Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2556

خلافت و امارت کے مسائل

فصل دوم: سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں دو آدمیوں کا جھگڑا، ان میں سے ہر ایک کا دعویٰ تھا کہ اس نے سیدنا عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کیا ہے

2 hadiths in this chapter

12350

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12350

Sahih

۔ (۱۲۳۵۰)۔ عَنْ حَنْظَلَۃَ بْنِ خُوَیْلِدٍ الْعَنْبَرِیٌّ، قَالَ: بَیْنَمَا أَنَا عِنْدَ مُعَاوِیَۃَ إِذْ جَائَ ہُ رَجُلَانِ یَخْتَصِمَانِ فِی رَأْسِ عَمَّارٍ، یَقُولُ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا: أَنَا قَتَلْتُہُ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عَمْرٍو: لِیَطِبْ بِہِ أَحَدُکُمَا نَفْسًا لِصَاحِبِہِ، فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((تَقْتُلُہُ الْفِئَۃُ الْبَاغِیَۃُ۔)) قَالَ مُعَاوِیَۃُ: فَمَا بَالُکَ مَعَنَا؟ قَالَ: إِنَّ أَبِی شَکَانِی إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((أَطِعْ أَبَاکَ مَا دَامَ حَیًّا وَلَا تَعْصِہِ۔)) فَأَنَا مَعَکُمْ وَلَسْتُ أُقَاتِلُ۔ (مسند احمد: ۶۵۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

حنظلہ بن خویلد عنبری سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس موجود تھا کہ ان کے ہاں دو آدمی آئے، وہ دونوں عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے سر کے بارے میں جھگڑ رہے تھے، ان میں سے ہر ایک کہتا تھاکہ اس نے قتل کیا ہے، سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: بہتر ہے کہ تم میں سے ایک یہ بات اپنے ساتھی کے بارے میں بخوشی تسلیم کر لے، (یہ کوئی باعث ِ ناز بات تو نہیں ہے)، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ: ایک باغی گروہ عمار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کر ے گا۔ سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:اگر یہ بات ہے تو تم ہمارے ساتھ کیوں ملے ہوئے ہو؟ انہوں نے کہا: میرے والد نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جاکر میری شکایت کر دی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے یہ حکم دیاتھا کہ تمہارا والد جب تک زندہ ہے، ان کی بات ماننا اور ان کی نافرمانی نہ کرنا۔ اس لیے میں تمہارے ساتھ تو ہوں مگر لڑائی میں شامل نہیں ہوتا۔

12351

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12351

Sahih

۔ (۱۲۳۵۱)۔ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ کُلْثُومِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ: کُنَّا بِوَاسِطِ الْقَصَبِ عِنْدَ عَبْدِ الْأَعْلَی بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَامِرٍ، قَالَ: فَإِذَا عِنْدَہُ رَجُلٌ یُقَالُ لَہُ: أَبُو الْغَادِیَۃِ اسْتَسْقٰی مَائً، فَأُتِیَ بِإِنَائٍ مُفَضَّضٍ فَأَبٰی أَنْ یَشْرَبَ، وَذَکَرَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَ ہٰذَا الْحَدِیثَ ((لَا تَرْجِعُوا بَعْدِی کُفَّارًا، أَوْ ضُلَّالًا، شَکَّ ابْنُ أَبِی عَدِیٍّ،یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ۔)) فَإِذَا رَجُلٌ یَسُبُّ فُلَانًا فَقُلْتُ: وَاللّٰہِ! لَئِنْ أَمْکَنَنِی اللّٰہُ مِنْکَ فِی کَتِیبَۃٍ، فَلَمَّا کَانَ یَوْمُ صِفِّینَ إِذَا أَنَا بِہِ وَعَلَیْہِ دِرْعٌ، قَالَ: فَفَطِنْتُ إِلَی الْفُرْجَۃِ فِی جُرُبَّانِ الدِّرْعِ فَطَعَنْتُہُ فَقَتَلْتُہُ فَإِذَا ہُوَ عَمَّارُ بْنُیَاسِرٍ، قَالَ: قُلْتُ: وَأَیَّیَدٍ کَفَتَاہُ یَکْرَہُ أَنْ یَشْرَبَ فِی إِنَائٍ مُفَضَّضٍ، وَقَدْ قَتَلَ عَمَّارَ بْنَ یَاسِرٍ۔ (مسند احمد: ۱۶۸۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

کلثوم بن جبر کہتے ہیں:کہ ہم واسط القصب نامی مقام میں عبد الا علی بن عبداللہ بن عامر کے ہاں موجود تھے، وہاں محفل میں ابو الغادیہ نامی ایک آدمی تھا، اس نے پینے کے لیے پانی طلب کیا، ایک ایسے برتن میں اسے پانی دیا گیاجس کا کنارا ٹوٹا ہوا تھا، اس نے اس برتن میں پانی پینے سے انکار کر دیا اور دوران گفتگو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے اس فرمان کا بھی ذکر ہوا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم لوگ میرے بعد کا فریا گمراہ نہ ہو جانا کہ تم ایک دوسرے کی گردنیں مارنے لگو۔ وہی آدمی دوران گفتگو سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو گالیاں دینے اور برا بھلا کہنے لگا، میں نے کہا: اللہ کی قسم اگر کسی لشکر میں اللہ نے مجھے تجھ پر موقع دیا تو دیکھی جائے گی، جنگ صفین کے دن وہ زرہ پہنے ہوئے تھا، زرہ کے حلقوں میں خالی جگہ کو تاک کرمیں نے اسے نیزہ مار کر قتل کر دیا، وہ عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے، کلثوم کہتے ہیں: اس نوجوان کی طرح کا کون سا ہاتھ ہے ایک دن حدیث نبوی کے پیش نظر کنارا ٹوٹے ہوئے برتن میں پانی پینے سے انکار کر دیا اور ایک موقع یہ بھی تھا کہ اس نے سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو قتل کر دیا۔