Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2423

فضائل و مناقب کی کتاب

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے چچا سیدنا عباس بن عبدالمطلب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

3 hadiths in this chapter

11835

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11835

Sahih

۔ (۱۱۸۳۵)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِیْ وَقَّاصٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِلْعَبَّاسٍ: ((ھٰذَا الْعَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ أَجْوَدُ قُرَیْشٍ کَفًّا وَأَوْصَلُہَا۔)) (مسند احمد: ۱۶۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے حق میں فرمایا: یہ عباس بن عبد المطلب ہیں، جو کہ قریش میں سب سے زیادہ فراخ دست (یعنی سخی) اور سب سے بڑھ کر صلہ رحمی کرنے والے ہیں۔

11836

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11836

Zaeef

۔ (۱۱۸۳۶)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ وَقَعَ فِی أَبٍ لِلْعَبَّاسِ کَانَ فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَلَطَمَہُ الْعَبَّاسُ، فَجَائَ قَوْمَہُ فَقَالُوْا: وَاللّٰہِ لَنَلْطِمَنَّہُ کَمَا لَطَمَہُ فَلَبِسُوا السِّلَاحَ، فَبَلَغَ ذٰلِکَ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ، فَقَالَ: ((أَیُّہَا النَّاسُ أَیُّ أَہْلِ الْأَرْضِ أَکْرَمُ عَلَی اللّٰہِ؟)) قَالُوْا: أَنْتَ، قَالَ: ((فَإِنَّ الْعَبَّاسَ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ، فَلَا تَسُبُّوْا مَوْتَانَا فَتُؤْذُوْا أَحْیَائَ نَا۔)) فَجَائَ الْقَوْمُ فَقَالُوْا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ نَعُوذُ بِاللّٰہِ مِنْ غَضَبِکَ۔ (مسند احمد: ۲۷۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ ایک انصاری نے سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد پر طنز کیا، وہ دورِ جاہلیت میں فوت ہو گئے تھے، عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے (طیش میں آکر) اسے تھپڑ رسید کر دیا،انصاری کی قوم کے لوگ آگئے اور کہنے لگے: اللہ کی قسم، جس طرح اس نے تھپڑ مارا ہے، ہم بھی بدلے میں اسے ضرور تھپڑ ماریں گے، وہ لوگ اسلحہ سے مسلح ہو کر آ گئے۔ جب یہ بات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم منبر پر تشریف فرما ہوئے اور فرمایا: لوگو! روئے زمین کے لوگوں میں اللہ کے ہاں سب سے زیادہ معزز کون شخص ہے؟ لوگوں نے کہا: جی آپ ہیں ۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پھر عباس میرا ہے اور میں عباس کا ہوں، تم ہمارے فوت شدہ لوگوں کو برا بھلا کہہ کر ہمارے زندہ لوگوں کو ایذا نہ پہنچاؤ۔ پھر ان لوگوں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر معذرت کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم آپ کے غصہ اور ناراضگی سے اللہ کی پناہ چاہتے ہیں۔

11837

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11837

Zaeef

۔ (۱۱۸۳۷)۔ عَنْ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ رَبِیعَۃَ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، قَالَ: دَخَلَ الْعَبَّاسُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُغْضَبًا، فَقَالَ لَہُ: ((مَا یُغْضِبُکَ؟)) قَالَ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! مَا لَنَا وَلِقُرَیْشٍ إِذَا تَلَاقَوْا بَیْنَہُمْ تَلَاقَوْا بِوُجُوہٍ مُبْشِرَۃٍ، وَإِذَا لَقُونَا لَقُونَا بِغَیْرِ ذٰلِکَ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتَّی احْمَرَّ وَجْہُہُ وَحَتَّی اسْتَدَرَّ عِرْقٌ بَیْنَ عَیْنَیْہِ، وَکَانَ إِذَا غَضِبَ اسْتَدَرَّ فَلَمَّا سُرِّیَ عَنْہُ، قَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ، (أَوْ قَالَ) وَالَّذِی نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِیَدِہِ، لَا یَدْخُلُ قَلْبَ رَجُلٍ الْإِیمَانُ حَتّٰی یُحِبَّکُمْ لِلَّہِ عَزَّ وَجَلَّ وَلِرَسُولِہِ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ! مَنْ آذَی الْعَبَّاسَ فَقَدْ آذَانِی، إِنَّمَا عَمُّ الرَّجُلِ صِنْوُ أَبِیہِ۔)) (مسند احمد: ۱۷۶۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبدالمطلب بن ربیعہ بن حارث بن عبدالمطلب سے مروی ہے کہ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ غصے کی حالت میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے دریافت کیا: تمہیں کس بات پر غصہ آیا ہے؟ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قریش کو ہم سے کیا عداوت ہے؟ وہ آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو بڑے خوش ہو کر ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو ان کے چہرے بدل جاتے ہیں۔ یہ سن کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس قدر غضب ناک ہوئے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی پیشانی سے پسینہ بہنے لگا، ویسے جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو شدید غصہ آتا تھا تو پسینہ بہنے لگتا تھا، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی یہ کیفیت زائل ہوئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! کسی کے دل میں ایمان اس وقت تک داخل نہیں ہو سکتا، جب تک وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے تم سے محبت نہیں کرے گا۔ (دوسری روایت میں ہے: اللہ تعالیٰ کے لیے اور میری قرابت داری کی وجہ سے تم سے محبت نہیں کرے گا) پھر فرمایا: لوگو! (یاد رکھو) جس نے عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو ایذا پہنچائی، اس نے مجھے تکلیف دی، آدمی کا چچا اس کے باپ کی ہی ایک قسم ہوتا ہے۔