Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11301
۔ (۱۱۳۰۱)۔ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ أَبِیْ بَکْرٍ، قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ثَلَاثِیْنَ وَمِائَۃً، فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((ھَلْ مَعَ أَحَدٍ مِنْکُمْ طَعَامٌ؟)) فَإِذَا مَعَ رَجُلٍ صَاعٌ مِنْ طَعَامٍ أَوْنَحْوُہٗ،فَعُجِنَ، ثُمَّجَائَرَ جُلٌمُشْرِکٌ مُشْعَانٌّ طَوِیْلٌ بِغَنَمٍ یَسُوْقُہَا، فَقَالَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم : ((أَبَیْعًا أَمْ عَطِیَّۃً؟)) أَوْ قَالَ: ((أَمْ ہَدِیَّۃً؟)) قَالَ: لَا، بَلْ بَیْعٌ، فَاشْتَرٰی مِنْہُ شَاۃً، فَصُنِعَتْ، وَأَمَرَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بِسَوَادِ الْبَطْنِ أَنْ یُشْوٰی، قَالَ: وَأَیْمُ اللّٰہِ! مَا مِنَ الثَّلَاثِیْنَ وَالْمِائَۃِ إِلَّاقَدْحَزَّلَہٗرَسُوْلُاللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حَزَّۃً مِنْ سَوَادِ بَطْنِہَا، إِنْ کَانَ شَاھِدًا أَعْطَاھَا إِیَّاہٗ، وَإِنْ کَانَ غَائِبًا خَبَأَلَہٗ،قَالَ: وَجَعَلَمِنْہَاقَصْعَتَیْنِ، قَالَ: فَأَکَلْنَا أَجْمَعُوْنَ وَشَبِعْنَا، وَفَضَلَ فِی الْقَصْعَتَیْنِ، فَجَعَلْنَاہُ عَلَی الْبَعِیْرِ، أَوْ کَمَا قَالَ۔ (مسند احمد: ۱۷۰۳)
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم ایک سو تیس آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی معیت میں تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دریافت فرمایا: کیا کسی کے پاس کھانا ہے؟ ایک آدمی کے پاس کھانے کی تقریباً ایک صاع کی مقدارتھی،پس اس کا آٹا گوندھا گیا، اس کے بعد ایک مشرک آدمی بکریاں ہانکتے ہوئے آیا، اس کے سر کے بال بکھرے ہوئے اور پرا گندہ تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بکریاں فروخت کرو گے یا عطیہ کرو گے؟ اس نے کہا: عطیہ یا ہبہ نہیں، بلکہ فروخت کروں گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ایک بکری خریدی، اسے ذبح کر کے تیار کیا گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی کلیجی گردے وغیرہ بھوننے کا حکم دیا۔ اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بکری کی کلیجی کا حصہ ہر آدمی کے لیے رکھا، جو کوئی موجود تھا اسے دے دیااور جو موجود نہیں تھا، اس کے لیے رکھ چھوڑا۔ بکری کے گوشت کے دو تھال تیار کیے گئے۔ ہم سب نے سیر ہو کر کھایا اور دونوں میں گوشت بچا رہا، پھر ہم نے وہ بچا ہوا کھانا اونٹ پر لاد لیا۔