Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2590

خلافت و امارت کے مسائل

باب سوم: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خواہش کے مطابق کعبہ کی تعمیر کرنا

4 hadiths in this chapter

12445

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12445

Sahih

۔ (۱۲۴۴۵)۔ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: قَالَ لِی ابْنُ الزُّبَیْرِ: حَدِّثْنِی بَعْضَ مَا کَانَتْ تُسِرُّ إِلَیْکَ أُمُّ الْمُؤْمِنِینَ، فَرُبَّ شَیْئٍ کَانَتْ تُحَدِّثُکَ بِہِ تَکْتُمُہُ النَّاسَ، قَالَ: قُلْتُ: لَقَدْ حَدَّثَتْنِی حَدِیثًا حَفِظْتُ أَوَّلَہُ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِیثٌ عَہْدُہُمْ بِجَاہِلِیَّۃٍ، أَوْ قَالَ: بِکُفْرٍ، قَالَ: یَقُولُ ابْنُ الزُّبَیْرِ، لَنَقَضْتُ الْکَعْبَۃَ فَجَعَلْتُ لَہَا بَابَیْنِ فِی الْأَرْضِ بَابًا یُدْخَلُ مِنْہُ وَبَابًا یُخْرَجُ مِنْہُ۔)) قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: فَأَنَا رَأَیْتُہَا کَذٰلِکَ۔ (مسند احمد: ۲۵۲۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

اسود سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے کہا: تم مجھے ایسی باتیں بیان کرو،جو سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا تمہارے ساتھ خصوصی طور پر کیا کرتی تھیں اور جن کو وہ لوگوں سے چھپاتی تھیں،اسود نے کہا: انہوں نے مجھے ایک بات بیان کی تھی جس کا ابتدائی حصہ مجھے خوب یاد ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عائشہ! اگر تمہاری قوم نئی نئی مسلمان نہ ہوئی ہوتی تو میں کعبہ کی عمارت کو گرا کر نئی تعمیر کرتا اور میں اس کے برابر کے دو دروازے بناتا، ایک اندر جانے کے لیے اور دوسرا باہر آنے کے لیے۔ ابو اسحاق کہتے ہیں: میں نے بیت اللہ کو اس انداز سے تعمیر شدہ دیکھا۔

12446

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12446

Sahih

۔ (۱۲۴۴۶)۔ عَنْ سَعِیدِ بْنِ مِینَائَ قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ الزُّبَیْرِیَقُولُ: حَدَّثَتْنِی خَالَتِی عَائِشَۃُ: أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَہَا: ((لَوْلَا أَنَّ قَوْمَکِ حَدِیثُ عَہْدٍ بِشِرْکٍ أَوْ بِجَاہِلِیَّۃٍ، لَہَدَمْتُ الْکَعْبَۃَ فَأَلْزَقْتُہَا بِالْأَرْضِ، وَجَعَلْتُ لَہَا بَابَیْنِ بَابًا شَرْقِیًّا وَبَابًا غَرْبِیًّا، وَزِدْتُ فِیہَا مِنَ الْحِجْرِ سِتَّۃَ أَذْرُعٍ، فَإِنَّ قُرِیْشًا اقْتَصَرَتْہَا حِینَ بَنَتْ الْکَعْبَۃَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۹۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میری خالہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیاکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا تھا: اگر تمہاری قوم نئی نئی شرک یاجاہلیت یعنی کفر کو چھوڑ کر نہ آئی ہوتی تو میں کعبہ کو منہدم کر کے زمین کے برابر کر دیتا اور اس کے دو دروازے اس طرح بناتا کہ ایک مشرق کی طرف ہوتا اور دوسرا مغرب کی طرف اور حجر یعنی حطیم میں سے چھ ہاتھ کے برابر جگہ بیت اللہ میں شامل کر دیتا، کیونکہ جب قریش نے اس کی تعمیر کی تھی تو وسائل کی کمی کے باعث وہ اسے کعبہ کی تعمیر میں شامل نہ کر سکے تھے۔

12447

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12447

Zaeef

۔ (۱۲۴۴۷)۔ عَنِ ابْنِ أَبِی مُلَیْکَۃَ، عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((لَوْ کَانَ عِنْدَنَا سَعَۃٌ لَہَدَمْتُ الْکَعْبَۃَ، وَلَبَنَیْتُہَا وَلَجَعَلْتُ لَہَا بَابَیْنِ بَابًا یَدْخُلُ النَّاسُ مِنْہُ وَبَابًایَخْرُجُونَ مِنْہُ۔)) قَالَتْ: فَلَمَّا وَلِیَ ابْنُ الزُّبَیْرِ ہَدَمَہَا فَجَعَلَ لَہَا بَابَیْنِ، قَالَتْ: فَکَانَتْ کَذٰلِکَ فَلَمَّا ظَہَرَ الْحَجَّاجُ عَلَیْہِ ہَدَمَہَا وَأَعَادَ بِنَائَ ہَا الْأَوَّلَ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر ہمارے اندر طاقت ہوتی تو میں کعبہ کو منہدم کر کے اس کی جدید تعمیر کرتا اور اس کے دو دروازے بناتا، ایک دروازے سے لوگ اندر داخل ہوتے اور دوسرے سے نکل جاتے۔ پھر جب سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ حکمران بنے تو انہوں نے رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خواہش کے مطابق اسے منہدم کر کے اس کے دو دروازے بنائے، لیکن ان کے بعد جب حجاج کا دور آیا تو اس نے اسے دوبارہ منہدم کر کے اس کی سابقہ بنیادوں پر تعمیر کردی۔

12448

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12448

Sahih

۔ (۱۲۴۴۸)۔ عَنْ أَبِی قَزَعَۃَ أَنَّ عَبْدَ الْمَلِکِ بَیْنَمَا ہُوَ یَطُوفُ بِالْبَیْتِ إِذْ قَالَ: قَاتَلَ اللّٰہُ ابْنَ الزُّبَیْرِ حَیْثُیَکْذِبُ عَلٰی أُمِّ الْمُؤْمِنِینَیَقُولُ: سَمِعْتُہَا وَہِیَ تَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((یَا عَائِشَۃُ! لَوْلَا حِدْثَانُ قَوْمِکِ بِالْکُفْرِ لَنَقَبْتُ الْبَیْتَ۔)) قَالَ أَبِی: قَالَ الْأَنْصَارِیُّ: ((لَنَقَضْتُ الْبَیْتَ حَتّٰی أَزِیدَ فِیہِ مِنْ الْحِجْرِ، فَإِنَّ قَوْمَکِ قَصَّرُوا عَنِ الْبِنَائِ۔)) فَقَالَ الْحَارِثُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ أَبِی رَبِیعَۃَ: لَا تَقُلْ ہٰذَا یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، فَأَنَا سَمِعْتُ أُمَّ الْمُؤْمِنِینَ تُحَدِّثُ ہٰذَا، فَقَالَ: لَوْ کُنْتُ سَمِعْتُ ہٰذَا قَبْلَ أَنْ أَہْدِمَہُ لَتَرَکْتُہُ عَلٰی بِنَائِ ابْنِ الزُّبَیْرِ۔ (مسند احمد: ۲۶۶۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو قزعہ سے مروی ہے کہ عبدالملک بیت اللہ کا طواف کر رہا تھا، اس دوران اس نے کہا: اللہ تعالیٰ ابن زبیر کوہلاک کرے، وہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا پر جھوٹ باندھتا اور کہتا تھا کہ سیدہ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: اگر تمہاری قوم نئی نئی کفر کو چھو ڑ کر مسلمان نہ ہوئی ہوتی تو میں بیت اللہ کو گرا کر حطیم میں سے کچھ حصہ ا س میں شامل کردیتا، تمہاری قوم قریش نے جب اسے تعمیر کیا تھا تو پور اتعمیر نہیں کر سکے تھے۔ اس کی یہ بات سن کر حارث بن عبداللہ بن ابی ربیعہ نے کہا: امیر المومنین! یہ بات نہ کہیں، میں نے خودسیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، عبد الملک نے کہا: اگر کعبہ کو گرانے سے پہلے میں نے یہ بات سنی ہوتی تو میں بیت اللہ کو ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تعمیر پر باقی رہنے دیتا۔