Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2591

خلافت و امارت کے مسائل

باب چہارم: سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا عبد الملک اور سیدنا عبد اللہ بن زبیر کے مابین پیدا ہونے والے فتنے کو ناپسند کرنا

1 hadith in this chapter

12449

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12449

Sahih

۔ (۱۲۴۴۹)۔ عَنْ سَیَّارِ بْنِ سَلَامَۃَ أَبِی الْمِنْہَالِ الرِّیَاحِیِّ قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِی عَلٰی أَبِی بَرْزَۃَ الْأَسْلَمِیِّ، وَإِنَّ فِی أُذُنَیَّیَوْمَئِذٍ لَقُرْطَیْنِ، قَالَ: وَإِنِّی لَغُلَامٌ، قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَرْزَۃَ: إِنِّی أَحْمَدُ اللّٰہَ، أَنِّی أَصْبَحْتُ لَائِمًا لِہٰذَا الْحَیِّ مِنْ قُرَیْشٍ، فُلَانٌ ہَاہُنَا یُقَاتِلُ عَلَی الدُّنْیَا، وَفُلَانٌ ہَاہُنَا یُقَاتِلُ عَلَی الدُّنْیَا،یَعْنِی عَبْدَ الْمَلِکِ بْنَ مَرْوَانَ، قَالَ: حَتّٰی ذَکَرَ ابْنَ الْأَزْرَقِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: إِنَّ أَحَبَّ النَّاسِ إِلَیَّ لَہٰذِہِ الْعِصَابَۃُ الْمُلَبَّدَۃُ الْخَمِیصَۃُ بُطُونُہُمْ مِنْ أَمْوَالِ الْمُسْلِمِینَ، وَالْخَفِیفَۃُ ظُہُورُہُمْ مِنْ دِمَائِہِمْ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْأُمَرَائُ مِنْ قُرَیْشٍ الْأُمَرَائُ مِنْ قُرَیْشٍ، الْأُمَرَائُ مِنْ قُرَیْشٍ، لِی عَلَیْہِمْ حَقٌّ، وَلَہُمْ عَلَیْکُمْ حَقٌّ، مَا فَعَلُوْا ثَلَاثًا، مَا حَکَمُوا فَعَدَلُوا، وَاسْتُرْحِمُوا فَرَحِمُوا، وَعَاہَدُوْا فَوَفَوْا، فَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ ذٰلِکَ مِنْہُمْ، فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۰۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیار بن سلامہ ابو منہال ریاحی سے سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں اپنے والد کے ہمراہ سیدنا ابو برزہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں گیا، میں اس قدر چھوٹا تھاکہ ان دنوں میرے کانوں میں بالیاں ڈالی ہوئی تھیں، ابو برزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں اللہ تعالیٰ کی حمد کرتا ہوں کہ میں قریش کی حرکت پر انہیں ملامت کرتا رہتا ہوں، یہاں فلاں اور فلاں آدمی ہے، جو حصول دنیا کے لیے قتال کرتا ہے، ان کا اشارہ عبدالملک بن مروان کی طرف تھا، یہاں تک کہ انہوں نے ابن الازرق کا نام بھی لیا، پھر کہا:سب لوگوں میں سے مجھے یہ لوگ زیادہ پسند ہیں، جو خرقہ پوش ہیں اوران کے پیٹ مسلمانوں کے اموال سے خالی اور ان کی پیٹھوں پر مسلمان کا خون لدا ہوا نہیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارشاد گرامی ہے: حکمران قریش سے ہوں گے، حکمران قریش سے ہوں گے، حکمران قریش سے ہوں گے، میرا ان پر حق ہے، اور ان کا تم پر حق ہے، جب تک وہ تین کام کریں کہ وہ عدل و انصاف سے فیصلے کریں،ان سے رحم کی اپیل کی جائے تو رحم کریں اورمعاہدے کریں توان کو پورا کریں، تو ان میں سے جو آدمی یہ کام نہ کرے، اس پر اللہ کی فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔