Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2422

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا عبداللہ بن مسعود المعروف ابن ام عبد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

11 hadiths in this chapter

11824

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11824

Sahih

۔ (۱۱۸۲۴)۔ ثَنَا جَرِیرٌ یَعْنِی ابْنَ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَرَأَیْتَ رَجُلًا مَاتَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یُحِبُّہُ أَلَیْسَ رَجُلًا صَالِحًا؟ قَالَ: بَلٰی، قَالَ: قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یُحِبُّکَ وَقَدِ اسْتَعْمَلَکَ، فَقَالَ: قَدِ اسْتَعْمَلَنِی فَوَاللّٰہِ مَا أَدْرِی أَحُبًّا کَانَ لِی مِنْہُ أَوْ اسْتِعَانَۃً بِی، وَلٰکِنْ سَأُحَدِّثُکَ بِرَجُلَیْنِ مَاتَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یُحِبُّہُمَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ۔ (مسند احمد: ۱۷۹۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

حسن بصری سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا عمرو بن العاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ کی اس شخص کے بارے میں کیا رائے ہے، جس سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تا حیات محبت کرتے رہے ہوں، کیا وہ صالح آدمی نہیں ہوگا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، تو اس نے کہا: اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو اپناعامل بنا کر بھیجا ہوا تھا، سیدنا عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: انہوں نے مجھے عامل تو بنایا تھا، اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ مجھ سے محبت کی وجہ سے یا میری مدد کرنے کے لیے مجھے عامل بنایا تھا، البتہ میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو آپ دو آدمیوں سے محبت کرتے تھے، ایک سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور دوسرے سیدنا عمار بن یاسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ۔

11825

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11825

Sahih

۔ (۱۱۸۲۵)۔ عَنْ زِرٍّ، عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ: أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتَاہُ بَیْنَ أَبِی بَکْرٍ وَعُمَرَ، وَعَبْدُ اللّٰہِ یُصَلِّی فَافْتَتَحَ النِّسَائَ فَسَحَلَہَا، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَنْ أَحَبَّ أَنْ یَقْرَأَ الْقُرْآنَ غَضًّا کَمَا أُنْزِلَ فَلْیَقْرَأْہُ عَلٰی قِرَائَ ۃِ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ۔)) ثُمَّ تَقَدَّمَ یَسْأَلُ فَجَعَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((سَلْ تُعْطَہْ، سَلْ تُعْطَہْ، سَلْ تُعْطَہْ۔)) فَقَالَ فِیمَا سَأَلَ: اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ إِیمَانًا لَا یَرْتَدُّ، وَنَعِیمًا لَا یَنْفَدُ، وَمُرَافَقَۃَ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی أَعْلٰی جَنَّۃِ الْخُلْدِ، قَالَ: فَأَتٰی عُمَرُ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَبْدَ اللّٰہِ لِیُبَشِّرَہُ، فَوَجَدَ أَبَا بَکْرٍ رِضْوَانُ اللّٰہِ عَلَیْہِ قَدْ سَبَقَہُ فَقَالَ: إِنْ فَعَلْتَ لَقَدْ کُنْتَ سَبَّاقًا بِالْخَیْرِ۔ (مسند احمد: ۴۲۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ رات کو نماز ادا کر رہے تھے کہ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہمراہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کے پاس تشریف لائے، انھوں نے سورۂ نساء کی تلاوت شروع کی اور اس کی مکمل تلاوت کی تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو کوئی قرآن کو اسی طرح پڑھنا چاہتا ہو، جیسا کہ وہ نازل ہواتھا تو وہ ابن ام عبد یعنی ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی قرأت کے مطابق تلاوت کیا کرے۔ پھر وہ آگے بڑھے اور سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سوال کرنے لگے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمانے لگے : تم اللہ سے مانگو تمہیں دیا جائے گا، تم اللہ سے مانگو تمہیں دیا جائے گا، تم اللہ سے مانگو تمہیں دیا جائے گا۔ تو انہوں نے اپنی دعاؤں میں سے یہ دعا بھی کی: اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ إِیمَانًا لَا یَرْتَدُّ، وَنَعِیمًا لَا یَنْفَدُ، وَمُرَافَقَۃَ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی أَعْلٰی جَنَّۃِ الْخُلْدِ (یا اللہ! میں تجھ سے ایسے ایمان کی دعا کرتا ہوں جو مجھ سے واپس نہ جائے، ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی زائل نہ ہوں اور میں تجھ سے ہمیشہ والی جنت کے اعلیٰ مقامات میں تیرے نبی کاساتھ چاہتا ہوں۔) اس کے بعد سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان کو بشارت دینے کے لیے آئے تو انھوں نے دیکھا کہ سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس بارے میں ان سے سبقت لے جا چکے تھے۔ تو سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگرچہ آپ نے یہ کام کیا ہے، مگر صورتحال یہ ہے کہ آپ ہر اچھے کام میں سبقت لے جاتے ہیں۔

11826

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11826

Sahih

۔ (۱۱۸۲۶)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: مَرَّ بِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا أُصَلِّی، فَقَالَ: ((سَلْ تُعْطَہْ یَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ۔)) فَابْتَدَرَ أَبُو بَکْرٍ وَعُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَ قَالَ عُمَرُ: مَا بَادَرَنِی أَبُو بَکْرٍ إِلٰی شَیْئٍ إِلَّا سَبَقَنِی إِلَیْہِ أَبُو بَکْرٍ، فَسَأَلَاہُ عَنْ قَوْلِہِ، فَقَالَ: مِنْ دُعَائِی الَّذِی لَا أَکَادُ أَدَعُ اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ نَعِیمًا لَا یَبِیدُ، وَقُرَّۃَ عَیْنٍ لَا تَنْفَدُ، وَمُرَافَقَۃَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُحَمَّدٍ فِی أَعْلَی الْجَنَّۃِ جَنَّۃِ الْخُلْدِ۔ (مسند احمد: ۴۱۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ میں نماز ادا کر رہا تھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے پاس سے گزرے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے ام عبد کے بیٹے! تو جو چاہے دعا کر تجھے عطا کیا جائے گا۔ سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے اس خوشی سے آگاہ کرنے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کی، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جس کام میں بھی میرے ساتھ مقابلہ کیا تو وہ مجھ سے سبقت لے گئے۔دونوں نے عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا کہ انہوں نے اس رات کو کیا دعا کی تھی، انھوں نے بتلایا کہ میں نے وہ دعا کی تھی، جس کو میں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہوں، میں نے کہا تھا: اَللّٰہُمَّ إِنِّی أَسْأَلُکَ نَعِیمًا لَا یَبِیدُ، وَقُرَّۃَ عَیْنٍ لَا تَنْفَدُ، وَمُرَافَقَۃَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مُحَمَّدٍ فِی أَعْلَی الْجَنَّۃِ جَنَّۃِ الْخُلْدِ۔ (یا اللہ! میں تجھ سے ایسی نعمتوں کا سوال کرتا ہوں جو کبھی زائل نہ ہوں،آنکھوں کی ایسی ٹھنڈک کا سوال کرتا ہوں، جو کبھی ختم نہ ہوں او ر جنت کے اعلیٰ مقامات میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ساتھ چاہتا ہوں۔)

11827

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11827

Zaeef

۔ (۱۱۸۲۷)۔ وَعَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ کُنْتُ مُؤَمِّرًا أَحَدًا دُوْنَ مَشْوَرِۃِ الْمُؤْمِنِیْنَ لَأَمَّرْتُ اِبْنَ أُمِّ عَبْدٍ۔)) (مسند احمد: ۵۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کابیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر میں نے کسی کی مشاورت کے بغیر کسی کو امیر بنانا ہوتا تو میں ام عبد کے بیٹےیعنی عبداللہ بن مسعود کو امیر بناتا۔

11828

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11828

Sahih

۔ (۱۱۸۲۸)۔ وَعَنْ أُمِّ مُوسٰی، قَالَتْ: سَمِعْتُ عَلِیًّا رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ یَقُولُ: أَمَرَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ابْنَ مَسْعُودٍ فَصَعِدَ عَلٰی شَجَرَۃٍ، أَمَرَہُ أَنْ یَأْتِیَہُ مِنْہَا بِشَیْئٍ، فَنَظَرَ أَصْحَابُہُ إِلٰی سَاقِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُودٍ حِینَ صَعِدَ الشَّجَرَۃَ فَضَحِکُوْا مِنْ حُمُوشَۃِ سَاقَیْہِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مَا تَضْحَکُونَ لَرِجْلُ عَبْدِ اللّٰہِ أَثْقَلُ فِی الْمِیزَانِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ مِنْ أُحُدٍََََ۔)) (مسند احمد: ۹۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو حکم دیا کہ وہ درخت پر چڑھ کر وہاں کوئی چیز اتار لائیں، وہ درخت پر چڑھے، جب صحابۂ کرام نے ان کے درخت پر چڑھتے ہوئے ان کی پتلی پتلی کم زور پنڈلیوں کو دیکھا تو وہ ہنسنے لگے، لیکن رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم کیوں ہنستے ہو؟ قیامت کے دن عبداللہ کی ٹانگ ترازو میں احد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوگی۔

11829

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11829

Sahih

۔ (۱۱۸۲۹)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّہُ کَانَ یَجْتَنِی سِوَاکًا مِنَ الْأَرَاکِ، وَکَانَ دَقِیق السَّاقَیْنِ، فَجَعَلَتِ الرِّیحُ تَکْفَؤُہُ، فَضَحِکَ الْقَوْمُ مِنْہُ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((مِمَّ تَضْحَکُونَ؟)) قَالُوْا: یَا نَبِیَّ اللّٰہِ مِنْ دِقَّۃِ سَاقَیْہِ، فَقَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَہُمَا أَثْقَلُ فِی الْمِیزَانِ مِنْ أُحُدٍٍٍٍٍ۔)) (مسند احمد: ۳۹۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ وہ پیلو کے درخت سے مسواک توڑ رہے تھے، ان کی پنڈ لیاں کم زور تھیں،ہوا چلنے کی وجہ سے کپڑا اڑنے لگا تو لوگ ان کی باریک پنڈلیوں کو دیکھ کر ہنسنے لگ گئے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پوچھا: تم کس بات پہ ہنس رہے ہو؟ صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے نبی! ان کی کم زور پنڈلیوں کو دیکھ کر ہنسی آرہی ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، یہ پنڈلیاں ترازو میں احد پہاڑ سے بھی زیادہ وزنی ہوں گی۔

11830

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11830

Sahih

۔ (۱۱۸۳۰)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ: أَتَیْنَا حُذَیْفَۃَ، فَقُلْنَا: دُلَّنَا عَلٰی أَقْرَبِ النَّاسِ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہَدْیًا وَسَمْتًا وَوَلَائً، نَأْخُذْ عَنْہُ وَنَسْمَعْ مِنْہُ، فَقَالَ: کَانَ أَقْرَبَ النَّاسِ بِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہَدْیًا وَسَمْتًا وَدَلًّا ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ حَتّٰی یَتَوَارَی عَنِّی فِی بَیْتِہِ، وَلَقَدْ عَلِمَ الْمَحْفُوظُونَ مِنْ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ عَلَیْہِ الصَّلَاۃ وَالسَّلَامُ أَنَّ ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ مِنْ أَقْرَبِہِمْ إِلَی اللّٰہِ زُلْفَۃً (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: وَسِیْلَۃً یَوْمَ الْقِیَامَۃِ)۔ (مسند احمد: ۲۳۷۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

عبدالرحمن بن یزید سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا حذیفہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں گئے اور ہم نے کہا آپ ہمیں کسی ایسے آدمی کی طرف راہ نمائی کریں جو اپنی سیرت، کردار اور عمل کے لحاظ سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سب سے زیادہ قریب ہو، تاکہ ہم اس سے کچھ حاصل کر سکیں اور اس سے احادیث کا سماع کر سکیں،انہوں نے کہا:سیرت، کردار اور عمل کے لحاظ سے ام عبد کے بیٹے سیدنا عبداللہ بن مسعود رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سب سے زیادہ قریب ہیں،یہاں تک کہ وہ گھر داخل ہو جائیں (یعنی ان کے گھر سے باہر کے تمام معمولات سنت نبوی کے مطابق ہوتے ہیں اور میں ان کے گھر کے اندرونی معمولات نہیں جانتا۔)ایک روایت میں یوں ہے:تم جس قسم کے آدمی کے متعلق پوچھتے ہو تو ایسا شخص عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ہی ہے، گھر سے باہر آکر گھر جانے تک اس کے تمام معمولات رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معمولات کے مطابق ہوتے ہیں، اب میں یہ نہیں جانتا کہ گھر کے اندر ان کے معمولات کیا ہوتے ہیں؟ اصحاب محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میں سے اہل علم جانتے ہیں کہ ام عبد کے بیٹے عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ان میں سے اللہ کے سب سے زیادہ قریب ہیں۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ قیامت کے دن ان سب سے بڑھ کر اللہ کے مقرب ہوں گے۔

11831

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11831

Sahih

۔ (۱۱۸۳۱)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((إِذْنُکَ عَلَیَّ أَنْ تَرْفَعَ الْحِجَابَ وَأَنْ تَسْتَمِعَ سِوَادِی حَتَّی أَنْہَاکَ۔)) قَالَ أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ: قَالَ أَبِیْ: بِسَوَادِیْ، سِرِّیْ، قَالَ: اَذِنَ لَہُ أَنْ یَسْمَعَ سِرَّہٗ۔ (مسند احمد: ۳۶۸۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پردہ کو اٹھا دیا جانا تمہارے لیے آگے آجانے کی اجازت کے مترادف ہے اور تم میری راز کی باتوں کو سننے کے بھی مجازہو، یہاں تک کہ میں تمہیں اس سے روک دوں۔ ابوعبدالرحمن نے کہا: سِوَاد کا معنی راز ہے، یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انہیں راز کی باتیں سننے کی اجازت دے رکھی تھی۔

11832

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11832

Sahih

۔ (۱۱۸۳۲)۔ قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: قَرَأْتُ مِنْ فِی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سَبْعِینَ سُورَۃً، وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ لَہُ ذُؤَابَۃٌ فِی الْکُتَّابِ، (وَفِیْ لَفْظٍ: وَزَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ غُلَامٌ لَہٗ ذُؤَابَتَانِ یَلْعَبُ مَعَ الْغِلْمَانِ)۔ (مسند احمد: ۳۸۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ میں نے ستر سورتیں براہ راست رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سیکھی ہیں۔ زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس وقت چھوٹے تھے اور زیر تعلیم تھے۔ انہوں نے لٹیں رکھی ہوئی تھیں۔ دوسری روایت کے الفاظ ہیں کہ زید بن ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بچے تھے ان کی دولٹیں تھیں اور وہ بچوں کے ساتھ کھیلا کرتے تھے۔

11833

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11833

Sahih

۔ (۱۱۸۳۳)۔ عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَل کُنْتُ أَرْعٰی غَنَمًا لِعُقْبَۃَ بْنِ أَبِی مُعَیْطٍ، فَمَرَّ بِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَبُو بَکْرٍ، فَقَالَ: ((یَا غُلَامُ ہَلْ مِنْ لَبَنٍ؟)) قَالَ: قُلْتُ: نَعَمْ، وَلٰکِنِّی مُؤْتَمَنٌ، قَالَ: ((فَہَلْ مِنْ شَاۃٍ لَمْ یَنْزُ عَلَیْہَا الْفَحْلُ؟)) فَأَتَیْتُہُ بِشَاۃٍ فَمَسَحَ ضَرْعَہَا فَنَزَلَ لَبَنٌ فَحَلَبَہُ فِی إِنَائٍ فَشَرِبَ وَسَقَی أَبَا بَکْرٍ، ثُمَّ قَالَ لِلضَّرْعِ: ((اقْلِصْ۔)) فَقَلَصَ قَالَ: ثُمَّ أَتَیْتُہُ بَعْدَ ہٰذَا فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ عَلِّمْنِی مِنْ ہٰذَا الْقَوْلِ، قَالَ: ((فَمَسَحَ رَأْسِی وَقَالَ: یَرْحَمُکَ اللّٰہُ فَإِنَّکَ غُلَیِّمٌ مُعَلَّمٌ۔)) (وَفِیْ رِوَایَۃٍ) قَالَ: فَأَتَاہُ أَبُو بَکْرٍ بِصَخْرَۃٍ مَنْقُورَۃٍ فَاحْتَلَبَ فِیہَا فَشَرِبَ وَشَرِبَ أَبُو بَکْرٍ وَشَرِبْتُ، قَالَ: ثُمَّ أَتَیْتُہُ بَعْدَ ذٰلِکَ قُلْتُ: عَلِّمْنِی مِنْ ہٰذَا الْقُرْآنِ، قَالَ: ((إِنَّکَ غُلَامٌ مُعَلَّمٌ۔)) قَالَ: فَأَخَذْتُ مِنْ فِیہِ سَبْعِینَ سُورَۃً۔ (مسند احمد: ۴۴۱۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کابیان ہے، وہ کہتے ہیں: میں عقبہ بن ابی معیط کی بکریا ں چرایا کرتا تھا، رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ میرے پاس سے گزرے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لڑکے! دودھ مل سکتا ہے؟ میں نے عرض کیا: جی ہاں، لیکن یہ میرے پاس امانت ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا اس ریوڑ میں کوئی ایسی بکری ہے، جس کی ابھی تک نر سے جفتی ہی نہ ہوئی ہو؟ تو میں ایک بکری پکڑ کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے آیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا تو دودھ اتر آیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک برتن میں دودھ دوہا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود بھی نوش فرمایا اور ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بھی دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے تھن سے فرمایا: سکڑ جا (یعنی پہلے کی طرح ہو جا)۔ پس وہ سکڑ کر اپنی پہلی حالت میں ہو گیا۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں اس کے بعد ایک موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول! وہ دعا مجھے بھی سکھا دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: تجھ پر اللہ کی رحمت ہو، تو سیکھا سکھایا، پڑھا پڑھایا بچہ ہے۔ دوسری روایت میں ہے: ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ آپ کی خدمت میں پیالےیا برتن کی طرح کا ایک پتھر لے کر آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں دودھ دوہا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے خود بھی نوش فرمایا اور سیدنا ابوبکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیا اور میں نے بھی پیا۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں:میں نے اس کے بعد ایک موقعہ پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: آپ مجھے بھی اس قرآن میں سے کچھ سکھا دیں،آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو پڑھا پڑھایا بچہ ہے۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: چنانچہ میں نے ستر سورتیں براہ راست رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پڑھیں۔

11834

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11834

Sahih

۔ (۱۱۸۳۴)۔ عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ: کُنَّا نَأْتِی عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عَمْرٍو فَنَتَحَدَّثُ عِنْدَہُ، فَذَکَرْنَا یَوْمًا عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ مَسْعُودٍ فَقَالَ: لَقَدْ ذَکَرْتُمْ رَجُلًا لَا أَزَالُ أُحِبُّہُ مُنْذُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((خُذُوا الْقُرْآنَ مِنْ أَرْبَعَۃٍ مِنْ ابْنِ أُمِّ عَبْدٍ۔)) فَبَدَأَ بِہِ، ((وَمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، وَأُبَیِّ بْنِ کَعْبٍ، وَسَالِمٍ مَوْلٰی أَبِی حُذَیْفَۃَ۔)) (مسند احمد: ۶۷۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

مسروق سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم سیدنا عبداللہ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں جایا کرتے اور ان کے ہاں بیٹھ کر باتیں کیا کرتے تھے، ہم نے ایک دن سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ کیا تو انھوں نے کہا: تم نے ایک ایسے آدمی کا نام لے دیا ہے کہ میں نے جب سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ حدیث سنی ہے، تب سے میں اس سے محبت کرتا ہوں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایاہے: تم لوگ چار آدمیوں سے قرآن کا علم حاصل کرو، ابن ام عبد، معاذ بن جبل، ابی بن کعب اور مولائے ابی حذیفہ سالم سے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سب سے پہلے ام عبد کے بیٹے سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا نام لیا۔