Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11820
۔ (۱۱۸۲۰)۔ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ أَبِی، قَالَ: جَعَلْتُ أَکْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْہِہِ، قَالَ: فَجَعَلَ الْقَوْمُ یَنْہَوْنِی وَرَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لَا یَنْہَانِی، قَالَ: فَجَعَلَتْ عَمَّتِی فَاطِمَۃُ بِنْتُ عَمْرٍو تَبْکِی، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((أَتَبْکِینَ أَوْ لَا تَبْکِینَ مَا زَالَتْ الْمَلَائِکَۃُ تُظِلُّہُ بِأَجْنِحَتِہِمْ حَتّٰی رَفَعْتُمُوہُ۔)) قَالَ حَجَّاجٌ فِی حَدِیثِہِ: تُظَلِّلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۳۶)
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:جب میرے والد کی شہادت ہوئی تو میں ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانے لگا،لوگ مجھے ایسا کرنے سے روکنے لگے، لیکن رسول اللہ نہیں روکتے تھے، میری پھوپھی سیدہ فاطمہ بنت عمرو رضی اللہ عنہا رونے لگیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تو مت روؤ یا نہ روؤ، تم نے جب تک اس میت کو اٹھایا نہیں، فرشتوں نے اس پر سایہ کئے رکھا۔