Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2424

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

5 hadiths in this chapter

11838

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11838

Zaeef

۔ (۱۱۸۳۸)۔ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: قَبَّلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُقَبِّلُ، وَقَالَ وَکِیعٌ: قَالَتْ: قَبَّلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَہُوَ مَیِّتٌ، قَالَتْ: فَرَأَیْتُ دُمُوعَہُ تَسِیلُ عَلَی خَدَّیْہِ یَعْنِی عُثْمَانَ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ: وَعَیْنَاہُ تُہْرَاقَانِ۔ (مسند احمد: ۲۶۲۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ فوت ہوگئے اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کی میت کو بوسہ دیا، میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آنسو سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے رخساروں پر بہہ رہے تھے۔ اس حدیث کے ایک راوی عبدالرحمن سے مروی ہے کہ آپ کی آنکھیں آنسو بہار ہی تھیں۔

11838

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11838

Sahih

۔ (۱۱۸۳۸م)۔ وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: لَمَّا مَاتَتْ زَیْنَبُ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: رُقَیَّۃُ) اِبْنَۃُ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِلْحَقِیْ بِسَلَفِنَا الصَّالِحِ الْخَیْرِ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٍ۔)) (مسند احمد: ۲۱۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیٹی سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا (یا سیدہ رقیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) کا انتقال ہوا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیٹی سے مخاطب ہو کر فرمایا: تم جا کر ہمارے بہترین پیش رو عثمان بن مظعون سے جا ملو۔

11839

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11839

Sahih

۔ (۱۱۸۳۹)۔ وَعَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیِدٍ قَالَ: کَانَتْ اُمُّ الْعَلَائِ الْاَنْصَارِیَّۃُ تَقُوْلُ: لَمَّا قَدِمَ الْمُہَاجِرُوْنَ الْمَدِیْنَۃَ اِقْتَرَعَتِ الْأَنْصَارُ عَلٰی سُکْنَاھُمْ، فَطَارَ لَنَا عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُوْنٍ فِی السُّکْنٰی، قَالَتْ أُمُّ الْعَلَائِ: فَاشْتَکٰی عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ عِنْدَنَا فَمَرَّضْنَاہُ حَتّٰی إِذَا تُوُفِّیَ أَدْرَجْنَاہُ فِی أَثْوَابِہِ، فَدَخَلَ عَلَیْنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْکَ یَا أَبَا السَّائِبِ شَہَادَتِی عَلَیْکَ لَقَدْ أَکْرَمَکَ اللَّہُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((وَمَا یُدْرِیکِ أَنَّ اللّٰہَ أَکْرَمَہُ؟)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: لَا أَدْرِی بِأَبِی أَنْتَ وَأُمِّی، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَمَّا ہُوَ فَقَدْ جَائَہُ الْیَقِینُ مِنْ رَبِّہِ، وَإِنِّی لَأَرْجُو الْخَیْرَ لَہُ، وَاللّٰہِ! مَا أَدْرِی وَأَنَا رَسُولُ اللّٰہِ مَا یُفْعَلُ بِی۔)) (قَالَ یَعْقُوبُ: بِہِ) قَالَتْ: وَاللّٰہِ لَا أُزَکِّی أَحَدًا بَعْدَہُ أَبَدًا، فَأَحْزَنَنِی ذٰلِکَ فَنِمْتُ فَأُرِیتُ لِعُثْمَانَ عَیْنًا تَجْرِی، فَجِئْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَخْبَرْتُہُ ذٰلِکَ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((ذَاکَ عَمَلُہُ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۰۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا خارجہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ سیدہ ام علاء انصاریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہا کرتی تھیں کہ جب مہاجرین ہجرت کرکے مدینہ منورہ آئے تو انصار نے ان کو اپنے ہاں رہائش دینے کے لیے قرعہ اندازی کی تو سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نام ہمارے حصہ میں نکل آیا، لیکن ہوا یوں کہ سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہمارے ہاں بیمار پڑ گئے۔ ہم نے ان کا خوب علاج معالجہ کیا،، لیکن ان کا انتقال ہو گیا،ہم نے ان کو کفن کے کپڑوں میں لپیٹا، اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے۔ میں نے کہا: اے ابو السائب! آپ پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں، میں آپ کے بارے میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ نے آپ کو عزت و تکریم سے نوازا ہے۔ لیکن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: آپ کو کیا علم کہ اللہ نے ان کی عزت و تکریم کی ہے۔ میں نے عرض کیا: میرے ماں باپ آپ پرفدا ہوں، میں تو اس بارے میں کچھ نہیں جانتی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کے رب کی طرف سے موت آئی، مجھے اس کے بارے میں اللہ سے خیر کی امید ہے۔ اللہ کی قسم! میں اگرچہ اللہ کا رسول ہوں، لیکن میں بھی نہیں جانتا کہ کل کلاں میرے ساتھ اور اس کے ساتھ کیا پیش آئے گا؟ ام العلاء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اللہ کی قسم! میں آج کے بعد کسی کی صفائی پیش نہیں کروں گی، اس بات سے مجھے غم لاحق ہوا، میں سوئی ہوئی تھی کہ خواب میں مجھے ایک بہتا چشمہ دکھایا گیا کہ یہ عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے لیے ہے۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں جا کر آپ کو اس کے متعلق بتلایا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ اس کا عمل ہے۔

11840

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11840

Sahih

۔ (۱۱۸۴۰)۔ عَنْ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ، عَنْ أُمِّہِ قَالَتْ: إِنَّ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ لَمَّا قُبِضَ قَالَتْ أُمُّ خَارِجَۃَ بْنِ زَیْدٍ: طِبْتَ أَبَا السَّائِبِ خَیْرُ أَیَّامِکَ الْخَیْرُ، فَسَمِعَہَا نَبِیُّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((مَنْ ہٰذِہِ؟)) قَالَتْ: أَنَا، قَالَ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((وَمَا یُدْرِیکِ؟)) فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللَّہُ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((أَجَلْ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُوْنٍ مَارَأَیْنَا اِلَّاخَیْرًا، وَھٰذَا أَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ وَاللّٰہِ مَا اَدْرِیْ مَا یُصْنَعُ بِیْ۔)) (مسند احمد: ۲۸۰۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

خارجہ بن زید اپنی والدہ سیدہ ام العلاء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے کہا: جب سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا انتقال ہوا تو میں نے کہا: :اے ابو السائب! تمہیں مبارک ہو، تمہارے ایام زندگی اچھے گزرے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ بات سنی تو فرمایا: یہ بات کہنے والی کون ہے؟ سیدہ ام علاء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے عرض کیا: جی میں ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہیں اس بات کا کیا علم؟‘ میں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! میں نے یہ بات سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ (جیسے عظیم الترتیب انسان کے بارے میں کہی ہے)، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہا ں ہاں، ہم نے عثمان بن مظعون کو ہر لحاظ سے بہتر پایا،یاد رکھو کہ میں اگرچہ اللہ کا رسول ہوں، لیکن میں اپنے بارے میں یہ بھی نہیں جانتا کہ کل کلاں میرے ساتھ کیا معاملہ پیش آئے گا۔

11841

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11841

Sahih

۔