Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2566

خلافت و امارت کے مسائل

سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا فاطمہ زہرائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے فرزند سیدنا امام حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت سے متعلقہ ابواب باب اول: سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خلافت کا بیان

4 hadiths in this chapter

12392

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12392

Sahih

۔ (۱۲۳۹۲)۔ عَنْ زُہَیْرِ بْنِ الْأَقْمَرِ قَالَ: بَیْنَمَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّیَخْطُبُ بَعْدَمَا قُتِلَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، إِذْ قَامَ رَجُلٌ مِنْ الْأَزْدِ آدَمُ طُوَالٌ، فَقَالَ: لَقَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَاضِعَہُ فِی حَبْوَتِہِ، یَقُولُ: ((مَنْ أَحَبَّنِی فَلْیُحِبَّہُ، فَلْیُبَلِّغِ الشَّاہِدُ الْغَائِبَ۔)) وَلَوْلَا عَزْمَۃُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا حَدَّثْتُکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۳۴۹۴)

اردو ترجمہ · Urdu

زہیربن اقمر سے مروی ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت کے بعد ایک دن سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خطاب کر رہے تھے کہ بنواز د کے ایک آدمی نے کھڑے ہو کر کہا: میں نے دیکھا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو اپنی گود میں بٹھایا ہوا تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جسے مجھ سے محبت ہے، وہ اس سے بھی محبت کرے،جو لو گ یہاں موجود ہیں وہ یہ بات ان لوگوں تک پہنچا دیں، جو یہاں نہیں ہیں۔ اگر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے یہ تاکید نہ ہوتی تومیں تمہیں یہ حدیث نہ سناتا۔

12393

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12393

Sahih

۔ (۱۲۳۹۳)۔ ثَنَا ہَاشِمٌ، حَدَّثَنَا الْمُبَارَکُ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ، حَدَّثَنَا أَبُو بَکْرَۃَ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی بِالنَّاسِ، وَکَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَثِبُ عَلٰی ظَہْرِہِ، إِذَا سَجَدَ فَفَعَلَ ذٰلِکَ غَیْرَ مَرَّۃٍ،(وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَیَرْفَعُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَفْعًا رَقِیْقًا لِئَلَّا یُصْرِعَہُ) أَبُوبَکْرَۃَ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُصَلِّی بِالنَّاسِ، وَکَانَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا یَثِبُ عَلٰی ظَہْرِہِ إِذَا سَجَدَ، فَفَعَلَ ذٰلِکَ غَیْرَ مَرَّۃٍ، فَقَالُوْا لَہُ: وَاللّٰہِ! إِنَّکَ لَتَفْعَلُ بِہٰذَا شَیْئًا مَا رَأَیْنَاکَ تَفْعَلُہُ بِأَحَدٍ، قَالَ الْمُبَارَکُ: فَذَکَرَ شَیْئًا ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ ابْنِیْ ہَذَا سَیِّدٌ، وَسَیُصْلِحُ اللّٰہُ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ۔)) فَقَالَ الْحَسَنُ: فَوَاللّٰہِ وَاللّٰہِ بَعْدَ أَنْ وَلِیَ لَمْ یُہْرَقْ فِی خِلَافَتِہِ مِلْئُ مِحْجَمَۃٍ مِنْ دَمٍ۔ (مسند احمد: ۲۰۷۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے اور سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کود کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کمر پر چڑھ جاتے، انھوں نے ایسے کئی بار کیا۔ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نرمی سے اٹھتے تھے تاکہ وہ گر نہ جائیں، یہ منظر دیکھ کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کی قسم! آپ جیسا سلوک اس کے ساتھ کرتے ہیں، ویسا کسی اور کے ساتھ نہیں کرتے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرا یہ بیٹا سردار ہے، اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے مسلمانوں کی دو بڑی جماعتوں میں صلح کراے گا۔ حسن بصری نے کہا: پس اللہ کی قسم، اللہ کی قسم ہے کہ ان کی خلافت میں ایک شیشی کی مقدار بھی خون نہیں بہایا گیا۔

12394

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12394

Sahih

۔ (۱۲۳۹۴)۔ عَنْ أَبِی مُوسٰی وَیُقَالُ لَہُ: إِسْرَائِیلُ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا بَکْرَۃَ، وَقَالَ سُفْیَانُ مَرَّۃً: عَنْ أَبِی بَکْرَۃَ رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَحَسَنٌ عَلَیْہِ السَّلَامُ مَعَہُ وَہُوَ یُقْبِلُ عَلَی النَّاسِ مَرَّۃً وَعَلَیْہِ مَرَّۃً وَیَقُولُ: ((إِنَّ ابْنِی ہٰذَا سَیِّدٌ، وَلَعَلَّ اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَنْ یُصْلِحَ بِہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۶۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف فرما تھے اور سیدنا حسن علیہ السلام بھی آپ کے ہمراہ تھے، آپ ایک بار لوگوں کی طرف دیکھتے اور ایک بار ان پر نظر ڈالتے اور فرماتے تھے: میرا یہ بیٹا سردار ہوگا اور امید ہے کہ اللہ تبارک و تعالیٰ ا س کے ذریعے مسلمانوں کے دو گروہوں میں صلح کرائے گا۔

12395

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12395

Sahih

۔ (۱۲۳۹۵)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَن الْحَسَنِ عَن أَبِی بَکْرَۃَ، قَالَ: بَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍیَخْطُبُ إِذْ جَائَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِیٍّ، فَصَعِدَ إِلَیْہِ الْمِنْبَرَ، فَضَمَّہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَیْہِ، وَمَسَحَ عَلٰی رَأْسِہِ، وَقَالَ: ((ابْنِی ہٰذَا سَیِّدٌ، وَلَعَلَّ اللّٰہَ أَنْ یُصْلِحَ عَلٰییَدَیْہِ بَیْنَ فِئَتَیْنِ عَظِیمَتَیْنِ مِنَ الْمُسْلِمِینَ۔)) (مسند احمد: ۲۰۷۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا ابوبکرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ دے رہے تھے کہ سیدنا حسن بن علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آگئے، وہ آکر آپ کے پاس منبر پر چلے گئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اپنے سینے سے لگالیا اور ان کے سر پر ہاتھ پھیر کر فرمایا: میر ایہ بیٹا سردار ہے اور امید ہے کہ اس کے ذریعے اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں میں صلح کراے گا۔