Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12390
۔ (۱۲۳۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ اِسْحٰقَ، عَنْ ھُبَیْرَۃَ، خَطَبَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ رضی اللہ عنہ فَقَالَ: لَقَدْ فَارَقَکُمْ رَجُلٌ بِالْاَمْسِ، لَمْ یَسْبِقْہُ الْاَوَّلُوْنَ بِعِلْمٍ وَلَا یُدْرِکْہُ الْآخِرُوْنَ، کَانَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یَبْعَثُہُ بِالرَّاْیَۃِ، جِبْرِیْلُ عَنْ یَمِیْنِہِ وَمِیْکَائِیْلُ عَنْ شِمَالِہِِ، لَا یَنْصَرِفُ حَتّٰییُفْتَحَ لَہُ۔ (مسند احمد: ۱۷۱۹)
اردو ترجمہ · Urdu
ہبیرہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا حسن بن علی علیہ السلام نے ہمیں خطبہ دیا اور کہا: کل ایک ایسا آدمی تمہیں داغ مفارقت دے گیا ہے کہ نہ تو پہلے لوگوں میں سے کوئی علمی طور پر اس سے سبقت لے گیا ہے اورنہ بعد والوں میں سے کوئی اس کے مقام کو پاسکے گا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اسے جھنڈا دے کر روانہ کرتے تو جبریل علیہ السلام اس کی داہنی جانب ہوتا اور میکائیل علیہ السلام اس کی بائیں جانب اور وہ فتح کے بغیر نہ لوٹتا تھا۔