیْنَ نُوحٍ إِلٰی أُمَّتِکَ؟ قَالَ: ((ہُمْ غُرٌّ مُحَجَّلُونَ مِنْ أَثَرِ الْوُضُوئِ، لَیْسَ أَحَدٌ کَذَلِکَ غَیْرُہُمْ، وَأَعْرِفُہُمْ أَنَّہُمْ یُؤْتَوْنَ کُتُبَہُمْ بِأَیْمَانِہِمْ، وَأَعْرِفُہُمْ یَسْعَی بَیْنَ أَیْدِیہِمْ ذُرِّیَّتُہُمْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن سب سے پہلے مجھے سجدہ کرنے کی اجازت دی جائے گی اور مجھے ہی سب سے پہلے سجدہ سے سر اٹھانے کی اجازت ملے گی، میں اپنے سامنے دیکھوں گا تو ساری امتوں میں سے اپنی امت کو پہچان لوں گا، میرے پیچھے میری دائیں اور میری بائیں جانب، ہرطرف لوگ ہی لوگ ہوں گے۔ ایک آدمی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! آپ نوح علیہ السلام سے اپنی امت تک کی امتوں کے افراد میں سے اپنی امت کے لوگوں کو کیسے پہچانیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وضو کی برکت سے ان کے وضو کے اعضا ء روشن ہوں گے، اس امت کے علاوہ کسی دوسری کا کوئی آدمی اس علامت کا حامل نہ ہوگا اور میری امت کے لوگوں کو ان کے نامہ اعمال ان کے دائیں ہاتھوں میں دئیے جائیں گے اور میں انہیں اس طرح بھی پہچان لوں گا کہ ان کی اولاد ان کے سامنے دوڑ رہی ہو گی۔

12511

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12511

Zaeef

۔ (۱۲۵۱۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ جُبَیْرٍ، أَنَّہُ سَمِعَ مِنْ أَبِی ذَرٍّ، وَأَبِی الدَّرْدَائِ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنِّی لَأَعْرِفُ أُمَّتِییَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ بَیْنِ الْأُمَمِ۔)) قَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! وَکَیْفَ تَعْرِفُ أُمَّتَکَ؟ قَالَ: ((أَعْرِفُہُمْ یُؤْتَوْنَ کُتُبَہُمْ بِأَیْمَانِہِمْ، وَأَعْرِفُہُمْ بِسِیمَاہُمْ فِی وُجُوہِہِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ، وَأَعْرِفُہُمْ بِنُورِہِمْ یَسْعٰی بَیْنَ أَیْدِیہِمْ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ذر اور سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن میں ساری امتوں میں سے اپنی امت کے لوگوں کو پہچان لوں گا۔ صحابہ نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی امت کو کیسے پہچانیں گے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں انہیں پہچان لوں گا، انہیں ان کے نامہ اعمال داہنے ہاتھوں میں ملیں گے اور سجدوں کی وجہ سے ان کے چہروں پر علامت ہو گی، میں اس علامت کی وجہ سے بھی انہیں پہچان لوں گا اور ان کے آگے آگے روشنی دوڑ رہی ہوگی،اس سے بھی میں انہیں پہچان لوں گا۔