Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2332

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ آپ کی بعض ازواج کا حیلہ کرنے کا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ان کی ایذائوں کو برداشت کرنے، ان سے درگزر کرنے اور گھر کے اندر انکساری کا رویہ اختیار کرنے کا بیان

3 hadiths in this chapter

11486

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11486

Sahih

۔ (۱۱۴۸۶)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُحِبُّ الْحَلْوٰی وَیُحِبُّ الْعَسَلَ، وَکَانَ إِذَا صَلَّی الْعَصْرَ دَارَ عَلٰی نِسَائِہِ، فَیَدْنُو مِنْہُنَّ فَدَخَلَ عَلٰی حَفْصَۃَ فَاحْتَبَسَ عِنْدَہَا أَکْثَرَ مِمَّا کَانَ یَحْتَبِسُ، فَسَأَلْتُ: عَنْ ذٰلِکَ فَقِیلَ لِی أَہْدَتْ لَہَا امْرَأَۃٌ مِنْ قَوْمِہَا عُکَّۃَ عَسَلٍ فَسَقَتْ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْہُ، فَقُلْتُ: أَمَا وَاللّٰہِ لَنَحْتَالَنَّ لَہُ، فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لِسَوْدَۃَ، وَقُلْتُ: إِذَا دَخَلَ عَلَیْکِ فَإِنَّہُ سَیَدْنُوْ مِنْکِ فَقُولِیْ لَہُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَکَلْتَ مَغَافِرَ فَإِنَّہُ سَیَقُولُ لَکِ: لَا، فَقُولِی لَہُ مَا ہٰذِہِ الرِّیحُ؟ وَکَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَشْتَدُّ عَلَیْہِ أَنْ یُوجَدَ مِنْہُ رِیحٌ، فَإِنَّہُ سَیَقُولُ لَکِ: سَقَتْنِی حَفْصَۃُ شَرْبَۃَ عَسَلٍ، فَقُولِی لَہُ: جَرَسَتْ نَحْلُہُ الْعُرْفُطَ، وَسَأَقُولُ لَہُ ذٰلِکَ، فَقُولِی لَہُ أَنْتِ یَا صَفِیَّۃُ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلٰی سَوْدَۃَ قَالَتْ سَوْدَۃُ: وَالَّذِی لَا إِلٰہَ إِلَّا ہُوَ لَقَدْ کِدْتُ أَنْ أُبَادِئَہُ بِالَّذِی قُلْتِ لِی، وَإِنَّہُ لَعَلَی الْبَابِ فَرَقًا مِنْکِ، فَلَمَّا دَنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَکَلْتَ مَغَافِرَ؟ قَالَ: ((لَا۔)) قُلْتُ: فَمَا ہٰذِہِ الرِّیحُ؟ قَالَ: ((سَقَتْنِی حَفْصَۃُ شَرْبَۃَ عَسَلٍ۔)) قُلْتُ: جَرَسَتْ نَحْلُہُ الْعُرْفُطَ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَیَّ قُلْتُ لَہُ مِثْلَ ذٰلِکَ، ثُمَّ دَخَلَ عَلٰی صَفِیَّۃَ فَقَالَتْ لَہُ مِثْلَ ذٰلِکَ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلٰی حَفْصَۃَ قَالَتْ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ أَلَا أَسْقِیکَ مِنْہُ، قَالَ: ((لَا حَاجَۃَ لِی بِہِ۔)) قَالَ: تَقُولُ سَوْدَۃُ: سُبْحَانَ اللّٰہِ، وَاللّٰہِ! لَقَدْ حَرَمْنَاہُ، قُلْتُ لَھَا: اُسْکُتِیْ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو میٹھی چیز اور شہد خوب مرغوب تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عصر کی نماز ادا فرمانے کے بعد اپنی ازواج کے ہاں چکر لگایا کرتے اور ان کے پاس جایا کرتے تھے، ایک بار آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں تشریف لے گئے اور سابقہ معمول سے ذرا زیادہ دیر تک وہاں ٹھہرے، میں نے اس کی وجہ دریافت کی تو مجھے بتلایا گیا کہ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو ان کی قوم کی ایک عورت نے شہد کا ایک بڑا ڈبہ ہدیہ بھیجا ہے۔ انہوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو اس شہد میں سے پلایا ہے۔ میں نے سوچا کہ اللہ کی قسم! ہم اس سلسلہ میں ضرور کوئی پروگرام بنائیں۔ تو میں نے اس بات کا سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ذکر کیا، میں نے ان سے کہا کہ اللہ کے رسول جب آپ کے پاس آکر آپ کے قریب آئیں تو کہہ دینا کہ اے اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کہیں گے کہ نہیں، تو تم نے کہنا ہے کہ تو پھر آپ سے یہ کیسی مہک (بو) آرہی ہے؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بالکل گوارا نہ تھی کہ آپ سے کسی قسم کی بو آئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمائیں گے کہ مجھے حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے شہد پلایا ہے۔ تو تم کہہ دینا کہ شہد کی مکھی اس درخت پر جا بیٹھی ہو گی، جب آپ میرے پاس تشریف لائیں گے تو میں بھییہی بات آپ سے کہوں گی۔ اور صفیہ! جب اللہ کے رسول آپ کے ہاں آئیں تو تم بھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اسی طرح کہنا۔ چنانچہ جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں گئے تو وہ بیان کرتی ہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ابھی رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دروازے پر ہی تھے کہ میں تمہارے ڈر کی وجہ سے جلدی میں آپ سے وہ بات کہنے والی تھی، جو تم نے مجھ سے کہی تھی۔ بہر حال جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم آئے تو میں نے کہہ دیا: اللہ کے رسول! کیا آپ نے مغافیر کھایا ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں۔ میں نے عرض کیا: تو پھر یہ بو کیسی ہے؟ آپ نے فرمایا: مجھے تو حفصہ نے شہد پلایا ہے۔ میں نے کہا: پھر شہد کی مکھی مغافیر پر جا بیٹھی ہوگی، اسی طرح جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم میرے ہاں تشریف لائے تو میں نے بھی اسی طرح کہا۔ اس کے بعد جب آپ سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں گئے تو انہوں نے بھی آپ سے ایسی ہی بات کی۔ بعد میں جب آپ سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے ہاں تشریف لے گئے تو انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول ! کیا میں آپ کووہ شہد نہ پلاؤں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: نہیں، مجھے اس کی حاجت نہیں۔ سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: سبحان اللہ! ہم نے آپ کو اس شہد سے محروم کر دیا ہے۔ تو میں نے ان سے کہا: چپ رہو۔

11487

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11487

Sahih

۔ (۱۱۴۸۷)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: أُقِیْمَتِ الصَّلَاۃُ وَقَدْ کَانَ بَیْنَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَبَیْنَ نِسَائِہِ شَیْئٌ، فَجَعَلَ یَرُدُّ بَعْضَہُنَّ عَنْ بَعْضٍ فَجَائَ أَبُوْ بَکْرٍ فَقَالَ: احْثُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فِیْ أَفْوَاہِہِنَّ التُّرَابَ وَاخْرُجْ إِلَی الصَّلَاۃِ۔ (مسند احمد: ۱۲۰۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ نماز کے لیے اقامت ہو چکی تھییا نماز کی اقامت کا وقت ہو چکا تھا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور آپ کی ازواج کے مابین کوئی بحث ہو رہی تھی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان کو ایک دوسری سے چھڑانے کی کوشش کر رہے تھے۔ اتنے میں سیدنا ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ تشریف لے آئے اور انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ان کے مونہوں میں مٹی ڈالیں اور آپ نماز کے لیے تشریف لے چلیں۔

11488

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11488

Sahih

۔ (۱۱۴۸۸)۔ عَنِ الْأَسْوَدِ قَالَ: قُلْتُ لِعَائِشَۃَ: مَا کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَصْنَعُ فِیْ أَھْلِہِ؟ قَالَتْ: کَانَ فِیْ مِہْنَۃِ أَھْلِہِ، فَاِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاۃُ خَرَجَ إِلَی الصَّلَاۃِ۔ (مسند احمد: ۲۴۷۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

اسود سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے دریافت کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم گھر آکر کیا کچھ کرتے تھے؟ انھوں نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اہل خانہ کے کاموں میں ہاتھ بٹاتے، نماز کا وقت ہوتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے۔