Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11824
۔ (۱۱۸۲۴)۔ ثَنَا جَرِیرٌ یَعْنِی ابْنَ حَازِمٍ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ قَالَ: قَالَ رَجُلٌ لِعَمْرِو بْنِ الْعَاصِ: أَرَأَیْتَ رَجُلًا مَاتَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَہُوَ یُحِبُّہُ أَلَیْسَ رَجُلًا صَالِحًا؟ قَالَ: بَلٰی، قَالَ: قَدْ مَاتَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَہُوَ یُحِبُّکَ وَقَدِ اسْتَعْمَلَکَ، فَقَالَ: قَدِ اسْتَعْمَلَنِی فَوَاللّٰہِ مَا أَدْرِی أَحُبًّا کَانَ لِی مِنْہُ أَوْ اسْتِعَانَۃً بِی، وَلٰکِنْ سَأُحَدِّثُکَ بِرَجُلَیْنِ مَاتَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم وَہُوَ یُحِبُّہُمَا عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُودٍ وَعَمَّارُ بْنُ یَاسِرٍ۔ (مسند احمد: ۱۷۹۶۰)
اردو ترجمہ · Urdu
حسن بصری سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کی اس شخص کے بارے میں کیا رائے ہے، جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تا حیات محبت کرتے رہے ہوں، کیا وہ صالح آدمی نہیں ہوگا؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، تو اس نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو انہوں نے آپ کو اپناعامل بنا کر بھیجا ہوا تھا، سیدنا عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے کہا: انہوں نے مجھے عامل تو بنایا تھا، اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ مجھ سے محبت کی وجہ سے یا میری مدد کرنے کے لیے مجھے عامل بنایا تھا، البتہ میں تمہیں بتلاتا ہوں کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے تشریف لے گئے تو آپ دو آدمیوں سے محبت کرتے تھے، ایک سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور دوسرے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ ۔