Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2589

خلافت و امارت کے مسائل

باب دوم: ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب اور تاریخ ولادت

5 hadiths in this chapter

12440

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12440

Sahih

۔ (۱۲۴۴۰)۔ عَنْ أَسْمَائَ أَنَّہَا حَمَلَتْ بِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الزُّبَیْرِ بِمَکَّۃَ، قَالَتْ: فَخَرَجْتُ وَأَنَا مُتِمٌّ، فَأَتَیْتُ الْمَدِینَۃَ، فَنَزَلْتُ بِقُبَائَ فَوَلَدْتُہُ بِقُبَائَ، ثُمَّ أَتَیْتُ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَوَضَعْتُہُ فِی حِجْرِہِ، ثُمَّ دَعَا بِتَمْرَۃٍ فَمَضَغَہَا ثُمَّ تَفَلَ فِی فِیہِ، فَکَانَ أَوَّلَ مَا دَخَلَ فِی جَوْفِہِ رِیقُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: ثُمَّ حَنَّکَہُ بِتَمْرَۃٍ ثُمَّ دَعَا لَہُ، وَبَرَّکَ عَلَیْہِ، وَکَانَ أَوَّلَ مَوْلُودٍ وُلِدَ فِی الْإِسْلَامِ۔ (مسند احمد: ۲۷۴۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ اسماء بنت ابی بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ وہ مکہ میں عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے حاملہ ہوئیں، وہ کہتی ہیں: ایام پورے ہوچکے تھے کہ میں ہجرت کے سفر پر روانہ ہو گئی، قباء پہنچ کر ٹھہری اور میں نے وہاں اس بچے کو جنم دیا، میں اسے لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گئی اور جا کر آپ کی گود میں رکھ دیا، آپ نے کھجور منگوائی اور اسے چبا کر اس کے منہ میں ڈال دی، اس کے پیٹ میں سب سے پہلے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا لعاب داخل ہواتھا، اس طرح آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کھجور کی گھٹی دی اور اس کے لیے برکت کی دعا فرمائی، یہ اسلام میں پیدا ہونے والا سب سے پہلا بچہ تھا۔

12441

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12441

Sahih

۔ (۱۲۴۴۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: اَتَیْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِاِبْنِ الزُّبَیْرِ فَحَنَّکَہُ بِتَمْرَۃٍ وَقَالَ: ((ہٰذَا عَبْدُ اللّٰہِ وَاَنْتِ اُمُّ عُبْدِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۱۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں(اپنے بھانجے) ابن زبیر کو لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے کھجور کی گھٹی دی اورفرمایا: یہ عبداللہ ہے اور تم ام عبداللہ ہو۔

12442

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12442

Zaeef

۔ (۱۲۴۴۲)۔ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ، عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ الزُّبَیْرِ لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ جَعْفَرٍ: أَتَذْکُرُ یَوْمَ اسْتَقْبَلْنَا النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَحَمَلَنِی وَتَرَکَکَ؟ وَکَانَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُسْتَقْبَلُ بِالصِّبْیَانِ إِذَا جَائَ مِنْ سَفَرٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۲۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

عرو ہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبداللہ بن جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا تمہیں وہ دن یاد ہے، جس دن ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے آئے تھے اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اپنی سواری پر سوار کر لیا تھا اور تمہیں چھوڑ دیا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سفر سے واپس تشریف لاتے تو بچوں کے ساتھ آپ کا استقبال کیا جاتا تھا۔

12443

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12443

Sahih

۔ (۱۲۴۴۳)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ قَالَ: انْتَہَیْتُ إِلٰی عَائِشَۃَ أَنَا وَعَمَّارٌ وَالْأَشْتَرُ، فَقَالَ عَمَّارٌ: السَّلَامُ عَلَیْکِیَا أُمَّتَاہُ، فَقَالَتْ: السَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی، حَتّٰی أَعَادَہَا عَلَیْہَا مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا، ثُمَّ قَالَ: أَمَا وَاللّٰہِ! إِنَّکِ لَأُمِّی وَإِنْ کَرِہْتِ، قَالَتْ: مَنْ ہٰذَا مَعَکَ؟ قَالَ: ہٰذَا الْأَشْتَرُ، قَالَتْ: أَنْتَ الَّذِی أَرَدْتَ أَنْ تَقْتُلَ ابْنَ أُخْتِی، قَالَ: نَعَمْ، قَدْ أَرَدْتُ ذٰلِکَ وَأَرَادَہُ، قَالَتْ: أَمَا لَوْ فَعَلْتَ مَا أَفْلَحْتَ، أَمَّا أَنْتَ یَا عَمَّارُ! فَقَدْ سَمِعْتَ أَوْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((لَا یَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَۃٍ إِلَّا مَنْ زَنٰی بَعْدَ مَا أُحْصِنَ، أَوْ کَفَرَ بَعْدَ مَا أَسْلَم، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا فَقُتِلَ بِہَا۔)) (مسند احمد: ۲۴۸۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

عمرو بن غالب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں، سیدنا عمار اور اشتر، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی خدمت میں گئے، سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: امی جان! آپ پر سلامتی ہو، سیدہ نے جواباًکہا: اَلسَّلَامُ عَلٰی مَنِ اتَّبَعَ الْہُدٰی (سلام ہو اس پر جو ہدایت کی پیروی کرے) عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سلام کے یہ کلمات دو یا تین مرتبہ دہرائے، پھرکہا! اللہ کی قسم! آپ میری ما ں ہیں، خواہ آپ مجھ سے نفرت کریں، سیدہ نے کہا: یہ تمہارے ساتھ کون کون ہیں؟ انہوں نے کہا: یہ اشتر ہے، سیدہ نے کہا: تم ہی ہو نا جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں! واقعی میں نے اس بات کا ارادہ کیا تھا اور ان کا بھی یہی ارادہ تھا کہ وہ مجھے قتل کردیں، سیدہ نے کہا: اگر تم یہ کام کرلیتے تو کامیاب نہ ہوتے اور عمار! آپ نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ کسی مسلمان کا خون تین صورتوں کے علاوہ کسی بھی صورت میں حلال نہیں، شادی شدہ زنا کرے یا وہ مرتد ہوجائے یاکسی کو قتل کرے اور اسے اس کے بدلے میں قتل کردیاجائے۔ (تو کیا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان میں سے کوئی جر م کیا تھاکہ ان کو قتل کر دیا گیا؟)

12444

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12444

Sahih

۔ (۱۲۴۴۴)۔ وَفِیْ رِوَایَۃٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ غَالِبٍ أَنَّ عَائِشَۃَ قَالَتْ لِلْأَشْتَرِ: أَنْتَ الَّذِی أَرَدْتَ قَتْلَ ابْنِ أُخْتِی؟ قَالَ: قَدْ حَرَصْتُ عَلٰی قَتْلِہِ وَحَرَصَ عَلٰی قَتْلِی، قَالَتْ: أَوَمَا عَلِمْتَ مَا قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا یَحِلُّ دَمُ رَجُلٍ إِلَّا رَجُلٌ ارْتَدَّ، أَوْ تَرَکَ الْإِسْلَامَ، أَوْ زَنٰی بَعْدَمَا أُحْصِنَ، أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَیْرِ نَفْسٍ۔)) (مسند احمد: ۲۵۹۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) عرو ہ بن غالب سے مروی ہے کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے اشتر سے کہا: تم ہی ہو جس نے میرے بھانجے کو قتل کرنے کا ارادہ کیا تھا؟ اس نے کہا: جی ہاں، میں ان کو قتل کرنے کا حریص تھا اور وہ مجھے قتل کرنا چاہتے تھے، انہوں نے کہا:کیا تم نہیں جانتے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاہے: کسی مسلمان کا خون بہانا کسی بھی صورت میں جائز نہیں الایہ کہ کوئی مرتد ہوجائے یا شادی شدہ ہو کر زنا کا ارتکاب کرے یا کسی مسلمان کو ناحق قتل کرے۔