Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2555

خلافت و امارت کے مسائل

باب پنجم: جنگ صفین اور سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شہادت اس باب میں کئی فصلیں ہیں فصل اول: سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی شجاعت کا بیان اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ان کے بارے میں فرمانا کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا

7 hadiths in this chapter

12343

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12343

Zaeef

۔ (۱۲۳۴۳)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّۃَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ سَلَمَۃَیَقُولُ: رَأَیْتُ عَمَّارًا یَوْمَ صِفِّینَ شَیْخًا کَبِیرًا آدَمَ طُوَالًا آخِذًا الْحَرْبَۃَ بِیَدِہِ وَیَدُہُ تَرْعَدُ، فَقَالَ: وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ، لَقَدْ قَاتَلْتُ بِہٰذِہِ الرَّایَۃِ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَہٰذِہِ الرَّابِعَۃُ، وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَوْ ضَرَبُونَا حَتّٰییَبْلُغُوا بِنَا شَعَفَاتِ ہَجَرَ، لَعَرَفْتُ أَنَّ مُصْلِحِینَا عَلَی الْحَقِّ، وَأَنَّہُمْ عَلَی الضَّلَالَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن سلمہ سے مروی ہے، وہ کہتے تھے: میں نے جنگ صفین کے روز سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا، وہ بہت بوڑھے ہو چکے تھے، ان کا رنگ گندمی اور قد طویل تھا، وہ اپنے ہاتھ میں نیزہ تھامے ہوئے تھے اور ان کا ہاتھ کانپ رہا تھا، انہوں نے کہا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں اس جھنڈے کے ساتھ رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی معیت میں تین جنگیں لڑچکا ہوں، آج چوتھی جنگ ہے، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے!اگر یہ لوگ ہمیں مار مار کر ہجر کے پہاڑوں کی طرف مار بھگائیں، تب بھی میں جانتا ہوں کہ ہماری اصلاح کرنے والے حق پر اور دوسرے گمراہی کی راہ پر ہیں۔

12344

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12344

Sahih

۔ (۱۲۳۴۴)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَۃَ بْنِ خُزَیْمَۃَ بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: مَا زَالَ جَدِّی (یَعْنِیْ خُزَیْمَۃَ بْنَ ثَابِتٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) کَافًّا سِلَاحَہُ یَوْمَ الْجَمَلِ حَتّٰی قُتِلَ عَمَّارٌ بِصِفِّینَ، فَسَلَّ سَیْفَہُ فَقَاتَلَ حَتّٰی قُتِلَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((تَقْتُلُ عَمَّارًا الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۲۲۱۷)

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن عمارہ کہتے ہیں: میرا دادا سیدنا خزیمہ بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جنگ جمل کے دن اپنا اسلحہ روکے رکھا، یہاں تک کہ جب صفین میں سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شہید ہوگئے، تو انہوں نے اپنی تلوار نکالی اور شہید ہونے تک لڑتے رہے، انہوں نے وجہ یہ بیان کی تھی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک باغی گروہ عمار کوقتل کرے گا۔

12345

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12345

Sahih

۔ (۱۲۳۴۵)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((وَیْحَ عَمَّارٍ تَقْتُلُہُ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُیَدْعُوہُمْ إِلَی الْجَنَّۃِ وَیَدْعُونَہُ إِلَی النَّارِِ۔)) قَالَ: فَجَعَلَ عَمَّارٌ یَقُولُ: أَعُوذُ بِالرَّحْمٰنِ مِنَ الْفِتَنِ۔ (مسند احمد: ۱۱۸۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: افسوس کہ عمار کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا، یہ ان کو جنت کی طرف بلائے گا، لیکن وہ اس کو جہنم کی طرف بلا رہے ہوں گے۔ یہ سن کر سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہنے لگے:میں فتنوں سے رحمان کی پناہ چاہتا ہوں۔

12346

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12346

Sahih

۔ (۱۲۳۴۶)۔ عَنْ أَبِی الْبَخْتَرِیِّ قَالَ: قَالَ عَمَّارٌ یَوْمَ صِفِّینَ: ائْتُونِی بِشَرْبَۃِ لَبَنٍ، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((آخِرُ شَرْبَۃٍ تَشْرَبُہَا مِنَ الدُّنْیَا شَرْبَۃُ لَبَنٍ۔)) فَأُتِیَ بِشَرْبَۃِ لَبَنٍ فَشَرِبَہَا، ثُمَّ تَقَدَّمَ فَقُتِلَ۔ (مسند احمد: ۱۹۰۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو بختری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: صفین کے روز سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرے پاس پینے کے لیے دودھ لاؤ، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم دنیا کا جو مشروب آخر میں پیو گے، وہ دودھ ہو گا۔ پس ان کی خدمت میں دودھ پیش کیا گیا، انہوں نے وہ پی لیا، اس کے بعد وہ میدان کی طرف بڑھ گئے اور شہید ہوئے۔

12347

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12347

Sahih

۔ (۱۲۳۴۷)۔ عَنْ أَبِی بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: لَمَّا قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ دَخَلَ عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ عَلٰی عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقَالَ: قُتِلَ عَمَّارٌ، وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((تَقْتُلُہُ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ۔)) فَقَامَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَزِعًا یُرَجِّعُ حَتَّی دَخَلَ عَلٰی مُعَاوِیَۃَ، فَقَالَ لَہُ مُعَاوِیَۃُ: مَا شَأْنُکَ؟ قَالَ: قُتِلَ عَمَّارٌ، فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ: قَدْ قُتِلَ عَمَّارٌ فَمَاذَا؟ قَالَ عَمْرٌو: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((تَقْتُلُہُ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ۔)) فَقَالَ لَہُ مُعَاوِیَۃُ: دُحِضْتَ فِی بَوْلِکَ أَوَ نَحْنُ قَتَلْنَاہُ؟ إِنَّمَا قَتَلَہُ عَلِیٌّ وَأَصْحَابُہُ، جَائُ وْا بِہِ حَتّٰی أَلْقَوْہُ بَیْنَ رِمَاحِنَا أَوْ قَالَ بَیْنَ سُیُوفِنَا۔ (مسند احمد: ۱۷۹۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن عمروبن حزم سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شہید ہوئے تو سیدنا عمر و بن حزم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس گئے اور انہیں بتلایاکہ سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شہید ہوگئے ہیں، جبکہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھاکہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا۔ یہ سن کر سیدنا عمروبن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ گھبرا گئے اور اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھتے ہوئے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس پہنچ گئے، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کی حالت دیکھ کر پوچھا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ انہوں نے بتلایا کہ سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شہید ہوگئے ہیں، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: عمار قتل ہوگئے تو پھر کیا ہوا؟ سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کوفرماتے سنا ہے کہ ایک باغی گروہ عمار کو قتل کرے گا۔ یہ سن کر سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: تم اپنے پیشاب میں پھسلو، کیا ہم نے اس کو قتل کیاہے؟ اسے تو علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے ساتھیوں نے مروایا ہے، وہ لوگ انہیں لے آئے اور لا کر ہمارے نیزوں یا تلواروں کے درمیان لا کھڑا کیا۔

12348

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12348

Sahih

۔ (۱۲۳۴۸)۔ عَنْ أَبِی غَادِیَۃَ قَالَ: قُتِلَ عَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ فَأُخْبِرَ عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((إِنَّ قَاتِلَہُ وَسَالِبَہُ فِی النَّارِ۔)) فَقِیلَ لِعَمْرٍو: فَإِنَّکَ ہُوَ ذَا تُقَاتِلُہُ، قَالَ: إِنَّمَا قَالَ: ((قَاتِلَہُ وَسَالِبَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۹۲۹)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو غادیہ کہتے ہیں: جب سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ شہید ہو گئے اور لوگوں نے سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اس کی اطلاع دی تو انہوں نے کہا: میں نے سنا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کو قتل کرنے والا اور ان کے قتل کے بعد ان کے سامان کو قبضہ میں لینے والا جہنم میں جائے گا۔ کسی نے سیدنا عمر و ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: تم خود بھی تو ان ہی سے لڑ رہے ہو؟ انہوں نے جواباً کہا کہ رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے قاتل اور ان کا مال قبضہ میں کر لینے والے کے حق میں یہ فرمایا ہے۔

12349

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12349

Sahih

۔ (۱۲۳۴۹)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ زِیَادٍ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: إِنِّی لَأَسِیرُ مَعَ مُعَاوِیَۃَ فِی مُنْصَرَفِہِ مِنْ صِفِّینَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ: فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: یَا أَبَتِ! مَا سَمِعْتَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ لِعَمَّارٍ: ((وَیْحَکَیَا ابْنَ سُمَیَّۃَ، تَقْتُلُکَ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ؟)) قَالَ: فَقَالَ عَمْرٌو لِمُعَاوِیَۃَ: أَلَا تَسْمَعُ مَا یَقُولُ ہٰذَا؟ فَقَالَ مُعَاوِیَۃُ: لَا تَزَالُ تَأْتِینَا بِہَنَۃٍ، أَنَحْنُ قَتَلْنَاہُ إِنَّمَا قَتَلَہُ الَّذِینَ جَائُ وْا بِہِ۔ (مسند احمد: ۶۴۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن حارث کہتے ہیں: جنگ صفین سے واپسی پر میں سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے درمیان چلا آرہا تھا، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ابا جان! کیا آپ نے سنا نہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا تھا کہ اے ابن سمیہ! افسوس ایک باغی گروہ تجھے قتل کرے گا۔ سیدنا عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ سن رہے ہیں کہ یہ کیا کہہ رہا ہے؟ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ ہمیشہ باعث ِ تکلیف بات ہی کرتے ہیں؟ کیا ہم نے اس کو قتل کیا ہے؟ اسے تو ان لوگوں نے قتل کیاہے، جو اسے میدان کارزار میں لے کر آئے ہیں۔