Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2563

خلافت و امارت کے مسائل

باب ہفتم: سیدنا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اور اس امر کا بیان کہ ان کے جسم کا کون سا حصہ زخمی ہوگا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی یہ بات اس واقعہ کے وقوع پذیر ہو نے سے پہلے بتلا دی تھی اور اس امرکا بیان کہ اس کے قاتل کے ساتھ کیا سلوک کیا گیا؟

4 hadiths in this chapter

12385

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12385

Zaeef

۔ (۱۲۳۸۵)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ، حَدَّثَنِی اَبِیْ، ثَنَا ہَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، ثَنَا مُحَمَّدٌ یَعْنِی ابْنَ رَاشِدٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیْلٍ، عَنْ فَضَالَۃِ بْنِ اَبِیْ فَضَالَۃَ الْاَنْصَارِیِّ وَکَانَ اَبُوْ فَضَالَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنْ اَھْلِ بَدْرٍ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ اَبِیْ عَائِدٍ اِلٰی عَلِی بْنِ اَبِیْ طَالِبٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مِنْ مَرْضٍ اَصَابَہُ ثَقَلٌ مِنْہُ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ اَبِیْ: مَا یُقِیْمُکَ فِیْ مَنْزِلِکَ ہٰذَا؟ لَوْ اَصَابَکَ اَجَلُکَ لَمْ یَلِکَ عِنْدَکَ اِلَّا اَعْرَابُ جُہَیْنۃَ، تُحْمَلُ اِلَی الْمَدِیْنَۃِ، فَاِنْ اَصَابَکَ اَجَلُکَ وَلِیَکَ اَصْحَابُکَ وَصَلَّوْا عَلَیْکَ، فَقَالَ عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌: انَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَہِدَ اِلَیَّ اَنْ لَا اَمُوْتَ حَتّٰی اُؤَمَّرَ ثُمَّ تُخْضَبَ ہٰذِہِ یَعْنِیْ لِحْیَتَہُ مِنْ دَمٍ ہٰذَا یَعْنِیْ ہَامَّتَہُ، فَقْقِلَ وَقُتِلَ اَبُوْ فَضٰلَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ مَعَ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَوْمَ صِفِّیْنَ۔ (مسند احمد: ۸۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

فضالہ بن ابی فضالہ انصاری سے روایت ہے، ان کے والد سیدنا ابو فضالہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بدری صحابی تھے، فضالہ کہتے ہیں: میں اپنے باپ کی معیت میں سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی عیادت کے لیے گیا، وہ کافی بیمار تھے، میرے والد نے ان سے کہا: آپ اپنی جگہ پر کس لیے ٹھہرے ہوئے ہیں؟ اگر آپ کا آخری وقت آگیا تو بنو جہینہ کے چند بدو آپ کے پاس ہوں گے،آپ کو مدینہ منورہ لے چلیں، وہاں اگر آپ کو موت آئی تو آپ کے دوست احباب پاس ہوں گے اور آپ کی نماز جنازہ ادا کریں گے، یہ سن کر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھے فرما چکے ہیں کہ مجھے اس وقت تک موت نہ آئے گی، جب تک کہ مجھے امارت نہ ملے، پھر میرے سر کے خون سے میری داڑھی رنگین نہ ہوجائے، چنانچہ ایسے ہی ہوا اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ قتل ہو گئے۔ سیدنا ابو فضالہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ صفین کی جنگ میں قتل ہو گئے تھے۔

12386

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12386

Sahih

۔ (۱۲۳۸۶)۔ وعَنْ عَمَّارِ بْنِ یَاسِرٍ، قَالَ: کُنْتُ أَنَا وَعَلِیٌّ رَفِیقَیْنِ فِی غَزْوَۃِ ذَاتِ الْعُشَیْرَۃِ، فَلَمَّا نَزَلَہَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَأَقَامَ بِہَا رَأَیْنَا أُنَاسًا مِنْ بَنِی مُدْلِجٍ، یَعْمَلُونَفِی عَیْنٍ لَہُمْ فِی نَخْلٍ، فَقَالَ لِی عَلِیٌّ: یَا أَبَا الْیَقْظَانِ! ہَلْ لَکَ أَنْ تَأْتِیَ ہٰؤُلَائِ فَنَنْظُرَ کَیْفَیَعْمَلُونَ؟ فَجِئْنَاہُمْ فَنَظَرْنَا إِلٰی عَمَلِہِمْ سَاعَۃً، ثُمَّ غَشِیَنَا النَّوْمُ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَعَلِیٌّ، فَاضْطَجَعْنَا فِی صَوْرٍ مِنَ النَّخْلِ فِی دَقْعَائَ مِنَ التُّرَابِ فَنِمْنَا، فَوَاللّٰہِ! مَا أَہَبَّنَا إِلَّا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُحَرِّکُنَا بِرِجْلِہِ، وَقَدْ تَتَرَّبْنَا مِنْ تِلْکَ الدَّقْعَائِ، فَیَوْمَئِذٍ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِعَلِیٍّ: ((یَا أَبَا تُرَابٍ۔)) لِمَا یُرَی عَلَیْہِ مِنَ التُّرَابِ، قَالَ: ((أَلَا أُحَدِّثُکُمَا بِأَشْقَی النَّاسِ رَجُلَیْنِ؟)) قُلْنَا: بَلٰی،یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((أُحَیْمِرُ ثَمُودَ الَّذِی عَقَرَ النَّاقَۃَ، وَالَّذِی یَضْر ِبُکَ یَا عَلِیُّ! عَلَی ہَذِہِ یَعْنِی قَرْنَہُ حَتّٰی تُبَلَّ مِنْہُ ہٰذِہِ یَعْنِی لِحْیَتَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۸۵۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں اور سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ غزوۂ ذی العشیرہ میں رفیق تھے، جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہاں اترے اور قیام کیا تو ہم نے بنو مدلج قبیلے کے کچھ لوگوں کو دیکھا کہ وہ کھجوروں میں اپنے ایک چشمے میں کام کر رہے تھے۔ سیدنا علی نے مجھے کہا: ابو الیقظان! کیا خیال ہے کہ اگر ہم ان کے پاس چلے جائیں اور دیکھیں کہ یہ کیسے کام کرتے ہیں؟ سو ہم ان کے پاس چلے گئے اور کچھ دیر تک ان کا کام دیکھتے رہے، پھر ہم پر نیند غالب آ گئی۔ میں اور سیدنا علی کھجوروں کے ایک جھنڈ میں چلے گئے اور مٹی میں لیٹ کر سو گئے۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہی ہمیں اپنے پاؤں کے ساتھ حرکت دے کر جگایا اور ہم مٹی آلود ہو چکے تھے۔ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی پر مٹی دیکھی تو فرمایا: اے ابو تراب! (یعنی مٹی والے) پھر آپ نے فرمایا: کیا میں تمھارے لیے دو بدبخت ترین مردوں کی نشاندہی نہ کروں؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیوں نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: احیمر ثمودی، جس نے اونٹنی کی کونچیں کاٹ دی تھیں اور وہ آدمی جو (اے علی!) تیرے سر پر مارے گا، حتی کہ تیری (داڑھی) خون سے بھیگ جائے گی۔

12387

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12387

Zaeef

۔ (۱۲۳۸۷)۔ وَعَنْ زَیْدِ بْنِ وَھْبٍ قَالَ: قَدِمَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَلٰی قَوْمٍ مِنْ أَہْلِ الْبَصْرَۃِ مِنَ الْخَوَارِجِ، فِیہِمْ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ: الْجَعْدُ بْنُ بَعْجَۃَ، فَقَالَ لَہُ: اتَّقِ اللّٰہَ یَا عَلِیُّ، فَإِنَّکَ مَیِّتٌ، فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: بَلْ مَقْتُولٌ ضَرْبَۃٌ عَلٰی ہٰذَا تَخْضِبُ ہٰذِہِ یَعْنِی لِحْیَتَہُ مِنْ رَأْسِہِ، عَہْدٌ مَعْہُودٌ وَقَضَائٌ مَقْضِیٌّ، وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَرٰی، وَعَاتَبَہُ فِی لِبَاسِہِ، فَقَالَ: مَا لَکُمْ وَلِلِبَاسِیْ؟ ہُوَ أَبْعَدُ مِنْ الْکِبْرِ، وَأَجْدَرُ أَنْ یَقْتَدِیَ بِیَ الْمُسْلِمُ۔ (مسند احمد: ۷۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

زید بن وہب سے روایت ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اہل بصرہ کے خوارج میں سے ایک قو م کے پاس تشریف لے گئے، ان میں سے ایک آدمی کا نام جعد بن بعجہ تھا، اس نے کہا: علی! اللہ سے ڈرو، تم نے بالآخر مرنا ہی ہے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہا: میں نے مرنا نہیں، بلکہ قتل ہونا ہے، میرے سر پر وار لگے گا، جس سے یہ میری داڑھی رنگین ہوجائے گی، یہ پختہ خبر ہے اور اللہ کی طرف سے فیصلہ ہوچکا ہے اور جس نے جھوٹ باندھا اس نے نقصان اٹھایا، پھر جب اس آدمی نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لباس پر اعتراض کیا تو انھوں نے کہا: تمہیں میرے اس لباس سے کیا؟ یہ تکبر سے بالکل بر ی ہے اور اس لائق ہے کہ اہل اسلام اس سلسلہ میں میری اقتداء کریں گے۔

12388

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12388

Zaeef

۔ (۱۲۳۸۸)۔ عَنْ أَبِی تِحْیَی قَالَ: لَمَّا ضَرَبَ ابْنُ مُلْجِمٍ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ الضَّرْبَۃَ، قَالَ عَلِیٌّ: افْعَلُوا بِہِ کَمَا أَرَادَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَفْعَلَ بِرَجُلٍ أَرَادَ قَتْلَہُ، فَقَالَ: اقْتُلُوہُ ثُمَّ حَرِّقُوہُ۔ (مسند احمد: ۷۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو تحیی سے مروی ہے کہ جب ابن ملجم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ پروار کیا تو انہوں نے کہا: تم اس کے ساتھ وہی سلوک کرنا، جو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس آدمی کے ساتھ کیا تھا،جس نے آپ کوقتل کرنے کا ارادہ کیا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ اسے قتل کر د و اور پھر اسے جلا ڈالو۔ 1