Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2333

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

خادم رسول سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اور دیگر خدام رسول کا تذکرہ

2 hadiths in this chapter

11489

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11489

Sahih

۔ (۱۱۴۸۹)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: خَدَمْتُ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَشْرَ سِنِینَ، فَمَا أَمَرَنِی بِأَمْرٍ فَتَوَانَیْتُ عَنْہُ أَوْ ضَیَّعْتُہُ فَلَامَنِی، فَإِنْ لَامَنِی أَحَدٌ مِنْ أَہْلِ بَیْتِہِ إِلَّا قَالَ: ((دَعُوہُ فَلَوْ قُدِّرَ۔)) أَوْ قَالَ: ((لَوْ قُضِیَ أَنْ یَکُونَ کَانَ۔)) (مسند احمد: ۱۳۴۵۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی رسول کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی دس برس تک خدمت کی۔ (ایک روایت میں نو سال کا ذکر ہے)آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے جو حکم بھی دیا اور پھر مجھ سے اس بارے میں کوتاہی ہو گئییا نقصان ہو گیا اورآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے گھر میں سے کسی نے بھی مجھے برابھلا کہا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرماتے: اسے چھوڑ دو،اگر ایسا ہونا مقدر میں ہوتا تو وہ ہو جاتا ۔

11490

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11490

Sahih

۔ (۱۱۴۹۰)۔ عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ أَنَّہُ قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أُہْدِیَتْ لَہُ بَغْلَۃٌ شَہْبَائُ فَرَکِبَہَا فَأَخَذَ عُقْبَۃُیَقُودُہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِعُقْبَۃَ: ((اقْرَأْ۔)) فَقَالَ: وَمَا أَقْرَأُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ؟ قَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((اقْرَأْ {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}۔)) فَأَعَادَہَا عَلَیْہِ حَتّٰی قَرَأَہَا فَعَرَفَ أَنِّی لَمْ أَفْرَحْ بِہَا جِدًّا فَقَالَ: ((لَعَلَّکَ تَہَاوَنْتَ بِہَا فَمَا قُمْتَ تُصَلِّی بِشَیْء ٍ مِثْلِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۴۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عقبہ بن عامر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو تحفے میں ایک سفید خچر دیا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس پر سوار ہوئے، سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اس کو چلا رہے تھے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے فرمایا: پڑھو۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میںکیا پڑھوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: {قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ}پڑھو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سورت کو دہرایا،یہاں تک کہ سیدنا عقبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سورت کو پڑھ لیا، لیکن جب آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دیکھا کہ میں اس سورت سے زیادہ خوش نہیں ہوا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لگتا ہے، تم اس کو معمولی سمجھ رہے ہو، تو نے نماز میں اس جیسی سورت نہیں پڑھی ہو گی (یعنییہ بے مثال سورت ہے، جس کو نماز میں پڑھا جائے)۔