Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2554

خلافت و امارت کے مسائل

فصل سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا سیدنا عمار اور سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو اہل کوفہ کی طرف بھیجنا، تاکہ وہ ان سے لڑائی میں شریک ہونے کا مطالبہ کریں

4 hadiths in this chapter

12339

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12339

Sahih

۔ (۱۲۳۳۹)۔ عَنِ الْحَکَمِ قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا وَائِلٍ قَالَ: لَمَّا بَعَثَ عَلِیٌّ عَمَّارًا وَالْحَسَنَ إِلَی الْکُوفَۃِ لِیَسْتَنْفِرَاہُمْ، فَخَطَبَ عَمَّارٌ فَقَالَ: إِنِّی لَأَعْلَمُ أَنَّہَا زَوْجَتُہُ فِی الدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ، وَلٰکِنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ ابْتَلَاکُمْ لِتَتَّبِعُوہُ أَوْ إِیَّاہَا۔ (مسند احمد: ۱۸۵۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو وائل سے مروی ہے کہ جب سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا حسن ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کو کوفہ کی طرف روانہ کیا تاکہ وہ لوگوں کو لڑائی کے لیے نکلنے پر آمادہ کریں، تو سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: میں جانتا ہوں کہ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا دنیا و آخرت میں رسول اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی زوجہ ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس موقع پر آزمایا ہے کہ تم سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا ساتھ دیتے ہو یا سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا۔

12340

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12340

Sahih

۔ (۱۲۳۴۰)۔ عَنْ قَیْسِ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَمَّارٍ: أَرَأَیْتَ قِتَالَکُمْ رَأْیًا رَأَیْتُمُوہُ؟ قَالَ حَجَّاجٌ: أَرَأَیْتَ ہٰذَا الْأَمْرَ یَعْنِی قِتَالَہُمْ رَأْیًا رَأَیْتُمُوہُ؟ فَإِنَّ الرَّأْیَیُخْطِیُٔ وَیُصِیبُ، أَوْ عَہْدٌ عَہِدَہُ إِلَیْکُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ؟ فَقَالَ: مَا عَہِدَ إِلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شَیْئًا لَمْ یَعْہَدْہُ إِلَی النَّاسِ کَافَّۃً، وَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((إِنَّ فِی أُمَّتِی، قَالَ شُعْبَۃُ: وَیَحْسِبُہُ قَالَ: حَدَّثَنِی حُذَیْفَۃُ: إِنَّ فِی أُمَّتِی اثْنَیْ عَشَرَ مُنَافِقًا۔)) فَقَالَ: ((لَا یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ، وَلَا یَجِدُونَ رِیحَہَا حَتّٰییَلِجَ الْجَمَلُ فِی سَمِّ الْخِیَاطِ، ثَمَانِیَۃٌ مِنْہُمْ تَکْفِیکَہُمُ الدُّبَیْلَۃُ سِرَاجٌ مِنْ نَارٍ، یَظْہَرُ فِی أَکْتَافِہِمْ حَتّٰییَنْجُمَ فِی صُدُورِہِمْ))۔ (مسند احمد: ۱۹۰۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

قیس بن عباد سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے گزارش کی کہ آپ اپنی اس لڑائی کے متعلق ذرا یہ واضح کریں کہ آیا یہ آپ کی اپنی رائے اور ذاتی موقف ہے،کیونکہ ایسی رائے تو غلط بھی ہوسکتی ہے اور درست بھی، یا یہ تم لوگوں کو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے کوئی حکم دیا گیا ہے؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں الگ سے ایسا کوئی حکم نہیں دیا جو عام لوگوں کے لیے نہ ہو،نیز انہوں نے کہا: البتہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فرمایا تھا کہ میری امت میں بارہ منافق ہوں گے، و ہ جنت میں داخل نہ ہوسکیں گے اور نہ وہ جنت کی خوشبو پائیں گے، یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے نکے میں داخل ہو جائے، ان میں سے آٹھ کو ایک پھوڑا کافی ہوگا، یہ آگ کے شعلہ کی مانند ہوگا، جو ان کے کندھوں پر ابھرے گا اور ان کے سینوں پر جا کر ظاہر ہوگا۔

12341

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12341

Sahih

۔ (۱۲۳۴۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ)) عَنْ قَیْسٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَمَّارٍ: أَرَأَیْتُمْ صَنِیعَکُمْ ہٰذَا الَّذِی صَنَعْتُمْ فِیمَا کَانَ مِنْ أَمْرِ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ رَأْیًا رَأَیْتُمُوہُ أَمْ شَیْئًا عَہِدَ إِلَیْکُمْ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَ: لَمْ یَعْہَدْ إِلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْئًا، لَمْ یَعْہَدْہُ إِلَی النَّاسِ کَافَّۃً، وَلٰکِنَّ حُذَیْفَۃَ أَخْبَرَنِی عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((فِی أَصْحَابِی اثْنَا عَشَرَ مُنَافِقًا، مِنْہُمْ ثَمَانِیَۃٌ لَا یَدْخُلُونَ الْجَنَّۃَ، حَتّٰییَلِجَ الْجَمَلُ فِی سَمِّ الْخِیَاطِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۷۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) قیس کہتے ہیں: میں نے سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: تم لوگ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں جو کچھ کہہ رہے ہو، ذرا اس کے متعلق یہ تو بتلاؤ کہ یہ تمہاری اپنی رائے ہے یا اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تمہیں اس بارے میں کچھ ہدایات دی ہیں؟ انہوں نے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں الگ سے کوئی ایسا حکم نہیں دیا، جو عام لوگوں کو نہ دیا ہو، البتہ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میرے ساتھیوں میں بارہ منافق ہوں گے، ان میں آٹھ جنت میں ہرگز نہیں جاسکیں گے، یہاں تک کہ اونٹ سوئی کے نکے میں سے گزر جائے۔

12342

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12342

Zaeef

۔ (۱۲۳۴۲)۔ حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِی غَنِیَّۃَ قَالَ: حَدَّثَنَاحَدَّثَنَا عُقْبَۃُ بْنُ الْمُغِیرَۃِ، عَنْ جَدِّ أَبِیہِ الْمُخَارِقِ، قَالَ: لَقِیتُ عَمَّارًا یَوْمَ الْجَمَلِ، وَہُوَ یَبُولُ فِی قَرْنٍ، فَقُلْتُ: أُقَاتِلُ مَعَکَ فَأَکُونُ مَعَکَ، قَالَ: قَاتِلْ تَحْتَ رَایَۃِ قَوْمِکَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَسْتَحِبُّ لِلرَّجُلِ أَنْ یُقَاتِلَ تَحْتَ رَایَۃِ قَوْمِہِ۔ (مسند أحمد: ۱۸۵۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

مخارق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں جنگ ِ جمل والے دن سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ملا، جبکہ وہ سینگ میں پیشاب کر رہے تھے، میں نے کہا: میں تمہارے ساتھ مل کر لڑنا چاہتا ہوں، اس طرح تمہارے ساتھ رہوں گا، لیکن انھوں نے کہا: تو اپنی قوم کے جھنڈے کے نیچے رہ کر لڑائی کر، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ پسند کیا کرتے تھے کہ آدمی اپنی قوم کے جھنڈے کے نیچے رہ کر قتال کرے۔