Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11919
۔ (۱۱۹۱۹)۔ عَنْ عِلْبَائَ بْنِ أَحْمَرَ، حَدَّثَنَا أَبُو زَیْدٍ الْأَنْصَارِیُّ قَالَ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((ادْنُ مِنِّی۔)) قَالَ: فَمَسَحَ بِیَدِہِ عَلٰی رَأْسِہِ وَلِحْیَتِہِ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ: ((اللّٰہُمَّ جَمِّلْہُ وَأَدِمْ جَمَالَہُ۔)) قَالَ: فَلَقَدْ بَلَغَ بِضْعًا وَمِائَۃَ سَنَۃٍ وَمَا فِی رَأْسِہِ وَلِحْیَتِہِ بَیَاضٌ إِلَّا نَبْذٌ یَسِیرٌ، وَلَقَدْ کَانَ مُنْبَسِطَ الْوَجْہِ، وَلَمْ یَنْقَبِضْ وَجْہُہُ حَتّٰی مَاتَ۔ (مسند احمد: ۲۱۰۱۳)
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا ابوزید انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا: میرے قریب ہو جاؤ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے سر اور داڑھی پر ہاتھ پھیرا اور یہ دعا دی: ٍٔیا اللہ! اسے خوبصورت بنا دے اور اس کا جمال دائمی ہو۔ علبا کہتے ہیں: سیدنا ابو زید رضی اللہ عنہ کی عمر ایک سو چھ سات برس ہو گئی تھے، لیکن ان کے سر اور داڑھی کے بال بہت کم سفید ہوئے تھے، ان کا چہرہ بالکل سپاٹ تھا اور ان کی وفات تک اس پر جھریاں نہیں پڑی تھیں۔