Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2588

خلافت و امارت کے مسائل

یزید بن معاویہ کی موت کے بعد سیدنا عبد اللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت اور اس میں رونما ہونے والے واقعات کا بیان باب اول: سیدنا عبداللہ بن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کا بیان

2 hadiths in this chapter

12438

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12438

Zaeef

۔ (۱۲۴۳۸)۔ عَنْ بِشْرِ بْنِ حَرْبٍ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ أَتٰی أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ، فَقَالَ: یَا أَبَا سَعِیدٍ! أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّکَ بَایَعْتَ أَمِیرَیْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلٰی أَمِیرٍ وَاحِدٍ؟ قَالَ: نَعَمْ، بَایَعْتُ ابْنَ الزُّبَیْرِ فَجَائَ اَھْلُ الشَّامِ فَسَاقُوْنِیْ إِلَی جَیْشِ بْنِ دَلَحَۃَ فَبَایَعْتُہُ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِیَّاہَا کُنْتُ أَخَافُ إِیَّاہَا کُنْتُ أَخَافُ وَمَدَّ بِہَا حَمَّادٌ صَوْتَہُ، قَالَ أَبُو سَعِیدٍ: یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! أَوَلَمْ تَسْمَعْ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنِ اسْتَطَاعَ أَنْ لَا یَنَامَ نَوْمًا، وَلَا یُصْبِحَ صَبَاحًا، وَلَا یُمْسِیَ مَسَائً إِلَّا وَعَلَیْہِ أَمِیرٌ۔))؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلٰکِنِّی أَکْرَہُ أَنْ أُبَایِعَ أَمِیرَیْنِ مِنْ قَبْلِ أَنْ یَجْتَمِعَ النَّاسُ عَلٰی أَمِیرٍ وَاحِدٍ۔ (مسند احمد: ۱۱۲۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

بشر بن حرب سے روایت ہے کہ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گئے اور ان سے کہا: مجھے اطلاع پہنچی ہے کہ کہ لوگوں کے ایک امیر کی امارت پر متفق ہونے سے پہلے ہی آپ نے دو امیروں کی بیعت کر لی ہے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، میں سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاتھ پر بیعت کر چکا تھا کہ شامی آگئے اوروہ مجھے ابن دلحہ کے لشکر کی طرف لے گئے، میں نے اس کی بیعت بھی کرلی، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: مجھے اس بات کا اندیشہ تھا، میں اسی سے ڈرتا تھا، ان الفاظ کو ادا کرتے ہوئے حماد بن سلمہ نے اپنی آواز کو لمبا کر کے کھینچا،ابو سعید نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! کیا آپ نے نہیں سنا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے اگر کوئی آدمی اس بات کی استطاعت رکھتا ہو کہ کسی امیر کی امارت کے نہ ہوتے ہوئے نہ صبح کرے اور نہ شام کرے تو اسے ضرورکسی کی امارت میں چلے جانا چاہیے۔ ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، مگر میں اس بات کو پسند نہیں کرتا کہ لوگوں کے کسی ایک امیر کی امارت پر متفق ہونے سے پہلے میں دوامیروں کی بیعت کروں۔

12439

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12439

Sahih

۔ (۱۲۴۳۹)۔ قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَۃُ، عَنْ أَبِی عِمْرَانَ، قَالَ: قُلْتُ لِجُنْدُبٍ: إِنِّی قَدْ بَایَعْتُ ہٰؤُلَائِ یَعْنِی ابْنَ الزُّبَیْرِ، وَإِنَّہُمْ یُرِیدُونَ أَنْ أَخْرُجَ مَعَہُمْ إِلَی الشَّامِ، فَقَالَ: أَمْسِکْ، فَقُلْتُ: إِنَّہُمْ یَأْبَوْنَ، فَقَالَ: افْتَدِ بِمَالِکَ، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّہُمْ یَأْبَوْنَ إِلَّا أَنْ أَضْرِبَ مَعَہُمْ بِالسَّیْفِ، فَقَالَ جُنْدُبٌ: حَدَّثَنِی فُلَانٌ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((یَجِیئُ الْمَقْتُولُ بِقَاتِلِہِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، فَیَقُولُ: یَا رَبِّ سَلْ ہٰذَا فِیمَ قَتَلَنِی۔)) قَالَ شُعْبَۃُ: فَأَحْسِبُہُ قَالَ: فَیَقُولُ: عَلَامَ قَتَلْتَہُ؟ فَیَقُولُ: قَتَلْتُہُ عَلٰی مُلْکِ فُلَانٍ۔)) قَالَ: فَقَالَ جُنْدُبٌ: فَاتَّقِہَا۔ (مسند احمد: ۲۳۵۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو عمران سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے جندب سے کہا: میں ان لوگوں یعنی سیدنا ابن زبیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیعت کر چکا ہوں،اب یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں ان کے ہمراہ شام کی طرف جاؤں، انہوں نے کہا: مت جانا، میں نے کہا: وہ مجھے اپنے ساتھ لے جانے پر مصر ہیں، انہوں نے کہا: تم مال دے کر جان چھڑا لو، میں نے کہا: ان کا ایک ہی اصرا ر ہے کہ میں ان کے ساتھ مل کر قتال میں حصہ لوں، جندب نے کہا: مجھے فلاں نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کاارشاد ہے: قیامت کے دن ایک مقتول اپنے قاتل کو ساتھ لے کر آئے گا اور کہے گا: اے میرے رب! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھ کیوں قتل کیا تھا؟شعبہ کے الفا ظ ہیں: وہ کہے گا کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا؟ وہ کہے گا: میں نے فلاں کی حکومت بچانے کے لیے اسے قتل کیا تھا۔ تو جندب نے کہا: پس تم بچ ہی جاؤ۔