Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11749
۔ (۱۱۷۴۹)۔ عَنْ أَبِی وَائِلٍ، عَنْ ضِرَارِ بْنِ الْأَزْوَرِ قَالَ: أَتَیْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقُلْتُ: امْدُدْ یَدَکَ أُبَایِعْکَ عَلَی الْإِسْلَامِ، قَالَ ضِرَارٌ: ثُمَّ قُلْتُ: تَرَکْتُ الْقِدَاحَ وَعَزْفَ الْقِیَانِ وَالْخَمْرَ تَصْلِیَۃً وَابْتِہَالَا وَ کَرِّی الْمُحَبَّرَ فِی غَمْرَۃٍ وَحَمْلِی عَلَی الْمُشْرِکِینَ الْقِتَالَا فَیَا رَبِّ لَا أُغْبَنَنْ صَفْقَتِیْ فَقَدْ بِعْتُ مَالِی وَأَہْلِی ابْتِدَالَا فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((مَا غُبِنَتْ صَفْقَتُکَ یَا ضِرَارُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۸۲۳)
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا ضرار بن ازور رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: آپ اپنا ہاتھ بڑھائیں تاکہ میں آپ کے ہاتھ پر قبول اسلام کی بیعت کروں، پھر میں نے آپ کی خدمت میں یہ اشعار پڑھے: میں نے قسمت آزمائی والے تیر اور گانے والیوں کے گانے گناہوں کی معافی لینے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کے اظہار کے لیے ترک کر دیے۔ اور اپنے محبّر نامی گھوڑے پر سوار ہو کر جاہلی قتل و غارت بھی ترک کر دی اور اب میں مشرکین کے خلاف حملے کرتا ہوں۔ اے رب میں اپنے اس سودے میں خسارانہ پاؤں، میں نے اپنا مال اور سب اہل و عیال اسلام کی خاطر چھوڑ دیئے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ضرار! تم نے اپنی اس تجارت میں خسارے والا کام نہیں کیا۔