Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2410

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

5 hadiths in this chapter

11771

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11771

Sahih

۔ (۱۱۷۷۱)۔ حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللّٰہِ الْحَسَنُ بْنُ أَیُّوبَ الْحَضْرَمِیُّ قَالَ: أَرَانِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بُسْرٍ شَامَۃً فِی قَرْنِہِ فَوَضَعْتُ أُصْبُعِی عَلَیْہَا فَقَالَ: وَضَعَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُصْبُعَہُ عَلَیْہَا، ثُمَّ قَالَ: ((لَتَبْلُغَنَّ قَرْنًا۔)) قَالَ أَبُو عَبْدِ اللّٰہِ: وَکَانَ ذَا جُمَّۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۷۸۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو عبداللہ حسن بن ایوب حضرمی سے مروی ہے کہ سیدنا عبداللہ بن بسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے سر کی ایک جانب میں مجھے ایک تل کا نشان دکھایا، میں نے اپنی انگلی اس کے اوپر رکھی تو انہوں نے بتلایا کہ اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی انگلی مبارک اس پر رکھ کر فرمایا تھا کہ تم ایک سو سال کی عمر کو پہنچو گے۔ سیدنا عبداللہ بسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بال کاندھوں تک آتے تھے۔

11772

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11772

Sahih

۔ (۱۱۷۷۲)۔ حَسَنُ بْنُ أَیُّوبَ الْحَضْرَمِیُّ قَالَ: حَدَّثَنِی عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بُسْرٍ صَاحِبُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: کَانَتْ أُخْتِی تَبْعَثُنِی إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِالْہَدِیَّۃِ فَیَقْبَلُہَا، (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: کَانَتْ أُخْتِیْ رُبَمَا بَعَثَتْنِیْ بِالشَّیْئِ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تَطْرُفُہٗ إِیَّاہُ فَیَقْبَلُہٗ مِنِّیْ)۔ (مسند احمد: ۱۷۸۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

حسن بن ایوب حضرمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: صحابیٔ رسول سیدنا عبداللہ بن بسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے مجھے بیان کیا کہ ان کی ہمشیرہ ان کو ایک ہدیہ دے کر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں بھیجا کرتی اور رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس ہدیہ کو قبول فرما لیا کرتے تھے۔ دوسری روایت میں یوں ہے:بسا اوقات میری ہمشیرہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے کوئی تحفہ دے کر مجھے بھیجا کرتی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مجھ سے وہ تحفہ قبول فرما لیا کرتے تھے۔

11773

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11773

Sahih

۔ (۱۱۷۷۳)۔ وَعَنْ یَحْیَ بْنِ حَسَّانَ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ بُسْرٍ الْمَازِنِیَّ یَقُوْلُ: تَرَوْنَ یَدِیْ ھٰذِہِ فَأَنَا بَایَعْتُ بِہَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لا تَصُوْمُوْا یَوْمَ السِّبْتِ إِلَّا فِیْمَا افْتَرَضَ عَلَیْکُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

یحییٰ بن حسان سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن بسر مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو یوں کہتے سنا کہ تم میرایہ ہاتھ دیکھ رہے ہو، میں نے اس ہاتھ کے ساتھ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاتھ پر بیعت کی ہے اور رسو ل اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارشاد ہے کہ تم فرض روزہ کے علاوہ ہفتہ کے دن کا روزہ نہ رکھا کرو۔

11774

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11774

Sahih

۔ (۱۱۷۷۴)۔ عَبْدُ اللّٰہِ بْنُ بُسْرٍ الْمَازِنِیُّ قَالَ بَعَثَنِی أَبِی إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَدْعُوہُ إِلَی الطَّعَامِ فَجَائَ مَعِی فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنَ الْمَنْزِلِ أَسْرَعْتُ فَأَعْلَمْتُ أَبَوَیَّ فَخَرَجَا فَتَلَقَّیَا رَسُولَ اللّٰہِ! ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَرَحَّبَا بِہِ وَوَضَعْنَا لَہُ قَطِیفَۃً کَانَتْ عِنْدَنَا زِئْبِرِیَّۃً فَقَعَدَ عَلَیْہَا ثُمَّ قَالَ أَبِی لِأُمِّی: ہَاتِ طَعَامَکِ، فَجَائَتْ بِقَصْعَۃٍ فِیہَا دَقِیقٌ قَدْ عَصَدَتْہُ بِمَائٍ وَمِلْحٍ فَوَضَعْتُہُ بَیْنَ یَدَیْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((خُذُوا بِسْمِ اللّٰہِ مِنْ حَوَالَیْہَا وَذَرُوا ذُرْوَتَہَا فَإِنَّ الْبَرَکَۃَ فِیہَا۔)) فَأَکَلَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَکَلْنَا مَعَہُ وَفَضَلَ مِنْہَا فَضْلَۃٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اَللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَہُمْ، وَارْحَمْہُمْ، وَبَارِکْ عَلَیْہِمْ، وَوَسِّعْ عَلَیْہِمْ فِیْ اَرْزَاقِہِمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبد اللہ بن بسر مازنی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: مجھے میرے ماں باپ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس بھیجا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو کھانے کی دعوت دوں، میں گیا تو آپ میرے ساتھ تشریف لے آئے، جب میں گھر کے قریب ہوا تو میں نے جلدی سے اپنے والدین کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے آنے کی اطلاع دی، وہ دونوں باہر آئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا استقبال کیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو خوش آمدید کہا، ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے ایک چادر بچھا دی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس پر بیٹھ گئے، پھر میرے باپ نے میری ماں سے کہا: کھانا لاؤ، وہ ایک پیالہ لائیں، اس میں آٹا تھا، جسے انہوں نے پانی اور نمک میں گوند رکھا تھا، میری والدہ نے وہ آپ کے سامنے رکھ دیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ اور اس کے ارگرد سے کھاؤ، اوپر کی جانب سے نہیں کھانا، کیونکہ اوپر سے برکت نازل ہوتی ہے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھایا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہم نے بھی کھایا، اس سے کچھ کھانا بچ گیا، کھانے کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا کی: اللّٰھُمَّ اغْفِرْ لَہُمْ، وَارْحَمْہُمْ، وَبَارِکْ عَلَیْہِمْ، وَوَسِّعْ عَلَیْہِمْ فِیْ اَرْزَاقِہِمْ۔ (اے اللہ! انہیں معاف کردے، ان پررحم فرما، ان کے لیے برکت کر اور ان کے رزق میں وسعت پیدا کر)۔

11775

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11775

Sahih

۔ (۱۱۷۷۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: جَائَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِلٰی أَبِی فَنَزَلَ عَلَیْہِ أَوْ قَالَ لَہُ أَبِی: انْزِلْ عَلَیَّ قَالَ فَأَتَاہُ بِطَعَامٍ وَحَیْسَۃٍ وَسَوِیقٍ فَأَکَلَہُ وَکَانَ یَأْکُلُ التَّمْرَ وَیُلْقِی النَّوٰی وَصَفَ بِأُصْبُعَیْہِ السَّبَّابَۃِ وَالْوُسْطٰی بِظَہْرِہِمَا مِنْ فِیہِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ: فَکَانَ یَاْکُلُ التَّمْرَ وَ یَضَعُ النِّوٰی عَلٰی ظَہْرِ اِصْبَعَیْہِ ثُمَّ یَرْمِیْ بِہٖ) ثُمَّ أَتَاہُ بِشَرَابٍ فَشَرِبَ ثُمَّ نَاوَلَہُ مَنْ عَنْ یَمِینِہِ فَقَامَ فَأَخَذَ بِلِجَامِ دَابَّتِہِ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَرَکِبَ بَغْلَۃً لَہُ بَیْضَائ) فَقَالَ: ادْعُ اللّٰہَ عَزَّ وَجَلَّ لِی فَقَالَ: ((اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَہُمْ فِیمَا رَزَقْتَہُمْ وَاغْفِرْ لَہُمْ وَارْحَمْہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۳۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)سیدنا عبد اللہ بن بسر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میرے باپ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور آپ ہمارے گھر تشریف لائے یا میرے باپ نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے آنے کا مطالبہ کیا تھا، یعنی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بطور مہمان اترے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے میرے باپ نے کھانا پیش کیا اور ساتھ کھجوروں سے بنا ہوا کھانا یا ستو بھی تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کھایا اور آپ کھجوریں کھاتے تھے اور گٹھلیاں پھینک دیتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم انگشت ِ شہادت اور درمیان والی انگلی کو ملاتے تھے اور کھجور کھا کر ان انگلیوں کی پشت پر گٹھلی رکھ کر پھینک دیتے، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پانی لایا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پیا، پھر جو دائیں جانب تھا، اسے پکڑا دیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کھڑے ہوئے اور سفید خچر پر سوار ہو کر اپنی سواری کی لگام تھام لی، میرے باپ نے کہا: میرے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا فرما دیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ دعا کی: اَللّٰھُمَّ بَارِکْ لَہُمْ فِیمَا رَزَقْتَہُمْ وَاغْفِرْ لَہُمْ وَارْحَمْہُمْ۔ (اے اللہ! جو تونے انہیں دیا ہے، اس میں برکت فرما اور انہیں بخش دے اور ان پررحم فرما۔