Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2377

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

3 hadiths in this chapter

11686

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11686

Sahih

۔ (۱۱۶۸۶)۔ عَنْ حَارِثَۃَ بْنِ مُضَرِّبٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلٰی خَبَّابٍ وَقَدِ اکْتَوٰی سَبْعًا، فَقَالَ: لَوْلَا أَنِّی سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُولُ: ((لَا یَتَمَنّٰی أَحَدُکُمُ الْمَوْتَ۔)) لَتَمَنَّیْتُہُ۔ وَلَقَدْ رَأَیْتُنِی مَعَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا أَمْلِکُ دِرْہَمًا، وَإِنَّ فِی جَانِبِ بَیْتِی الْآنَ لَأَرْبَعِینَ أَلْفَ دِرْہَمٍ، قَالَ: ثُمَّ أُتِیَ بِکَفَنِہِ فَلَمَّا رَآہُ بَکٰی، قَالَ: لٰکِنَّ حَمْزَۃَ لَمْ یُوجَدْ لَہُ کَفَنٌ إِلَّا بُرْدَۃٌ مَلْحَائُ، إِذَا جُعِلَتْ عَلٰی رَأْسِہِ قَلَصَتْ عَنْ قَدَمَیْہِ، وَإِذَا جُعِلَتْ عَلٰی قَدَمَیْہِ قَلَصَتْ عَنْ رَأْسِہِ حَتّٰی مُدَّتْ عَلٰی رَأْسِہِ وَجُعِلَ عَلٰی قَدَمَیْہِ الْإِذْخِرُ۔ (مسند احمد: ۲۷۷۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

حارثہ بن مضرب سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں سیدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی خدمت میں گیا، وہ ایک بیماری کے علاج کے سلسلہ میں سات داغ لگوا چکے تھے، مگر کچھ افاقہ نہ ہوا تھا، انھوں نے کہا:اگر میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ تم میں سے کوئی آدمی موت کی تمنا نہ کرے۔ تو میں ضرور موت کی تمنا کرتا ۔ میں نے اپنے آپ کو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ اس حال میں دیکھا ہے کہ میرے پاس ایک بھی درہم نہیں ہوتا تھا اور اب یہ حال ہے کہ میرے گھر کے ایک کونے میں چالیس ہزار درہم موجود ہیں، اس کے بعد ان کے پاس ان کا کفن لایا گیا، وہ اسے دیکھ کر رونے لگے اور پھر کہا: ہمارے پاس ایسا کفن موجود ہے۔ لیکن سیدنا حمزہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے کہ ان کے کفن کے لیے محض ایک دھاری دار چادر تھی،ان کے سر پر ڈالی جاتی تو ان کے پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب ان کے پاؤں پر ڈالی جاتی تو سر سے اتر جاتی، بالآخر اسے ان کے سر پر ڈال دیا گیا اور ان کے پاؤں پر اذخرڈال دی گئی۔

11687

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11687

Sahih

۔ (۱۱۶۸۷)۔ عَنْ خَبَّابِ (بْنِ الْأَرَتِّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) قَالَ: ہَاجَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَبَتَغِی وَجْہَ اللّٰہِ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی فَوَجَبَ أَجْرُنَا عَلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ، فَمِنَّا مَنْ مَضٰی لَمْ یَأَکُلْ مِنْ أَجْرِہِ شَیْئًا، مِنْہُمْ مُصْعَبُ بْنُ عُمَیْرٍ قُتِلَ یَوْمَ أُحُدٍ فَلَمْ نَجِدْ شَیْئًا نُکَفِّنُہُ فِیْہِ إِلَّا نَمِرَۃً کُنَّا إِذَا غَطَّیْنَا بِہَا رَأْسَہُ خَرَجَتْ رِجْلَاہُ، وَإِذَا غَطَّیْنَا رِجْلَیْہِ خَرَجَ رَأْسُہُ، فَأَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَعَلٰی آلِہِ وَصَحْبِہِ وَسَلَّمَ أَنْ نُغَطِّیَ بِہَا رَأْسَہُ، وَنَجْعَلَ عَلٰی رِجْلَیْہِ إِذْخِرًا، وَمِنَّا مَنْ أَیْنَعَتْ، لَہُ ثَمَرَتُہُ فَہُوَ یَہْدِ بُہَا یَعْنِی یَجْتَنِیْہَا۔ (مسند احمد: ۲۱۳۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا خباب بن ارت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم نے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ ہجرت کی، اس لیے اللہ تعالیٰ پر ہمارا ثواب ثابت ہو گیا( جیسا کہ اس نے وعدہ کیا ہے)۔ پھر ہم میں بعض لوگ ایسے تھے، جو اپنے عمل کا اجر کھائے بغیر اللہ کے پاس چلے گئے، ان میں سے ایک سیّدنا مصعب بن عمیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بھی تھے، جو احد کے دن شہید ہو گئے، ہمیں ان کے کفن کے لیے صرف ایک چادر مل سکی اور وہ بھی اس قدر مختصر تھی کہ جب ہم ان کا سر ڈھانپتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور جب ان کے پاؤں کو ڈھانپا جاتا تو سر ننگا ہو جاتا۔بالآخر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم ان کا سر ڈھانپ دیں اور ان کے پاؤں پر اذخر (گھاس) ڈال دیں، جبکہ ہم میں بعض ایسے بھی ہیں جن کا پھل تیار ہو چکا اور اب وہ اسے چن رہا ہے۔

11688

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11688

Sahih

۔ (۱۱۶۸۸)۔ عَنْ خَبَّابٍ قَالَ: شَکَوْنَا إِلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَہُوَ یَوْمَئِذٍ مُتَوَسِّدٌ بُرْدَۃً فِی ظِلِّ الْکَعْبَۃِ فَقُلْنَا: أَلَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا اللّٰہَ تَبَارَکَ وَتَعَالٰی أَوْ أَلَا تَسْتَنْصِرُ لَنَا؟ فَقَالَ: ((قَدْ کَانَ الرَّجُلُ فِیمَنْ کَانَ قَبْلَکُمْ یُؤْخَذُ فَیُحْفَرُ لَہُ فِی الْأَرْضِ فَیُجَائُ بِالْمِنْشَارِ عَلٰی رَأْسِہِ فَیُجْعَلُ بِنِصْفَیْنِ فَمَا یَصُدُّہُ ذٰلِکَ عَنْ دِینِہِ، وَیُمَشَّطُ بِأَمْشَاطِ الْحَدِیدِ مَا دُونَ عَظْمِہِ مِنْ لَحْمٍ وَعَصَبٍ فَمَا یَصُدُّہُ ذٰلِکَ، وَاللّٰہِ لَیُتِمَّنَّ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ ہٰذَا الْأَمْرَ حَتّٰی یَسِیرَ الرَّاکِبُ مِنَ الْمَدِینَۃِ إِلٰی حَضْرَمَوْتَ لَا یَخَافُ إِلَّا اللّٰہَ تَعَالٰی وَالذِّئْبَ عَلٰی غَنَمِہِ، وَلٰکِنَّکُمْ تَسْتَعْجِلُونَ۔)) (مسند احمد: ۲۱۳۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا خباب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ہم نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کفار کے مظالم کی شکایت کی، اس وقت آپ کعبہ کے سائے میں ایک چادر کو سر کے نیچے رکھے لیٹے ہوئے تھے۔ ہم نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عرض کیا: آپ اللہ تعالیٰ سے ہماری نصرت کی دعا کیوں نہیں فرماتے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم سے پہلے والے لوگوں پر یہ حالات بھی آئے کہ ایک آدمی کو زمین میں گڑھا کھود کر اس میں کھڑا کر دیا جاتا اور پھر اس کے سر پر آرا چلا کر اس کے دو ٹکڑے کر دیئے جاتے۔ اس قدر ظلم بھی ان لوگوں کو دین سے نہ ہٹانا۔ اور ان لوگوں کے جسموں پر لوہے کی کنگھیاں چلا دی جائیں اور وہ ان کی ہڈیوں اور پٹھوں کے اوپر سے گوشت ادھیڑ کر رکھ دیتیں۔ اس کے باوجود وہ لوگ دین سے پیچھے نہ ہٹتے۔ اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ ضرور بالضرور اپنے دین کو اس حد تک مکمل اور غالب کرے گا کہ ایک سوار مدینہ منورہ سے روانہ ہو کر حضر موت تک کا سفر کرے گا۔ اسے اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کا خوف نہ ہوگا۔ حتیٰ کہ اسے اپنی بکریوں پر بھیڑیوں کے حملے کا بھی خوف نہ ہوگا۔ تم تو بہت جلدی کر رہے ہو۔