Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2553

خلافت و امارت کے مسائل

فصل دوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بصرہ میں تشریف آوری اور لوگوں کو جنگ جمل کے لیے بلانا

5 hadiths in this chapter

12334

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12334

Sahih

۔ (۱۲۳۳۴)۔ عَنْ ابْنَۃٍ لِأُہْبَانَ بْنِ صَیْفِیٍّ، عَنْ أَبِیہَا وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ، أَنَّ عَلِیًّا لَمَّا قَدِمَ الْبَصْرَۃَ بَعَثَ إِلَیْہِ فَقَالَ: مَا یَمْنَعُکَ أَنْ تَتْبَعَنِی؟ فَقَالَ: أَوْصَانِی خَلِیلِی وَابْنُ عَمِّکَ، فَقَالَ: ((إِنَّہُ سَیَکُونُ فُرْقَۃٌ وَاخْتِلَافٌ، فَاکْسِرْ سَیْفَکَ، وَاتَّخِذْ سَیْفًا مِنْ خَشَبٍ، وَاقْعُدْ فِی بَیْتِکَ حَتّٰی تَأْتِیَکَیَدٌ خَاطِئَۃٌ أَوْ مَنِیَّۃٌ قَاضِیَۃٌ۔)) فَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَإِنْ اسْتَطَعْتَ یَا عَلِیُّ أَنْ لَا تَکُونَ تِلْکَ الْیَدَ الْخَاطِئَۃَ فَافْعَلْ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا اہبان بن صیفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ صحابی ہیں، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب بصرہ میں تشریف لائے تو انہوں نے مجھے بلوا بھیجا اور کہا: میرے ساتھ چلنے میں تمہیں کیا مانع ہے ؟ میں نے کہا : مجھے میرے خلیل اور آپ کے چچا زاد یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی کہ : عنقریب لوگوں میں فتنہ و اختلاف برپا ہو گا ، اس موقع پر تم اپنی تلوار توڑ کر لکڑی کی ایک تلوار بنا لینا اور الگ تھلک ہو کر اپنے گھر میں بیٹھے رہنا ، یہاں تک کہ کوئی ظالم ہاتھ یا موت تم تک پہنچ جائے ۔ لہذا میں نے تو وہی کام کیا ، جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا ، اے علی ! اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ وہ ظالم خطا کار ہاتھ نہ بنو تو تم ایسا ضرور کرو ۔

12335

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12335

Sahih

۔ (۱۲۳۳۵)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) عَنْ عُدَیْسَۃَ ابْنَۃِ أُہْبَانَ بْنِ صَیْفِیٍّ، أَنَّہَا کَانَتْ مَعَ أَبِیہَا فِی مَنْزِلِہِ فَمَرِضَ، فَأَفَاقَ مِنْ مَرَضِہِ ذٰلِکَ، فَقَامَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ بِالْبَصْرَۃِ، فَأَتَاہُ فِی مَنْزِلِہِ حَتّٰی قَامَ عَلٰی بَابِ حُجْرَتِہِ فَسَلَّمَ، وَرَدَّ عَلَیْہِ الشَّیْخُ السَّلَامَ، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ: کَیْفَ أَنْتَ؟ یَا أَبَا مُسْلِمٍ! قَالَ: بِخَیْرٍ، فَقَالَ عَلِیٌّ: أَلَا تَخْرُجُ مَعِی إِلٰی ہٰؤُلَائِ الْقَوْمِ فَتُعِینَنِی؟ قَالَ: بَلٰی، إِنْ رَضِیتَ بِمَا أُعْطِیکَ، قَالَ عَلِیٌّ: وَمَا ہُوَ؟ فَقَالَ الشَّیْخُ: یَا جَارِیَۃُ! ہَاتِ سَیْفِی، فَأَخْرَجَتْ إِلَیْہِ غِمْدًا فَوَضَعَتْہُ فِی حِجْرِہِ، فَاسْتَلَّ مِنْہُ طَائِفَۃً، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَہُ إِلٰی عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ، فَقَالَ: إِنَّ خَلِیلِی عَلَیْہِ السَّلَام وَابْنَ عَمِّکَ عَہِدَ إِلَیَّ إِذَا کَانَتْ فِتْنَۃٌ بَیْنَ الْمُسْلِمِینَ، أَنْ اتَّخِذَ سَیْفًا مِنْ خَشَبٍ، فَہٰذَا سَیْفِی فَإِنْ شِئْتَ خَرَجْتُ بِہِ مَعَکَ، فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: لَا حَاجَۃَ لَنَا فِیکَ وَلَا فِی سَیْفِکَ، فَرَجَعَ مِنْ بَابِ الْحُجْرَۃِ وَلَمْ یَدْخُلْ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) عدیسہ بنت اہبان بن صیفی بیان کرتی ہیں کہ وہ اپنے والد سیدنا اہبان بن صیفی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں ان کے پاس تھیں، وہ بیمار پڑ گئے اور پھر ان کو افاقہ ہو گیا، اس وقت سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بصرہ میں تھے، وہ ان کے گھر تشریف لائے اور ان کے کمرہ کے دروازہ کے پاس کھڑے ہو کر سلام پیش کیا، میرے والد نے انہیں سلام کا جواب دیا، انہوں نے کہا: ابو مسلم! کیسے مزاج ہیں؟ میرے والد نے کہا: ٹھیک ہوں، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: کیا تم میرے ساتھ ان لوگوں کے مقابلے میں نکل کر میری مدد نہیں کرو گے؟ میرے والد نے کہا:کیوں نہیں، بشرطیکہ میں جو کچھ بیان کروں، آپ اسے پسند کریں تو میں آپ کے ساتھ چلتا ہوں، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: وہ کیا؟ پس میرے والدنے کہا: لڑکی! ذرا میری تلوار لے آؤ۔ میں نے میان نکال کر ان کی گود میں لے جا کر رکھ دی، انہوں نے میان سے تھوڑی سی تلوار نکالی اور پھر اپنا سر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرف اٹھایا اور کہا: میرے خلیل اور آپ کے چچا زاد یعنی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے فرمایا تھاکہ: جب مسلمانوں کے مابین فتنہ و اختلاف بپا ہو تو لکڑی کی تلوار بنا لینا۔ پس میری تو یہی تلوار ہے، اگر آپ چاہیں تو میں یہ لے کر آپ کے ساتھ نکلتا ہوں، یہ سن کر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہمیں تمہارے اور تمہاری تلوار کی کوئی ضرورت نہیں، پھر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کمرے کے دروازے سے باہر چلے گئے اور واپس نہ آئے۔

12336

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12336

Sahih

۔ (۱۲۳۳۶)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ بِنَحْوِہٖوَفِیْہِ) فَقَالَ: أَوْصَانِی خَلِیلِی وَابْنُ عَمِّکِ یَعْنِی رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((سَتَکُونُ فِتَنٌ وَفُرْقَۃٌ، فَإِذَا کَانَ ذَلِکَ فَاکْسِرْ سَیْفَکَ، وَاتَّخِذْ سَیْفًا مِنْ خَشَبٍ۔)) فَقَدْ وَقَعَتْ الْفِتْنَۃُ وَالْفُرْقَۃُ وَکَسَرْتُ سَیْفِی وَاتَّخَذْتُ سَیْفًا مِنْ خَشَبٍ، وَأَمَرَ أَہْلَہُ حِینَ ثَقُلَ أَنْ یُکَفِّنُوہُ، وَلَا یُلْبِسُوہُ قَمِیصًا، قَالَ: فَأَلْبَسْنَاہُ قَمِیصًا، فَأَصْبَحْنَا وَالْقَمِیصُ عَلَی الْمِشْجَبِ۔ (مسند احمد: ۲۰۹۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (تیسری سند) سیدنا اہبان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرے خلیل اور آپ کے چچا زاد یعنی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے وصیت کرتے ہوئے فرمایا تھا: عنقریب فتنے اور اختلافات رونما ہوں گے، جب ایسے حالات پیدا ہوجائیں تو اپنی تلوار توڑ کر لکڑی کی تلوار بنا لینا۔ اور جب میرے والد زیاد ہ بیمار ہوئے تو انہوں نے اپنے اہل خانہ کو حکم دیا کہ جب وہ ان کو کفن دیں تو قمیص نہ پہنائیں، لیکن ہم نے انہیں قمیص پہنا دی، جب صبح ہوئی تو ہم نے دیکھا کہ وہ قمیص کھونٹی پر لٹکی ہوئی تھی۔

12337

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12337

Sahih

۔ (۱۲۳۳۷)۔ وَعَنْ سَہْلِ بْنِ أَبِی الصَّلْتِ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ یَقُولُ: إِنَّ عَلِیًّا بَعَثَ إِلَی مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَۃَ فَجِیْئَ بِہِ، فَقَالَ: مَا خَلَّفَکَ عَنْ ہَذَا الْأَمْرِ؟ قَالَ: دَفَعَ إِلَیَّ ابْنُ عَمِّکَ یَعْنِی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَیْفًا فَقَالَ: ((قَاتِلْ بِہِ مَا قُوتِلَ الْعَدُوُّ، فَإِذَا رَأَیْتَ النَّاسَ یَقْتُلُ بَعْضُہُمْ بَعْضًا، فَاعْمَدْ بِہِ إِلَی صَخْرَۃٍ، فَاضْرِبْہُ بِہَا، ثُمَّ الْزَمْ بَیْتَکَ حَتَّی تَأْتِیَکَ مَنِیَّۃٌ قَاضِیَۃٌ أَوْ یَدٌ خَاطِئَۃٌ۔)) قَالَ: خَلُّواعَنْہُ۔ (مسند احمد: ۱۸۱۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

حسن سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے محمد بن مسلمہ کو بلوایا، جب ان کو لایا گیا تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے فرمایا: تم اس لڑائی سے پیچھے کیوں ہو؟ انہوں نے جواب دیا: آپ کے چچا زاد یعنی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک تلوار عنایت کی تھی اور فرمایا تھا: جب تک دشمنان اسلام کے ساتھ قتال ہوتا رہے تو تم اس تلوار کے ذریعے قتال کرتے رہنا اور جب تم دیکھو کہ لوگ یعنی مسلمان آپس میں لڑ رہے ہیں اور ایک دوسرے کی خون ریزی کر رہے ہیں تو تم اسے پتھر پر مار کر توڑ ڈالنا اور پھر اپنے گھر کے اند رہی رہنا تاآنکہ تمہیں موت آجائے یا کوئی ظالم ہاتھ تمہارے اوپر آئے۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: انہیں چھوڑ دو۔

12338

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12338

Sahih

۔ (۱۲۳۳۸)۔ عَنْ قَیْسِ بْنِ عُبَادٍ قَالَ: قُلْتُ لِعَلِیٍّ: أَرَأَیْتَ مَسِیرَکَ ہٰذَا عَہْدٌ، عَہِدَہُ إِلَیْکَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمْ رَأْیٌ رَأَیْتَہُ، قَالَ: مَا تُرِیدُ إِلٰی ہٰذَا؟ قُلْتُ: دِینَنَا دِینَنَا، قَالَ: مَا عَہِدَ إِلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیہِ شَیْئًا وَلٰکِنْ رَأْیٌ رَأَیْتُہُ۔ (مسند احمد: ۱۲۷۱)

اردو ترجمہ · Urdu

قیس بن عبادسے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے گزارش کی کہ آپ جس راہ پر چل رہے ہیں، اس بارے میں آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے کوئی حکم ہوا تھا یا یہ آپ کی اپنی رائے ہے؟ انہوں نے کہا: تمہیں اس سے کیا؟ میں نے کہا:ہمارا دین ہے، یہ ہمارے دین کی بات ہے، یہ ایسی ویسی چیز نہیں ہے، انہوں نے کہا: اس بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے کچھ نہیں فرمایا، بس یہ میری اپنی رائے ہے۔