Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2453

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

8 hadiths in this chapter

11925

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11925

Zaeef

۔ (۱۱۹۲۵)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ رَأٰی رُؤْیَا أَنَّہُ یَکْتُبُ صٓ فَلَمَّا بَلَغَ إِلٰی سَجْدَ تِہَا، قَالَ: رَأَی الدَّوَاۃَ وَالْقَلَمَ وَکُلَّ شَیْئٍ بِحَضْرَتِہِ انْقَلَبَ سَاجِدًا، قَالَ فَقَصَّہَا عَلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَلَمْ یَزَلْ یَسْجُدُ بِہَا بَعْدُ۔ (مسند احمد: ۱۱۷۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے یہ خواب دیکھا کہ وہ سورۂ ص لکھ رہے ہیں، جب اس کی سجدہ والی آیت کے پاس پہنچے تو انہوں نے دوات،قلم اور اپنے پاس والی ہر چیز کودیکھا کہ وہ سجدے کی حالت میں ہو گئی، پھر جب انہوں نے یہ خواب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر بیان کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں سجدہ کرنا شروع کر دیا۔

11926

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11926

Sahih

۔ (۱۱۹۲۶)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ: بَعَثَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ سَرِیَّۃٍ ثَلَاثِیْنَ رَاکِبًا، قَالَ: فَنَزَلْنَا بِقَوْمٍ مِنَ الْعَرَبِ، قَالَ: فَسَأَلْنَاھُمْ أَنْ یُضَیِّفُوْنَا فَأَبَوْا، قَالَ: فَلُدِغَ سَیِّدُھُمْ، قَالَ: فَاَتَوْنَا فَقَالُوْا: فِیْکُمْ أَحَدٌ یَرْقِیْ مِنَ الْعَقْرَبِ؟ قَالَ: فَقُلْتُ: نَعَمْ، أَنَا وَلٰکِنْ لَا أَفْعَلُ حَتّٰی تُعْطُوْنَا شَیْئًا، قَالُوْا: فَإِنَّا نُعْطِیْکُمْ ثَلَاثِیْنَ شَاۃً، قَالَ: فَقَرَأْتُ عَلَیْہَا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، قَالَ: فَبَرَأَ (وَفِیْ لَفْظٍ: قَالَ: فَجَعَلَ یَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَیَجْمَعُ بُزَاقَہُ وَیَتْفُلُ فَبَرَأَ الرَّجُلُ فَأَتَوْھُمْ بِالشَّائِ، قَالَ: فَلَمَّا قَبَضْنَا الْغَنَمَ، قَالَ: عَرَضَ فِیْ أَنْفُسِنَا مِنْہَا، قَالَ: فَکَفَفْنَا حَتّٰی أَتَیْنَا النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (وَفِیْ لَفْظٍ: فَقَالَ أَصْحَابِیْ: لَمْ یَعْہَدْ إِلَیْنَا النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْ ھٰذَا بِشَیْئٍ لَا نَاْخُذُ مِنْہُ شَیْئًا حَتّٰی نَاْتِیَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: فَذَکَرْنَا ذَالِکَ لَہُ فقَالَ: ((أَمَا عَلِمْتَ اَنَّھَا رُقْیَۃٌ، اِقْسِمُوْھَا وَاضْرِبُوْا لِیْ مَعَکُمْ بِسَہْمٍ، (وَفِیْ لَفْظٍ: فَقَالَ: کُلْ وَأَطْعِمْنَا مَعَکَ وَمَا یُدْرِیْکَ اَنَّھَا رُقْیَۃٌ؟)) قَالَ: قُلْتُ: أُلْقِیَ فِیْ رَوْعِیْ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۸۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہم تیس سوار مجاہدین کو ایک سریّے میں بھیجا، ہم عرب کی ایک قوم کے پاس سے اترے اوران سے میزبانی کا اپنا حق طلب کیا، لیکن انہوں نے انکار کردیا، ہوا یوں کہ ان کے ایک سردار کو کسی زہریلی چیز نے ڈس لیا، وہ ہمارے پاس آئے اورکہنے لگے کہ کیا تم میں سے کوئی آدمی ڈسنے کا دم کر لیتا ہے، سیدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: ہاں میں کرلیتا ہوں، لیکن میں اس وقت تک دم نہیں کروں گا، جب تک تم ہمیں کچھ عطا نہیں کروگے، انہوں نے کہا: ہم تمہیں تیس بکریاں دیں گے، سیدنا ابوسعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے اس پر سورۂ فاتحہ پرھنی شروع کی اور سات مرتبہ پڑھی،اپنی تھوک جمع کرتا اور پھر اس پر تھوک دیتا، پس وہ تندرست ہوگیا اور انہوں نے تیس بکریاں دے دیں، جب ہم نے وہ بکریاں اپنے قبضے میں لے لیں، تو ہمیں شک ہو نے لگا (کہ پتہ نہیں یہ ہمارے لئے حلال بھی ہیں یا کہ نہیں)۔سو ہم ان پر کوئی کاروائی کرنے سے رک گئے، یہاں تک کہ ان کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دریافت نہ کر لیں۔ جب ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور یہ بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تونے کیسے جانا کہ یہ دم ہے! ان کو تقسیم کر لو اور میرا بھی حصہ مقرر کرو۔ ایک روایت میں ہے: تو خود بھی کھا اور ہمیں بھی اپنے ساتھ کھلا، بھلا تجھے کیسے پتہ چلا تھا کہ یہ دم ہے؟ میں نے کہا: جی بس میرے دل میں یہ بات ڈال دی گئی تھی۔

11927

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11927

Sahih

۔ (۱۱۹۲۷)۔ عَنْ ہِلَالِ بْنِ حُصَیْنٍ قَالَ: نَزلَتُ عَلٰی اَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ فَضَمَّنِی وَإِیَّاہُ الْمَجْلِسُ، قَالَ: فَحَدَّثَ اَنَّہُ اَصْبَحَ ذَاتَ یَوْمٍ وَقَدْ عَصَبَ عَلٰی بَطْنِہِ حَجَرًا مِنَ الْجُوْعِ، فَقَالَتْ لَہُ امْرَاَتُہُ اَوْ اُمُّہُ: اِئْتِ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْاَلْہُ فَقَدْ اَتَاہُ فُلَانٌ فَسَاَلَہُ فَاَعْطَاہُ وَاَتَاہُ فُلَانٌ فَسَاَلَہُ فَاَعْطَاہُ، قَالَ: فَقُلْتُ: حَتّٰی اَلْتَمِسَ شَیْئًا، قَالَ: فَالْتَمَسْتُ فَلَمْ اَجِدْ شَیْئًا، فَاَتَیْتُہُ وَہُوَ یَخْطُبُ فَاَدْرَکْتُ مِنْ قَوْلِہِ وَہُوَ یَقُوْلُ: ((مَنِ اسْتَعَفَّ یُعِفَّہُ اللّٰہُ، وَمَنِ اسْتَغْنٰی یُغْنِہِ اللّٰہُ، وَمَنْ سَاَلَنَا إِمَّا اَنْ نَبْذُلَ لَہُ وَإِمَّا اَنْ نُواسِیَہُ، وَمَنْ یَسْتَعِفُّ عَنَّا اَوْ یَسْتَغْنِیْ اَحَبُّ إِلَیْنَا مِمَّنْ یَسَاَلُنَا۔)) قَالَ: فَرَجَعْتُ فَمَا سَاَلْتُہُ شَیْئًا، فَمَا زَالَ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ یَرْزُقُنَا حَتّٰی مَا اَعْلَمُ فِی الْاَنْصَارِ اَہْلِ بَیْتٍ اَکْثَرَ اَمْوَالاً مِنَّا۔ (مسند احمد: ۱۱۴۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

ہلال بن حصین کہتے ہیں: میں سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں جا کر ٹھہرا، ہم ایک مجلس میں جمع ہوئے، سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بیان کیا کہ ایک دفعہ انہوں نے اس حال میں صبح کی کہ بھوک کی شدت کی وجہ سے پیٹ پر پتھر باندھا ہوا تھا، ان کی اہلیہ یا والدہ نے ان سے کہا: تم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جاؤ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کچھ مانگ کر لاؤ، جب فلاں آدمی نے جا کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے دیا تھا، اسی طرح فلاں نے بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جا کر مانگا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے بھی عطا کیا تھا۔ میں (ابو سعید)نے جواباً کہا: میں پہلے (کسی اور ذریعہ سے) کوئی چیز حاصل کرنے کی کوشش کروں گا، پھر میں نے ایسے ہی کیا، مگر مجھے (کہیں سے) کچھ بھی نہ ملا۔ بالآخر میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس چلا گیا، اس وقت آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس وقت یہ بات ارشاد فرما رہے تھے: جو آدمی مانگنے سے بچے گا، اللہ تعالیٰ اسے بچا لے گا اور جس نے غِنٰی اختیار کیا، اللہ تعالیٰ اسے غنی کر دے گا اور جو آدمی ہم سے کوئی چیز مانگے گا تو ہم اسے کچھ نہ کچھ دے دیں گے، بہرحال جو شخص ہم سے مانگنے سے بچے گا اور غِنٰی اختیار کرے گا تو وہ ہمیں سوال کرنے والے آدمی کی بہ نسبت زیادہ محبوب ہو گا۔ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: یہ حدیث سن کر میں واپس چلا آیا اور میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی سوال نہیں کیا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس قدر رزق دیا کہ میں نہیں جانتا کہ انصار کے کسی گھر والے ہم سے زیادہ مال دار ہوں۔

11928

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11928

Sahih

۔ (۱۱۹۲۸)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ اَبِی سَعِیْدِ الْخُدْرِی عَنْ اَبِیْہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌قَالَ: سَرَّحَتْنِی اُمِّیْ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَسْاَلُہُ فَاَتَیْتُہُ فَقَعَدْتُّ، قَالَ: فَاسْتَقْبَلَنِیْ فَقاَلَ: ((مَنِ اسْتَغْنٰی اَغْنَاہُ اللّٰہُ، وَمَنِ اسْتَعَفَّ اَعَفَّہُ اللّٰہُ، وَمَنِ اسْتَکْفٰی کَفَاہُ اللّٰہُ، وَمَنْ سَاَل َوَلَہُ قِیْمَۃُ اُوْقِیَۃٍ فَقَدْ اَلْحَفَ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: نَاقَتِی الْیَاقُوْتَۃُ مَعِیَ خَیْرٌ مِنْ اُوْقِیَۃٍ، فَرَجَعْتُ وَلَمْ اَسْاَلْہُ۔ (مسند احمد: ۱۱۰۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میری والدہ نے مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف بھیجا تاکہ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی چیز مانگ کر لے آؤں، میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پہنچ کر وہاں بیٹھ گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری طرف متوجہ ہوکر فرمایا: جس شخص نے غنی ہونا چاہا، اللہ تعالیٰ اسے غنی کر دے گا، جس نے (لوگوں کے سامنے دست ِ سوال پھیلانے) سے پاکدامنی اختیار کی، اللہ تعالیٰ اسے پاکدامن بنا دے گا، جس نے اللہ تعالیٰ سے کفایت چاہی، اللہ تعالیٰ اسے کفایت کرے گا اور اگر ایک اوقیہ کی قیمت کا مالک سوال کرے گا تو وہ اصرار کے ساتھ سوال کرے گا (جو اس کا حق نہیں ہے)۔ یہ سن کر سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے سوچا کہ میری یاقوتہ اونٹنی ایک اوقیہ سے بہتر ہے، اس لیے میں لوٹ گیا اور سوال نہیں کیا۔

11929

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11929

Sahih

۔ (۱۱۹۲۹)۔ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ثَابِتٍ قَالَ: حَدَّثَنِی أَبِی أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ مَرَّ بِہِ فَقَالَ لَہُ: أَیْنَ تُرِیدُ یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ؟ قَالَ: أَرَدْتُ أَبَا سَعِیدٍ الْخُدْرِیَّ فَانْطَلَقْتُ مَعَہُ قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: یَا أَبَا سَعِیدٍ! إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْہٰی عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِیِّ، وَعَنْ أَشْیَاء مِنَ الْأَشْرِبَۃِ، وَعَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُورِ، وَقَدْ بَلَغَنِی أَنَّکَ مُحَدِّثٌ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی ذٰلِکَ؟ قَالَ أَبُو سَعِیدٍ: سَمِعَتْ أُذُنَایَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَقُولُ: ((إِنِّی نَہَیْتُکُمْ عَنْ أَکْلِ لُحُومِ الْأَضَاحِیِّ بَعْدَ ثَلَاثٍ فَکُلُوْا وَادَّخِرُوْا فَقَدْ جَائَ اللّٰہُ بِالسَّعَۃِ، وَنَہَیْتُکُمْ عَنْ أَشْیَائَ مِنَ الْأَشْرِبَۃِ أَوِ الْأَنْبِذَۃِ فَاشْرَبُوْا وَکُلُّ مُسْکِرٍ حَرَامٌ وَنَہَیْتُکُمْ عَنْ زِیَارَۃِ الْقُبُورِ فَإِنْ زُرْتُمُوہَا فَلَا تَقُولُوْا ہُجْرًا۔)) (مسند احمد: ۱۱۶۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن عمرو بن ثابت سے مروی ہے کہ میرے والد نے مجھ سے بیان کیا کہ عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کے پاس سے گزرے اور ان سے کہا:ابو عبدالرحمن! آپ کدھر جا رہے ہیں؟ انہوں نے کہا: میں سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں جانا چاہتا ہوں، میں ان کے ساتھ چل پڑا۔ سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: ابو سعید! میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا ہے کہ آپ قربانی کے گوشت سے،بعض مخصوص مشروبات سے اور زیارت قبور سے منع فرما رہے تھے اور مجھے اطلاع ملی ہے کہ آپ اس بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کچھ بیان کرتے ہیں۔سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ میں نے تمہیں تین دنوں کے بعد قربانی کا گوشت کھانے سے منع کیا تھا، اب تم جب تک چاہو کھا سکتے اور ذخیرہ کر سکتے ہو، اب اللہ نے خوش حالی کر دی ہے اور میں نے تمہیں بعض برتنوں کے مشروبات (یعنی نبیذ) سے منع کیا تھا۔ اب تم ان برتنوں میں بھی تیار کرکے پی سکتے ہو، (بس اتنا یاد رکھو کہ) ہر نشہ آور چیز حرام ہے اور میں نے تمہیں قبرستان جانے سے منع کیا تھا، اب اگر تم قبرستان جاؤ تو خلاف شرع باتیں نہ کیا کرو۔

11930

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11930

Sahih

۔ (۱۱۹۳۰)۔ عَنْ أَبِی سَعِیدٍ الْخُدْرِیِّ قَالَ کُنْتُ فِی حَلْقَۃٍ مِنْ حِلَقِ الْأَنْصَارِ فَجَائَنَا أَبُو مُوسٰی کَأَنَّہُ مَذْعُورٌ فَقَالَ: إِنَّ عُمَرَ أَمَرَنِی أَنْ آتِیَہُ فَأَتَیْتُہُ فَاسْتَأْذَنْتُ ثَلَاثًا، فَلَمْ یُؤْذَنْ لِی فَرَجَعْتُ وَقَدْ قَالَ ذٰلِکَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَنِ اسْتَأْذَنَ ثَلَاثًا فَلَمْ یُؤْذَنْ لَہُ فَلْیَرْجِعْ۔)) فَقَالَ لَتَجِیئَنَّ بِبَیِّنَۃٍ عَلَی الَّذِی تَقُولُ وَإِلَّا أَوْجَعْتُکَ، قَالَ أَبُو سَعِیدٍ فَأَتَانَا أَبُو مُوسٰی مَذْعُورًا أَوْ قَالَ فَزِعًا فَقَالَ: أَسْتَشْہِدُکُمْ، فَقَالَ أُبَیُّ بْنُ کَعْبٍ: لَا یَقُومُ مَعَکَ إِلَّا أَصْغَرُ الْقَوْمِ، قَالَ أَبُو سَعِیدٍ وَکُنْتُ اَصْغَرَھُمْ فَقُمْتُ مَعَہٗ وَشَہِدْتُّ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَنِ اسْتَاْذَنَ ثَلَاثًا فَلَمْ یُؤْذَنْ لَہٗ فَلْیَرْجِعْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں انصار کے ایک حلقہ میں بیٹھا ہواتھا کہ سیدنا ابو موسیٰ اشعری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے پاس آئے اور وہ کچھ ڈرے ڈرے سے لگ رہے تھے انہوں نے کہا، دراصل سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے اپنے پاس بلایا تھا، پس میں ان کے پاس آیا اور تین بار اجازت طلب کی، لیکن جب مجھے اجازت نہیں دی گئی تو میں واپس پلٹ گیا، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تین مرتبہ کسی سے اجازت طلب کرے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ واپس چلا جائے۔ جب میں نے یہ حدیث سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بتلائی تو انھوں نے کہا: اس بات کی دلیل لاؤ، وگرنہ میں تم کو سزا دوں گا، پس میں گواہی طلب کرنے کے لیے آیا ہوں، سیدنا ابی بن کعب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اس پر ہم میں جو سب سے چھوٹا ہے، وہ آپ کے ساتھ کھڑا ہوگا، سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں ہی سب سے چھوٹا تھا، پس میں کھڑا ہوا اور یہ گواہی دی کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو تین مرتبہ اجازت طلب کرے اور اسے اجازت نہ ملے تو وہ واپس چلا جائے۔

11931

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11931

Sahih

۔ (۱۱۹۳۱)۔ عَنْ طَارِقِ بْنِ شِھَابٍ عَنْ أَبِی سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: أَخْرَجَ مَرْوَانُ الْمِنْبَرَ فِی یَوْمِ عِیْدٍ وَلَمْ یَکُنْ یُخْرَجُ بِہِ، وَبَدَأَ بِالْخُطْبَۃِ قَبْلَ الصَّلَاۃِ وَلَمْ یَکُنْ یُبْدَأُ بِہَا، قَالَ: فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ: یَامَرْوَانُ! خَالَفْتَ السُّنَّۃَ أَخْرَجْتَ الْمِنْبَرَ یَوْمَ عِیْدٍ وَلَمْ یَکُ یُخْرَجُ بِہِ فِی یَوْمِ عِیْدٍ، وَبَدَأْتَ بِالْخُطْبَۃِ قَبْلَ الصَّلَاۃِ وَلَمْ یَکُ یُبْدَأُ بِہَا۔ قَالَ: فَقَالَ أَبُو سَعِیْدٍ الْخُدْرِیُّ: مَنْ ھٰذَا؟ قَالُوا: فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ۔ قَالَ: فَقَالَ أَبُو سَعِیْدٍ: أَمَّا ھٰذَا فَقَدْ قضٰی مَا عَلَیْہِ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَنْ رَأٰی مِنْکُمْ مُنْکَرًا، فَاِنِ اسْتَطَاعَ أَنْ یُغَیِّرَہُ بِیَدِہِ فَلْیَفْعَلْ، وَقَالَ مَرَّۃً فَلْیُغَیِّرْہُ بِیَدِہِ، فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ بِیَدِہِ فَبِلِسَانِہِ، فَاِنْ لَمْ یَسْتَطِعْ بِلِسَانِہِ فَبِقَلْبِہِ وَذٰلِکَ أَضْعَفُ الْاِیْمَانِ۔)) (مسند احمد: ۱۱۰۸۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ مروان نے عید والے دن (عید گاہ میں) منبر رکھوایا، جبکہ یہ اس سے پہلے نہیں نکالا جاتا تھا اور نماز سے پہلے خطبے سے ابتدا کی، جبکہ اس سے نہیں، بلکہ نماز سے ابتدا کی جاتی تھی۔ ایک آدمی کھڑا ہوا اور اس نے کہا: مروان! تو نے سنت کی مخالفت کی ہے، تونے آج عید کے دن منبر نکالا ہے، جبکہ اسے نہیں نکالا جاتا تھا اور تو نے نماز سے پہلے خطبہ سے ابتدا کی ہے، حالانکہ خطبہ سے تو ابتدا نہیں کی جاتی تھی۔ سیّدنا ابوسعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے پوچھا: یہ آدمی کون ہے؟ لوگوں نے کہا: فلان بن فلان ہے۔ پھر انھوں نے کہا؛ اس شخص نے تو اپنی ذمہ داری پوری کر دی ہے، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : تم میں سے جو شخص برائی کو دیکھے اور اسے ہاتھ سے روکنے کی طاقت ہو تو وہ اس کو روکے، اگر ہاتھ سے ایسا کرنے کی طاقت نہ رکھے تو زبان سے روکے، اگر زبان سے بھی قدرت نہ ہو تو دل سے (برا جانے) اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے۔

11932

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11932

Sahih

۔ (۱۱۹۳۲)۔ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَا یَمْنَعَنَّ أَحَدَکُمْ مَخَافَۃُ النَّاسِ أَنْ یَقُولَ بِالْحَقِّ إِذَا شَہِدَہُ أَوْ عَلِمَہُ۔)) قَالَ أَبُو سَعِیدٍ: فَحَمَلَنِی عَلٰی ذَلِکَ أَنِّی رَکِبْتُ إِلٰی مُعَاوِیَۃَ فَمَلَأْتُ أُذُنَیْہِ ثُمَّ رَجَعْتُ۔ (مسند احمد: ۱۱۸۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کسی کو لوگوں کا خوف حق بات کہنے سے نہ روکے، جبکہ وہ موقع پر موجود ہو یا حق بات کو جانتا ہو۔ سیدنا ابو سعید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:اس حدیث نے مجھے آمادہ کیا اور میں سواری پر سوار ہو کر سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں گیا اور ان کو بہت سی احادیث سنا کر واپس آگیا۔