Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2331

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی اپنی ازواج کے ساتھ نرمی اور ان کے امور کا اہتمام کرنے کا بیان

6 hadiths in this chapter

11480

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11480

Sahih

۔ (۱۱۴۸۰)۔ عَنْ أَنَسٍ قَالَ: کَانَ رَجُلٌ یَسُوقُ بِأُمَّہَاتِ الْمُؤْمِنِینَیُقَالُ لَہُ: أَنْجَشَۃُ، فَاشْتَدَّ فِی السِّیَاقَۃِ، فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا أَنْجَشَۃُ رُوَیْدَکَ سَوْقًا بِالْقَوَارِیرِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۰۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا بیان ہے کہ ایک صحابی امہات المؤمنین کے اونٹوں کو ہانکا کرتا تھا، اس کو انجشہ کہا جاتا تھا، ایک بار اس نے اونٹوں کو تیز تیز چلانا شروع کر دیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: انجشہ! ان آبگینوں کو آرام آرام سے لے کر چلو۔

11481

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11481

Sahih

۔ (۱۱۴۸۱)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: بَیْنَمَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَسِیْرُ وَحَادٍ یَحْدُو بِنِسَائِہِ فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاِذَا ھُوَ قَدْ تَنَحّٰی بِہِنَّ، قَالَ: فَقَالَ لَہُ: ((یَا أَنْجَشَۃُ! وَیْحَکَ اُرْفُقْ بِالْقَوَارِیْرِ۔)) (مسند احمد: ۱۲۷۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیّدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چل رہے تھے اور ایک حدی خوان حدی کرتے ہوئے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی بیویوں والے اونٹوں کو چلا رہا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مسکرا پڑے، اس سے اس نے (مزید حدی کے ذریعے) ان کو تیزی کے ساتھ چلانا شروع کر دیا، جس پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو فرمایا: انجشہ! تجھ پر افسوس ہے، شیشوں کے ساتھ نرمی کر۔

11482

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11482

Sahih

۔ (۱۱۴۸۲)۔ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ عَنْ أَبِی قِلَابَۃَ عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَتٰی عَلٰی أَزْوَاجِہِ وَسَوَّاقٌ یَسُوقُ بِہِنَّ، یُقَالُ لَہُ: أَنْجَشَۃُ، فَقَالَ: ((وَیْحَکَیَا أَنْجَشَۃُ رُوَیْدَکَ سَوْقَکَ بِالْقَوَارِیرِ)) قَالَ أَبُو قِلَابَۃَ: تَکَلَّمَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِکَلِمَۃٍ لَوْ تَکَلَّمَ بِہَا بَعْضُکُمْ لَعِبْتُمُوہَا عَلَیْہِیَعْنِی قَوْلَہُ: سَوْقَکَ بِالْقَوَارِیرِ۔ (مسند احمد: ۱۲۹۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

ابو قلابہ سے روایت ہے کہ وہ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی ازواج کے پاس آئے۔ تو ایک شتر بان (حدی خوان) ان کے اونٹوں کو ہانکے جا رہا تھا۔ اس کا نام انجشہ تھا۔ آپ نے فرمایا، انجشہ! تمہارا بھلا ہو۔ تم ان آبگینوں کو ذرا آرام سے لے چلو۔ ابوقلابہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک ایسا لفظ بولا کہ اگر تم میں سے کوئی اور آدمی یہ لفظ بولتا تو تم اسے معیوب گردانتے۔ یعنی آپ نے اس سے کہا کہ ان آبگینوں کو آرام سے لے چلو۔

11483

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11483

Sahih

۔ (۱۱۴۸۳)۔ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ جَارًا لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَارِسِیًّا، کَانَ طَیِّبَ الْمَرَقِ (وَفِیْ رِوَایَۃٍ کَانَتْ مَرَقَتُہُ اَطْیَبَ شَیْئٍ رِیْحًا) فَصَنَعَ لِرَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ثُمَّ جَائَ ہُ یَدْعُوہُ، فَقَالَ: ((وَہٰذِہِ لِعَائِشَۃَ۔)) فَقَالَ: لَا، فَقَالَ: رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((لَا۔)) ثُمَّ عَادَ یَدْعُوہُ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((وَہٰذِہِ)) قَالَ: لَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((وَہٰذِہِ)) قَالَ: نَعَمْ، فِی الثَّالِثَۃِ، فَقَامَا یَتَدَافَعَانِ حَتّٰی أَتَیَا مَنْزِلَہُ۔ (مسند احمد: ۱۲۲۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ایک ہمسایہ فارس کا رہنے والا تھا، وہ بہترین قسم کا شور با بناتا تھا۔ (دوسری روایت کے لفظ ہیں کہ اس کا تیار کردہ شورباانتہائی مزیدار ہوتا تھا۔) اس نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے شوربا تیار کیا، پھر آپ کو وہ بلانے آیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیایہ (یعنی عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ) بھی؟ (یعنی ان کو بھی ساتھ لاؤں) ؟ اس نے کہا: نہیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دوبارہ فرمایا: کیایہ عائشہ بھی؟ اس نے کہا: جی نہیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: اور یہ عائشہ؟ اب کی بار اس نے کہا: جی ہاں، اس کے بعد آپ دونوں خوشی خوشی اس کے گھر گئے۔

11484

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11484

Sahih

۔ (۱۱۴۸۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ أُمِّ الْمُؤْمِنِینَ قَالَتْ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُولُ لَہُنَّ: ((إِنَّ أَمْرَکُنَّ لَمِمَّا یُہِمُّنِی بَعْدِی، وَلَنْ یَصْبِرَ عَلَیْکُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ۔)) (مسند احمد: ۲۴۹۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان سے فرمایا کرتے تھے کہ تم ازواج کے معاملے نے مجھے اپنے بعد تمہارے بارے میں فکر مند کر رکھا ہے اور تمہاری باتوں کو وہی لوگ برداشت کر سکیں گے جو صبر کرنے والے ہوں گے۔

11485

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11485

Sahih

۔ (۱۱۴۸۵)۔ (وَعَنْہَا مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ أَبِیہِ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَۃُ: إِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَحْنٰی عَلَیَّ، فَقَالَ: ((إِنَّکُنَّ لَأَہَمُّ مَا أَتْرُکُ إِلٰی وَرَائِ ظَہْرِی، وَاللّٰہِ لَا یَعْطِفُ عَلَیْکُنَّ إِلَّا الصَّابِرُونَ أَوِ الصَّادِقُونَ۔)) (مسند احمد: ۲۵۴۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔(دوسری سند) ابو سلمہ کہتے ہیں کہ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے بیان کیا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے اوپر جھک کر انتہائی شفقت سے فرمایا: میں اپنے بعد جو امور چھوڑ کر جاؤں گا، تم میری بیویوں کا معاملہ میرے نزدیک ان سب سے زیادہ اہم ہے۔ اللہ کی قسم! تمہارے اوپر جو لوگ شفقت کریں گے، وہ صبر اور صدق کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوں گے۔