Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12334
۔ (۱۲۳۳۴)۔ عَنْ ابْنَۃٍ لِأُہْبَانَ بْنِ صَیْفِیٍّ، عَنْ أَبِیہَا وَکَانَتْ لَہُ صُحْبَۃٌ، أَنَّ عَلِیًّا لَمَّا قَدِمَ الْبَصْرَۃَ بَعَثَ إِلَیْہِ فَقَالَ: مَا یَمْنَعُکَ أَنْ تَتْبَعَنِی؟ فَقَالَ: أَوْصَانِی خَلِیلِی وَابْنُ عَمِّکَ، فَقَالَ: ((إِنَّہُ سَیَکُونُ فُرْقَۃٌ وَاخْتِلَافٌ، فَاکْسِرْ سَیْفَکَ، وَاتَّخِذْ سَیْفًا مِنْ خَشَبٍ، وَاقْعُدْ فِی بَیْتِکَ حَتّٰی تَأْتِیَکَیَدٌ خَاطِئَۃٌ أَوْ مَنِیَّۃٌ قَاضِیَۃٌ۔)) فَفَعَلْتُ مَا أَمَرَنِی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَإِنْ اسْتَطَعْتَ یَا عَلِیُّ أَنْ لَا تَکُونَ تِلْکَ الْیَدَ الْخَاطِئَۃَ فَافْعَلْ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۴۲)
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا اہبان بن صیفی رضی اللہ عنہ ، جو کہ صحابی ہیں، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:سیدنا علی رضی اللہ عنہ جب بصرہ میں تشریف لائے تو انہوں نے مجھے بلوا بھیجا اور کہا: میرے ساتھ چلنے میں تمہیں کیا مانع ہے ؟ میں نے کہا : مجھے میرے خلیل اور آپ کے چچا زاد یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وصیت فرمائی تھی کہ : عنقریب لوگوں میں فتنہ و اختلاف برپا ہو گا ، اس موقع پر تم اپنی تلوار توڑ کر لکڑی کی ایک تلوار بنا لینا اور الگ تھلک ہو کر اپنے گھر میں بیٹھے رہنا ، یہاں تک کہ کوئی ظالم ہاتھ یا موت تم تک پہنچ جائے ۔ لہذا میں نے تو وہی کام کیا ، جس کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا تھا ، اے علی ! اگر تم طاقت رکھتے ہو کہ وہ ظالم خطا کار ہاتھ نہ بنو تو تم ایسا ضرور کرو ۔