Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2562

خلافت و امارت کے مسائل

فصل: خوارج کے سروںکو مسجد دمشق کے دروازہ پر نصب کرنے کابیان

4 hadiths in this chapter

12381

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12381

Sahih

۔ (۱۲۳۸۱)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا غَالِبٍ یَقُولُ: لَمَّا أُتِیَ بِرُئُ وْسِ الْأزَارِقَۃِ، فَنُصِبَتْ عَلٰی دَرَجِ دِمَشْقَ، جَائَ أَبُو أُمَامَۃَ فَلَمَّا رَآہُمْ دَمَعَتْ عَیْنَاہُ، فَقَالَ: کِلَابُ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، ہٰؤُلَائِ شَرُّ قَتْلٰی قُتِلُوْا تَحْتَ أَدِیمِ السَّمَائِ، وَخَیْرُ قَتْلٰی قُتِلُوْا تَحْتَ أَدِیمِ السَّمَائِ الَّذِینَ قَتَلَہُمْ ہٰؤُلَائِ، قَالَ: فَقُلْتُ: فَمَا شَأْنُکَ دَمَعَتْ عَیْنَاکَ؟ قَالَ: رَحْمَۃً لَہُمْ إِنَّہُمْ کَانُوْا مِنْ أَہْلِ الْإِسْلَامِ، قَالَ: قُلْنَا: أَبِرَأْیِکَ؟ قُلْتَ: ہٰؤُلَائِ کِلَابُ النَّارِ، أَوْ شَیْئٌ سَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ قَالَ: إِنِّی لَجَرِیئٌ، بَلْ سَمِعْتُہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غَیْرَ مَرَّۃٍ وَلَا ثِنْتَیْنِ وَلَا ثَلَاثٍ، قَالَ: فَعَدَّ مِرَارًا۔ (مسند احمد: ۲۲۵۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو غالب کہتے ہیں: خارجیوں کے قتل کیے جانے کے بعد ان کے لا کر دمشق کی سیڑھی پر رکھ دئیے گئے، سیدنا ابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لائے، انہوں نے ان کو دیکھا تو ان کی آنکھیں اشک بار ہو گئیں، وہ کہنے لگے:یہ لوگ جہنم کے کتے ہیں، آسمان کے نیچے قتل ہونے والوں میں سے یہ بد ترین مقتول ہیں اور اِنہوں نے جن لوگوں کو قتل کیا،وہ آسمان کے نیچے قتل ہونے والوں میں سے بہترین مقتول ہیں۔ ابو غالب کہتے ہیں: میں نے ان سے کہا: تو پھر آپ کی آنکھوں میں آنسو کیوں آگئے ہیں؟ انھوں نے کہا: ان لوگوں پر ترس آجانے کی وجہ سے، کیونکہ یہ لوگ بنیادی طور پر اہل اسلام ہیں۔ ابو غالب کہتے ہیں: ہم نے کہا: آپ نے ان کے متعلق کہا کہ یہ جہنم کے کتے ہیں، یہ بات آپ نے اپنی طرف سے کہی ہے یا یہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: اگر میں اپنی طرف سے کہوں تو پھر تو میں بڑا جری ہوں، یہ میں نے اپنی طرف سے نہیں کہی، بلکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ایک، دو یا تین مرتبہ نہیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ مرتبہ سنی ہے۔

12382

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12382

Sahih

۔ (۱۲۳۸۲)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنْ أَبِی غَالِبٍ، عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ أَنُہْ رَأَی رُئُ وْسًا مَنْصُوبَۃً عَلَی دَرَجِ مَسْجِدِ دِمَشْقَ، فَقَالَ أَبُو أُمَامَۃَ: کِلَابُ النَّارِ، کِلَابُ النَّارِ، ثَلَاثًا، شَرُّ قَتْلَی تَحْتَ أَدِیمِ السَّمَائِ خَیْرُ قَتْلَی مَنْ قَتَلُوہُ، ثُمَّ قَرَأَ: {یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوہٌ} الْآیَتَیْنِ، قُلْتُ لِأَبِی أُمَامَۃَ: أَسَمِعْتَہُ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: لَوْ لَمْ أَسْمَعْہُ إِلَّا مَرَّتَیْنِ أَوْ ثَلَاثًا أَوْ أَرْبَعًا أَوْ خَمْسًا أَوْ سِتًّا أَوْ سَبْعًا مَا حَدَّثْتُکُمْ۔ (مسند احمد: ۲۲۵۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا ابوامامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے جامع مسجد دمشق کی سیڑھیوں پر نصب شدہ سر دیکھے تو تین مرتبہ کہا: یہ جہنم کے کتے ہیں، یہ جہنم کے کتے ہیں، آسمان کے چھت کے نیچے قتل ہونے والوں میں سے یہ بد ترین مقتول ہیں اور اِنھوں نے جن لوگوں کو قتل کیا وہ آسمان کی چھت کے نیچے قتل ہونے والوں میں سے بہترین مقتول ہیں، پھر انہوں نے یہ دو آیات تلاوت کیں : {یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوہٌ وَتَسْوَدُّ وُجُوہٌ} … قیامت کے رو ز بہت سے چہرے روشن اور بہت سے چہرے سیاہ ہوں گے۔ (سورۂ آل عمران:۱۰۶) میں ابو غالب نے سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا:آیا آپ نے یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے؟ انہوں نے کہا: اگر میں نے یہ بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دو، تین، چار، پانچ، چھ یا سات مرتبہ بھی نہ سنی ہوتی تو تم سے بیان نہ کرتا۔

12383

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12383

Sahih

۔ (۱۲۳۸۳)۔ حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِیَاضٍ قَالَ: سَمِعْتُ صَفْوَانَ بْنَ سُلَیْمٍیَقُولُ: دَخَلَ أَبُو أُمَامَۃَ الْبَاہِلِیُّ دِمَشْقَ فَرَأَی رُئُ وْسَ حَرُورَائَ قَدْ نُصِبَتْ، فَقَالَ: کِلَابُ النَّارِ، کِلَابُ النَّارِ ثَلَاثًا، شَرُّ قَتْلَی تَحْتَ ظِلِّ السَّمَائِ، خَیْرُ قَتْلَی مَنْ قَتَلُوا، ثُمَّ بَکَی فَقَامَ إِلَیْہِ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا أَبَا أُمَامَۃَ! ہَذَا الَّذِی تَقُولُ مِنْ رَأْیِکَ أَمْ سَمِعْتَہُ؟ قَالَ: إِنِّی إِذًا لَجَرِیئٌ کَیْفَ أَقُولُ ہَذَا عَنْ رَأْیٍ؟ قَالَ: قَدْ سَمِعْتُہُ غَیْرَ مَرَّۃٍ وَلَا مَرَّتَیْنِ، قَالَ: فَمَا یُبْکِیکَ؟ قَالَ: أَبْکِی لِخُرُوجِہِمْ مِنَ الْإِسْلَامِ، ہٰؤُلَائِ الَّذِینَ تَفَرَّقُوْا وَاتَّخَذُوا دِینَہُمْ شِیَعًا۔ (مسند احمد: ۲۲۶۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

صفوان بن سلیم سے مروی ہے کہ سیدنا ابو امامہ باہلی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ دمشق میں داخل ہوئے اورانہوں نے حروری یعنی خارجی لوگوں کے سرلٹکے ہوئے دیکھے تو انھوں نے تین بار کہا: یہ لوگ جہنم کے کتے ہیں، یہ لوگ جہنم کے کتے ہیں، آسمان کی چھت کے نیچے قتل ہونے والوں میں سے یہ بد ترین مقتول ہیں اور اِنہوں نے جن لوگوں کو قتل کیا، وہ آسمان کی چھت کے نیچے قتل ہونے والوں میں سے بہترین مقتول ہیں۔ پھر وہ رونے لگے: ایک آدمی آپ کی طرف اٹھا اور اس نے کہا:اے ابوامامہ آپ ان کو دیکھ کرکیوں روئے؟ انہوں نے کہا:میں اس لیے رو رہا ہوں کہ یہ لوگ دائرہ اسلام سے نکل گئے، یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے تفرقہ ڈالا اور دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔

12384

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12384

Sahih

۔ (۱۲۳۸۴)۔ (وَعَنْ سَیَّارٍ) قَالَ: جِیئَ بِرُئُ وْسٍ مِنْ قِبَلِ الْعِرَاقِ فَنُصِبَتْ عِنْدَ بَابِ الْمَسْجِدِ، وَجَاء َ أَبُو أُمَامَۃَ فَدَخَلَ الْمَسْجِدَ، فَرَکَعَ رَکْعَتَیْنِ، ثُمَّ خَرَجَ إِلَیْہِمْ، فَنَظَرَ إِلَیْہِمْ، فَرَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ: شَرُّ قَتْلٰی تَحْتَ ظِلِّ السَّمَائِ ثَلَاثًا، فَذَ کَرَ نَحْوَہٗ۔ (مسنداحمد: ۲۲۵۰۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیار سے مروی ہے کہ کچھ لوگوں کے سر عراق سے لا کر اور مسجد کے دروازے کے پاس نصب کر دیئے گئے، سیدنا ابوامامہ آئے اور مسجد میں داخل ہو ئے، دو رکعت نماز ادا کی،پھر ان کی طرف نکلے، ان کو دیکھا اور پھر سر اٹھایا اور کہا: یہ آسمان کے نیچے سب سے برے مقتول ہیں۔ یہ بات تین دفعہ دہرائی، پھر سابق روایت کے طرح آگے بیان کیا۔