Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2549

خلافت و امارت کے مسائل

فصل پنجم: غزوۂ خیبر کے روز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا جھنڈا دینے کے لیے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو منتخب کرنا اور اس میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی فضیلت او رنبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزہ کا بیان

6 hadiths in this chapter

12316

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12316

Sahih

۔ (۱۲۳۱۶)۔ عَنْ أَبِی حَازِمٍ، أَخْبَرَنِی سَہْلُ بْنُ سَعْدٍ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَوْمَ خَیْبَرَ: ((لَأُعْطِیَنَّ ہٰذِہِ الرَّایَۃَ غَدًا رَجُلًا یَفْتَحُ اللّٰہُ عَلَییَدَیْہِ،یُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ، وَیُحِبُّہُ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ۔)) قَالَ: فَبَاتَ النَّاسُ یَدُوکُونَ لَیْلَتَہُمْ أَیُّہُمْیُعْطَاہَا، فَلَمَّا أَصْبَحَ النَّاسُ غَدَوْا عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کُلُّہُمْ یَرْجُو أَنْ یُعْطَاہَا، فَقَالَ: (أَیْنَ عَلِیُّ بْنُ أَبِی طَالِبٍ؟)) فَقَالَ: ہُوَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! یَشْتَکِی عَیْنَیْہِ، قَالَ: فَأَرْسِلُوا إِلَیْہِ، فَأُتِیَ بِہِ، فَبَصَقَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی عَیْنَیْہِ، وَدَعَا لَہُ فَبَرَأَ حَتّٰی کَأَنْ لَمْ یَکُنْ بِہِ وَجَعٌ، فَأَعْطَاہُ الرَّایَۃَ، فَقَالَ عَلِیٌّ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أُقَاتِلُہُمْ حَتّٰییَکُونُوا مِثْلَنَا، فَقَالَ: ((انْفُذْ عَلٰی رِسْلِکَ حَتّٰی تَنْزِلَ بِسَاحَتِہِمْ، ثُمَّ ادْعُہُمْ إِلَی الْإِسْلَامِ، وَأَخْبِرْہُمْ بِمَا یَجِبُ عَلَیْہِمْ مِنْ حَقِّ اللّٰہِ فِیہِ، فَوَاللّٰہِ لَأَنْ یَہْدِیَ اللّٰہُ بِکَ رَجُلًا وَاحِدًا خَیْرٌ لَکَ مِنْ أَنْ یَکُونَ لَکَ حُمْرُ النَّعَمِ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خیبروالے دن فرمایا: میں کل یہ جھنڈا ایک ایسے آدمی کو تھماؤں گا، جس کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ فتح عطا فرمائے گاوہ آدمی اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور اس کا رسول اس سے محبت کرتے ہیں۔ لوگ ساری رات اسی شش و پنج میں رہے کہ ان میں سے کسے یہ جھنڈا دیا جائے گا؟ صبح ہوئی تو لوگ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، ہر ایک کو توقع تھی کہ جھنڈا اسے ملے گا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ لوگوں نے بتایا کہ اے اللہ کے رسول! ان کی آنکھیں دکھتی ہیں، لوگوں کو انہیں لانے کے لیے بھیجا گیا، جب ان کو لایا گیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب لگایا اور ان کے حق میں دعا فرمائی، وہ فوراً یوں ٹھیک ہوگئے کہ گویا انہیں کوئی تکلیف نہ تھی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں جھنڈا تھما دیا، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول!ـ میں ان کے ساتھ اس وقت تک قتال کرتا رہوں، یہاں تک کہ وہ ہماری طرح مسلمان ہو جائیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اطمینان کے ساتھ روانہ ہو جاؤ، یہاں تک کہ ان کے سامنے جا پہنچو، تم سب سے پہلے ان کو اسلام کی دعوت دینا اور انہیں بتلانا کہ اسلام میں ان پر اللہ کے فلاں فلاں حق واجب ہیں، اللہ کی قسم! اگر تیرے ذریعے اللہ تعالیٰ ایک آدمی کو ہدایت دے دے تو یہ تیرے لیے بیش قیمت سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ بہتر ہے۔

12317

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12317

Sahih

۔ (۱۲۳۱۷)۔ حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنِی الْحُسَیْنُ بْنُ وَاقِدٍ، حَدَّثَنِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بُرَیْدَۃَ، حَدَّثَنِی أَبِی بُرَیْدَۃُ: قَالَ: حَاصَرْنَا خَیْبَرَ فَأَخَذَ اللِّوَائَ أَبُو بَکْرٍ فَانْصَرَفَ وَلَمْ یُفْتَحْ لَہُ، ثُمَّ أَخَذَہُ مِنْ الْغَدِ فَخَرَجَ فَرَجَعَ وَلَمْ یُفْتَحْ لَہُ، وَأَصَابَ النَّاسَ یَوْمَئِذٍ شِدَّۃٌ وَجَہْدٌ، فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((إِنِّی دَافِعٌ اللِّوَائَ غَدًا إِلٰی رَجُلٍ یُحِبُّہُ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، وَیُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ، لَا یَرْجِعُ حَتّٰییُفْتَحَ لَہُ۔)) فَبِتْنَا طَیِّبَۃً أَنْفُسُنَا أَنَّ الْفَتْحَ غَدًا، فَلَمَّا أَنْ أَصْبَحَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَّی الْغَدَاۃَ ثُمَّ قَامَ قَائِمًا فَدَعَا بِاللِّوَائِ، وَالنَّاسُ عَلٰی مَصَافِّہِمْ، فَدَعَا عَلِیًّا وَہُوَ أَرْمَدُ، فَتَفَلَ فِی عَیْنَیْہِ، وَدَفَعَ إِلَیْہِ اللِّوَائَ، وَفُتِحَ لَہُ، قَالَ بُرَیْدَۃُ: وَأَنَا فِیمَنْ تَطَاوَلَ لَہَا۔ (مسند احمد: ۲۳۳۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا بریدہ اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نے خیبر کا محاصرہ کیا، جھنڈا سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاتھ میں تھا، وہ واپس آ گئے اور فتح نہیں ہوئی، دوسرے دن پھر جھنڈا ان ہی کے پاس رہا، اس دن بھی وہ لوٹ آئے اور فتح نہ ہو سکی، اس روز لوگوں کو کافی تکلیف اور مشقت کا سامنا کرنا پڑا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں کل یہ جھنڈا ایسے آدمی کے حوالے کروں گا کہ اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کرتے ہیں اور وہ اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، و ہ فتح کے بغیر واپس نہیں آئے گا۔ ہم نے خوشی خوشی میں رات گزاری کہ کل فتح ہو جائے گی، جب صبح کے وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز پڑھائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جھنڈا منگوایا، لوگ صفوں میں بیٹھے رہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلوایا، ان کی آنکھیں دکھتی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی آنکھوں میں اپنا لعاب مبارک لگایا اور جھنڈا ان کے حوالے کیا، ان کے ہاتھوں فتح نصیب ہوئی۔ سیدنا بریدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جھنڈا حاصل کرنے کی خواہش میں جن لوگوں نے گردنیں اٹھائی ہوئی تھیں، میں بھی انہی میں شامل تھا۔

12318

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12318

Zaeef

۔ (۱۲۳۱۸)۔ وَعَنْ اَبِیْ سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّیَقُولُ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَخَذَ الرَّایَۃَ فَہَزَّہَا، ثُمَّ قَالَ: ((مَنْ یَأْخُذُہَا بِحَقِّہَا؟)) فَجَائَ فُلَانٌ فَقَالَ: أَنَا، قَالَ: ((أَمِطْ۔)) ثُمَّ جَائَ رَجُلٌ، فَقَالَ: ((أَمِطْ۔)) ثُمَّ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((وَالَّذِی کَرَّمَ وَجْہَ مُحَمَّدٍ لَأُعْطِیَنَّہَا رَجُلًا لَا یَفِرُّ ہَاکَ، یَا عَلِیُّ!)) فَانْطَلَقَ حَتّٰی فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْہِ خَیْبَرَ وَفَدَکَ، وَجَائَ بِعَجْوَتِہِمَا وَقَدِیدِہِمَا، قَالَ مُصْعَبٌ: بِعَجْوَتِہَا وَقَدِیدِہَا۔ (مسند احمد: ۱۱۱۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جھنڈا پکڑ کر لہرایا اور فرمایا: کون ہے جو اس جھنڈے کو لے کر اس کا حق ادا کرے گا؟ ایک آدمی آیا اور اس نے کہا: جی میں ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہٹ جاؤ۔ پھر ایک اور آدمی آیا ، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم بھی ہٹ جاؤ۔ پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس نے محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چہرے کو عزت سے نوازا ہے، میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا، جو میدان جنگ سے فرار نہیں ہوگا، اے علی! یہ لو جھنڈا۔ چنانچہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جھنڈا تھامے روانہ ہو گئے تاآنکہ اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں خیبر اور فدک فتح کرا دیا اور وہ وہاں کی عجوہ نامی کھجور اور دھوپ میں خشک کیا ہوا گوشت لے کر واپس لوٹے۔

12319

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12319

Zaeef

۔ (۱۲۳۱۹)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی لَیْلٰی قَالَ: کَانَ أَبِییَسْمُرُ مَعَ عَلِیٍّ فَکَانَ عَلِیٌّیَلْبَسُ ثِیَابَ الصَّیْفِ فِی الشِّتَائِ، وَثِیَابَ الشِّتَائِ فِی الصَّیْفِ، فَقِیلَ لَہُ: لَوْ سَأَلْتَہُ؟ فَسَأَلَہُ فَقَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَیَّ وَأَنَا أَرْمَدُ یَوْمَ خَیْبَرَ، فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی رَمِدٌ فَتَفَلَ فِی عَیْنِی، وَقَالَ: ((اللَّہُمَّ أَذْہِبْ عَنْہُ الْحَرَّ وَالْبَرْدَ۔)) فَمَا وَجَدْتُ حَرًّا وَلَا بَرْدًا بَعْدُ، قَالَ: وَقَالَ: ((لَأَبْعَثَنَّ رَجُلًا یُحِبُّہُ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، وَیُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ، لَیْسَ بِفَرَّارٍ)) قَالَ: فَتَشَرَّفَ لَہَا النَّاسُ، قَالَ: فَبَعَثَ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ۔ (مسند احمد: ۷۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے والد، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ رات کو بیٹھے باتیں کیا کرتے تھے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سردیوں میں گرمی والے اور گرمیوں میں سردی والے کپڑے پہنا کرتے تھے، کسی نے میرے والد سے کہا کہ آپ ان سے اس کی وجہ تو دریافت کریں، چنانچہ انہوں نے ان سے اس بارے میں کہا تو انہوں نے کہا: خیبر کے روز میری آنکھیں دکھتی تھیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلوایا اور میری آنکھوں میں اپنا لعاب مبارک لگایا اور مجھے دعادیتے ہوئے فرمایا: یا اللہ! اس سے گرمی سردی کا احساس دور کر دے۔ چنانچہ اس دن سے مجھے نہ گرمی محسوس ہوتی ہے اور نہ سردی، نیز اس دن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا: میں یہ جھنڈا یسے آدمی کو عطا کر وں گا، جسے اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت رکھتے ہیں اور وہ میدان جنگ سے شکست کھا کر فرار ہونے والا نہیں۔ چنانچہ جھنڈا دئیے جانے کے وقت اس کو حاصل کرنے کے لیے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بہت سے اصحاب نے گردنیں اوپر کو اٹھائیں اور اس وقت آپ نے وہ جھنڈا مجھے عطا فرما دیا۔

12320

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12320

Sahih

۔ (۱۲۳۲۰)۔ وَعَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ، قَالَ: وَسَمِعْتُہُ یَقُولُیَوْمَ خَیْبَرَ: ((لَأُعْطِیَنَّ الرَّایَۃَ رَجُلًا یُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ، وَیُحِبُّہُ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ۔)) فَتَطَاوَلْنَا لَہَا فَقَالَ: ((ادْعُوا لِی عَلِیًّا۔)) فَأُتِیَبِہِ أَرْمَدَ فَبَصَقَ فِی عَیْنِہِ وَدَفَعَ الرَّایَۃَ إِلَیْہِ فَفَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْہِ، وَلَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ {نَدْعُ أَبْنَائَ نَا وَأَبْنَائَ کُمْ} [آل عمران: ۶۱] دَعَا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِیًّا وَفَاطِمَۃَ وَحَسَنًا وَحُسَیْنًا، فَقَالَ: ((اَللّٰہُمَّ ھٰوُلَائِ اَھْلِیْ۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے خیبر کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا، جسے اللہ اور اسکے رسول سے محبت اور اللہ اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں۔ ہم سب نے جھنڈا حاصل کرنے کی خواہش میں گردنیں اٹھائیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علی کو بلاؤ۔ پس انہیں لایا گیا، لیکن ان کی آنکھیں دکھتی تھیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب مبارک لگایا اور جھنڈا ان کے حوالے کر دیا، اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں فتح نصیب فرمائی اور جب یہ آیت {نَدْعُ أَبْنَائَنَا وَأَبْنَائَکُمْ}نازل ہوئی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی، سیدہ فاطمہ، سیدنا حسن اور سیدنا حسین کو بلایا اور فرمایا: یااللہ! یہ لوگ میرے اہل ہیں۔

12321

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12321

Sahih

۔ (۱۲۳۲۱)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ خَیْبَرَ: ((لَأَدْفَعَنَّ الرَّایَۃَ إِلٰی رَجُلٍ یُحِبُّ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ یَفْتَحُ اللّٰہُ عَلَیْہِ۔)) قَالَ: فَقَالَ عُمَرُ: فَمَا أَحْبَبْتُ الْإِمَارَۃَ قَبْلَ یَوْمِئِذٍ فَتَطَاوَلْتُ لَہَا وَاسْتَشْرَفْتُ رَجَائَ أَنْ یَدْفَعَہَا إِلَیَّ، فَلَمَّا کَانَ الْغَدُ دَعَا عَلِیًّا عَلَیْہِ السَّلَام فَدَفَعَہَا إِلَیْہِ فَقَالَ: ((قَاتِلْ وَلَا تَلْتَفِتْ حَتّٰییُفْتَحَ عَلَیْکَ۔)) فَسَارَ قَرِیبًا ثُمَّ نَادٰییَا رَسُولَ اللّٰہِ! عَلَامَ أُقَاتِلُ؟ قَالَ: ((حَتّٰییَشْہَدُوْا أَنْ لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَإِذَا فَعَلُوا ذٰلِکَ فَقَدْ مَنَعُوا مِنِّی دِمَائَہُمْ وَأَمْوَالَہُمْ إِلَّا بِحَقِّہَا، وَحِسَابُہُمْ عَلَیاللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ۔))(مسند احمد: ۸۹۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خیبر کے دن فرمایا: اب میں یہ جھنڈا ایسے آدمی کو دوں گا، جسے اللہ اور اس کے رسول سے محبت ہے، اس لیے کہ اس کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ فتح نصیب فرمائے گا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہا کرتے تھے کہ میں نے اس واقعہ سے پہلے کبھی امارت کی خواہش نہیں کی تھی، اس روز جھنڈا حاصل کرنے کی خواہش میں میں نے بھی گردن اوپر کو اٹھائی اور اونچا ہو ہو کر دیکھنے لگا کہ شاید آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یہ جھنڈا مجھے عطا فرما دیں، لیکن جب دوسرا دن ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلوا کر جھنڈا انہیں تھمایا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم ان سے قتال کرتے رہنا، یہاں تک کہ آپ فتح یاب ہو جائیں۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے تھوڑ ا سا چلنے کے بعد کہا: اے اللہ کے رسول! بھلا میں ان سے کس بات پر قتال کروں گا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس بات پر قتال کرو کہ وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی رسالت کی گواہی دیں، وہ لوگ جب یہ کام کر لیں تو وہ اپنے خون اور اموال کو مجھ سے بچا لیں گے، مگر ان کے حق کے ساتھ اور ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے سپرد ہے۔