Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2592

خلافت و امارت کے مسائل

مختار ثقفی کا ظہور

4 hadiths in this chapter

12450

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12450

Sahih

۔ (۱۲۴۵۰)۔ عَنْ رِفَاعَۃَ الْقِتْبَانِیِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَی الْمُخْتَارِ قَالَ: فَأَلْقٰی لِی وِسَادَۃً، وَقَالَ: لَوْلَا أَنَّ أَخِی جِبْرِیلَ قَامَ عَنْ ہٰذِہِ لَأَلْقَیْتُہَا لَکَ، قَالَ: فَأَرَدْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَہُ، فَذَکَرْتُ حَدِیثًا حَدَّثَنِی بِہِ أَخِی عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((أَیُّمَا مُؤْمِنٍ أَمَّنَ مُؤْمِنًا عَلٰی دَمِہِ فَقَتَلَہُ فَأَنَا مِنَ الْقَاتِلِ بَرِیئٌ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

رفاعہ قتبانی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں مختار کے ہاں گیا، اس نے ایک تکیہ میری طرف کیا اور کہا: اگر میر ا بھائی جبرائیل اس سے اٹھ کر نہ گیا ہوتا تو میں یہ تکیہ آپ کو دے دیتا، رفاعہ کہتے ہیں: اس کی یہ بات سن کر مجھے غصہ آیا، میں نے ارادہ کیاکہ میں اس کی گردن اڑادوں، لیکن اچانک مجھے ایک حدیث یاد آگئی جو مجھے میرے بھائی سیدنا عمرو بن حمق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سنائی تھی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مومن نے کسی مومن کو اس کی جان کی امان دی ہو اور پھر اسے قتل کردے تومیں اس سے لا تعلق اور بری ہوں۔

12451

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12451

Sahih

۔ (۱۲۴۵۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ کُنْتُ أَقُومُ عَلَی رَأْسِ الْمُخْتَارِ، فَلَمَّا عَرَفْتُ کَذِبَہُ ہَمَمْتُ أَنْ أَسُلَّ سَیْفِی، فَأَضْرِبَ عُنُقَہُ، فَذَکَرْتُ حَدِیثًا، حَدَّثَنَاہُ عَمْرُو بْنُ الْحَمِقِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ أَمَّنَ رَجُلًا عَلٰی نَفْسِہِ فَقَتَلَہُ أُعْطِیَ لِوَائَ الْغَدْرِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) رفاعہ کہتے ہیں:میں مختار کے سر پر کھڑا تھا،جب مجھے اس کے جھوٹا ہونے کا یقین ہوگیا تو میں نے ارادہ کیا کہ تلوار سونت کر اس کی گردن اڑا دوں، لیکن مجھے وہ حدیث یاد آگئی جو سیدنا عمرو بن حمق ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کی تھی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی کسی کو اس کی جان کی امان دینے کے بعد اس کو قتل کر دے تو قیامت کے دن اسے دھوکے والا جھنڈا دیاجائے گا۔

12452

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12452

Zaeef

۔ (۱۲۴۵۲)۔ عَنْ أَبِی عُکَّاشَۃَ الْہَمْدَانِیِّ قَالَ: قَالَ رِفَاعَۃُ الْبَجَلِیُّ: دَخَلْتُ عَلَی الْمُخْتَارِ بْنِ أَبِی عُبَیْدٍ قَصْرَہُ فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: مَا قَامَ جِبْرِیلُ إِلَّا مِنْ عِنْدِی قَبْلُ، قَالَ: فَہَمَمْتُ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَہُ، فَذَکَرْتُ حَدِیثًا حَدَّثَنَاہُ سُلَیْمَانُ بْنُ صُرَدٍ، عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَقُولُ: ((إِذَا أَمَّنَکَ الرَّجُلُ عَلٰی دَمِہِ فَلَا تَقْتُلْہُ۔)) قَالَ: وَکَانَ قَدْ أَمَّنَنِی عَلٰی دَمِہِ فَکَرِہْتُ دَمَہُ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۴۹)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو رفاعہ بجلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں مختار بن ابی عبید کے پاس اس کے محل میں داخل ہوا، میں نے سنا وہ کہہ رہاتھا کہ میرا بھائی جبرئیل ابھی میرے ہاں سے گیا ہے، اس کی یہ بات سن کر میں نے ارادہ کیا کہ اس کی گردن اڑادوں، پھر مجھے ایک حدیث یاد آئی جو مجھ سے سلیمان بن صرد نے بیان کی تھی کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی اپنے خون پر تم کو امین سمجھ لے تو اسے قتل نہ کرنا۔ اور اس مختار نے مجھ سے اپنی جان کی امان طلب کی ہوئی تھی، اس لیے میں نے اسے قتل کرنا مناسب نہ سمجھا۔

12453

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12453

Sahih

۔ (۱۲۴۵۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّہُ کَانَ عِنْدَہُ رَجُلٌ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ، فَجَعَلَ یُحَدِّثُہُ عَنِ الْمُخْتَارِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنْ کَانَ کَمَا تَقُولُ فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ بَیْنَیَدَیِ السَّاعَۃِ ثَلَاثِینَ کَذَّابًا۔)) (مسند احمد: ۵۹۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کسی کوفی کے ہاں تھے، وہ ان کو مختار کے بارے میں کچھ باتیں سنانے لگا، سیدناابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا کہ قیامت سے پہلے تیس جھوٹے دجال پیدا ہوں گے۔