Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2550

خلافت و امارت کے مسائل

فصل ششم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یمن کا قاضی مقرر کرنا اور اس امر کا بیان کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس امت محمدیہ میں سب سے زیادہ علم والے، سب سے زیادہ بردباری والے اور سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والے تھے

3 hadiths in this chapter

12322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12322

Sahih

۔ (۱۲۳۲۲)۔ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ: بَعَثَنِی رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلَی الْیَمَنِ، وَأَنَا حَدِیثُ السِّنِّ، قَالَ: قُلْتُ: تَبْعَثُنِی إِلٰی قَوْمٍ یَکُونُ بَیْنَہُمْ أَحْدَاثٌ وَلَا عِلْمَ لِی بِالْقَضَائِ، قَالَ: ((إِنَّ اللّٰہَ سَیَہْدِی لِسَانَکَ، وَیُثَبِّتُ قَلْبَکَ۔)) قَالَ: فَمَا شَکَکْتُ فِی قَضَائٍ بَیْنَ اثْنَیْنِ بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۶۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں ابھی تک نو عمر ہی تھاکہ رسول اللہ نے مجھے یمن کی طرف بھیج دیا، میں نے کہا: آپ مجھے ایسے لوگوں کی طرف روانہ کر رہے ہیں، جن کے مابین جھگڑے ہوں گے اور میں تو فیصلے کرنے کا علم نہیں رکھتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہاری زبان کو درست اور دل کو مضبوط رکھے گا۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اس کے بعد مجھے دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں کبھی تردد نہیں ہوا۔

12323

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12323

Sahih

۔ (۱۲۳۲۳)۔ (وَعَنْہُ اَیْضًا) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِذَا بَعَثْتَنِی أَکُونُ کَالسِّکَّۃِ الْمُحْمَاۃِ أَمِ الشَّاہِدُ یَرٰی مَا لَا یَرَی الْغَائِبُ، قَالَ: ((الشَّاہِدُ یَرٰی مَا لَا یَرَی الْغَائِبُ۔)) (مسند احمد: ۶۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول!جب آپ مجھے بھیج ہی رہے ہیں تو اب میں (آپ کے حکم پر عمل کرنے کے لیے) گرم سکّہ کی طرح بن جاؤں یا ایسا حاضر جو کہ وہ کچھ دیکھ رہا ہے جسے غائب نہیں دیکھ سکتا؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایسا حاضر جو کہ وہ کچھ دیکھ رہا ہے جسے غائب نہیں دیکھ سکتا۔

12324

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12324

Zaeef

۔ (۱۲۳۲۴)۔ عَنْ مَعْقِلِ بْنِ یَسَارٍ قَالَ: وَضَّأْتُ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ یَوْمٍ فَقَالَ: ((ہَلْ لَکَ فِی فَاطِمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا تَعُودُہَا۔)) فَقُلْتُ: نَعَمْ، فَقَامَ مُتَوَکِّئًا عَلَیَّ، فَقَالَ: ((أَمَا إِنَّہُ سَیَحْمِلُ ثِقَلَہَا غَیْرُکَ، وَیَکُونُ أَجْرُہَا لَکَ۔)) قَالَ: فَکَأَنَّہُ لَمْ یَکُنْ عَلَیَّ شَیْئٌ حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی فَاطِمَۃَ عَلَیْہَا السَّلَام، فَقَالَ لَہَا: کَیْفَ تَجِدِینَکِ؟ قَالَتْ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ اشْتَدَّ حُزْنِی وَاشْتَدَّتْ فَاقَتِی، وَطَالَ سَقَمِی، قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمٰنِ: وَجَدْتُ فِی کِتَابِ أَبِی بِخَطِّ یَدِہِ فِی ہٰذَا الْحَدِیثِ، قَالَ: ((أَوَ مَا تَرْضَیْنَ أَنِّی زَوَّجْتُکِ أَقْدَمَ أُمَّتِی سِلْمَا، وَأَکْثَرَہُمْ عِلْمًا، وَأَعْظَمَہُمْ حِلْمًا۔)) (مسند احمد: ۲۰۵۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا معقل بن یسار ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے ، وہ کہتے ہیں: میں نے ایک دن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو وضو کرایا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم فاطمہ کے ہاں جا کر ان کی عیادت کرو گے؟ میں نے کہا: جی ہاں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرا سہارا لے کر اٹھے اور فرمایا: اس کے بوجھ کو تیرے سوا کوئی دوسرا اٹھالے گا اور تجھے اس کا اجر ملے گا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا یہ ارشاد سننے کے بعد گویا اب مجھ پر کوئی بوجھ نہ رہا، یہاں تک کہ ہم سیدہ فاطمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں پہنچے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم اپنے آپ کو کیسی پاتی ہو؟ انہوں نے جواب دیا: اللہ کی قسم! میر ا غم زیادہ ہو چکا ہے اور شدید فاقوں سے دوچار ہوں اور میری بیماری بھی طویل ہو چکی ہے۔ ابو عبدالرحمن کہتے ہیں: میں نے اپنے والد کی کتاب میں ان کے ہاتھوں سے اس حدیث میں یہ بھی لکھاپایا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم اس بات سے راضی ہو کہ میں تمہارا نکاح ایسے آدمی سے کردوں، جو میرے امت میں سب (یعنی اکثر) سے پہلے مسلمان ہونے والا اور سب سے زیادہ صاحب علم اور حوصلہ مند ہے؟