Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2449

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا ابو دحداح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

2 hadiths in this chapter

11903

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11903

Sahih

۔ (۱۱۹۰۳)۔ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ رَجُلًا قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّ لِفُلَانٍ نَخْلَۃً وَأَنَا أُقِیمُ حَائِطِی بِہَا فَأْمُرْہُ أَنْ یُعْطِیَنِی حَتّٰی أُقِیمَ حَائِطِی بِہَا، فَقَالَ لَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَعْطِہَا إِیَّاہُ بِنَخْلَۃٍ فِی الْجَنَّۃِ۔)) فَأَبٰی فَأَتَاہُ أَبُوالدَّحْدَاحِ، فَقَالَ: بِعْنِی نَخْلَتَکَ بِحَائِطِی، فَفَعَلَ، فَأَتَی النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنِّی قَدْ ابْتَعْتُ النَّخْلَۃَ بِحَائِطِی، قَالَ: فَاجْعَلْہَا لَہُ فَقَدْ أَعْطَیْتُکَہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((کَمْ مِنْ عَذْقٍ رَاحَ لِأَبِی الدَّحْدَاحِ فِی الْجَنَّۃِ۔)) قَالَہَا مِرَارًا، قَالَ: فَأَتَی امْرَأَتَہُ فَقَالَ: یَا أُمَّ الدَّحْدَاحِ! اخْرُجِی مِنَ الْحَائِطِ فَإِنِّی قَدْ بِعْتُہُ بِنَخْلَۃٍ فِی الْجَنَّۃِ، فَقَالَتْ: رَبِحَ الْبَیْعُ أَوْ کَلِمَۃً تُشْبِہُہَا۔ (مسند احمد: ۱۲۵۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! فلاں آدمی کا کھجور کا ایک درخت ہے، میں اس درخت کا ضرورت مند ہوں تاکہ اس کے ذریعے اپنے باغ کی دیوار کو سیدھا کر سکوں، آپ اسے حکم دیں کہ وہ یہ درخت مجھے دے دے اور میں اپنے باغ کی دیوار کو مضبوط کر لوں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تم یہ درخت اسے دے دو، اس کے بدلے میں تمہیں جنت میں ایک درخت لے دوں گا۔ اس نے اس بات سے انکار کیا۔ یہ بات سن کر سیدنا ابو دحداح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آکر اس آدمی سے کہا کہ میرے پورے باغ کے عوض تم یہ ایک کھجور مجھے فروخت کر دو، اس نے ایسے ہی کیا، پھر سیدنا ابو دحداح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے وہ ایک کھجور اپنے پورے باغ کے عوض خریدلی ہے، آپ یہ کھجور اس ضرورت مند کو دے دیں، میں کھجور کا یہ درخت آپ کے حوالے کر چکا ہوں،رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں کھجور کے کتنے ہی خوشے ابو دحداح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے لٹک رہے ہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات متعدد مرتبہ دہرائی، ابو دحداح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنی بیوی کے پاس آکر اس سے کہا: اے ام وحداح! باغ سے باہر نکل آؤ، میں نے یہ باغ جنت کی ایک کھجور کے عوض فروخت کر دیا ہے۔ اس نے کہا: آپ نے تو بڑے فائدے والا سودا کیا۔

11904

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11904

Sahih

۔ (۱۱۹۰۴)۔ عَن جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ قَالَ: صَلَّی رَسُولُ اللَّہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلَی ابْنِ الدَّحْدَاحِ، قَالَ حَجَّاجٌ: عَلَی أَبِی الدَّحْدَاحِ، ثُمَّ أُتِیَ بِفَرَسٍ مَعْرُورٍ فَعَقَلَہُ رَجُلٌ فَرَکِبَہُ فَجَعَلَ یَتَوَقَّصُ بِہِ، وَنَحْنُ نَتَّبِعُہُ نَسْعٰی خَلْفَہُ، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((کَمْ عِذْقٍ مُعَلَّقٍ أَوْ مُدَلًّی فِی الْجَنَّۃِ لِأَبِی الدَّحْدَاحِ۔)) قَالَ حَجَّاجٌ فِی حَدِیثِہِ: قَالَ رَجُلٌ مَعَنَا عِنْدَ جَابِرِ بْنِ سَمُرَۃَ فِی الْمَجْلِسِ، قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((کَمْ مِنْ عِذْقٍ مُدَلًّی لِأَبِی الدَّحْدَاحِ فِی الْجَنَّۃِ۔)) (مسند احمد: ۲۱۲۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دحداح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بیٹےیا ابو دحداح کی نماز جنازہ ادا کی، اس کے بعد بغیرزین کے ایک گھوڑا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پیش کیا گیا، ایک آدمی نے اس کی ٹانگ کو رسی سے باندھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس پر سوار ہوئے، وہ گھوڑا اچھلتا ہوا چلنے لگا، ہم آپ کے پیچھے پیچھے تیز تیز جا رہے تھے، لوگوں میں سے ایک آدمی نے کہا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں کھجور کے کتنے ہی خوشے ابو دحداح کی انتظار میں لٹک رہے ہیں۔ حجاج نے اپنی حدیث میں یوں بیان کیا کہ محفل میں ہمارے ساتھ بیٹھے ایک آدمی نے سیدنا جابر بن سمرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جنت میں کھجور کے کتنے ہی خوشے ابو دحداح کے لیے لٹک رہے ہیں۔