Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2552

خلافت و امارت کے مسائل

باب سوم: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بعض خطبات کا بیان

7 hadiths in this chapter

12327

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12327

Sahih

۔ (۱۲۳۲۷)۔ عَنْ إِبْرَاہِیمَ التَّیْمِیِّ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ: خَطَبَنَا عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: مَنْ زَعَمَ أَنَّ عِنْدَنَا شَیْئًا نَقْرَؤُہُ إِلَّا کِتَابَ اللّٰہِ وَہٰذِہِ الصَّحِیفَۃَ، صَحِیفَۃٌ فِیہَا أَسْنَانُ الْإِبِلِ وَأَشْیَائُ مِنْ الْجِرَاحَاتِ، فَقَدْ کَذَبَ، قَالَ: وَفِیہَا قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الْمَدِینَۃُ حَرَمٌ مَا بَیْنَ عَیْرٰ إِلٰی ثَوْرٍ، فَمَنْ أَحْدَثَ فِیہَا حَدَثًا أَوْ آوٰی مُحْدِثًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ عَدْلًا وَلَا صَرْفًا، وَمَنِ ادَّعٰی إِلٰی غَیْرِ أَبِیہِ أَوْ تَوَلّٰی غَیْرَ مَوَالِیہِ فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ، لَا یَقْبَلُ اللّٰہُ مِنْہُیَوْمَ الْقِیَامَۃِ صَرْفًا وَلَا عَدْلًا، وَذِمَّۃُ الْمُسْلِمِینَ وَاحِدَۃٌیَسْعٰی بِہَا أَدْنَاہُمْ۔)) (مسند احمد: ۶۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

ابراہیم تیمی اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے خطبہ دیا اور کہا: جو شخص یہ سمجھے کہ ہمارے پاس اللہ کی کتاب اور اس صحیفہ کے علاوہ بھی دین کی کوئی بات ہے تو وہ جھوٹ کہتا ہے، اس صحیفہ میں زکوٰۃ کے اونٹوں کی عمروں اور کچھ قصاص کے مسائل کا تذکرہ ہے اور اس صحیفہ میں یہ بھی درج ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاکہ مدینہ منورہ عیرسے ثور تک حرم ہے، جو آدمی اس میں کوئی بدعت نافذ کرے گا یا بدعتی کو پناہ دے گا، اس پر اللہ تعالیٰ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، اللہ قیامت کے دن اس کی فرض اور نفل عبادت قبول نہیں کرے گا اور جو آدمی اپنے حقیقی باپ یا مالکوں کے سوا کسی دوسرے کی طرف اپنی نسبت کرے گا، اس پر بھی اللہ کی فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہو گی، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کی فرض اورنفل عبادت قبول نہیں کرے گا، تمام مسلمانوں کی پناہ ایک ہی ہے، جس کے متعلق ادنیٰ مسلمان بھی کوشش کرسکتا (یعنی کسی کو پناہ دے سکتا) ہے۔

12328

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12328

Sahih

۔ (۱۲۳۲۸)۔ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ قَالَ: شَہِدْتُ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ وَہُوَ یَقُولُ عَلَی الْمِنْبَرِ: وَاللّٰہِ مَا عِنْدَنَا کِتَابٌ نَقْرَؤُہُ عَلَیْکُمْ إِلَّا کِتَابَ اللّٰہِ تَعَالٰی وَہٰذِہِ الصَّحِیفَۃَ مُعَلَّقَۃً بِسَیْفِہِ، أَخَذْتُہَا مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیہَا فَرَائِضُ الصَّدَقَۃِ، مُعَلَّقَۃً بِسَیْفٍ لَہُ حِلْیَتُہُ حَدِیدٌ أَوْ قَالَ: بَکَرَاتُہُ حَدِیدٌ أَیْ حِلَقُہُ۔ (مسند احمد: ۷۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

طارق بن شہاب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس تھا، وہ منبر پر کہہ رہے تھے: اللہ کی قسم! ہمارے پاس اللہ کی کتاب کے سوا کوئی کتاب یا تحریر نہیں، جو ہم تم لوگوں کے سامنے پڑھیں اور ایک یہ صحیفہ ہے، جو تلوار کے ساتھ معلق ہے، اس کے بارے میں انھوں نے کہا: یہ صحیفہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے لیا ہے، اس میں زکوٰۃ کے جانوروں کی عمروں کا بیان ہے، و ہ صحیفہ جس تلوار کے ساتھ معلق تھا ا س کے حلقے لوہے کے تھے۔

12329

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12329

Sahih

۔ (۱۲۳۲۹)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: خَطَبَنَا عَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ فَقَالَ: مَا عِنْدَنَا شَیْئٌ مِنَ الْوَحْیِ اَوْ قَالَ: کِتَابٍ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، اِلَّا مَا فِیْ کِتَابِ اللّٰہِ وَہٰذِہِ الصَّحِیْفَۃِ الْمَقْرُوْنَۃِ بِسَیْفِیْ، وَعَلَیْہِ سَیْفٌ حِلْیَتُہٗ حَدِیْدٌ وَفِیْہَا فَرَائِضَ الصَّدَقَاتِ۔ (مسند احمد: ۷۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) طارق بن شہاب کہتے ہیں: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور اس میں کہا: ہمارے پاس اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی کوئی تحریر یا وحی میں سے الگ کوئی چیز نہیں ہے،بس وہی کچھ ہے، جو اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے اور اس صحیفے میں ہے، جو میری تلوار کے ساتھ ملا ہوا ہے، اس وقت ایک تلوار ان کے پاس تھی، جس کے حلقے لوہے کے تھے اور اس صحیفہ میں زکوٰۃ کے جانوروں کی عمروں کا بیان تھا۔

12330

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12330

Zaeef

۔ (۱۲۳۳۰)۔ عَنْ حَبَّۃَ الْعُرَنِیِّ قَالَ: رَأَیْتُ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ضَحِکَ عَلَی الْمِنْبَرِ، لَمْ أَرَہُ ضَحِکَ ضَحِکًا أَکْثَرَ مِنْہُ حَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ، ثُمَّ قَالَ: ذَکَرْتُ قَوْلَ أَبِی طَالِبٍ ظَہَرَ عَلَیْنَا أَبُو طَالِبٍ، وَأَنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ نُصَلِّی بِبَطْنِ نَخْلَۃَ، فَقَالَ: مَاذَا تَصْنَعَانِ یَا ابْنَ أَخِی، فَدَعَاہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلَی الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: مَا بِالَّذِی تَصْنَعَانِ بَأْسٌ أَوْ بِالَّذِی تَقُولَانِ بَأْسٌ، وَلٰکِنْ وَاللّٰہِ لَا تَعْلُوَنِی اِسْتِی أَبَدًا وَضَحِکَ تَعَجُّبًا لِقَوْلِ أَبِیہِ، ثُمَّ قَالَ: اللَّہُمَّ لَا أَعْتَرِفُ أَنَّ عَبْدًا لَکَ مِنْ ہٰذِہِ الْأُمَّۃِ عَبَدَکَ قَبْلِی غَیْرَ نَبِیِّکَ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ، لَقَدْ صَلَّیْتُ قَبْلَ أَنْ یُصَلِّیَ النَّاسُ سَبْعًا۔ (مسند احمد: ۷۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

حبہ عرنی کہتے ہیں: میں نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا، وہ منبر پر خوب ہنسے، میں نے ان کو کبھی بھی اتنا ہنستے ہوئے نہیں دیکھا تھا، آپ اس قدر زور سے ہنسے کہ آپ کی داڑھیں نمایاں ہوگئیں اور پھر کہا: مجھے ابو طالب کی بات یاد آئی ہے، میں اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ وادیٔ نخلہ میں نماز ادا کر رہا تھا کہ ابو طالب آگئے، انہوں نے کہا:بھتیجے! تم دونوں کیا کر رہے ہو؟ اللہ کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں اسلام کی دعوت دی، اس نے کہا: تم جو کام کر رہے ہو، اس میں کوئی حرج نہیں، لیکن اللہ کی قسم! میری دبر مجھ سے اونچی کبھی نہ ہوگی۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے والد کی اس بات پر تعجب کرتے ہوئے ہنسے تھے، اس کے بعد انہوں نے کہا: یا اللہ میں نہیں جانتا کہ اس امت میں تیرے نبی کے سوا مجھ سے قبل تیرے کسی بندے نے تیری عبادت کی ہو، یہ بات انہوں نے تین مرتبہ دہرائی، لوگوں کے نماز پڑھنے سے بہت پہلے میں نے نمازیں پڑھی ہیں، یہ بات آپ نے سات مرتبہ دہرائی۔1 ! یا مطلب یہ ہے کہ لوگوں کے نماز پڑھنے سے پہلے میں نے سات دن نماز پڑھی ہے اس کے بعد دیگر لوگ مسلمان ہوئے ہیں۔ (عبداللہ رفیق)

12331

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12331

Zaeef

۔ (۱۲۳۳۱)۔ أَنْبَأَنَا أَبُو عَامِرٍ الْمُزَنِیُّ، حَدَّثَنَا شَیْخٌ مِنْ بَنِی تَمِیمٍ قَالَ: خَطَبَنَا عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَوْ قَالَ: قَالَ عَلِیٌّ: یَأْتِی عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ عَضُوضٌ، یَعَضُّ الْمُوسِرُ عَلٗی مَا فِییَدَیْہِ، قَالَ: وَلَمْیُؤْمَرْ بِذٰلِکَ، قَالَ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ} وَیَنْہَدُ الْأَشْرَارُ، وَیُسْتَذَلُّ الْأَخْیَارُ، وَیُبَایِعُ الْمُضْطَرُّونَ، قَالَ: وَقَدْ نَہٰی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ بَیْعِ الْمُضْطَرِّینَ، وَعَنْ بَیْعِ الْغَرَرِ، وَعَنْ بَیْعِ الثَّمَرَۃِ قَبْلَ أَنْ تُدْرِکَ۔ (مسند احمد: ۹۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

بنو تمیم کے ایک بزرگ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ہمیں خطبہ دیا اور کہا: لوگوں پر ایسا سخت زمانہ بھی آئے گا کہ خوش حال لوگ اپنی چیزوں پر انتہائی بخل کریں گے، حالانکہ انہیں اس کا حکم نہیں دیا گیا، بلکہ اللہ تعالیٰ نے تو فرمایا ہے: { وَلَا تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ} …، نیز انھوں نے کہا: اور برے لوگوں کی تکریم کی جائے گی، اچھے لوگوں کو ذلیل کیا جائے گا اور لوگوں کی مجبوریوں سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان سے خرید وفروخت کی جائے گی، حالانکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجبورکی مجبوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بیع کرنے سے، دھوکے کی بیع کرنے سے اور پھلوں کے تیار ہونے سے قبل ان کی بیع کرنے سے منع فرمایا ہے۔

12332

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12332

Sahih

۔ (۱۲۳۳۲)۔ عَنْ إِسْمَاعِیلَ، حَدَّثَنَا قَیْسٌ، قَالَ: لَمَّا أَقْبَلَتْ عَائِشَۃُ بَلَغَتْ مِیَاہَ بَنِی عَامِرٍ لَیْلًا نَبَحَتِ الْکِلَابُ، قَالَتْ: أَیُّ مَائٍ ہٰذَا؟ قَالُوْا: مَائُ الْحَوْأَبِ، قَالَتْ: مَا أَظُنُّنِی إِلَّا أَنِّی رَاجِعَۃٌ، فَقَالَ بَعْضُ مَنْ کَانَ مَعَہَا: بَلْ تَقْدَمِینَ فَیَرَاکِ الْمُسْلِمُونَ، فَیُصْلِحُ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ذَاتَ بَیْنِہِمْ، قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَنَا ذَاتَ یَوْمٍ: ((کَیْفَ بِإِحْدَاکُنَّ تَنْبَحُ عَلَیْہَا کِلَابُ الْحَوْأَبِ۔)) (مسند احمد: ۲۴۷۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

قیس سے مروی ہے کہ جب سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا (مدینہ منورہ سے بصرہ جاتے ہوئے) بنی عامر کے پانیوں تک پہنچیں تو کتے بھونکنے لگے، انہوں نے کہا: یہ کون سی جگہ ہے؟ لوگوں نے کہا: یہ حوأب کے پانی کا مقام ہے، انھوں نے کہا: میرا خیال تو یہی ہے کہ میں واپس لوٹ جاؤں، لیکن ان کے بعض ہم سفروں نے کہا: اب آپ واپس نہ جائیں، بلکہ آگے بڑھیں، ممکن ہے کہ مسلمان آپ کو دیکھیں اور اللہ تعالیٰ ان کے مابین صلح کر ادے گا، انہوں نے کہا: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک روز ہم سے فرمایا تھا کہ تم میں سے ایک کی اس وقت کیا حالت ہوگی، جب اس پرحوأب کے کتے بھونکیں گے۔

12333

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12333

Zaeef

۔ (۱۲۳۳۳)۔ عَنْ أَبِی رَافِعٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعَلِیِّ بْنِ أَبِی طَالِبٍ: ((إِنَّہُ سَیَکُونُ بَیْنَکَ وَبَیْنَ عَائِشَۃَ أَمْرٌ۔)) قَالَ: أَنَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ، قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: أَنَا، قَالَ: ((نَعَمْ۔)) قَالَ: فَأَنَا أَشْقَاہُمْ یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((لَا، وَلٰکِنْ إِذَا کَانَ ذٰلِکَ فَارْدُدْہَا إِلٰی مَأْمَنِہَا۔)) (مسند احمد: ۲۷۷۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو رافع سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: عنقریب تمہارے اورعائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے مابین جھگڑا ہو گا۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا میرے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں۔ انھوں نے پھر کہا: اللہ کے رسول! کیا میں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! تب تو میں سب سے بڑھ کر بد نصیب ہوں گا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، یہ بات نہیں ہے، بس جب ایسی صورت حال پیدا ہوجائے تو عائشہ کو اس کی امن گاہ تک پہنچا دینا۔