Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2411

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا عبداللہ بن خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

2 hadiths in this chapter

11776

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11776

Sahih

۔ (۱۱۷۷۶)۔ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِیلُ، أَخْبَرَنَا أَیُّوبُ، عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلَالٍ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ عَبْدِ الْقَیْسِ کَانَ مَعَ الْخَوَارِجِ، ثُمَّ فَارَقَہُمْ قَالَ: دَخَلُوْا قَرْیَۃً فَخَرَجَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ خَبَّابٍ ذَعِرًا یَجُرُّ رِدَائَہُ، فَقَالُوْا: لَمْ تُرَعْ، قَالَ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ رُعْتُمُونِی، قَالُوْا: أَنْتَ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ خَبَّابٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَہَلْ سَمِعْتَ مِنْ أَبِیکَ حَدِیثًا یُحَدِّثُہُ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تُحَدِّثُنَاہُ؟ قَالَ: نَعَمْ، سَمِعْتُہُ یُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ ذَکَرَ فِتْنَۃً الْقَاعِدُ فِیہَا خَیْرٌ مِنَ الْقَائِمِ وَالْقَائِمُ فِیہَا خَیْرٌ مِنَ الْمَاشِی وَالْمَاشِی فِیہَا خَیْرٌ مِنَ السَّاعِی، قَالَ: فَإِنْ أَدْرَکْتَ ذَاکَ فَکُنْ عَبْدَ اللّٰہِ الْمَقْتُولَ، قَالَ أَیُّوبُ: وَلَا أَعْلَمُہُ إِلَّا قَالَ: وَلَا تَکُنْ عَبْدَ اللّٰہِ الْقَاتِلَ، قَالُوْا: أَأَنْتَ سَمِعْتَ ہَذَا مِنْ أَبِیکَ یُحَدِّثُہُ عَنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَقَدَّمُوہُ عَلٰی ضَفَّۃِ النَّہَرِ فَضَرَبُوْا عُنُقَہُ فَسَالَ دَمُہُ کَأَنَّہُ شِرَاکُ نَعْلٍ مَا ابْذَقَرَّ وَبَقَرُوْا أُمَّ وَلَدِہِ عَمَّا فِی بَطْنِہَا۔ (مسند احمد: ۲۱۳۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

حمید بن ہلال سے روایت ہے، وہ قبیلہ عبد القیس کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں، جو شروع میں خوارج کے ساتھ تھا، پھر ان سے الگ ہو گیا تھا، اس سے مروی ہے کہ خوارج ایک بستی میں داخل ہوئے، سیدنا عبداللہ بن خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنی چادر گھسیٹتے ہوئے خوف زدہ سے ہو کر اس بستی سے باہر نکل گئے۔ خوارج نے ان سے کہا: آپ پریشان نہ ہوں، آپ گھبرائیں نہیں، آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! تم لوگوں نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا۔ خوارج نے کہا: آپ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے صحابی خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بیٹے عبداللہ ہیں؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، خوارج نے پوچھا: کیا آپ نے اپنے والد سے کوئی حدیث سنی ہو، جسے وہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کرتے ہوں، براہ کرم آپ ہمیں وہ حدیث تو بیان کر دیں۔ سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی ہاں، میں نے اپنے والد کو سنا، انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کیا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک فتنے کا ذکر کیا کہ اس فتنہ کے دوران کھڑے آدمی کی بہ نسبت بیٹھا رہنے والا اور چلنے والے کی نسبت کھڑا رہنے والا اور فتنہ میں دوڑنے والے کی بہ نسبت عام رفتار سے چلنے والابہتر ہوگا۔رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر تمہارا اس قسم کے حالات سے سامنا ہو تو اللہ کا مقتول بندہ بن جانا۔ حدیث کے راوی حمید کے شاگرد ایوب نے کہا: مجھے یقین ہے کہ حمید بن ہلال نے اس سے آگے یہ بھی بیان کیا کہ تم اللہ کے قاتل بندے نہ بننا۔ خوارج نے پوچھا:کیا آپ نے یہ حدیث برا ہ راست اپنے والد سے سنی ہے کہ وہ اس حدیث کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کرتے تھے۔ سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی بالکل، عبدالقیس کا ایک فرد بیان کرتا ہے کہ یہ حدیث سننے کے باوجود انہوں نے سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو نہر (دریا) کے کنارے لے جا کر ان کی گردن اڑا دی اور ان کا خون دریا کے پانی میں اس طرح چلا گویاکہ وہ جوتے کا تسمہ ہے، (یعنی وہ پانی کے اندر حل نہ ہوا اور دھاگے یا تسمے کی مانند پانی میں بہتا رہا۔) اور ان ظالموں نے ان کی ام ولد کا پیٹ بھی پھاڑ ڈالا۔

11777

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11777

Sahih

۔ (۱۱۷۷۷)۔ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ ہِلَالٍ نَحْوَہُ إِلَّا أَنَّہُ قَالَ: مَا ابْذَقَرَّ یَعْنِی لَمْ یَتَفَرَّقْ، وَقَالَ: لَا تَکُنْ عَبْدَ اللّٰہِ الْقَاتِلَ وَکَذٰلِکَ، قَالَ: بَہْزٌ أَیْضًا۔ (مسند احمد: ۲۱۰۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

حمید بن ہلال سے ان کے دوسرے شاگرد سلیمان نے بھی یہ حدیث ان سے اسی طرح روایت کی ہے۔ البتہ انہوں نے ما ابذعر کی بجائے ما ابذ قر کا لفظ بیان کیا، تاہم دونوں کامعنی و مفہوم ایک ہی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم اللہ تعالیٰ کا قاتل بندہ نہ بننا۔