Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11682
حدیث کتاب میں بھی موجود نہیں ہے ۔
اردو ترجمہ · Urdu
حدیث کتاب میں بھی موجود نہیں ہے ۔
Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2376
فضائل و مناقب کی کتاب
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی فضیلت کا تذکرہ
4 hadiths in this chapter
Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11682
حدیث کتاب میں بھی موجود نہیں ہے ۔
اردو ترجمہ · Urdu
حدیث کتاب میں بھی موجود نہیں ہے ۔
Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11683
۔ (۱۱۶۸۳)۔ عَنْ أَبِی ہُرَیْرَۃَ قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حَتّٰی إِذَا کُنَّا تَحْتَ ثَنِیَّۃِ لِفْتٍ طَلَعَ عَلَیْنَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ مِنَ الثَّنِیَّۃِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لِأَبِی ہُرَیْرَۃَ: ((انْظُرْ مَنْ ہٰذَا؟)) قَالَ أَبُوہُرَیْرَۃَ: خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ((نِعْمَ عَبْدُ اللّٰہِ ہٰذَا۔)) (مسند احمد: ۸۷۰۵)
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں روانہ ہوئے، جب ہم لفت نامی پہاڑی گھاٹی پر پہنچے تو گھاٹی میں سے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہمارے سامنے آگئے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: دیکھنا،یہ کون آرہا ہے؟ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: یہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اللہ کا بہترین بندہ ہے۔
Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11684
۔ (۱۱۶۸۴)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّہْرِیِّ قَالَ: وَکَانَ عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ الْأَزْہَرِ یُحَدِّثُ: أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ بْنِ الْمُغِیرَۃِ جُرِحَ یَوْمَئِذٍ وَکَانَ عَلَی الْخَیْلِ خَیْلِ رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ ابْنُ الْأَزْہَرِ: قَدْ رَأَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بَعْدَمَا ہَزَمَ اللّٰہُ الْکُفَّارَ وَرَجَعَ الْمُسْلِمُونَ إِلٰی رِحَالِہِمْ یَمْشِی فِی الْمُسْلِمِینَ، وَیَقُولُ: ((مَنْ یَدُلُّ عَلَی رَحْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِیدِ؟)) قَالَ: فَمَشَیْتُ أَوْ قَالَ فَسَعَیْتُ بَیْنَ یَدَیْہِ، وَأَنَا مُحْتَلِمٌ، أَقُولُ: مَنْ یَدُلُّ عَلٰی رَحْلِ خَالِدٍ حَتّٰی حَلَلْنَا عَلٰی رَحْلِہِ، فَإِذَا خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ مُسْتَنِدٌ إِلٰی مُؤْخِرَۃِ رَحْلِہِ، فَأَتَاہُ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَنَظَرَ إِلٰی جُرْحِہِ، قَالَ الزُّہْرِیُّ: وَحَسِبْتُ أَنَّہُ قَالَ: وَنَفَثَ فِیہِ رَسُولُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ۔ (مسند احمد: ۱۹۲۹۱)
اردو ترجمہ · Urdu
عبد الرحمن بن ازہر سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اس دن زخمی ہو گئے اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گھڑ سواروں کے دستہ کے قائد تھے۔ ابن ازہر کہتے ہیں: جب اللہ تعالیٰ نے کفار کو شکست سے دو چار کیا اور مسلمان اپنے خیموں کی طرف واپس آئے تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو میں نے دیکھا کہ آپ مسلمانوں کے درمیان چلتے ہوئے یہ فرماتے ہوئے آرہے تھے کہ کوئی خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے خیمے کے بارے میں بتلائے، میں آپ کے آگے آگے تیزی سے گیا، میں ان دنوں بالغ تھا، میں پکارتاجا رہا تھا کہ کوئی ہے جو خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے خیمے کے متعلق بتلائے۔ یہاں تک کہ ہم چلتے چلتے ان کے خیمے میں جا داخل ہوئے۔ میں نے دیکھا کہ خالد رضی اللہ عنہ اپنے پالان کے پچھلے حصہ پر ٹیک لگائے ہوئے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے قریب آئے۔ ان کے زخم کو دیکھا۔ زہری سے مروی ہے میرا خیال ہے کہ عبدالرحمن بن ازہر نے یہ بھی بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے زخم پر لعاب مبارک بھی لگایا۔
Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11685
۔ (۱۱۶۸۵)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فِیْ قِصَّۃِ اِسْلَامِہٖ قَالَ: ثُمَّ خَرَجْتُ عَامِدًا لِرَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لِأُسْلِمَ، فَلَقِیتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِیدِ، وَذٰلِکَ قُبَیْلَ الْفَتْحِ وَہُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَکَّۃَ، فَقُلْتُ: أَیْنَ یَا أَبَا سُلَیْمَانَ؟ قَالَ: وَاللّٰہِ! لَقَدْ اسْتَقَامَ الْمَنْسِمُ وَإِنَّ الرَّجُلَ لَنَبِیٌّ، أَذْہَبُ وَاللّٰہِ أُسْلِمُ فَحَتّٰی مَتٰی قَالَ: قُلْتُ: وَاللّٰہِ، مَا جِئْتُ إِلَّا لِأُسْلِمَ، قَالَ: فَقَدِمْنَا عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَدِمَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیدِ فَأَسْلَمَ وَبَایَعَ، اَلْحَدِیْثَ۔ وَفِیْ آخِرِہِ: قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ: وَقَدْ حَدَّثَنِی مَنْ لَا أَتَّہِمُ أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ طَلْحَۃَ بْنِ أَبِی طَلْحَۃَ کَانَ مَعَہُمَا أَسْلَمَ حِینَ أَسْلَمَا۔ (مسند احمد: ۱۷۹۳۰)
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اپنا قبول اسلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: پھر میں اسلام قبول کرنے کے ارادے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جانے کا قصد کرکے روانہ ہوا، یہ فتح مکہ سے کچھ پہلے کا واقعہ ہے، میری خالد بن ولید رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی، وہ مکہ کی طرف سے آرہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا: اے ابو سلیمان! کدھر کا ارادہ ہے؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! اب تو راستہ واضح اور نکھر چکا ہے اور وہ آدمی یعنی محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم واقعی اللہ کا نبی ہے، اللہ کی قسم میں تو جا کر اسلام قبول کرتا ہوں، کب تک ادھر ادھر دھکے کھاتا رہوں گا۔ ان کی باتیں سن کر میں نے کہا: اللہ کی قسم! میں بھی مسلمان ہونے اور اسلام قبول کرنے کے ارادے سے آیا ہوں۔ چنانچہ ہم دونوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں جا پہنچے،سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھ کر اسلام قبول کیا اور بیعت کی۔ اس حدیث کے آخر میں ہے اسی حدیث کے ایک راوی ابن اسحاق نے بیان کیا کہ مجھ سے ایک انتہائی با اعتماد آدمی نے بیان کیا کہ جب خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے تو عثمان بن طلحہ بن ابی طلحہ رضی اللہ عنہ بھی ان کے ساتھ مسلمان ہوئے تھے۔