Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 172 · Chapter 2375

فضائل و مناقب کی کتاب

سیدنا حنظلہ بن حذیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا تذکرہ

2 hadiths in this chapter

11680

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11680

Sahih

۔ (۱۱۶۸۰)۔ عَنْ ذَیَّالِ بْنِ عُبَیْدِ بْنِ حَنْظَلَۃَ، عَنْ جَدَّۃِ حَنْظَلَۃَ بْنِ حِذْیَمٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، أَنَّ أَبَاہٗ دَنَا بِہِ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: إِنَّ لِی بَنِینَ ذَوِی لِحًی وَدُونَ ذٰلِکَ، وَإِنَّ ذَا أَصْغَرُہُمْ فَادْعُ اللّٰہَ لَہُ فَمَسَحَ رَأْسَہُ، وَقَالَ: ((بَارَکَ اللّٰہُ فِیکَ أَوْ بُورِکَ فِیہِ۔)) قَالَ ذَیَّالٌ: فَلَقَدْ رَأَیْتُ حَنْظَلَۃَ یُؤْتٰی بِالْإِنْسَانِ الْوَارِمِ وَجْہُہُ أَوِ الْبَہِیمَۃِ الْوَارِمَۃِ الضَّرْعُ فَیَتْفُلُ عَلٰی یَدَیْہِ وَیَقُولُ: بِسْمِ اللّٰہِ، وَیَضَعُ یَدَہُ عَلٰی رَأْسِہِ، وَیَقُولُ: عَلٰی مَوْضِعِ کَفِّ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَیَمْسَحُہُ عَلَیْہِ وَقَالَ ذَیَّالٌ: فَیَذْہَبُ الْوَرَمُ۔ (احمد: ۲۰۹۴۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا حنظلہ بن حذیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے ان کو لے کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے قریب جا بٹھایا اور عرض کیا: میرے بیٹے باریش یعنی بڑی عمر کے بھی ہیں اور ان سے چھوٹے بھی ہیں،یہ سب سے چھوٹا ہے، آپ اللہ تعالیٰ سے اس کے حق میں دعا فرمائیں۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور فرمایا: اللہ تمہارے اندر برکت فرمائے۔ ذیال کہتے ہیں: میں نے سیدنا حنظلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو دیکھاکہ جب کسی آدمی کا چہرہ یا جانور کا تھن متورم ہو جاتا اور ایسے آدمی یا جانور کو سیدنا حنظلہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس لایا جاتا اور وہ بسم اللہ کہہ کر اپنے سر کے اس حصے پر ہاتھ لگاتے، جہاں اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی ہتھیلی مبارک رکھی تھی اور اس کے بعد وہ اپنا ہاتھ اس بیمار آدمی یا جانور پر پھیرتے تو اس کا ورم زائل ہو جاتا۔

11681

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11681

Sahih

۔ (۱۱۶۸۱)۔ عَنْ وَحْشِیِّ بْنِ حَرَبٍ، أَنَّ أَبَا بَکْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ عَقَدَ لِخَالِدِ بْنِ الْوَلِیْدِ عَلٰی قِتَالِ أَھْلِ الرِّدَّۃِ وَقَالَ: اِنِّیْ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((نِعْمَ عَبْدُ اللّٰہِ وَأَخُوْ الْعَشِیْرَۃِ خَالِدُ بْنُ الْوَلِیْدِ سَیْفٌ مِنْ سُیُوْفِ اللّٰہِ سَلَّہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ عَلَی الْکُفَّارِ وَالْمُنَافِقِیْنَ۔)) (مسند احمد: ۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا وحشی بن حرب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مرتدین کے مقابلے کے لیے مقرر فرمایا اور کہا : میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں فرماتے سنا کہ ’’خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اللہ کا بہترین بندہ اور قوم کا بہترین فرد ہے ، یہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک تلوار ہے ، جسے اللہ تعالیٰ نے کفار اور منافقین پر مسلط کیا ہے ۔‘‘