Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2451

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا ابوذرغفاری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ اور ان کے اسلام لانے کا واقعہ

12 hadiths in this chapter

11907

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11907

Sahih

۔ (۱۱۹۰۷)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ صَامِتٍ قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: خَرَجْنَا مِنْ قَوْمِنَا غِفَارٍ وَکَانُوا یُحِلُّونَ الشَّہْرَ الْحَرَامَ أَنَا وَأَخِی أُنَیْسٌ وَأُمُّنَا، فَانْطَلَقْنَا حَتّٰی نَزَلْنَا عَلٰی خَالٍ لَنَا ذِی مَالٍ وَذِی ہَیْئَۃٍ، فَأَکْرَمَنَا خَالُنَا فَأَحْسَنَ إِلَیْنَا فَحَسَدَنَا قَوْمُہُ، فَقَالُوْا: إِنَّکَ إِذَا خَرَجْتَ عَنْ أَہْلِکَ خَلَفَکَ إِلَیْہِمْ أُنَیْسٌ، فَجَائَ نَا خَالُنَا فَنَثَا عَلَیْہِ مَا قِیلَ لَہُ، فَقُلْتُ: أَمَّا مَا مَضٰی مِنْ مَعْرُوفِکَ فَقَدْ کَدَّرْتَہُ وَلَا جِمَاعَ لَنَا فِیمَا بَعْدُ، قَالَ: فَقَرَّبْنَا صِرْمَتَنَا فَاحْتَمَلْنَا عَلَیْہَا وَتَغَطّٰی خَالُنَا ثَوْبَہُ وَجَعَلَ یَبْکِی، قَالَ: فَانْطَلَقْنَا حَتّٰی نَزَلْنَا بِحَضْرَۃِ مَکَّۃَ، قَالَ: فَنَافَرَ أُنَیْسٌ رَجُلًا عَنْ صِرْمَتِنَا وَعَنْ مِثْلِہَا فَأَتَیَا الْکَاہِنَ فَخَیَّرَ أُنَیْسًا، فَأَتَانَا بِصِرْمَتِنَا وَمِثْلِہَا وَقَدْ صَلَّیْتُ یَا ابْنَ أَخِی قَبْلَ أَنْ أَلْقٰی رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثَلَاثَ سِنِینَ، قَالَ: فَقُلْتُ: لِمَنْ؟ قَالَ: لِلّٰہِ، قَالَ: قُلْتُ: فَأَیْنَ تَوَجَّہُ؟ قَالَ: حَیْثُ وَجَّہَنِی اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: وَأُصَلِّی عِشَائً حَتّٰی إِذَا کَانَ مِنْ آخِرِ اللَّیْلِ أُلْقِیتُ کَأَنِّی خِفَائٌ (قَالَ أَبِی: قَالَ أَبُو النَّضْرِ: قَالَ سُلَیْمَانُ: کَأَنِّی جِفَائٌ) حَتّٰی تَعْلُوَنِی الشَّمْسُ، قَالَ: فَقَالَ أُنَیْسٌ: إِنَّ لِی حَاجَۃً بِمَکَّۃَ فَاکْفِنِی حَتّٰی آتِیَکَ، قَالَ: فَانْطَلَقَ فَرَاثَ عَلَیَّ ثُمَّ أَتَانِی، فَقُلْتُ: مَا حَبَسَکَ؟ قَالَ: لَقِیتُ رَجُلًا یَزْعُمُ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَرْسَلَہُ عَلٰی دِینِکَ، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا یَقُولُ النَّاسُ لَہُ؟ قَالَ: یَقُولُونَ، إِنَّہُ شَاعِرٌ وَسَاحِرٌ وَکَاہِنٌ، قَالَ: وَکَانَ أُنَیْسٌ شَاعِرًا، قَالَ: فَقَالَ: قَدْ سَمِعْتُ قَوْلَ الْکُہَّانِ فَمَا یَقُولُ بِقَوْلِہِمْ، وَقَدْ وَضَعْتُ قَوْلَہُ عَلٰی أَقْرَائِ الشِّعْرِ فَوَاللّٰہِ مَا یَلْتَامُ لِسَانُ أَحَدٍ أَنَّہُ شِعْرٌ، وَاللّٰہِ إِنَّہُ لَصَادِقٌ وَإِنَّہُمْ لَکَاذِبُونَ، قَالَ: فَقُلْتُ لَہُ: ہَلْ أَنْتَ کَافِیَّ حَتّٰی أَنْطَلِقَ فَأَنْظُرَ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَکُنْ مِنْ أَہْلِ مَکَّۃَ عَلٰی حَذَرٍ فَإِنَّہُمْ قَدْ شَنِفُوا لَہُ وَتَجَہَّمُوا لَہُ، وَقَالَ عَفَّانُ: شِیفُوا لَہُ، وَقَالَ بَہْزٌ: سَبَقُوْا لَہُ، وَقَالَ أَبُو النَّضْرِ: شَفَوْا لَہُ، قَالَ: فَانْطَلَقْتُ حَتّٰی قَدِمْتُ مَکَّۃَ فَتَضَیَّفْتُ رَجُلًا مِنْہُمْ فَقُلْتُ: أَیْنَ ہٰذَا الرَّجُلُ الَّذِی تَدْعُونَہُ الصَّابِئَ؟ قَالَ: فَأَشَارَ إِلَیَّ، قَالَ: الصَّابِئُ، قَالَ: فَمَالَ أَہْلُ الْوَادِی عَلَیَّ بِکُلِّ مَدَرَۃٍ وَعَظْمٍ حَتّٰی خَرَرْتُ مَغْشِیًّا عَلَیَّ، فَارْتَفَعْتُ حِینَ ارْتَفَعْتُ کَأَنِّی نُصُبٌ أَحْمَرُ، فَأَتَیْتُ زَمْزَمَ فَشَرِبْتُ مِنْ مَائِہَا وَغَسَلْتُ عَنِّی الدَّمَ، فَدَخَلْتُ بَیْنَ الْکَعْبَۃِ وَأَسْتَارِہَا، فَلَبِثْتُ بِہِ ابْنَ أَخِی ثَلَاثِینَ مِنْ بَیْنِ یَوْمٍ وَلَیْلَۃٍ، وَمَا لِی طَعَامٌ إِلَّا مَائُ زَمْزَمَ فَسَمِنْتُ حَتّٰی تَکَسَّرَتْ عُکَنُ بَطْنِی، وَمَا وَجَدْتُ عَلَی کَبِدِی سَخْفَۃَ جُوعٍ، قَالَ: فَبَیْنَا أَہْلُ مَکَّۃَ فِی لَیْلَۃٍ قَمْرَائَ أَضْحِیَانٍ، وَقَالَ عَفَّانُ: أَصْخِیَانٍ، وَقَالَ بَہْزٌ: أَصْخِیَانٍ، وَکَذٰلِکَ قَالَ أَبُو النَّضْرِ، فَضَرَبَ اللّٰہُ عَلٰی أَصْمِخَۃِ أَہْلِ مَکَّۃَ فَمَا یَطُوفُ بِالْبَیْتِ غَیْرُ امْرَأَتَیْنِ فَأَتَتَا عَلَیَّ وَہُمَا تَدْعُوَانِ إِسَافَ وَنَائِلَ، قَالَ: فَقُلْتُ: أَنْکِحُوْا أَحَدَہُمَا الْآخَرَ فَمَا ثَنَاہُمَا ذٰلِکَ، قَالَ: فَأَتَتَا عَلَیَّ، فَقُلْتُ: وَہَنٌ مِثْلُ الْخَشَبَۃِ غَیْرَ أَنِّی لَمْ اَکْنِ، قَالَ: فَانْطَلَقَتَا تُوَلْوِلَانِ وَتَقُولَانِ لَوْ کَانَ ہَاہُنَا أَحَدٌ مِنْ أَنْفَارِنَا، قَالَ: فَاسْتَقْبَلَہُمَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُو بَکْرٍ وَہُمَا ہَابِطَانِ مِنَ الْجَبَلِ، فَقَالَ: مَا لَکُمَا؟ فَقَالَتَا: الصَّابِئُ بَیْنَ الْکَعْبَۃِ وَأَسْتَارِہَا، قَالَا: مَا قَالَ لَکُمَا، قَالَتَا: قَالَ لَنَا کَلِمَۃً تَمْلَأُ الْفَمَ، قَالَ: فَجَائَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہُوَ وَصَاحِبُہُ حَتَّی اسْتَلَمَ الْحَجَرَ فَطَافَ بِالْبَیْتِ ثُمَّ صَلَّی، قَالَ: فَأَتَیْتُہُ فَکُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَیَّاہُ بِتَحِیَّۃِ أَہْلِ الْإِسْلَامِ، فَقَالَ: ((عَلَیْکَ وَرَحْمَۃُ اللّٰہِ مِمَّنْ أَنْتَ؟)) قَالَ: قُلْتُ: مِنْ غِفَارٍ، قَالَ: فَأَہْوَی بِیَدِہِ فَوَضَعَہَا عَلٰی جَبْہَتِہِ، قَالَ: فَقُلْتُ فِی نَفْسِی: کَرِہَ أَنِّی انْتَمَیْتُ إِلٰی غِفَارٍ، قَالَ: فَأَرَدْتُ أَنْ آخُذَ بِیَدِہِ فَقَذَعَنِی صَاحِبُہُ وَکَانَ أَعْلَمَ بِہِ مِنِّی، قَالَ: ((مَتٰی کُنْتَ ہَاہُنَا؟)) قَالَ: کُنْتُ ہَاہُنَا مُنْذُ ثَلَاثِینَ مِنْ بَیْنِ لَیْلَۃٍ وَیَوْمٍ، قَالَ: ((فَمَنْ کَانَ یُطْعِمُکَ؟)) قُلْتُ: مَا کَانَ لِی طَعَامٌ إِلَّا مَائُ زَمْزَمَ، قَالَ: فَسَمِنْتُ حَتّٰی تَکَسَّرَ عُکَنُ بَطْنِی، وَمَا وَجَدْتُ عَلٰی کَبِدِی سُخْفَۃَ جُوعٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنَّہَا مُبَارَکَۃٌ، وَإِنَّہَا طَعَامُ طُعْمٍ۔)) قَالَ أَبُو بَکْرٍ: ائْذَنْ لِی یَا رَسُولَ اللّٰہِ فِی طَعَامِہِ اللَّیْلَۃَ؟ قَالَ: فَفَعَلَ، قَالَ: فَانْطَلَقَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَانْطَلَقَ أَبُو بَکْرٍ وَانْطَلَقْتُ مَعَہُمَا حَتّٰی فَتَحَ أَبُو بَکْرٍ بَابًا فَجَعَلَ یَقْبِضُ لَنَا مِنْ زَبِیبِ الطَّائِفِ، قَالَ: فَکَانَ ذٰلِکَ أَوَّلَ طَعَامٍ أَکَلْتُہُ بِہَا فَلَبِثْتُ مَا لَبِثْتُ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِنِّی قَدْ وُجِّہَتْ إِلَیَّ أَرْضٌ ذَاتُ نَخْلٍ، وَلَا أَحْسَبُہَا إِلَّا یَثْرِبَ فَہَلْ أَنْتَ مُبَلِّغٌ عَنِّی قَوْمَکَ لَعَلَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَنْ یَنْفَعَہُمْ بِکَ وَیَأْجُرَکَ فِیہِمْ؟)) قَالَ: فَانْطَلَقْتُ حَتّٰی أَتَیْتُ أُنَیْسًا، قَالَ: فَقَالَ لِی: مَا صَنَعْتَ؟ قَالَ: قُلْتُ: إِنِّی صَنَعْتُ أَنِّی أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ، قَالَ: قَالَ: فَمَا لِی رَغْبَۃٌ عَنْ دِینِکَ إِنِّی قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ ثُمَّ أَتَیْنَا أُمَّنَا، فَقَالَتْ: فَمَا بِی رَغْبَۃٌ عَنْ دِینِکُمَا فَإِنِّی قَدْ أَسْلَمْتُ وَصَدَّقْتُ، فَتَحَمَّلْنَا حَتّٰی أَتَیْنَا قَوْمَنَا غِفَارًا، فَأَسْلَمَ بَعْضُہُمْ قَبْلَ أَنْ یَقْدَمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ، وَقَالَ: یَعْنِی یَزِیدَ بِبَغْدَادَ، وَقَالَ بَعْضُہُمْ: إِذَا قَدِمَ، فَقَالَ بَہْزٌ: إِخْوَانُنَا نُسْلِمُ، وَکَذَا قَالَ أَبُو النَّضْرِ، وَکَانَ یَؤُمُّہُمْ خُفَافُ بْنُ إِیمَائِ بْنِ رَحَضَۃَ الْغِفَارِیُّ، وَکَانَ سَیِّدَہُمْ یَوْمَئِذٍ، وَقَالَ: بَقِیَّتُہُمْ إِذَا قَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَسْلَمْنَا، فَقَدِمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْمَدِینَۃَ فَأَسْلَمَ بَقِیَّتُہُمْ، قَالَ: وَجَائَ تْ أَسْلَمُ، فَقَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ إِخْوَانُنَا نُسْلِمُ عَلَی الَّذِی أَسْلَمُوْا عَلَیْہِ فَأَسْلَمُوْا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((غِفَارٌ غَفَرَ اللّٰہُ لَہَا وَأَسْلَمُ سَالَمَہَا اللّٰہُ۔)) (مسند احمد: ۲۱۸۵۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ہم اپنی قوم غفار، جو حرمت والے مہینے کو حلال سمجھتے تھے، سے وفد کی صورت میں نکلے۔ میں (ابو ذر)، میرا بھائی انیس اور میری ماں روانہ ہوئے، ہم اپنے ماموں کے پاس آکر ٹھہرے جو مالدار اور اچھی پوزیشن والا تھا۔ انھوں نے ہماری بڑی عزت کی اور ہمارے ساتھ احسان کیا، لیکن ان کی قوم ہم سے حسد کرنے لگی ۔ اس لیے انھوں نے کہا: جب تو اپنے اہل خانہ سے باہر جاتا ہے تو انیس ان کے پاس آ جاتا ہے۔ پس ہمارا ماموں آیا اور جو بات اسے کہی گئی، اس کے سلسلے میں ہماری غیبت کرنے لگ گیا۔ میں نے اسے کہا: جو تو نے ہمارے ساتھ نیکی کی تھی، اسے تو تو نے گدلا کر دیا ہے اور آئندہ ہم آپ کے پاس نہیں آئیں گے۔ ہم اپنی اونٹنیوں کے قریب پہنچے اور سوار ہو کر چل پڑے، میرے ماموں نے کپڑا اوڑھ کر رونا شروع کر دیا۔ ہم چلتے گئے اور مکہ کے قریب جا کر پڑاؤ ڈالا۔ انیس نے ایک آدمی سے ہماری اونٹنیوں اور اتنی ہی اور کے عوض فخر کا اظہار کیا۔ وہ دونوں فیصلہ کرانے کے لیے ایک نجومی کے پاس گئے، اس نے انیس کو منتخب کیا، پس انیس ہماری اور اتنی اور اونٹنیاں لے کر ہمارے پاس آیا۔ اس نے کہا: اے میرے بھتیجے! میں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ملنے سے تین برس پہلے سے نماز پڑھ رہا تھا۔ میں نے کہا: کس کے لیے؟ اس نے کہا: اللہ تعالیٰ کے لیے۔ میں نے کہا: تو کس طرف رخ کرتا تھا۔ اس نے کہا: جس طرف میرا ربّ میرا رخ موڑ دیتا تھا۔ میں رات کے آخری حصے میں نمازِ عشا ادا کرتا تھا۔ اب میں گم سم ہو کر لیٹ گیا،یہاں تک کہ سورج چڑھ آیا۔ انیس نے کہا: مجھے مکہ میں کوئی کام ہے، تو مجھے کفایت کر۔ انیس چلا گیا، مکہ پہنچ گیا اور مجھے اچھائی کا بدلہ برائی سے دیا۔ پھر وہ واپس آ گیا۔ میں نے پوچھا: تو نے وہاں کیا کیا ہے؟ اس نے کہا: میں مکہ میں ایک ایسے آدمی کو ملا ہوں جو تیرے دین پر ہے، وہ خیال کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے مبعوث فرمایا ہے۔ میں نے کہا: لوگ اس کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ اس نے کہا: لوگ اسے شاعر، نجومی اور جادو گر کہتے ہیں۔ انیس خود بھی ایک شاعر تھا۔ اس نے کہا: لیکن میں نے نجومیوں کا کلام سنا ہے اور اس کے کلام کو زبان آور شعراء کے کلام پر پیش کیا ہے، لیکن کسی کی زبان یہ فیصلہ نہیں کر سکتی کہ وہ (محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا کلام بھی) شعر ہے۔ اللہ کی قسم! وہ صادق ہے اور لوگ جھوٹے ہیں۔ میں نے کہا: اب تو مجھے کفایت کر، تاکہ میں بھی جا کر دیکھ سکوں (کہ اصل ماجرا کیا ہے؟) اس نے کہا: تم مکہ والوں سے بچ کر رہنا کیونکہ وہ اسے ناپسند کر رہے ہیں میں مکہ پہنچ گیا اور ایک آدمی کے پاس مہمان ٹھہرا اور اس سے پوچھا: وہ آدمی کہاں ہے جس کو تم لوگ بے دین کہتے ہو؟ اس نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: یہ بے دین۔ (یہ سنتے ہی) اہل وادی مٹی کے ڈھیلے اور ہڈیاں لے کر مجھ پر چڑھ دوڑے، میں بے ہوش ہو کر گر پڑا، جب (مجھے افاقہ ہوا اور)میں اٹھا تو ایسے لگتا تھا کہ میں ایک سرخ پتھر ہوں۔ میں زمزم پانی پر آیا، خون دھویا، اس کا پانی پیا اور میں کعبہ کے پردوں کے اندر داخل ہو گیا اے میرے بھتیجے! میں وہاں تیس دنوں تک ٹھہرا رہا۔ میرے پاس ماسوائے زمزم کے علاوہ کوئی کھانا نہیں تھا، وہی پی کر میں موٹا ہوتا رہا (یعنی خوراک کی کمی پوری کرتا رہا) اور اپنے پیٹ کی سلوٹیں ختم کرتا رہا۔ مجھے بھوک کی وجہ سے ہونے والی لاغری محسوس نہیں ہوئی۔ (دن گزرتے رہے اور ) ایک دن مکہ میں چاندنی رات اور صاف فضا تھی، اچانک ان کے کانوں میں یہ آواز پڑی کہ کوئی بھی بیت اللہ کا طواف نہ کرے اور دو عورتیں اساف اور نائلہ کو پکار رہی تھیں۔ اس نے کہا: وہ طواف کے دوران میرے پاس سے گزریں، میں نے کہا: ایک کی دوسرے سے شادی کر دو۔ لیکن وہ اپنے قول سے باز نہ آئیں۔ (چکر کے دوران پھر) میرے پاس سے گزریں۔ میں نے کہا: شرمگاہ تو لکڑی کی طرح ہے اور میں نے بات کنایۃً نہیں کی۔ وہ دونوں چیختی چلاتی چلتی گئیں اور یہ کہتی گئیں کہ کاش ہماری جماعت کا بھی کوئی آدمی یہاں ہوتا! اس نے کہا: اسی اثنا میں ان کے سامنے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابو بکر (بلندی سے) اترتے ہوئے آ رہے تھے۔ آپ نے کہا: تمھیں کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے کہا: کعبہ اور اس کے پردوں کے درمیان بے دین ہے۔ انہوں نے کہا: اس نے تمھیں کیا کہا: انھوں کہا: ایسی بات کہی کہ جس سے منہ بھر جاتا ہے۔ اتنے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تشریف لے آئے اور حجرِ اسود کا استلام کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھی نے بیت اللہ کا طواف کیا اور پھر نماز پڑھی۔ جب نماز سے فارغ ہوئے تو ابوذر نے کہا: میں پہلا آدمی تھا جس نے انھیں اسلام کا سلام پیش کیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! آپ پر سلامتی ہو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وعلیک ورحمۃ اللہ پھر فرمایا: آپ کون ہیں؟ میں نے کہا: میں غفار قبیلے سے ہوں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ جھکایا اور اپنی انگلی اپنی پیشانی پر رکھی۔ میں دل ہی دل میں کہنے لگا کہ شاید آپ نے غفار کی طرف میری نسبت کو ناپسند کیا۔ میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ پکڑنا چاہا لیکن آپ کے ساتھی نے مجھے روک دیااور وہ آپ کو مجھ سے زیادہ جانتا تھا۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا سر اٹھایا اور پوچھا: آپ اس جگہ کب سے ہیں؟ میں نے کہا: میں تیس دنوں سے یہاں ہوں، پھر آپ نے فرمایا: کون تجھے کھانا کھلاتا تھا؟ میں نے کہا: زمزم کے پانی کے علاوہ میرے پاس کوئی کھانا نہیں ہے، یہی پانی پی کر میں موٹا ہوتا رہا اور اپنے پیٹ کی سلوٹیں پر کرتا رہا اور مجھے بھوک کی وجہ سے کوئی لاغری محسوس نہیں ہوئی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ پانی مبارک ہے اور یہ کھانے کا کھانا ہے۔ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے اجازت دیں، آج رات میں اس کو کھانا کھلاؤں گا۔ آپ نے اجازت دے دی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور ابوبکر چل پڑے اور میں بھی ان کے ساتھ چل دیا۔ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے دروازہ کھولا اور طائف کا منقی لانا شروع کیا۔ یہ پہلا کھانا تھا جو میں نے کھایا، پھر کچھ مدت میں وہاں ٹھہرا پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی کھجوروں والی زمین میرے لیے مطیع کر دی گئی ہے، مجھے لگتا ہے کہ وہ یثرب (مدینہ) ہے، کیا تو اپنی قوم کو میرا پیغام پہنچا دے گا، ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ تیرے ذریعے ان کو نفع دے اور ان کی وجہ سے تجھے اجرو ثواب بھی عطا کرے۔ میں انیس کے پاس پہنچا۔ اس نے پوچھا: تو نے کیا کیا ہے؟ میں نے کہا: اسلام قبول کر لیا ہے اور تصدیق کی ہے۔ اس نے کہا: میں بھی تیرے دین سے بے رغبتی نہیں کرتا، میں بھی مطیع ہو گیا ہوں اورمیں نے بھی تصدیق کی ہے ہم دونوں اپنی ماں کے پاس گئے تو کہنے لگی مجھے بھی تمہارے دین سے بے رغبتی نہیں میں بھی مسلمان ومطیع ہوگئی۔ ہم سوار ہوئے اور اپنی قوم غفار کے پاس پہنچ گئے۔ نصف قبیلہ تو مسلمان ہو گیا۔ ایماء بن رحضہ غفاری، جو ان کا سردار تھا، ان کو نماز پڑھاتا تھا۔ اور نصف قبیلے نے کہا: جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ تشریف لائیں گے تو ہم بھی مسلمان ہو جائیں گے۔ پس جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مدینہ تشریف لائے تو وہ نصف قبیلہ کے لوگ بھی مسلمان ہو گئے۔ اسلم قبیلہ کے لوگ آئے اور کہا: اے اللہ کے رسول! جس چیز پر ہمارے بھائی مسلمان ہوئے، ہم بھی اسی چیز پر مسلمان ہوتے ہیں۔ پھر وہ مسلمان ہو گئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: غفار قبیلہ، اللہ اس کو بخش دے اور اسلم قبیلہ، اللہ اسے سلامتی کے ساتھ رکھے۔

11908

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11908

Sahih

۔ (۱۱۹۰۸)۔ عَنْ أَبِی حَرْبِ بْنِ أَبِی الْأَسْوَدِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَائُ وَلَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَائُ مِنْ رَجُلٍ أَصْدَقَ مِنْ أَبِی ذَرٍّ۔)) (مسند احمد: ۷۰۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: زمین نے نہیں اٹھایا کسی ایسے آدمی کو اور آسمان نے سایہ نہیں کیا کسی ایسے آدمی پر جو ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بڑھ کر سچا ہو۔

11909

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11909

Sahih

۔ (۱۱۹۰۹)۔ (وَعَنْہٗ فِیْ أُخْرٰی): ((أَصْدَقَ لَھْجَۃً مِنْ أَبِیْ ذَرٍّ۔)) (مسند احمد: ۶۶۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اس میں ہے: جو زبان کے لحاظ سے ابو ذر سے سچا ہو۔

11910

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11910

Sahih

۔ (۱۱۹۱۰)۔ عَنْ عِرَاکِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: قَالَ أَبُو ذَرٍّ: إِنِّی لَأَقْرَبُکُمْ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((إِنَّ أَقْرَبَکُمْ مِنِّی یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مَنْ خَرَجَ مِنَ الدُّنْیَا کَہَیْئَتِہِ یَوْمَ تَرَکْتُہُ عَلَیْہِ۔)) وَإِنَّہُ وَاللّٰہِ! مَا مِنْکُمْ مِنْ أَحَدٍ إِلَّا وَقَدْ تَشَبَّثَ مِنْہَا بِشَیْئٍ غَیْرِی۔ (مسند احمد: ۲۱۷۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: قیامت کے دن میں تم سب سے زیادہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب ہوں گا، کیونکہ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ تم میں سے جو آدمی دنیا سے اس حال میں گیا، جس حال میں میں اسے چھوڑ کر جاؤں تو وہ قیامت کے دن سب سے زیادہ میرے قریب ہو گا۔ اللہ کی قسم! میرے سوا تم میں سے ہر ایک دنیوی امور اور معاملات سے ملوث ہو چکا ہے۔

11911

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11911

Sahih

۔ (۱۱۹۱۱)۔ عَنْ یَعْلَی بْنِ شَدَّادِ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: قَالَ شَدَّادُ بْنُ أَوْسٍ: کَانَ أَبُوْ ذَرٍّ یَسْمَعُ الْحَدِیثَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیہِ الشِّدَّۃُ،ثُمَّ یَخْرُجُ إِلٰی قَوْمِہِ یُسَلِّمُ لَعَلَّہُ یُشَدِّدُ عَلَیْہِمْ، ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُرَخِّصُ فِیہِ بَعْدُ فَلَمْ یَسْمَعْہُ أَبُو ذَرٍّ، فَیَتَعَلَّقَ أَبُو ذَرٍّ بِالْأَمْرِ الشَّدِیدِ۔ (مسند احمد: ۱۷۲۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا شداد بن اوس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کوئی ایسی حدیث سنتے، جس میں کوئی سخت حکم ہوتا، وہ یہ حدیث سن کر اپنی قوم کی طرف چلے جاتے تاکہ اس حدیث کی روشنی میں ان پر سختی کریں، بعد میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس حکم میں رخصت اور نرمی کر دیتے۔ لیکن سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس نرمی اور رخصت والا حکم نہ سن پاتے، پس وہ اس سخت حکم پر ہی کاربند رہتے۔

11912

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11912

Sahih

۔ (۱۱۹۱۲)۔ وَعَنِ الْأَحْنَفِ بْنِ قَیْسٍ قَالَ: کُنْتُ بِالْمَدِینَۃِ فَإِذَا أَنَا بِرَجُلٍ یَفِرُّ النَّاسُ مِنْہُ حِینَ یَرَوْنَہُ، قَالَ: قُلْتُ: مَنْ أَنْتَ؟ قَالَ: أَنَا أَبُو ذَرٍّ صَاحِبُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: قُلْتُ: مَا یُفِرُّ النَّاسَ؟ قَالَ: إِنِّی أَنْہَاہُمْ عَنِ الْکُنُوزِ بِالَّذِی کَانَ یَنْہَاہُمْ عَنْہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۱۷۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

احنف بن قیس سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں مدینہ منورہ میں تھا، میں نے دیکھا کہ لوگ ایک آدمی کو دیکھتے تو اس سے دور بھاگ جاتے، میں نے اس آدمی سے دریافت کیا کہ آپ کون ہیں؟ اس نے بتلایا کہ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا صحابی ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہوں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ لوگ آپ کو دیکھ کر کیوں بھاگ جاتے ہیں؟ انہوں نے بتلایا کہ میں ان لوگوں کو وہ خزانے یعنی مال و دولت جمع کرنے سے روکتا ہوں، جن سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو منع کیا تھا۔

11913

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11913

Zaeef

۔ (۱۱۹۱۳)۔ عَنْ أَبِی أُمَامَۃَ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی الْمَسْجِدِ جَالِسًا، وَکَانُوْا یَظُنُّونَ أَنَّہُ یَنْزِلُ عَلَیْہِ، فَأَقْصَرُوْا عَنْہُ حَتّٰی جَائَ أَبُوْ ذَرٍّ فَاقْتَحَمَ، فَأَتٰی فَجَلَسَ إِلَیْہِ فَأَقْبَلَ عَلَیْہِمُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((یَا أَبَا ذَرٍّ ہَلْ صَلَّیْتَ الْیَوْمَ؟)) قَالَ: لَا قَالَ: ((قُمْ فَصَلِّ۔)) فَلَمَّا صَلّٰی أَرْبَعَ رَکَعَاتٍ الضُّحٰی أَقْبَلَ عَلَیْہِ فَقَالَ: ((یَا أَبَا ذَرٍّ تَعَوَّذْ مِنْ شَرِّ شَیَاطِینِ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ۔)) قَالَ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! وَہَلْ لِلْإِنْسِ شَیَاطِینُ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، شَیَاطِینُ الْإِنْسِ وَالْجِنِّ یُوحِی بَعْضُہُمْ إِلٰی بَعْضٍ زُخْرُفَ الْقَوْلِ غُرُورًا۔)) ثُمَّ قَالَ: ((یَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أُعَلِّمُکَ مِنْ کَنْزِ الْجَنَّۃِ۔)) قَالَ: بَلٰی جَعَلَنِی اللّٰہُ فِدَاء َکَ، قَالَ: ((قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔)) قَالَ: فَقُلْتُ: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ، قَالَ: ثُمَّ سَکَتَ عَنِّی فَاسْتَبْطَأْتُ کَلَامَہُ، قَالَ: قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ إِنَّا کُنَّا أَہْلَ جَاہِلِیَّۃٍ وَعَبَدَۃَ أَوْثَانٍ فَبَعَثَکَ اللّٰہُ رَحْمَۃً لِلْعَالَمِینَ أَرَأَیْتَ الصَّلَاۃَ مَاذَا ہِیَ؟ قَالَ: ((خَیْرٌ مَوْضُوعٌ مَنْ شَائَ اسْتَقَلَّ وَمَنْ شَائَ اسْتَکْثَرَ۔)) قَالَ: قُلْتُ یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ الصِّیَامَ مَاذَا ہُوَ؟ قَالَ: ((فَرْضٌ مُجْزِیئٌ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَرَأَیْتَ الصَّدَقَۃَ مَاذَا ہِیَ؟ قَالَ: ((أَضْعَافٌ مُضَاعَفَۃٌ، وَعِنْدَ اللّٰہِ الْمَزِیدُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! فَأَیُّ الصَّدَقَۃِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((سِرٌّ إِلٰی فَقِیرٍ، وَجُہْدٌ مِنْ مُقِلٍّ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَیُّمَا نَزَلَ عَلَیْکَ أَعْظَمُ؟ قَالَ: {اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ} آیَۃُ الْکُرْسِیِّ، قَالَ: قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَیُّ الشُّہَدَائِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((مَنْ سُفِکَ دَمُہُ وَعُقِرَ جَوَادُہُ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! فَأَیُّ الرِّقَابِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((أَغْلَاہَا ثَمَنًا وَأَنْفَسُہَا عِنْدَ أَہْلِہَا۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! فَأَیُّ الْأَنْبِیَائِ کَانَ أَوَّلَ؟ قَالَ: ((آدَمُ عَلَیْہِ السَّلَام۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ! أَوَنَبِیٌّ کَانَ آدَمُ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، نَبِیٌّ مُکَلَّمٌ، خَلَقَہُ اللّٰہُ بِیَدِہِ، ثُمَّ نَفَخَ فِیہِ رُوحَہُ، ثُمَّ قَالَ لَہُ: یَا آدَمُ قُبْلًا۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کَمْ وَفَّی عِدَّۃُ الْأَنْبِیَائِ؟قَالَ: ((مِائَۃُ أَلْفٍ وَأَرْبَعَۃٌ وَعِشْرُونَ أَلْفًا، الرُّسُلُ مِنْ ذٰلِکَ ثَلَاثُ مِائَۃٍ وَخَمْسَۃَ عَشَرَ جَمًّا غَفِیرًا۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو امامہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسجد میں تشریف فرما تھے، صحابۂ کرام نے سمجھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر وحی کا نزول ہو رہا ہے، انہوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف سے خاموشی اختیار کئے رکھی،یہاں تک کہ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آکر مجلس میں گھس گئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس جا بیٹھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: ابو ذر! کیا تم نے آج نماز چاشت ادا کر لی ہے؟ انہوں نے کہا:جی نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اٹھو اور نماز ادا کرلو۔ انہوں نے چاشت کی چار رکعات ادا کیں تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی طرف رخ کرکے فرمایا: ابوذر! آپ جنات اور انسانی شیاطین کے شر سے پناہ طلب کرتے رہا کریں۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے عرض کیا: اللہ کے نبی! کیا انسانوں میں بھی شیاطین ہوتے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہاں، جنات اور انسانی شیاطین دھوکہ دیتے ہوئے جھوٹی باتوں کو ایک دوسرے کی طرف القاء کرتے ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابوذر! کیا میں تمہیں جنت کے خزانے کا ایک کلمہ نہ سکھاؤں؟ انہوں نے کہا: اللہ مجھے آپ پر فدا کرے، ضرور سکھلائیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ کہو۔ میں نے یہ کلمہ دہرایا، اس کے بعد آپ میری طرف سے خاموش ہو گئے، میں نے آپ کی بات کا انتظار کیا، میں نے عرض کیا: اللہ کے نبی! ہم مشرک اور بت پرست تھے، اللہ تعالیٰ نے آپ کو رحمۃ للعالمین بنا کر مبعوث کیا، نماز کے متعلق ارشاد فرمائیں کہ یہ کیسی چیز ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ایک بہترین عبادت ہے، اب یہ انسانوں کی مرضی ہے تھوڑی عبادت کریں یا زیادہ؟ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! روزے کے بارے میں کیا خیال ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ فرض ہے اور اس کا ثواب بہت ہے۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! صدقہ کے بارے میں فرمائیں کہ اللہ کے ہاں اس کا کیا ثواب ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا اجر کئی گنا ہے اور اللہ کے ہاں اس کا مزید اجر بھی ہے۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کونسا صدقہ افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پوشیدہ طور پر کسی حاجت مند تہی دست کو صدقہ دینا اور تنگ دست آدمی کا صدقہ کرنا سب سے افضل صدقہ ہے۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: اے اللہ کے نبی! آپ پر جو قرآن نازل ہوا ہے۔اس میں سب سے زیادہ عظمت والی آیت کونسی ہے؟ آپ نے فرمایا: {اَللّٰہُ لَا اِلٰہَ إِلَّا ہُوَ الْحَیُّ الْقَیُّومُ}یعنی آیت الکرسی، سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کون سا شہید سب سے افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کا خون اللہ کی راہ میں بہادیا گیا اور اس کے گھوڑے کی ٹانگیں کاٹ دی گئیں۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کس قسم کے غلام کو آزاد کرنا افضل ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو سب سے زیادہ قیمت والا ہو اور اپنے مالکوں کی نظر میں زیادہ پسند ہو۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے نبی! سب سے پہلے نبی کون ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آدم علیہ السلام ۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! کیا آدم علیہ السلام نبی تھے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جی ہاں، وہ ایسے نبی تھے، جن سے اللہ تعالیٰ نے براہ راست کلام کیا، اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے مبارک ہاتھ سے پیدا کیا، پھر اس میں اپنی پیدا کی ہوئی روح پھونکی، پھر اللہ نے ان سے فرمایا:آدم! سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انبیاء کی تعداد کتنی ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک لاکھ چوبیس ہزار اور ان میں سے تین سو پندرہ افراد کی بڑی جماعت رسول ہیں۔

11914

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11914

Sahih

۔ (۱۱۹۱۴)۔ عَنْ أَبِی الْأَسْوَدِ الدِّیْلِیِّ قَالَ: رَأَیْتُ اَصْحَابَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَمَا رَأَیْتُ لِاَبِیْ ذَرٍّ شَبِیْہًا۔ (مسند احمد: ۲۱۹۰۸)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو اسود دیلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے متعدد صحابۂ کرام کی زیارت کی ہے، میں نے سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جیسا کوئی نہیں دیکھا۔

11915

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11915

Zaeef

۔ (۱۱۹۱۵)۔ حَدَّثَنَا شَہْرُ بْنُ حَوْشَبٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ غَنْمٍ، أَنَّہُ زَارَ أَبَا الدَّرْدَائِ بِحِمْصَ فَمَکَثَ عِنْدَہُ لَیَالِیَ وَأَمَرَ بِحِمَارِہِ فَأُوکِفَ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ: مَا أَرَانِی إِلَّا مُتَّبِعَکَ، فَأَمَرَ بِحِمَارِہِ فَأُسْرِجَ فَسَارَا جَمِیعًا عَلٰی حِمَارَیْہِمَا، فَلَقِیَا رَجُلًا شَہِدَ الْجُمُعَۃَ بِالْأَمْسِ عِنْدَ مُعَاوِیَۃَ بِالْجَابِیَۃِ، فَعَرَفَہُمَا الرَّجُلُ وَلَمْ یَعْرِفَاہُ فَأَخْبَرَہُمَا خَبَرَ النَّاسِ، ثُمَّ إِنَّ الرَّجُلَ قَالَ: وَخَبَرٌ آخَرُ کَرِہْتُ أَنْ أُخْبِرَکُمَا أُرَاکُمَا تَکْرَہَانِہِ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ: فَلَعَلَّ أَبَا ذَرٍّ نُفِیَ، قَالَ: نَعَمْ وَاللّٰہِ فَاسْتَرْجَعَ أَبُو الدَّرْدَائِ وَصَاحِبُہُ، قَرِیبًا مِنْ عَشْرِ مَرَّاتٍ، ثُمَّ قَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ: ارْتَقِبْہُمْ وَاصْطَبِرْ کَمَا قِیلَ لِأَصْحَابِ النَّاقَۃِ، اللّٰہُمَّ إِنْ کَذَّبُوْا أَبَا ذَرٍّ فَإِنِّی لَا أُکَذِّبُہُ، اللّٰہُمَّ وَإِنِ اتَّہَمُوہُ فَإِنِّی لَا أَتَّہِمُہُ، اللّٰہُمَّ وَإِنِ اسْتَغَشُّوہُ فَإِنِّی لَا أَسْتَغِشُّہُ، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَأْتَمِنُہُ حِینَ لَا یَأْتَمِنُ أَحَدًا وَیُسِرُّ إِلَیْہِ حِینَ لَا یُسِرُّ إِلٰی أَحَدٍ، أَمَا وَالَّذِی نَفْسُ أَبِی الدَّرْدَائِ بِیَدِہِ لَوْ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ قَطَعَ یَمِینِی مَاأَبْغَضْتُہُ بَعْدَ الَّذِی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَا أَظَلَّتِ الْخَضْرَائُ وَلَا أَقَلَّتِ الْغَبْرَائُ مِنْ ذِی لَہْجَۃٍ أَصْدَقَ مِنْ أَبِی ذَرٍّ۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

شہر بن حوشب سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سے عبدالرحمن بن غنم نے بیان کیا کہ وہ حمص میں سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی زیارت کو گئے اور کئی راتیں ان کے ہاں قیام کیا، انہوں نے اپنے گدھے پر کاٹھی رکھنے کا حکم دیا، سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہنے لگے: میں بھی آپ کے ہم راہ چلتا ہوں، انہوں نے اپنے گدھے پر گدی رکھنے کا حکم دیا، دونوں اپنے اپنے گدھے پر سوار ہو کر سفر پر روانہ ہوئے، ان کی ملاقات ایک آدمی سے ہوئی جو صرف ایک ہی دن قبل جابیہ میں سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ نماز جمعہ ادا کرکے آیا تھا۔ اس نے ان دونوں کو پہچان لیا،یہ دونوں اسے نہیں پہچانتے تھے، اس نے ان کو لوگوں کے احوال سے آگاہ کیا، پھر اس نے کہا: ایک خبر اور بھی ہے، میں وہ آپ کو بتلانا نہیں چاہتا، میں جانتا ہوں کہ آ پ اس خبر کو اچھا نہیں سمجھیں گے۔ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بول اٹھے کہ شاید سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو شہر بدر کر دیا گیا ہوگا، اس نے کہا: جی ہاں، اللہ کی قسم! واقعی واقعہ رو نماہو چکا ہے، سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور ان کے ساتھی عبدالرحمن بن غنم نے تقریباً دس مرتبہ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ کے کلمات دہرائے۔ پھر سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اب آپ ان لوگوں پر اللہ کے عذاب کے منتظر رہیں اور دیکھتے رہیں کہ ہوتا کیا ہے؟ یہ اسی طرح کا معاملہ ہے جیسے صالح علیہ السلام کی اونٹنی کی ٹانگیں کاٹنے والوں سے کہا گیا تھا کہ تم اپنے گھروں میں تین دن گزار لو۔ پھر سیدنا ابودرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یااللہ! یہ لوگ اگر ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تکذیب کرتے ہیں تو کریں میں اس کی بات کی تکذیب نہیں کرتا۔ یا اللہ! اگر یہ لوگ ان پر الزامات لگاتے ہیں تو لگائیں میں ان پر کسی قسم کا الزام نہیں دھرتا۔ یا اللہ! اگر یہ لوگ اس پر غالب آنا چاہتے ہیں تو آئیں میں ان پر غالب آنے کی کوشش نہیں کروں گا۔ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان پر اس وقت بھروسہ کیا کرتے تھے، جب آپ کو کسی پر بھروسہ نہ ہوتا تھا، اور آپ اس وقت ان سے راز کی باتیں کر لیا کرتے تھے، جبکہ آپ کسی بھی شخص کے ساتھ راز دارانہ گفتگو نہ کیا کرتے تھے، اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں ابو درداء کی جان ہے! اگر ابو ذر میرا دایاں ہاتھ کاٹ بھی ڈالیں تو میں ان سے ناراض نہ ہوں گا، کیونکہ میں رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات کہتے سن چکا ہوں کہ زمین نے نہیں اٹھایا کسی ایسے آدمی کو اور آسمان نے سایہ نہیں کیا کسی ایسے آدمی پر جو ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بڑھ کر سچا ہو۔

11916

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11916

Sahih

۔ (۱۱۹۱۶)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ خُثَیْمٍ، عَنْ مُجَاہِدٍ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ یَعْنِی ابْنَ الْأَشْتَرِ، عَنْ أَبِیہِ أَنَّ أَبَا ذَرٍّ، حَضَرَہُ الْمَوْتُ وَہُوَ بِالرَّبَذَۃِ فَبَکَتِ امْرَأَتُہُ، فَقَالَ: مَا یُبْکِیکِ؟ قَالَتْ: أَبْکِی لَا یَدَ لِی بِنَفْسِکَ وَلَیْسَ عِنْدِی ثَوْبٌ یَسَعُکَ کَفَنًا، فَقَالَ: لَا تَبْکِی فَإِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ یَوْمٍ وَأَنَا عِنْدَہُ فِی نَفَرٍ یَقُولُ: ((لَیَمُوتَنَّ رَجُلٌ مِنْکُمْ بِفَلَاۃٍ مِنَ الْأَرْضِ، یَشْہَدُہُ عِصَابَۃٌ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ۔)) قَالَ: فَکُلُّ مَنْ کَانَ مَعِی فِی ذٰلِکَ الْمَجْلِسِ مَاتَ فِی جَمَاعَۃٍ وَفُرْقَۃٍ فَلَمْ یَبْقَ مِنْہُمْ غَیْرِی، وَقَدْ أَصْبَحْتُ بِالْفَلَاۃِ أَمُوتُ فَرَاقِبِی الطَّرِیقَ فَإِنَّکِ سَوْفَ تَرَیْنَ مَا أَقُولُ، فَإِنِّی وَاللّٰہِ! مَا کَذَبْتُ وَلَا کُذِبْتُ، قَالَتْ: وَأَنّٰی ذَلِکَ وَقَدِ انْقَطَعَ الْحَاجُّ؟، قَالَ رَاقِبِی الطَّرِیقَ، قَالَ: فَبَیْنَا ہِیَ کَذٰلِکَ إِذَا ہِیَ بِالْقَوْمِ تَخْدِیْہِمْ رَوَاحِلُہُمْ کَأَنَّہُمُ الرَّخَمُ، فَأَقْبَلَ الْقَوْمُ حَتّٰی وَقَفُوْا عَلَیْہَا، فَقَالُوْا: مَا لَکِ؟ قَالَتْ: امْرُؤٌ مِنَ الْمُسْلِمِینَ تُکَفِّنُونَہُ وَتُؤْجَرُوْنَ فِیہِ، قَالُوْا: وَمَنْ ہُوَ؟ قَالَتْ: أَبُو ذَرٍّ، فَفَدَوْہُ بِآبَائِہِمْ وَأُمَّہَاتِہِمْ وَوَضَعُوْا سِیَاطَہُمْ فِیْ نُحُورِہَا یَبْتَدِرُونَہُ، فَقَالَ: أَبْشِرُوا أَنْتُمْ النَّفَرُ الَّذِینَ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیکُمْ مَا قَالَ، أَبْشِرُوْا سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَا مِنْ امْرَأَیْنِ مُسْلِمَیْنِ ہَلَکَ بَیْنَہُمَا وَلَدَانِ أَوْ ثَلَاثَۃٌ فَاحْتَسَبَا وَصَبَرَا فَیَرَیَانِ النَّارَ أَبَدًا۔)) ثُمَّ قَدْ أَصْبَحْتُ الْیَوْمَ حَیْثُ تَرَوْنَ، وَلَوْ أَنَّ ثَوْبًا مِنْ ثِیَابِی یَسَعُنِی لَمْ أُکَفَّنْ إِلَّا فِیہِ، فَأَنْشُدُکُمُ اللّٰہَ أَنْ لَا یُکَفِّنَنِی رَجُلٌ مِنْکُمْ کَانَ أَمِیرًا أَوْ عَرِیفًا أَوْ بَرِیدًا، فَکُلُّ الْقَوْمِ کَانَ قَدْ نَالَ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئًا إِلَّا فَتًی مِنَ الْأَنْصَارِ کَانَ مَعَ الْقَوْمِ، قَالَ: أَنَا صَاحِبُکَ ثَوْبَانِ فِیْ عَیْبَتِیْ مِنْ غَزْلِ أُمِّیْ وَأَجِدُ ثَوْبَیَّ ھٰذَیْنِ الَّذَیْنِ عَلَیَّ، قَالَ: اَنْتَ صَاحِبِیْ فَکَفِّنِّی۔ (مسند احمد: ۲۱۷۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

ابراہیم بن الاشتر سے روایت کیا ہے کہ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ربذہ میں تھے، ان کی وفات کا وقت آیا تو ان کی اہلیہ رونے لگیں۔ انہوں نے دریافت کیا کہ آپ کیوں روتی ہیں؟ وہ بولیں: میں اس لیے رو رہی ہوں کہ میں اکیلی آپ کی تدفین کیسے کروں گی؟ اور میرے پاس تو آپ کے کفن کے لیے کافی کپڑا تک بھی نہیں ہے۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم مت روؤ۔ میں نے ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا تھا، اس وقت میں صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ ان کی خدمت میں حاضر تھا، آپ نے فرمایا تھا کہ تم میں سے ایک آدمی کو جنگل میں موت آئے گی، اس کے پاس اہل ایمان کی ایک جماعت پہنچ جائے گی، اس وقت میرے ساتھ جتنے بھی لوگ وہاں موجود تھے، وہ سب اس حال میں فوت ہوئے کہ ان کے اردگرد لوگوں کی جماعتیں موجود تھیں یا ان کی وفات کسی آبادی میں ہوئی، ان لوگوں میں سے صرف میں ہی باقی بچا ہوں اور اب میں جنگل (ویرانے) میں مر رہا ہوں، تم راستے پر نظر رکھو، میں تم سے جو کچھ کہہ رہا ہوں، تم عنقریب یہ سب کچھ دیکھ لو گی، اللہ کی قسم نہ تو میں غلط بیانی کر رہا ہوں اور نہ بیان کرنے والے یعنی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے غلط بیانی کی ہے۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اہلیہ نے حیران ہو کر کہا: ایسا کیونکر ہوگا۔ حجاج کرام حج سے فراغت کے بعد اپنے اپنے علاقوں کو واپس روانہ ہو چکے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بہرحال تم راستے پر نظر رکھنا، وہ اسی کیفیت میں تھی کہ اس نے دور سے لوگوں کو آتے دیکھا، جن کی سواریاں ان کو تیزی سے لا رہی تھیں، دور سے یوں لگتا تھا گویا کہ وہ پرندوں کا جھنڈ ہے، لوگ آتے آتے سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اہلیہ کے پاس پہنچ گئے۔ انہوں نے دریافت کیا: کیا معاملہ ہے؟ وہ بولیں کہ ایک مسلمان آدمی ہے۔ آپ لوگ رک کر اس کی تکفین کریں، اللہ تمہیں اجر دے گا۔ انہوں نے دریافت کیا: وہ کون ہے؟ اس خاتون نے بتلایا کہ وہ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہیں۔ تو ان سب لوگوں نے سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا کہ ہمارے ماں باپ آپ پر فدا ہوں اور انہوں نے اپنی لاٹھیاں سواریوں کی گردنوں میں لٹکا دیں اور بڑی پھرتی سے ان کی خدمت میں مصروف ہوگئے۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: تم لوگوں کو بشارت ہو، تم ہی وہ لوگ ہو جن کے بارے میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا تھا، تمہیں مبارک ہو، میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا تھا کہ دو مسلمان (خاوند بیوی) جن کے دو یا تین (نابالغ) بچے وفات پا جائیں اور وہ دونوں ان بچوں کی وفات پر صبر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے اجر و ثواب کے امید وار ہوں تو وہ کبھی بھی جہنم کو نہیں دیکھیں گے اور آج تم میرا حال دیکھ رہے ہو، اگر میرے کپڑوں میں سے کوئی کپڑا کافی ہو تو مجھے اسی میں کفن دیا جائے، میں تمہیں اللہ کا واسطہ دے کر کہتا ہوں کہ تم میں سے جو آدمی کسی قوم یاعلاقے کا امیر ہو یا اپنی قوم کا سردار ہو یا قوم کاقاصد ہو وہ مجھے کفن نہ پہنائے، وہ سب لوگ ان ذمہ داریوں کو ادا کر چکے تھے، البتہ ان میں صرف ایک انصاری لڑکا تھا۔ اس نے کہا: میں اس بارے میں آپ کی خدمت بجا لاؤں گا، میرے سامان میں دو کپڑے زائد ہیں،یہ دو کپڑے میری والدہ نے اپنے ہاتھوں سے کاتے ہیں اور میرے پاس اپنے استعمال کے لیےیہ دو کپڑے جو میرے زیب تن ہیں وہ کافی ہیں۔ سیدنا ابو ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے فرمایا: ٹھیک ہے، تم ہی مجھے کفن دینا۔ سیدہ ام ذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بھی یہ حدیث مختصراً مروی ہے۔

11917

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11917

Sahih

۔

11918

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11918

Zaeef

۔ (۱۱۹۱۸)۔ عَنْ قَنْبَرٍ حَاجِبِ مُعَاوِیَۃَ قَالَ: کَانَ أَبُو ذَرٍّ یُغَلِّظُ لِمُعَاوِیَۃَ، قَالَ: فَشَکَاہُ إِلٰی عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ وَإِلٰی أَبِی الدَّرْدَائِ وَإِلٰی عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ وَإِلٰی أُمِّ حَرَامٍ، فَقَالَ: إِنَّکُمْ قَدْ صَحِبْتُمْ کَمَا صَحِبَ وَرَأَیْتُمْ کَمَا رَأٰی فَإِنْ رَأَیْتُمْ أَنْ تُکَلِّمُوہُ، ثُمَّ أَرْسَلَ إِلٰی أَبِی ذَرٍّ فَجَائَ فَکَلَّمُوہُ، فَقَالَ: أَمَّا أَنْتَ یَا أَبَا الْوَلِیدِ! فَقَدْ أَسْلَمْتَ قَبْلِی وَلَکَ السِّنُّ وَالْفَضْلُ عَلَیَّ، وَقَدْ کُنْتُ أَرْغَبُ بِکَ عَنْ مِثْلِ ہٰذَا الْمَجْلِسِ، وَأَمَّا أَنْتَ یَا أبا الدَّرْدَائِ! فَإِنْ کَادَتْ وَفَاۃُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ تَفُوتَکَ ثُمَّ أَسْلَمْتَ فَکُنْتَ مِنْ صَالِحِی الْمُسْلِمِینَ، وَأَمَّا أَنْتَ یَا عَمْرُو بْنَ الْعَاصِ! فَقَدْ جَاہَدْتَ مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَمَّا أَنْتِ یَا أُمَّ حَرَامٍ! فَإِنَّمَا أَنْتِ امْرَأَۃٌ وَعَقْلُکِ عَقْلُ امْرَأَۃٍ، وَأَمَّا أَنْتَ وَذَاکَ، قَالَ: فَقَالَ عُبَادَۃُ: لَا جَرَمَ، لَا جَلَسْتُ مِثْلَ ہٰذَا الْمَجْلِسِ أَبَدًا۔ (مسند احمد: ۲۱۶۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے دربان قنبر سے روایت ہے کہ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ساتھ سختی سے پیش آیا کرتے تھے، سیدنا معاویہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عبادہ بن صامت، سیدنا ابوالدرداء، سیدنا عمرو بن عاص اور سیدہ ام حرام سے ان کی شکایت کی اور کہا: تم بھی اسی طرح رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابی ہو، جیسے وہ ہیں، جیسے انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا، آپ لوگوں نے بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اسی طرح دیکھا ہے، اگر مناسب سمجھو تو ان سے بات کرکے دیکھ لو کہ وہ ایسا سخت رویہ کیوں رکھتے ہیں؟ پھر انہوں نے سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو پیغام بھیجا، پس وہ آ گئے اور ان حضرات نے ان سے گفتگو کی۔ سیدنا ابوذر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے ابو الولید! (یعنی عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ) آپ مجھ سے قبل دائرہ ٔ اسلام میں داخل ہوئے، آپ کو مجھ پر عمر اور فضیلت میں سبقت حاصل ہے، میں اس قسم کی محفل کی بجائے آپ کے ساتھ بیٹھنے کی رغبت رکھتا تھا، اے ابودرداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اگر ایسا ہوتا کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی وفات پہلے ہو جاتی اور تم ان کے بعد اسلام میں آتے تو تب بھی تم صالح مسلمانوں میں سے ہوتے، اے عمرو بن عاص! آپ تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ جہاد اور غزووں میں شریک رہے ہیں اور اے ام حرام! (یہ عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی اہلیہ تھیں) آپ تو ایک خاتون ہیں۔ اور آپ کی عقل بہر حال ایک عورت کی سی ہی ہے، آپ کو ایسے امور میں دخل انداز ہونے کی کیا ضرورت ہے؟ یہ سن کر سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: یقینا میں اس قسم کی مجلس میں کبھی نہیں بیٹھ سکوں گا۔