Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 173 · Chapter 2547

خلافت و امارت کے مسائل

فصل دوم: سید نا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مناقب کے بارے میں متفرق احادیث

20 hadiths in this chapter

12292

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12292

Sahih

۔ (۱۲۲۹۲)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ، قَالَ اشْتَکَی عَلِیًّا النَّاسُ، قَالَ: فَقَامَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِینَا خَطِیبًا فَسَمِعْتُہُ یَقُولُ: ((أَیُّہَا النَّاسُ لَا تَشْکُوا عَلِیًّا، فَوَاللّٰہِ! إِنَّہُ لَأُخَیْشِنٌ فِی ذَاتِ اللّٰہِ أَوْ فِی سَبِیلِ اللّٰہِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۸۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعد خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ لوگوں نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بارے میں شکایتیں کیں، سو اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگو! تم علی کے شکوے مت کیا کرو، وہ اللہ کی ذات کے بارے میں یا اللہ تعالیٰ کی راہ میں بہت سخت ہے۔

12293

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12293

Zaeef

۔ (۱۲۲۹۳)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شَأْسٍ الْأَسْلَمِیِّ، قَالَ: وَکَانَ مِنْ أَصْحَابِ الْحُدَیْبِیَۃِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ عَلِیٍّ إِلَی الْیَمَنِ فَجَفَانِی فِی سَفَرِی ذٰلِکَ حَتّٰی وَجَدْتُ فِی نَفْسِی عَلَیْہِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ أَظْہَرْتُ شِکَایَتَہُ فِی الْمَسْجِدِ حَتّٰی بَلَغَ ذٰلِکَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، فَدَخَلْتُ الْمَسْجِدَ ذَاتَ غُدْوَۃٍ وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی نَاسٍ مِنْ أَصْحَابِہِ، فَلَمَّا رَآنِی أَمَدَّنِی عَیْنَیْہِیَقُولُ: حَدَّدَ إِلَیَّ النَّظَرَ حَتّٰی إِذَا جَلَسْتُ قَالَ: ((یَا عَمْرُو وَاللّٰہِ لَقَدْ آذَیْتَنِی۔)) قُلْتُ: أَعُوذُ بِاللّٰہِ أَنْ أُوذِیَکَیَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ: ((بَلٰی مَنْ آذٰی عَلِیًّا فَقَدْ آذَانِی۔)) (مسند احمد: ۱۶۰۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمر و بن شاس اسلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ اصحابِ حدیبیہ میں سے تھے، سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی معیت میں یمن کی جانب گیا، دوران سفر انہوں نے میرے ساتھ کچھ سختی کی، اس سے مجھے دل میں بہت کوفت ہوئی، جب میں واپس آیا تو میں نے اعلانیہ مسجد میں ان کا شکوہ کردیا، یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچ گئی، میں ایک دن صبح کے وقت مسجد میں داخل ہو ا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صحابہ کے ہمراہ تشریف فرما تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے دیکھا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی نظریں مجھ پر گاڑھ دیں، پھر میں بیٹھ گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عمرو! اللہ کی قسم! تو نے مجھے تکلیف دی ہے۔ میں نے کہا: اللہ کے رسول! میں اس بات سے اللہ کی پناہ چاہتا ہوں کہ آپ کو ایذا پہنچاؤں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، جس نے علی کو ایذا دی، اس نے درحقیقت مجھے تکلیف پہنچائی۔

12294

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12294

Zaeef

۔ (۱۲۲۹۴)۔ عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ، عَنْ حُبْشِیِّ بْنِ جُنَادَۃَ، قَالَ یَحْیَی بْنُ آدَمَ: السَّلُولِیُّ،ٔ وَکَانَ قَدْ شَہِدَ یَوْمَ حَجَّۃِ الْوَدَاعِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((عَلِیٌّ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ، وَلَا یُؤَدِّی عَنِّی إِلَّا أَنَا أَوْ عَلِیٌّ۔)) وَقَالَ ابْنُ أَبِی بُکَیْرٍ: ((لَا یَقْضِی عَنِّی دَیْنِی إِلَّا أَنَا أَوْ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا یحییٰ بن آدم سلولی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، جو کہ حجۃ الوداع کے موقع پر حاضرتھے، سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: علی مجھ سے ہے اور میں علی سے ہوں، میری طرف سے ادائیگی یا تو میں خود کروں گا، یا علی کرے گا۔ ابن ابی بکیر کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: میرا قرضہ میں خود ادا کروں گا یا میری طرف سے علی ادا کرے گا۔

12295

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12295

Sahih

۔ (۱۲۲۹۵)۔ وَعَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ لِعَلِیٍّ: ((لَا یُبْغِضُکَ مُؤْمِنٌ وَلَا یُحِبُّکَ مُنَافِقٌ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے فرمایا: کوئی مومن تجھ سے بغض نہیں رکھ سکتا اور کوئی منافق تجھ سے محبت نہیں کر سکتا۔

12296

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12296

Sahih

۔ (۱۲۲۹۶)۔ عَنْ أَبِی عَبْدِ اللّٰہِ الْجَدَلِیِّ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی أُمِّ سَلَمَۃَ، فَقَالَتْ لِی: أَیُسَبُّ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیکُمْ؟ قُلْتُ: مَعَاذَ اللّٰہِ، أَوْ سُبْحَانَ اللّٰہِ أَوْ کَلِمَۃً نَحْوَہَا، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ سَبَّ عَلِیًّا فَقَدْ سَبَّنِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۷۲۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو عبداللہ جدلی کہتے ہیں: میں سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا، انہوں نے مجھ سے کہا: کیا تمہارے ہاں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو برا بھلا کہا جا رہا ہے؟ میں نے کہا: اللہ کی پناہ، یا کہا: سبحان اللہ! بڑا تعجب ہے، یا اسی قسم کا کوئی کلمہ کہا، (یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو برا بھلا کہا جائے) انہوں نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا: جس نے علی کو برا بھلا کہا، اس نے یقینا مجھے برا بھلا کہا۔

12297

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12297

Sahih

۔(۱۲۲۹۷) ۔ وَعَنْ عَلِیًّ رضی اللہ عنہ قَالَ : وَاللہِ اِنَّہٗ مِمَّا عَھِدَ اِلَیَّ رَسُوْلُ اللہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : اِنَّہ لَا یُبْغِضُنِیْ اِلَّا مُنَافِقٌ وَلَا یُحِبُّنِیْ اِلَّا مُؤْمِنٌ ۔) (مسند احمد : ۶۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: اللہ کی قسم! رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھ سے خصوصی طور پر جو باتیں بیان کی، ان میں سے ایک یہ تھی: مجھ سے بغض صرف منافق رکھے گا اور مجھ سے محبت صرف مومن کرے گا۔

12298

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12298

Zaeef

۔ (۱۲۲۹۸)۔ عَنِ الْمِنْہَالِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَسَدِیِّ، عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا نَزَلَتْ ہٰذِہِ الْآیَۃُ {وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَکَ الْأَقْرَبِینَ} قَالَ: جَمَعَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِنْ أَہْلِ بَیْتِہِ فَاجْتَمَعَ ثَلَاثُونَ فَأَکَلُوْا وَشَرِبُوْا، قَالَ: فَقَالَ لَہُمْ: ((مَنْ یَضْمَنُ عَنِّی دَیْنِی، وَمَوَاعِیدِی، وَیَکُونُ مَعِی فِی الْجَنَّۃِ، وَیَکُونُ خَلِیفَتِی فِی أَہْلِی۔)) فَقَالَ رَجُلٌ: لَمْ یُسَمِّہِ شَرِیکٌ،یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَنْتَ کُنْتَ بَحْرًا مَنْ یَقُومُ بِہٰذَا؟ قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِاٰخَرَ: قَالَ: فَعَرَضَ ذٰلِکَ عَلٰی أَہْلِ بَیْتِہِ، فَقَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: أَنَا۔ (مسند احمد: ۸۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: جب یہ آیت {وَأَنْذِرْ عَشِیرَتَکَ الْأَقْرَبِینَ} … اور اپنے قریبی رشتہ داروں کو ڈراؤ۔ نازل ہوئی، تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے خاندان کے لوگوں کو جمع کیا، تیس آدمی جمع ہو گئے، انہوں نے کھایا پیا، اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: تم میں سے کون ہے، جو میرے قرض کی ادائیگی اور میرے وعدوں کو پورا کرنے کی ضمانت دے گا، اس کے نتیجہ میں وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا اور میرے اہل میں میرا خلیفہ ہوگا؟ ایک آدمی نے جواباً کہا: اللہ کے رسول! آپ تو سمندر ہیں، کون ان ذمہ داریوں کو ادا کر سکتا ہے؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کسی اور کو بھی یہ بات کہی پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہی بات جب اپنے اہل بیت پر پیش کی تو سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی میں اس کی ضمانت دیتا ہوں۔

12299

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12299

Zaeef

۔ (۱۲۲۹۹)۔ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: اَوَّلُ مَنْ صَلّٰی مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَعْدَ خَدِیْجَۃَ عَلِیٌّ، وَقَالَ مَرَّۃً: اَسْلَمَ۔ (مسند احمد: ۳۵۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ سیدہ خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے بعد نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ سب سے پہلے نماز پڑھنے والے یا ان کے بعد سب سے پہلے اسلام قبول کرنے والے سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے ۔

12300

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12300

Zaeef

۔ (۱۲۳۰۰) ۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : کُنَّا نَقُولُ فِی زَمَنِ النَّبِیَّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : رَسُولُ اللہِ خَیْرُ النَّاسِ ، ثُمَّ أَبُوبکْرِ ، ثُمَّ عَمَرُ ، وَلَقَدْ أُوتِیَ ابْنُ أَبِی ثَلاثَ خِصَالِ ، لَأَنْ تَکُونَ لِی وَاحِدَۃٌ مِنْھُنَّ أَحَبُّ إِلَیَّ مِنْ حُمْرِ النَّعَمِ ، زَوَّجَہُ رَسُولُ اللہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابْنَتَہُ ، وَوَلَدَتْ لَہُ ، وَسَدَّ الْأَبْوَابَ إِلَّا بَابَہُ فِی الْمَسْجِدِ ، وَأَعْطَاہُ الرَّابَۃَ یَوْمَ خَیْبَرَ ۔ (مسند احمد : ۴۷۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے زمانہ میں کہا کرتے تھے کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سب لوگوں سے افضل ہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے بعد سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں اور سیدنا علی بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو تین ایسی خصوصیات نصیب ہوئی ہیں کہ اگر مجھے ان میں سے کوئی ایک مل جاتی تووہ مجھے سرخ اونٹوں سے بھی زیادہ محبوب ہوتی، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیٹی کی ان سے شادی کی،ان سے ان کی اولاد ہوئی اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے دروازے کے علاوہ مسجد میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر وادئیے اور خیبر کے روز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں جھنڈا عطا فرمایا۔

12301

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12301

Zaeef

۔ (۱۲۳۰۱)۔ وَعَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الرَّقِیْمِ الْکِنَانِیِّ، قَالَ: خَرَجْنَا اِلَی الْمَدِیْنَۃِ زَمْنَ الْجَمَلِ، فَلَقِیْنَا سَعْدَ بْنَ مَالِکٍ بِہَا فَقَالَ: أَمَرَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِسَدِّ الْأَبْوَابِ الشَّارِعَۃِ فِی الْمَسْجِدِ وَتَرْکِ بَابِ عَلِیٍّ۔ (مسند احمد: ۱۵۱۱)

اردو ترجمہ · Urdu

عبد اللہ بن رقیم کنانی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:جنگ جمل کے دنوں میں ہم مدینہ منورہ کی طرف روانہ ہوئے اور سیدنا سعد بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ہماری ملاقات ہوئی، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے حکم دیا تھا کہ مسجد کی طرف کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیئے جائیں، البتہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا دروازہ کھلا رہنے دیا جائے۔

12302

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12302

Sahih

۔ (۱۲۳۰۲)۔ عَنْ أَبِی حَسَّانَ أَنَّ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ کَانَ یَأْمُرُ بِالْأَمْرِ فَیُؤْتٰی، فَیُقَالُ: قَدْ فَعَلْنَا کَذَا وَکَذَا، فَیَقُولُ: صَدَقَ اللّٰہُ وَرَسُولُہُ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ الْأَشْتَرُ: إِنَّ ہٰذَا الَّذِی تَقُولُ قَدْ تَفَشَّغَ فِی النَّاسِ أَفَشَیْئٌ عَہِدَہُ إِلَیْکَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ: مَا عَہِدَ إِلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَیْئًا خَاصَّۃً دُونَ النَّاسِ إِلَّا شَیْئٌ سَمِعْتُہُ مِنْہُ، فَہُوَ فِی صَحِیفَۃٍ فِی قِرَابِ سَیْفِی، قَالَ: فَلَمْ یَزَالُوا بِہِ حَتَّی أَخْرَجَ الصَّحِیفَۃَ، قَالَ: فَإِذَا فِیہَا ((مَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوٰی مُحْدِثًا فَعَلَیْہِ لَعْنَۃُ اللّٰہِ وَالْمَلَائِکَۃِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِینَ، لَا یُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ، قَالَ: وَإِذَا فِیہَا إِنَّ إِبْرَاہِیمَ حَرَّمَ مَکَّۃَ وَإِنِّی أُحَرِّمُ الْمَدِینَۃَ حَرَامٌ مَا بَیْنَ حَرَّتَیْھَا وَحِمَاھَا کُلُّہُ لَا یُخْتَلٰی خَلَاھَا وَلَا یُنَفَّرُ صَیْدُھَا وَلَا تُلْتَقَطُ لُقْطَتُھَا اِلاَّ لِمَنْ اَشَارَبِھَا وَلَا تُقْطَعُ مِنْھَا شَجَرَۃٌ اِلاَّ اَنْ یَعْلِفَ رَجُلٌ بَعِیْرَہٗ وَبُجْمَلُ فِیْھَا السِّلَاحُ لِقِتَالٍ وَقَالَ وَاِذَا فِیْھَا الْمُوْمِنُوْنَ تَتَکاَفَؤُ دِمَائَ ہُمْ وَیَسْعٰی بِذِمَّتِھِمْ اَدْنَاھُمْ وَہُمْ یَدٌ عَلٰی مَنْ سِوَاہُمْ اَلَا لَا یُقْتَلُ مُوْمِنٌ بِکَافِرٍ وَلَا ذُوْ عَہْدٍ فِیْ عَھْدِہٖ۔)) (مسنداحمد: ۹۵۹)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو حسان سے روایت ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کسی کا م کا حکم دیتے تو لوگ وہ کام کر لینے کے بعد آ کر کہتے کہ ہم نے وہ کام کر لیا، یہ سن کر وہ کہتے: اللہ اور اس کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سچ فرمایا ہے، اشتر نے ان سے کہا: آپ کی یہ بات اب لوگوں میں عام ہوچکی ہے، اگر اللہ کے رسول نے آپ سے کچھ فرمایا ہوتو اسے بیان کردیا کریں، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے عام لوگوں سے ہٹ کر مجھے خاص کر کے کچھ نہیں فرمایا، البتہ صرف ایک بات ہے جو میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنی ہے اور وہ میری تلوار کے نیام میں لکھی ہوئی موجود ہے، لوگ اس کا اصرار کرتے رہے، یہاں تک کہ انہوں نے وہ تحریر نکال دی، اس میں لکھا تھا کہ جو شخص بدعت جاری کر ے یا بدعتی کو پناہ دے تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام لوگوں کی لعنت ہے، اس کی فرضی اور نفلی عبادت قبول نہیں ہوگی۔ اور اس میں یہ بات بھی لکھی ہوئی تھی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرمت والا قرار دیا تھا اور میں مدینہ منورہ کوحرم قرار دیتا ہوں اس کے دو میدانوں کے درمیان والا سارا علاقہ حرام ہے۔ اس کی چراگاہ کی گھاس نہ کاٹی جائے اس کے شکار کو بھگایا نہ جائے۔ اس کی گری ہوئی چیز کوئی نہ اٹھائے مگر اس کا اعلان کرنے والا۔ (وہ اٹھا سکتا ہے اس کا کوئی درخت نہ کاٹا جائے۔ ہاں آدمی اپنے اونٹ کو پتے ڈال سکتا ہے۔ لڑائی کے لیے اس میں ہتھیار نہ اٹھایا جائے۔ اس صحیفہ میں یہ بھی تھا کہ مسلمانوں کے خون برابر ہیں۔ ان میں ادنیٰ آدمی کسی کو پناہ دے سکتا۔ وہ کافروں کے خلاف ایک ہاتھ کی طرح اکٹھے اور جماعت ہیں۔ مومن کو کافر کے بدلے میں اور ذمی کو اس کے عہد و پیمان کے دوران قتل نہیں کیا جائے گا۔

12303

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12303

Sahih

۔ (۱۲۳۰۳)۔ عَنْ مَیْمُونٍ أَبِی عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ زَیْدُ بْنُ أَرْقَمَ وَأَنَا أَسْمَعُ: نَزَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِوَادٍ یُقَالُ لَہُ وَادِی خُمٍّ، فَأَمَرَ بِالصَّلَاۃِ فَصَلَّاہَا بِہَجِیرٍ، قَالَ: فَخَطَبَنَا وَظُلِّلَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِثَوْبٍ عَلٰی شَجَرَۃِ سَمُرَۃٍ مِنَ الشَّمْسِ، فَقَالَ: ((أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَوَلَسْتُمْ تَشْہَدُونَ أَنِّی أَوْلٰی بِکُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِہِ۔)) قَالُوا: بَلٰی، قَالَ: ((فَمَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَإِنَّ عَلِیًّا مَوْلَاہُ، اَللّٰہُمَّ عَادِ مَنْ عَادَاہُ وَوَالِ مَنْ وَالَاہُ۔))(مسند احمد: ۱۹۵۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ساتھ ایک وادی میں اترے، اس کو وادی خُم کہتے تھے، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نماز کا حکم دیا اور سخت گرمی میں ظہر کی نماز پڑھائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور دھوپ سے بچانے کے لیے کیکر کے درخت پر کپڑا ڈال کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر سایہ کیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم جانتے نہیں ہو، یا کیا تم یہ گواہی نہیں دیتے کہ میں ہر مومن کے اس کے نفس سے بھی زیادہ قریب ہوں؟ صحابہ نے کہا: جی کیوں نہیں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں جس کا دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے، اے اللہ! تو اس سے دشمنی رکھ، جو علی سے دشمنی رکھتا ہے اور تو اس کو دوست رکھ، جو علی کو دوست رکھتا ہے۔

12304

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12304

Sahih

۔ (۱۲۳۰۴)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ: اسْتَشْہَدَ عَلِیٌّ النَّاسَ، فَقَالَ: أَنْشُدُ اللّٰہَ رَجُلًا سَمِعَ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ: ((اللَّہُمَّ مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ، اللَّہُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاہُ وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ۔)) قَالَ: فَقَامَ سِتَّۃَ عَشَرَ رَجُلًا فَشَہِدُوْا۔ (مسند احمد: ۲۳۵۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لوگوں سے گواہی طلب کی اور کہا: میں اس آدمی کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں، جس نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اے اللہ! میں جس کا دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے، اے اللہ! جو علی کو دوست رکھے تو بھی اسے اپنا دوست رکھ اور جو علی سے عداوت رکھے تو بھی اس سے عداوت رکھ۔ یہ سن کر سولہ آدمی کھڑے ہوئے اور انھوں نے یہ شہادت دی (کہ واقعی انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ حدیث سنی ہے)۔

12305

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12305

Sahih

۔ (۱۲۳۰۵)۔ عَنْ رِیَاحِ بْنِ الْحَارِثِ قَالَ: جَائَ رَہْطٌ إِلٰی عَلِیٍّ بالرَّحْبَۃِ، فَقَالُوْا: السَّلَامُ عَلَیْکَیَا مَوْلَانَا، قَالَ: کَیْفَ أَکُونُ مَوْلَاکُمْ وَأَنْتُمْ قَوْمٌ عَرَبٌ، قَالُوْا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَوْمَ غَدِیرِ خُمٍّ یَقُولُ: ((مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَإِنَّ ہٰذَا مَوْلَاہُ)) قَالَ رِیَاحٌ: فَلَمَّا مَضَوْا تَبِعْتُہُمْ فَسَأَلْتُ مَنْ ہٰؤُلَائِ؟ قَالُوْا: نَفَرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ فِیہِمْ أَبُو أَیُّوبَ الْأَنْصَارِیُّ۔ (مسند احمد: ۲۳۹۵۹) (وَعَنْہٗمِنْطَرِیْقٍ آخَرَ) قَالَ: رَاَیْتُ قَوْمًا مِنَ الْاَنْصَارِ قَدِمُوْا عَلٰی عَلِیٍّ فِی الرَّحْبَۃِ، فَقَالَ: مَنِ الْقَوْمُ؟ قَالَ: مَوَالِیْکَ اَیْ اَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ، فَذَ کَرَ مَعْنَاہٗ، (مسنداحمد: ۲۳۹۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

ریاح بن حارث سے مروی ہے کہ لوگوں کی ایک جماعت رحبہ کے مقام پر سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئی اور انھوں نے کہا: اے ہمارے مولی! تم پر سلامتی ہو، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تمہارا مولیٰ کیسے ہوسکتا ہوں، تم تو عرب قوم ہو؟ ان لوگوں نے کہا: ہم نے غدیر خم کے موقع پر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یوں فرماتے سنا تھا کہ میں جس کا مولیٰ ہوں، یہ علی بھی اس کا مولیٰ ہے۔ ریاح کہتے ہیں: جب وہ لوگ چلے گئے تو میں ان کے پیچھے ہولیا اور میں نے پوچھا کہ یہ کون لوگ ہیں؟ لوگوں نے بتلایا کہ یہ انصاری لوگ ہیں، ان میں سیدنا ابو ایوب انصاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے۔ ۔ (دوسری سند) ریاح کہتے ہیں: میں نے انصاریوں کی ایک جماعت دیکھی، وہ رحبہ میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: تم کون لوگ ہو؟انہوں نے کہا، اے امیر المومنین! ہم آپ کے دوست ہیں، پھر مذکورہ حدیث کے ہم معنی حدیث ذکر کی۔

12306

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12306

Sahih

۔ (۱۲۳۰۶)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِی لَیْلٰی قَالَ: شَہِدْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِی الرَّحَبَۃِیَنْشُدُ النَّاسَ، أَنْشُدُ اللّٰہَ مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُیَوْمَ غَدِیرِ خُمٍّ: ((مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ۔)) لَمَا قَامَ فَشَہِدَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ: فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ بَدْرِیًّا، کَأَنِّی أَنْظُرُ إِلٰی أَحَدِہِمْ فَقَالُوْا: نَشْہَدُ أَنَّا سَمِعْنَا رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُیَوْمَ غَدِیرِ خُمٍّ: ((أَلَسْتُ أَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِینَ مِنْ أَنْفُسِہِمْ، وَأَزْوَاجِی أُمَّہَاتُہُمْ؟)) فَقُلْنَا: بَلٰی،یَا رَسُولَ اللّٰہِ!، قَالَ: ((فَمَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ، اللَّہُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاہُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ۔)) (مسند احمد: ۹۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رحبہ میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں حاضر تھا، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہہ رہے تھے: میں اس آدمی کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں، جس نے غدیر خم والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میں جس کا دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے۔ وہ اٹھ کر گواہی دے، یہ بات سن کر بارہ بدری صحابہ کھڑے ہوئے وہ منظر میری آنکھوں کے سامنے ہے، گویا میں ان میں سے ہر ایک کو دیکھ رہا ہوں، ان سب نے کہا ہم گواہی دیتے ہیں کہ ہم نے غدیر خم کے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: کیا میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ حق نہیں رکھتا؟ اور کیا میری ازواج ان کی مائیں نہیں ہیں؟ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! بالکل بات ایسے ہی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں جس کا دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے، اے اللہ! تو اس آدمی کو دوست رکھ، جو علی کو دوست رکھتا ہے اور جو اس سے عداوت رکھے، تو بھی اس سے عداوت رکھ۔

12307

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12307

Sahih

۔ (۱۲۳۰۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ آخَرَ) أَنَّہُ شَہِدَ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فِی الرَّحَبَۃِ، قَالَ: أَنْشُدُ اللّٰہَ رَجُلًا سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَشَہِدَہُ یَوْمَ غَدِیرِ خُمٍّ إِلَّا قَامَ، وَلَا یَقُومُ إِلَّا مَنْ قَدْ رَآہُ فَقَامَ اثْنَا عَشَرَ رَجُلًا، فَقَالُوْا: قَدْ رَأَیْنَاہُ وَسَمِعْنَاہُ حَیْثُ أَخَذَ بِیَدِہِیَقُولُ: ((اَللّٰہُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاہُ، وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ، وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَہُ، وَاخْذُلْ مَنْ خَذَلَہُ۔)) فَقَامَ إِلَّا ثَلَاثَۃٌ لَمْ یَقُومُوْا فَدَعَا عَلَیْہِمْ فَأَصَابَتْہُمْ دَعْوَتُہُ۔ (مسند احمد: ۹۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) عبدالرحمن بن ابی لیلیٰ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رحبہ میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس موجود تھا، انھوں نے کہا: میں اس آدمی کو اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں جو غدیر خم والے دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، وہ کھڑا ہو جائے، یہ بات سن کر بارہ آدمی کھڑے ہو گئے، سب نے کہا:ہم نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کا ہاتھ بھی پکڑا ہوا تھا: یا اللہ! جو اس علی سے دوستی رکھے تو بھی اسے اپنا دوست رکھ، جو اس سے عداوت رکھے تو بھی ا س سے عداوت رکھ، جو اس کی مدد کرے تو بھی ا س کی مدد کر اور جو اسے چھوڑ جائے تو بھی اسے چھوڑ دے۔ صرف تین آدمی نہیں اٹھے تھے، سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان پر بددعا کی اور ان کی بددعاان کو لگ گئی تھی۔

12308

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12308

Sahih

۔ (۱۲۳۰۸)۔ عَنْ زَاذَانَ أَبِی عُمَرَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِیًّا فِی الرَّحْبَۃِ، وَہُوَ یَنْشُدُ النَّاسَ مَنْ شَہِدَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ غَدِیرِ خُمٍّ؟ وَہُوَ یَقُولُ مَا قَالَ فَقَامَ ثَلَاثَۃَ عَشَرَ رَجُلًا، فَشَہِدُوا أَنَّہُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَہُوَ یَقُولُ: ((مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ۔)) (مسند احمد: ۶۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو عمر زاذان کہتے ہیں:میں نے رحبہ میں سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھا، وہ لوگوں کو اللہ کا واسطہ دے کر کہہ رہے تھے کہ جو آدمی غدیر خم کے روز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس حاضر تھا، جبکہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرما رہے تھے جو آپ نے فرمایا (جواب سے آپ کے اس فرمان کی سمجھ آرہی ہے) پس تیرہ آدمی کھڑے ہو گئے اور انھوں نے یہ گواہی دی کہ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ میں جس کا دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے۔

12309

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12309

Sahih

۔ (۱۲۳۰۹)۔ عَنْ سَعِیدِ بْنِ وَہْبٍ، وَعَنْ زَیْدِ بْنِ یُثَیْعٍ قَالَا: نَشَدَ عَلِیٌّ النَّاسَ فِی الرَّحَبَۃِ مَنْ سَمِعَ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ، یَقُولُیَوْمَ غَدِیرِ خُمٍّ إِلَّا قَامَ، قَالَ: فَقَامَ مِنْ قِبَلِ سَعِیدٍ سِتَّۃٌ، وَمِنْ قِبَلِ زَیْدٍ سِتَّۃٌ، فَشَہِدُوْا أَنَّہُمْ سَمِعُوا رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُولُ لِعَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَوْمَ غَدِیرِ خُمٍّ: ((أَلَیْسَ اللّٰہُ أَوْلٰی بِالْمُؤْمِنِینَ؟)) قَالُوْا: بَلٰی، قَالَ: ((اللّٰہُمَّ مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ، اللَّہُمَّ وَالِ مَنْ وَالَاہُ وَعَادِ مَنْ عَادَاہُ۔)) (مسند احمد: ۹۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن وہب اور زیدبن یثیع کہتے ہیں: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے رحبہ میں لوگوں کو اللہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر کہا کہ جس کسی نے غدیر خم کے روز رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، وہ اٹھ کر کھڑا ہوجائے، پس سعید کی طرف سے چھ اور زید کی جانب سے بھی چھ آدمی کھڑے ہو گئے اور ان سب نے گواہی دی کہ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو غدیر خم کے روز سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے متعلق فرماتے ہوئے سنا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا مومنین پر اللہ کا حق زیادہ نہیں؟ صحابہ نے کہا: جی بالکل، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یا اللہ! میں جس کا دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے، یا اللہ! جو اس سے دوستی رکھے تو بھی اس سے دوستی رکھ اور جو اس سے عداوت رکھے تو بھی اس سے عداوت رکھ۔

12310

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12310

Sahih

۔ (۱۲۳۱۰)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ ثَنَا عَلِیُّ بْنُ حَکِیْمٍ، اَنْبَاَنَا شَرِیْکٌ، عَنْ اَبِیْ اِسْحٰقَ، عَنْ عَمْرٍو مَرَّ بِمِثْلِ حَدِیْثِ اَبِیْ اِسْحٰقَ یَعْنِیْ عَنْ سَعِیْدٍ وَزَیْدٍ وَزَادَ فِیْہِ: ((وَانْصُرْ مَنْ نَصَرَہٗوَاخْذُلْمَنْخَذَلَہٗ۔)) (مسنداحمد: ۹۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سعید اور زید یہ بھی روایت کرتے ہیں، اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے اللہ! جو علی کی مدد کرے، تو بھی اس کی مدد کر اور جو اس کو چھوڑ دے، تو بھی اس کو چھوڑ دے۔

12311

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #12311

Sahih

۔ (۱۲۳۱۱)۔ وَعَنْ سَعِیْدِ بْنِ وَہْبٍ قَالَ: نَشَدَ عَلِیُّ نِ النَّاسَ، فَقَامَ خَمْسَۃٌ اَوْ سِتَّۃٌ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَشَہِدُوْا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہٗفَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۴۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سعید بن وہب سے مروی ہے کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے لوگوں کو اللہ کا واسطہ دیا، توپانچ چھ صحابہ کھڑے ہوئے اور انھوں نے یہ گواہی دی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا کہ میں جس کا دوست ہوں، علی بھی اس کا دوست ہے۔