Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2399

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا صہیب بن سنان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

2 hadiths in this chapter

11747

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11747

Zaeef

۔ (۱۱۷۴۷)۔ أَخْبَرَنَا زَیْدُ بْنُ أَسْلَمَ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَالَ لِصُہَیْبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا: لَوْلَا ثَلَاثُ خِصَالٍ فِیکَ لَمْ یَکُنْ بِکَ بَأْسٌ، قَالَ: وَمَا ہُنَّ فَوَاللّٰہِ مَا نَرَاکَ تَعِیبُ شَیْئًا، قَالَ: اکْتِنَاؤُکَ بِأَبِی یَحْیٰی وَلَیْسَ لَکَ وَلَدٌ، وَادِّعَاؤُکَ إِلَی النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ وَأَنْتَ رَجُلٌ أَلْکَنُ، وَأَنَّکَ لَا تُمْسِکُ الْمَالَ، قَالَ: أَمَّا اکْتِنَائِی بِأَبِی یَحْیٰی، فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَنَّانِی بِہَا فَلَا أَدَعُہَا حَتّٰی أَلْقَاہُ، وَأَمَّا ادِّعَائِی إِلَی النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ فَإِنِّی امْرُؤٌ مِنْہُمْ وَلٰکِنْ اسْتُرْضِعَ لِی بِالْأَیْلَۃِ فَہٰذِہِ اللُّکْنَۃُ مِنْ ذَاکَ، وَأَمَّا الْمَالُ فَہَلْ تَرَانِی أُنْفِقُ إِلَّا فِی حَقٍّ؟ (مسند احمد: ۱۹۱۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا زید بن اسلم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اگر آپ کے اندر تین خصلتیں نہ ہوں تو آپ میں کوئی حرج نہیں ہو گا، انہوں نے دریافت کیا کہ وہ کونسی ہیں؟ اللہ کی قسم! آپ کو کسی چیز کی عیب جوئی کرتے نہیں دیکھا۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: ایک تو یہ کہ آپ نے ابو یحییٰ کنیت رکھی ہوئی ہے، جبکہ آپ کی اولاد نہیں، دوسرے یہ کہ آپ نمر بن قاسط جیسے عظیم شخص کی طرف انتساب کرتے ہیں، جبکہ آپ کی حالت یہ ہے کہ آپ کی زبان میں لکنت ہے اور تیسری بات یہ کہ آپ کے پاس جتنی بھی دولت آجائے آپ اسے خرچ کر ڈالتے ہیں، اسے جمع نہیں رکھتے۔ یہ سن کر انہوں نے جواباً کہا:جہاں تک میری کنیت کا تعلق ہے، تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری یہ کنیت رکھی ہے اور اب میں آپ سے ملاقات تک یعنی مرتے دم تک اس کنیت کو ترک نہیں کروں گا۔دوسری بات کہ میں نمر بن قاسط کی طرف انتساب کرتا ہوں تو میں چونکہ انہی لوگوں میں سے ہوں، تو ان کی طرف نسبت کیوں نہ کروں؟ البتہ حقیقت یہ ہے کہ میری رضاعت أیلہ میں ہوئی ہے، یہ لکنت اسی کا اثر ہے اور باقی رہا مال کو جمع رکھنے کی بجائے خرچ کر ڈالنا۔ تو آپ کا کیا خیال ہے کہ میں اسے ناحق خرچ کرتا ہوں؟

11748

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11748

Zaeef

۔ (۱۱۷۴۸)۔ عَنْ زُہَیْرٍ،عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِیلٍ، عَنْ حَمْزَۃَ بْنِ صُہَیْبٍ، أَنَّ صُہَیْبًا کَانَ یُکَنّٰی أَبَا یَحْیٰی، وَیَقُولُ: إِنَّہُ مِنَ الْعَرَبِ وَیُطْعِمُ الطَّعَامَ الْکَثِیرَ، فَقَالَ لَہُ: عُمَرُ یَا صُہَیْبُ، مَا لَکَ تُکَنّٰی أَبَا یَحْیٰی؟ وَلَیْسَ لَکَ وَلَدٌ، وَتَقُولُ: إِنَّکَ مِنَ الْعَرَبِ وَتُطْعِمُ الطَّعَامَ الْکَثِیرَ وَذٰلِکَ سَرَفٌ فِی الْمَالِ، فَقَالَ صُہَیْبٌ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَنَّانِی أَبَا یَحْیٰی، وَأَمَّا قَوْلُکَ فِی النَّسَبِ فَأَنَا رَجُلٌ مِنَ النَّمِرِ بْنِ قَاسِطٍ مِنْ أَہْلِ الْمَوْصِلِ، وَلٰکِنِّی سُبِیتُ غُلَامًا صَغِیرًا قَدْ غَفَلْتُ أَہْلِی وَقَوْمِی، وَأَمَّا قَوْلُکَ فِی الطَّعَامِ فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُولُ: ((خِیَارُکُمْ مَنْ أَطْعَمَ الطَّعَامَ وَرَدَّ السَّلَامَ۔)) فَذٰلِکَ الَّذِی یَحْمِلُنِی عَلٰی أَنْ أُطْعِمَ الطَّعَامَ۔ (مسند احمد: ۲۴۴۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

حمزہ بن صہیب سے روایت ہے کہ سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی کنیت ابو یحییٰ تھی، نیز وہ خود کو عربوں کی طرف منسوب کیا کرتے تھے اور وہ لوگوں کو کثرت سے کھانا کھلایا کرتے تھے۔ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان سے کہا: صہیب! آپ کی تو اولاد ہی نہیں، آپ نے ابو یحییٰ کنیت کیوں اختیار کی ہوئی ہے؟ اور آپ دعویٰ کرتے ہیں کہ آپ اصلاً عرب ہیں اور آپ دوسروں کو کثرت سے کھانا کھلاتے ہیں،یہ تو مال کا ضیاع ہے؟ یہ سن کر سیدنا صہیب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میری کنیت ابو یحییٰ رکھی ہے، باقی رہا آپ کا میرے نسب کے متعلق اظہار خیال تو میں خاندانی طور پر اہل موصل کے رئیس نمر بن قاسط کے خاندان سے ہوں، البتہ میں چھوٹا بچہ تھا کہ مجھے قیدی بنا لیا گیا اور میں اپنے اہل اور قوم کو بھول بیٹھا، باقی رہا میرے کھانے کھلانے کے بارے میں آپ کی بات تو یاد رکھیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا کرتے تھے کہ تم میں سے بہترین آدمی وہ ہے، جو دوسروں کو کھانا کھلائے اور سلام کا جواب دے۔ یہی چیز مجھے آمادہ کرتی ہے کہ میں دوسروں کو کھانا کھلاؤں۔