Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2421

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے والد سیدنا عبداللہ بن حرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

4 hadiths in this chapter

11820

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11820

Sahih

۔ (۱۱۸۲۰)۔ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: لَمَّا قُتِلَ أَبِی، قَالَ: جَعَلْتُ أَکْشِفُ الثَّوْبَ عَنْ وَجْہِہِ، قَالَ: فَجَعَلَ الْقَوْمُ یَنْہَوْنِی وَرَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَا یَنْہَانِی، قَالَ: فَجَعَلَتْ عَمَّتِی فَاطِمَۃُ بِنْتُ عَمْرٍو تَبْکِی، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((أَتَبْکِینَ أَوْ لَا تَبْکِینَ مَا زَالَتْ الْمَلَائِکَۃُ تُظِلُّہُ بِأَجْنِحَتِہِمْ حَتّٰی رَفَعْتُمُوہُ۔)) قَالَ حَجَّاجٌ فِی حَدِیثِہِ: تُظَلِّلُہُ۔ (مسند احمد: ۱۴۲۳۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:جب میرے والد کی شہادت ہوئی تو میں ان کے چہرے سے کپڑا ہٹانے لگا،لوگ مجھے ایسا کرنے سے روکنے لگے، لیکن رسول اللہ نہیں روکتے تھے، میری پھوپھی سیدہ فاطمہ بنت عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا رونے لگیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو مت روؤ یا نہ روؤ، تم نے جب تک اس میت کو اٹھایا نہیں، فرشتوں نے اس پر سایہ کئے رکھا۔

11821

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11821

Sahih

۔ (۱۱۸۲۱)۔ عَنْ جَابِرٍ قَالَ: قَالَ لِی رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا جَابِرُ! أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ أَحْیَا أَبَاکَ فَقَالَ لَہُ: تَمَنَّ عَلَیَّ، فَقَالَ: أُرَدُّ إِلَی الدُّنْیَا فَأُقْتَلُ مَرَّۃً أُخْرٰی، فَقَالَ: إِنِّی قَضَیْتُ الْحُکْمَ أَنَّہُمْ إِلَیْہَا لَا یُرْجَعُونَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۹۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جابر! کیا تم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے والد کو زندہ کرکے اس سے فرمایا: تم مجھ سے جو چاہو مانگو میں تمہیں دوں گا۔ تیرے والد نے کہا: مجھے دنیا میں واپس بھیج دیا جائے، تاکہ میں دوبارہ شہیدہو سکوں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا:یہ تو میں فیصلہ کر چکا ہوں کہ ان لوگوں کو دنیا میں دوبارہ نہیں بھیجا جائے گا۔

11822

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11822

Zaeef

۔ (۱۱۸۲۲)۔ عَنْ جَابِرٍ یَقُولُ: اسْتُشْہِدَ أَبِی بِأُحُدٍ، فَأَرْسَلْنَنِی أَخَوَاتِی إِلَیْہِ بِنَاضِحٍ لَہُنَّ فَقُلْنَ: اذْہَبْ فَاحْتَمِلْ أَبَاکَ عَلٰی ہٰذَا الْجَمَلِ، فَادْفِنْہُ فِی مَقْبَرَۃِ بَنِی سَلِمَۃَ، قَالَ: فَجِئْتُہُ وَأَعْوَانٌ لِی، فَبَلَغَ ذٰلِکَ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ جَالِسٌ بِأُحُدٍ فَدَعَانِی وَقَالَ: ((وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ لَا یُدْفَنُ إِلَّا مَعَ إِخْوَتِہِ۔)) فَدُفِنَ مَعَ أَصْحَابِہِ بِأُحُدٍ۔ (مسند احمد: ۱۵۳۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میرے والد کی غزوۂ احد میں شہادت ہوئی، میری بہنوں نے اپنا اونٹ دے کر مجھے بھیجا کہ اپنے والد کی میت کو اس اونٹ پر لاد کر قبیلہ بنو سلمہ کے قبرستان میں دفن کروں، پس میں اور میرے ساتھی گئے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم احد کے مقام پر بیٹھے تھے، جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو ہمارے ارادے کا علم ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلوا کر فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تمہارے باپ کو اس کے دوسرے شہید بھائیوں کے ساتھ ہی دفن کیاجائے گا۔ چنانچہ ان کو احد ہی میں دوسرے شہداء کے ساتھ دفن کیا گیا۔

11823

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11823

Sahih

۔ (۱۱۸۲۳)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنَ الْمَدِینَۃِ إِلَی الْمُشْرِکِینَ لِیُقَاتِلَہُمْ، وَقَالَ لِی أَبِی عَبْدُ اللّٰہِ: یَا جَابِرُ لَا عَلَیْکَ أَنْ تَکُونَ فِی نَظَّارِی أَہْلِ الْمَدِینَۃِ حَتّٰی تَعْلَمَ إِلٰی مَا یَصِیرُ أَمْرُنَا، فَإِنِّی وَاللّٰہِ لَوْلَا أَنِّی أَتْرُکُ بَنَاتٍ لِی بَعْدِی لَأَحْبَبْتُ أَنْ تُقْتَلَ بَیْنَ یَدَیَّ، قَالَ: فَبَیْنَمَا أَنَا فِی النَّظَّارِینَ إِذْ جَائَ تْ عَمَّتِی بِأَبِی وَخَالِی عَادِلَتَہُمَا عَلٰی نَاضِحٍ، فَدَخَلَتْ بِہِمَا الْمَدِینَۃَ لِتَدْفِنَہُمَا فِی مَقَابِرِنَا، إِذْ لَحِقَ رَجُلٌ یُنَادِی أَلَا إِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَأْمُرُکُمْ أَنْ تَرْجِعُوْا بِالْقَتْلٰی فَتَدْفِنُوہَا فِی مَصَارِعِہَا حَیْثُ قُتِلَتْ، فَرَجَعْنَا بِہِمَا فَدَفَنَّاہُمَا حَیْثُ قُتِلَا، فَبَیْنَمَا أَنَا فِی خِلَافَۃِ مُعَاوِیَۃَ بْنِ أَبِی سُفْیَانَ إِذْ جَائَنِی رَجُلٌ فَقَالَ: یَا جَابِرُ بْنَ عَبْدِ اللّٰہِ! وَاللّٰہِ لَقَدْ أَثَارَ أَبَاکَ عَمَلُ مُعَاوِیَۃَ فَبَدَا فَخَرَجَ طَائِفَۃٌ مِنْہُ فَأَتَیْتُہُ فَوَجَدْتُہُ عَلَی النَّحْوِ الَّذِی دَفَنْتُہُ لَمْ یَتَغَیَّرْ إِلَّا مَا لَمْ یَدَعِ الْقَتْلُ أَوْ الْقَتِیلُ فَوَارَیْتُہُ۔ (مسند احمد: ۱۵۳۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مشرکین سے قتال کرنے کی غرض سے مدینہ منورہ سے روانہ ہوئے، میرے والد عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھ سے کہا: اس میں کوئی حرج نہیں کہ تم اہل مدینہ کے ساتھ رہو اور اس جنگ کے انجام کو دیکھو۔ اللہ کی قسم! اگر میں اپنے بعد اپنی بیٹیوں کو نہ چھوڑ کر جا رہا ہوتا تو میں یہ پسند کرتا کہ تم میری نظروں کے سامنے شہید ہو جاؤ۔ اب میں مدینہ منورہ میں جنگ کے نتیجہ کے انتظار میں رہا تھا کہ میری پھوپھی میرے والد اور ماموں عمرو بن جموح کو اونٹ پر رکھے ہوئے آگئیں، میں انہیں لے کر مدینہ منورہ لے گیا تاکہ ان کو اپنے آبائی قبرستان میں دفن کروں، اتنے میں ایک اعلان کرنے والے نے اعلان کیا کہ خبر دار! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تمہیں حکم دیتے ہیں کہ تم شہداء کو واپس احد لے جا کر ان کے شہید ہونے کے مقامات پر ہی دفن کرو۔ چنانچہ ہم نے ان کو واپس لے جا کر ان کے مقام شہادت پر دفن کیا۔ سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا دور خلافت تھا کہ ایک آدمی نے آکر مجھ سے کہا: اے جابر بن عبداللہ! سیدنا معاویہ بن ابی سفیان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے اہل کاروں نے تمہارے باپ کی قبر کو کھول ڈالا ہے اور ان کی میت ظاہر ہو گئی ہے اور اس کا کچھ حصہ قبر سے باہر نکل آیا ہے۔ میں وہاں پہنچا تو دیکھا کہ میں نے ان کو جس حال میں دفن کیا تھا، وہ اسی طرح تھے، ان میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی، البتہ قتل والے زخم بدلے ہوئے تھے، چنانچہ میں نے ان کو دوبارہ دفن کردیا۔