Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2548

خلافت و امارت کے مسائل

فصل چہارم: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا امام علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں فرمانا: تمہاری میرے ساتھ وہی نسبت ہے، جو حضرت ہارون علیہ السلام کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ تھی، …۔

4 hadiths in this chapter

12312

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12312

Sahih

۔ (۱۲۳۱۲)۔ وَعَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ: قُلْتُ لِسَعْدِ بْنِ مَالِکٍ: إِنِّی أُرِیدُ أَنْ أَسْأَلَکَ عَنْ حَدِیثٍ، وَأَنَا أَہَابُکَ أَنْ أَسْأَلَکَ عَنْہُ، فَقَالَ: لَا تَفْعَلْ یَا ابْنَ أَخِی! إِذَا عَلِمْتَ أَنَّ عِنْدِی عِلْمًا فَسَلْنِی عَنْہُ وَلَا تَہَبْنِی، قَالَ: فَقُلْتُ: قَوْلُ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِعَلِیٍّ حِینَ خَلَّفَہُ بِالْمَدِینَۃِ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ، فَقَالَ سَعْدٌ: خَلَّفَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَلِیًّا بِالْمَدِینَۃِ فِی غَزْوَۃِ تَبُوکَ، فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَتُخَلِّفُنِی فِی الْخَالِفَۃِ فِی النِّسَائِ وَالصِّبْیَانِ؟ فَقَالَ: ((أَمَا تَرْضٰی أَنْ تَکُونَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ہَارُونَ مِنْ مُوسٰی؟)) قَالَ: بَلٰی،یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: فَأَدْبَرَ عَلِیٌّ مُسْرِعًا کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلٰی غُبَارِ قَدَمَیْہِیَسْطَعُ، وَقَدْ قَالَ حَمَّادٌ: فَرَجَعَ عَلِیٌّ مُسْرِعًا۔ (مسند احمد: ۱۴۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سعد بن مالک یعنی سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: میں آپ سے ایک حدیث کی بابت دریافت کرنا چاہتا ہوں، لیکن آپ سے ہیبت زدہ بھی ہوں،انہوں نے کہا: بھتیجے! ایسا نہ کرو، اگر تم جانتے ہو کہ میرے پا س کسی چیز کا علم ہے تو پوچھ لو اور مجھ سے مت ڈرو، میں نے کہا: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غزوۂ تبوک کے موقع پر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پیچھے مدینہ ـ میں چھوڑ گئے تھے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا فرمایا تھا؟ سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غزوۂ تبوک کے موقع پر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پیچھے مدینہ میں چھوڑا تو انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ مجھے پیچھے رہ جانے والے بچوں اور عورتوں میں چھوڑ کر جارہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ پسند نہیں کہ تمہارا میرے ساتھ وہی تعلق ہو جو ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام سے تھا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسو ل! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بات سن کر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خوشی خوشی تیزی سے واپس ہوگئے، گویا کہ اب بھی میں ان کے قدموں سے اڑتا غبار دیکھ رہا ہوں۔ حماد راوی کے الفاظ یہ ہیں:یہ سن کر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تیزی سے واپس ہولیے۔

12313

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12313

Sahih

۔ (۱۲۳۱۳)۔ (وَعَنْہٗ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) اَنَّ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ خَرَجَ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی جَائَ ثَنِیَّۃَ الْوَادَع وَعَلِیٌّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌یَبْکِیْ یَقُوْلُ: تُخَلِّفُنِیْ مَعَ الْخَوَالِفِ، فَقَالَ: ((اَوَمَا تَرْضٰی اَنْ تَکُوْنَ مِنِّیْ بِمَنْزِلَۃِ ھٰرُوْنَ مِنْ مُوْسٰی اِلَّا النُّبُوَّۃَ؟)) (مسند احمد: ۱۴۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ نکلے ،یہاں تک کہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثنیۂ وداع تک پہنچے تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے روتے ہوئے کہا: آپ مجھے پیچھے رہ جانے والوں یعنی عورتوں اور بچوں میں چھوڑ ے جارہے ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں یہ پسند نہیں ہے کہ تمہارا میرے ساتھ وہی تعلق ہو، جو ہارون علیہ السلام کا موسیٰ علیہ السلام سے تھا، ما سوائے نبوت کے فرق کے؟

12314

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12314

Sahih

۔ (۱۲۳۱۴)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: لَمَّا أَرَادَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُخَلِّفَ عَلِیًّا ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: قَالَ لَہُ عَلِیٌّ: مَا یَقُولُ النَّاسُ فِیَّ إِذَا خَلَّفْتَنِی؟ قَالَ: فَقَالَ: ((مَا تَرْضٰی أَنْ تَکُونَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ہَارُونَ مِنْ مُوسٰی إِلَّا أَنَّہُ لَیْسَ بَعْدِی نَبِیٌّ، أَوْ لَا یَکُونُ بَعْدِی نَبِیٌّ۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ (غزوۂ تبوک کے موقع پر ) جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پیچھے چھوڑ جانے کا ارادہ کیا تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ مجھے یوں پیچھے چھوڑ جائیں گے تو لوگ میرے بارے میں کیا کہیں گے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیاتمہیں یہ پسند نہیں کہ تمہارا تعلق میرے ساتھ وہی ہو، جو موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ ہارون علیہ السلام کا تھا، الایہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔

12315

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12315

Sahih

۔ (۱۲۳۱۵)۔ عَنْ مُوسَی الْجُہَنِیِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی فَاطِمَۃَ بِنْتِ عَلِیٍّ فَقَالَ لَہَا رَفِیقِی أَبُو سَہْلٍ: کَمْ لَکِ؟ قَالَتْ: سِتَّۃٌ وَثَمَانُونَ سَنَۃً، قَالَ: مَا سَمِعْتِ مِنْ أَبِیکِ شَیْئًا؟ قَالَتْ: حَدَّثَتْنِی أَسْمَائُ بِنْتُ عُمَیْسٍ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لِعَلِیٍّ: ((أَنْتَ مِنِّی بِمَنْزِلَۃِ ہَارُونَ مِنْ مُوسٰی إِلَّا أَنَّہُ لَیْسَ بَعْدِی نَبِیٌّ۔)) (مسند احمد: ۲۷۶۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

موسیٰ جہنی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں فاطمہ بنت علی کی خدمت میں گیا،میرے رفیق ابو سہل نے ان سے کہا: آپ کی عمر کتنی ہے؟ انہوں نے کہا: چھیاسی برس، ابو سہل نے کہا: آپ نے اپنے والد (سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) کے بارے میں کیا کچھ سنا ہے؟ انہوں نے کہا: سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: تمہارا مجھ سے وہی مقام ہے، جو ہارون علیہ السلام کا موسی علیہ السلام سے تھا، الایہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے۔