Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2284

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

یہ بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا معجزہ ہے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی برکت سے پانی میںاضافہ ہو گیا

5 hadiths in this chapter

11317

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11317

Sahih

۔ (۱۱۳۱۷)۔ عَنْ سَلَمَۃَ بْنِ الْأَکْوَعِ، قَالَ: قَدِمْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الْحُدَیْبِیَۃَ وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ مِائَۃً، وَعَلَیْہَا خَمْسُوْنَ شَاۃً لَا تُرْوِیْہَا، فَقَعَدَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی حِیَالِھَا، فَإِمَّا دَعَا وَإِمَّا بَصَقَ، فَجَاشَتْ، فَسَقَیْنَا وَاسْتَقَیْنَا۔ (مسند احمد: ۱۶۶۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدناسلمہ بن اکوع ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ حدیبیہ کے مقام پر پہنچے، ہماری تعداد چودہ سو تھی، وہاں اس قدر معمولی پانی تھا کہ پچاس بکریوں کو بھی سیراب نہ کر سکتا تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کنوئیں کے کنارے پر بیٹھ گئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دعا فرمائی یا اس میں اپنا لعاب ڈالا تو اس کنویں کا پانی جوش مارنے لگا، پس ہم نے پانی پیا اور پلایا۔

11318

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11318

Sahih

۔ (۱۱۳۱۸)۔ عَنِ الْبَرَائِ، قَالَ: إِنْتَہَیْنَا إِلَی الْحُدَیْبِیَۃِ، وَھِیَ بِئْرٌ قَدْ نُزِحَتْ، وَنَحْنُ أَرْبَعَ عَشْرَۃَ مِائَۃً، قَالَ: فَنُزِعَ مِنْہَا دَلْوٌ فَتَمَضْمَضَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِنْہُ ثُمَّ مَجَّہُ فِیْہِ وَ دَعَا، قَالَ: فَرُوِیْنَا وَأَرْوَیْنَا۔ (مسند احمد: ۱۸۷۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: ہم حدیبیہ کے مقام پر پہنچے اور وہاں ایک کنواں تھا، جس کا پانی ختم ہونے کے قریب تھا۔ ہماری تعداد چودہ سو تھی۔ کنوئیں سے پانی کا ایک ڈول نکالا گیا۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے کچھ پانی لے کر کلی کرکے وہ اس میں ڈال دیا اور دعا بھی فرمائی۔ پس پھر ہم پانی سے خوب سیراب ہوئے اور دوسروں کو بھی سیراب کیا۔

11319

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11319

Zaeef

۔ (۱۱۳۱۹)۔ عَنِ الْبَرَائِ، قَالَ: کُنَّا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی مَسِیْرٍ فَأَتَیْنَا عَلٰی رَکِیِّ ذَمَّۃٍ،یَعْنِی قَلِیْلَۃَ الْمَائِ، قَالَ: فَنَزَلَ فِیْہَا سِتَّۃٌ أَنَا سَادِسُہُمْ مَاحَۃً، فَأُدْلِیَتْ إِلَیْنَا دَلْوٌ قَالَ: وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَلٰی شَفَۃِ الرَّکِیِّ، فَجَعَلْنَا فِیْہَا نِصْفَہَا أَوْ قِرَابَ ثُلُثَیْہَا فَرُفِعَتْ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ الْبَرَائُ: فَکِدْتُّ بِإِنَائِیْ ھَلْ أَجِدُ شَیْئًا أَجْعَلُہُ فِی حَلْقِی فَمَا وَجَدْتُّ، فَرُفِعَتِ الدَّلْوُ إِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَغَمَسَ یَدَہُ فِیْہَا فَقَالَ مَاشَائَ اللّٰہُ أَنْ یَقُوْلَ، فَعِیْدَتْ إِلَیْنَا الدَّلْوُ بِمَا فِیْہَا، قَالَ: فَلَقَدْ رَأَیْتُ أَحَدَنَا أُخْرِجَ بِثَوْبٍ خَشْیَۃَ الْغَرَقِ، قَالَ: ثُمَّ سَاحَتْ یَعْنِی جَرَتْ نَہْرًا۔ (مسند احمد: ۱۸۷۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ تھے، ہم ایک ایسے کنوئیں تک پہنچے جس میں بہت تھوڑا پانی تھا، کنوئیں سے پانی نکالنے کے لیے پانچ آدمی اس میں اترے، میں چھٹا تھا، کنویں میں ہماری طرف ڈول ڈالا گیا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کنویں کے کنارے پر موجود تھے۔ ہم نے اس ڈول میں اس کے نصف تک یا دو تہائی تک پانی بھرا تو اسے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف اوپر کو کھینچ لیا گیا۔ سیدنا برائ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: میں نے کوشش کی کہ اپنے برتن میں کچھ پانی ڈال کر اپنے حلق کو تر کر لوں، مگر مجھے اس قدر تھوڑا سا پانی بھی نہ مل سکا۔ ڈول اوپر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف کھینچا گیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں ہاتھ ڈبو کر اللہ تعالیٰ سے دعا فرمائی اور ڈول کو پانی سمیت کنویں کے اندر ہماری طرف واپس اتارا گیا۔ اس کی برکت سے کنویں میں اتنا پانی ہو گیا کہ ہمارے ڈوب جانے کے اندیشہ سے ہم میں سے ہر ایک کو کپڑے کے ساتھ باندھ کر باہر نکالا گیا، اس کے بعد وہ نہر کی طرح بہنے لگا۔

11320

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11320

Sahih

۔ (۱۱۳۲۰)۔ عَنْ أَبِیْ قَتَادَۃَ أَنَّہُ کَانَ فِیْ سَفَرٍ مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَصْحَابِہِ وَکَانَ مَعَہُ مِیْضَأٌ وَفِیْہَا جَرْعَۃُ مَائٍ، قَالَ اَبُوْ قَتَادَۃَ: فَلَمَّا اشْتَدَّتِ الظَّہِیرَۃُ رَفَعَ لَہُمْ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالُوا: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! ہَلَکْنَا عَطَشًا تَقَطَّعَتِ الْأَعْنَاقُ، فَقَالَ: ((لَا ہُلْکَ عَلَیْکُمْ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((یَا أَبَا قَتَادَۃَ ائْتِ بِالْمِیضَأَۃِ۔)) فَأَتَیْتُہُ بِہَا فَقَالَ: ((احْلِلْ لِی غُمَرِی۔)) یَعْنِی قَدَحَہُ فَحَلَلْتُہُ فَأَتَیْتُہُ بِہِ فَجَعَلَیَصُبُّ فِیہِ وَیَسْقِی النَّاسَ فَازْدَحَمَ النَّاسُ عَلَیْہِ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ((یَا أَیُّہَا النَّاسُ أَحْسِنُوا الْمَلَأَ فَکُلُّکُمْ سَیَصْدُرُ عَنْ رِیٍّ۔)) فَشَرِبَ الْقَوْمُ حَتّٰی لَمْ یَبْقَ غَیْرِی وَغَیْرُ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَصَبَّ لِیََََ فَقَالَ: ((اِشْرَبْ یَا أَبَا قَتَادَۃَ!)) قَالَ قُلْتُ: اِشْرَبْ أَنْتَ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! قَالَ إِنَّ سَاقِیَ الْقَوْمِ آخِرُہُمْ فَشَرِبْتُ وَشَرِب بَعْدِی وَبَقِیَ فِی الْمِیضَأَۃِ نَحْوٌ مِمَّا کَانَ فِیہَا وَہُمْ یَوْمَئِذٍ ثَلَاثُ مِائَۃٍ۔… الحدیث۔ (مسند احمد: ۲۲۵۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو قتادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ایک سفر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور صحابۂ کرام کے ساتھ تھا، ان کے پاس وضو کا ایک برتن تھا، جس میں محض ایک چلو کی مقدارپانی تھا، جب دھوپ خوب تیز ہوئییعنی گرمی بڑھی تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لوگوں کے سامنے آئے۔ لوگوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! پیاس کی شدت کی وجہ سے ہم مر رہے ہیں، ہماری تو گردنیں ٹوٹ رہی ہیں۔ آپ نے فرمایا: آج تم پر ہلاکت نہیں پڑے گی۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابو قتادہ! تم وضو والا برتن لے کر آؤ۔ میں نے وہ برتن آپ کی خدمت میں پیش کیا، آپ نے فرمایا: تم میرا چھوٹا پیالہ کھول لاؤ۔ میں اسے کھول کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لایا، آپ اس میں پانی ڈال کر لوگوں کو پلانے لگے، لوگ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ارد گرد جمع ہوگئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: لوگو! پانی بھرنے کے لیے اچھا رویہ اپناؤ، تم میں سے ہر ایک سیراب ہو کر لوٹے گا۔ سب لوگوں نے خوب پانی پیا، صرف اللہ کے رسول ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اور میں بچ گئے، آپ نے پیالے میں میرے لیے پانی ڈالا اور فرمایا: ابو قتادہ! لو پیو۔ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! پہلے آپ پئیں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پلانے والا آخر میں پیتا ہے۔ تب میں نے پیا، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے میرے بعد نوش فرمایا اور وضو کے برتن میں پانی جتنا تھا، وہ تقریباً اتنا ہی رہا۔ اس دن صحابہ کی تعداد تین سو تھی۔

11321

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11321

Zaeef

۔ (۱۱۳۲۱)۔ عَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: کَانَ فِی الْمَائِ قِلََّۃٌ، فَتَوَضَّأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی قَدَحٍ أَوْ فِی جَفْنَۃٍ، فَنَضَحْنَا بِہِ، قَالَ: وَالسَّعِیْدُ فِی أَنْفُسِنَا مَنَ أَصَابَہُ وَلَا نُرَاہُ إِلَّا قَدْ أَصَابَ الْقَوْمَ کُلَّہُمْ، قَالَ: ثُمَّ صَلّٰی بِنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الضُّحٰی۔ (مسند احمد: ۲۰۹۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدناعائذ بن عمرو ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ پانی تھوڑا تھا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک پیالےیا کھلے برتن میں وضو کیا، ہم نے اس سے پانی لے لے کر مختصر وضو کیا، ہم میں وہ آدمی خوش قسمت تھا، جسے اس پانی میں سے کچھ مل گیا۔ ہمارا خیال ہے کہ پانی ہر آدمی کو مل گیا تھا۔ اس کے بعد رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں چاشت کے وقت نماز پڑھائی۔