Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2450

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا ابو دردائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

2 hadiths in this chapter

11905

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11905

Sahih

۔ (۱۱۹۰۵)۔ عَنْ أَبِی عُمَرَ، عَنْ أَبِی الدَّرْدَائِ قَالَ: نَزَلَ بِأَبِی الدَّرْدَائِ رَجُلٌ، فَقَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ: مُقِیمٌ فَنَسْرَحَ أَمْ ظَاعِنٌ فَنَعْلِفَ، قَالَ: بَلْ ظَاعِنٌ، قَالَ: فَإِنِّی سَأُزَوِّدُکَ زَادًا لَوْ أَجِدُ مَا ہُوَ أَفْضَلُ مِنْہُ لَزَوَّدْتُکَ، أَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ ذَہَبَ الْأَغْنِیَائُ بِالدُّنْیَا وَالْآخِرَۃِ نُصَلِّی وَیُصَلُّونَ، وَنَصُومُ وَیَصُومُونَ، وَیَتَصَدَّقُونَ وَلَا نَتَصَدَّقُ، قَالَ: ((أَلَا أَدُلُّکَ عَلَی شَیْئٍ إِنْ أَنْتَ فَعَلْتَہُ لَمْ یَسْبِقْکَ أَحَدٌ کَانَ قَبْلَکَ وَلَمْ یُدْرِکْکَ أَحَدٌ بَعْدَکَ إِلَّا مَنْ فَعَلَ الَّذِی تَفْعَلُ، دُبُرَ کُلِّ صَلَاۃٍ ثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ تَسْبِیحَۃً، وَثَلَاثًا وَثَلَاثِینَ تَحْمِیدَۃً، وَأَرْبَعًا وَثَلَاثِینَ تَکْبِیرَۃً۔)) (مسند احمد: ۲۲۰۵۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی ان کے ہاں مہمان ٹھہرا، انھوں نے اس سے دریافت کیا کہ اگر آپ ہمارے ہاں قیام فرمائیں تو ہم آپ کی سواری کو چراگاہ میں بھجوا دیں اور اگر جلد روانگی کا پروگرام ہو تو ہم اسے یہیں چارہ ڈال دیں۔ اس آدمی نے کہا:نہیں، میں تو بس جانے والا ہوں، انہوں نے فرمایا: میں آپ کو ایک زادِ راہ دینا چاہتا ہوں، اگر میرے پاس اس سے بہتر کوئی تحفہ ہوتا تو میں وہ آپ کی نذر کرتا۔ میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں گیا تھا اور آپ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! مالدار لوگ دنیا کے لحاظ سے بھی آگے نکل گئے اور آخرت کے لحاظ سے بھی ۔ہم (غریب لوگ) نماز پڑھتے ہیں اور وہ امیر لوگ بھی نماز ادا کرتے ہیں، ہم بھی روزے رکھتے ہیں اور وہ بھی روزے رکھتے ہیں، لیکن وہ صدقہ کرتے ہیں اور ہم صدقہ نہیں کر سکتے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا میں تمہیں ایک ایسا عمل نہ بتلاؤں، اگر تم اس پر عمل کرو تو نہ اگلوں میں سے کوئی تم سے آگے بڑھ سکے گا اور نہ پچھلوں میں سے کوئی تجھ کو پا سکے گا، ماسوائے اس کے جو اسی پر عمل کرے، تم ہر نماز کے بعد تینتیس بار سُبْحَانَ اللّٰہِ تینتیس بار اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ اور چونتیس بار اَللّٰہُ اَکْبَرُ کہا کرو۔

11906

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11906

Zaeef

۔ (۱۱۹۰۶)۔ عَنْ یُوسُفَ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَلَامٍ قَالَ: صَحِبْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ أَتَعَلَّمُ مِنْہُ فَلَمَّا حَضَرَہُ الْمَوْتُ، قَالَ: آذِنْ النَّاسَ بِمَوْتِی، فَآذَنْتُ النَّاسَ بِمَوْتِہِ، فَجِئْتُ وَقَدْ مُلِئَ الدَّارُ وَمَا سِوَاہُ، قَالَ: فَقُلْتُ: قَدْ آذَنْتُ النَّاسَ بِمَوْتِکَ وَقَدْ مُلِئَ الدَّارُ وَمَا سِوَاہُ، قَالَ: أَخْرِجُونِیْ فَأَخْرَجْنَاہُ، قَالَ: أَجْلِسُونِی، قَالَ: فَأَجْلَسْنَاہُ، قَالَ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ! إِنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((مَنْ تَوَضَّأَ فَأَسْبَغَ الْوُضُوئَ ثُمَّ صَلّٰی رَکْعَتَیْنِ یُتِمُّہُمَا، أَعْطَاہُ اللّٰہُ مَا سَأَلَ مُعَجِّلًا أَوْ مُؤَخِّرًا۔)) قَالَ أَبُو الدَّرْدَائِ: یَا أَیُّہَا النَّاسُ! إِیَّاکُمْ وَالِالْتِفَاتَ فَإِنَّہُ لَا صَلَاۃَ لِلْمُلْتَفِتِ، فَإِنْ غُلِبْتُمْ فِی التَّطَوُّعِ فَلَا تُغْلَبُنَّ فِی الْفَرِیضَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۸۰۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا یوسف بن عبداللہ بن سلام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں حصول علم کے لیے سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں گیا، جب ان کی وفات کا وقت قریب آیا۔ تو انہوں نے مجھ سے کہا: تم لوگوں کو میری وفات کی اطلاع کردو۔ میں نے لوگوں کو ان کی وفات کی اطلاع دی، میں واپس آیا تو ان کا گھر اور ارد گرد کے مقامات لوگوں سے بھرے تھے، میں نے جا کر ان سے عرض کیا: میں نے لوگوں کو آپ کی وفات کی اطلاع دی اورگھر اور اردگرد کے مقامات لوگوں سے بھر گئے ہیں۔ انھوں نے مجھے کہا: تم مجھے باہر لے چلو، ہم ان کو باہر لے گئے۔ انھوں نے کہا: مجھے بٹھا دو، ہم نے ان کو بٹھا دیا۔ انہوں نے کہا: لوگو! میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ جو آدمی اچھی طرح مکمل وضو کرکے مکمل دو رکعت نماز ادا کرے تو وہ اللہ سے جو بھی دعا کرے، اللہ اسے جلد یا بدیر اس کی مطلوبہ چیز ضرور عطا فرمائے گا۔ پھر انھوں نے کہا: لوگو! نماز میں ادھر ادھر نہ دیکھا کرو، جو کوئی ادھر ادھر دیکھتا ہے اس کی نماز نہیں ہوتی، اگر نفل نماز میں اس کی ضرورت پیش آ جائے تو خیر، مگر فرض نماز میں اس کی گنجائش نہ نکالا کرو۔