Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12450
۔ (۱۲۴۵۰)۔ عَنْ رِفَاعَۃَ الْقِتْبَانِیِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی الْمُخْتَارِ قَالَ: فَأَلْقٰی لِی وِسَادَۃً، وَقَالَ: لَوْلَا أَنَّ أَخِی جِبْرِیلَ قَامَ عَنْ ہٰذِہِ لَأَلْقَیْتُہَا لَکَ، قَالَ: فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَہُ، فَذَکَرْتُ حَدِیثًا حَدَّثَنِی بِہِ أَخِی عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَیُّمَا مُؤْمِنٍ أَمَّنَ مُؤْمِنًا عَلٰی دَمِہِ فَقَتَلَہُ فَأَنَا مِنَ الْقَاتِلِ بَرِیئٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۹۳)
اردو ترجمہ · Urdu
رفاعہ قتبانی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں مختار کے ہاں گیا، اس نے ایک تکیہ میری طرف کیا اور کہا: اگر میر ا بھائی جبرائیل اس سے اٹھ کر نہ گیا ہوتا تو میں یہ تکیہ آپ کو دے دیتا، رفاعہ کہتے ہیں: اس کی یہ بات سن کر مجھے غصہ آیا، میں نے ارادہ کیاکہ میں اس کی گردن اڑادوں، لیکن اچانک مجھے ایک حدیث یاد آگئی جو مجھے میرے بھائی سیدنا عمرو بن حمق رضی اللہ عنہ نے سنائی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس مومن نے کسی مومن کو اس کی جان کی امان دی ہو اور پھر اسے قتل کردے تومیں اس سے لا تعلق اور بری ہوں۔