Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2412

فضائل و مناقب کی کتاب

ذوالبجادین سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

2 hadiths in this chapter

11778

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11778

Sahih

۔ (۱۱۷۷۸)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: لِرَجُلٍ یُقَالُ لَہُ: ذُو الْبِجَادَیْنِ ((اِنَّہٗ أَوَّاہٌ۔)) وَذٰلِکَ أَنَّہٗ کَانَ رَجُلًا کَثِیْرَ الذِّکْرِ لِلّٰہِ عَزَّوَجَلَّ فِی الْقُرْآنِ وَیَرْفَعُ صَوْتَہٗ فِی الدُّعَائِ۔ (مسند احمد: ۱۷۵۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص جسے ذوالبجادین کہا جاتا تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے متعلق فرمایا : و ہ اَوّاہ ہے۔ یعنی اللہ کا ذکر کرتے ہوئے اس پر رقت طاری ہو جاتی ہے، وہ شخص کثرت سے قرآن مجید کی تلاوت کرکے اللہ تعالیٰ کو خوب یاد کیا کرتا اور بلند آواز سے دعائیں کیا کرتا تھا۔

11779

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11779

Zaeef

۔ (۱۱۷۷۹)۔ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنِ ابْنِ الْأَدْرَعِ قَالَ کُنْتُ أَحْرُسُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَاتَ لَیْلَۃٍ، فَخَرَجَ لِبَعْضِ حَاجَتِہِ قَالَ: فَرَآنِی فَأَخَذَ بِیَدِی، فَانْطَلَقْنَا فَمَرَرْنَا عَلٰی رَجُلٍ یُصَلِّی یَجْہَرُ بِالْقُرْآنِ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((عَسٰی أَنْ یَکُونَ مُرَائِیًا۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! یُصَلِّی یَجْہَرُ بِالْقُرْآنِ، قَالَ: فَرَفَضَ یَدِی۔ ثُمَّ قَالَ: (إِنَّکُمْ لَنْ تَنَالُوْا ہٰذَا الْأَمْرَ بِالْمُغَالَبَۃِ۔)) قَالَ: ثُمَّ خَرَجَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ وَأَنَا أَحْرُسُہُ لِبَعْضِ حَاجَتِہِ فَأَخَذَ بِیَدِی فَمَرَرْنَا عَلٰی رَجُلٍ یُصَلِّی بِالْقُرْآنِ، قَالَ: فَقُلْتُ: عَسَی أَنْ یَکُونَ مُرَائِیًا فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((کَلَّا إِنَّہُ أَوَّابٌ۔)) قَالَ: فَنَظَرْتُ فَإِذَا ہُوَ عَبْدُ اللّٰہِ ذُو الْبِجَادَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۹۱۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن الادرع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک رات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پہرہ دے رہا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کسی کام کی غرض سے باہر تشریف لائے، آپ نے مجھے دیکھاتو میرا ہاتھ تھام لیا، ہم چلتے چلتے ایک آدمی کے پاس سے گزرے وہ جہراً قرأت کرتے ہوئے نماز پڑھ رہا تھا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہو سکتا ہے کہ یہ کوئی دکھلاوا کرنے والا ہو۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ تو جہراًتلاوت کرتے ہوئے نماز ادا کر رہا ہے۔ لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ جھٹک دیا اور پھر فرمایا: تم کوشش کرکے بھی اس مقام تک نہیں پہنچ سکتے۔ ابن الادرع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ایک دفعہ پھر میں رات کو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا پہرہ دے رہا تھا کہ آپ کسی کام کی غرض سے باہر تشریف لائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرا ہاتھ تھام لیا، ہم چلتے چلتے ایک آدمی کے پاس سے گزرے جو جہراً تلاوت کرتے ہوئے نمازا دا کررہا تھا۔ میں نے کہا: ہو سکتا ہے کہ یہ دکھلاوا کرنے والا ہو۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر گز نہیں،یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف بہت زیادہ رجوع کرنے والا شخص ہے۔ میں نے دیکھا تو وہ سیدنا عبداللہ ذوالبجا دین ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تھے۔