Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 171 · Chapter 2282

سنہ (۱) ہجری کے اہم واقعات

اس امر کا بیان کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے معجزات میں سے ایکیہ بھی ہے کہ شدید پیاس کے موقع پر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگشت ہائے مبارکہ سے پانی پھوٹنے لگا

8 hadiths in this chapter

11293

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11293

Sahih

۔ (۱۱۲۹۳)۔ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: عَطِشَ النَّاسُ یَوْمَ الْحُدَیْبِیَّۃِ وَرَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَیْنَیَدَیْہِ رَکْوَۃٌیَتَوَضَّأُ مِنْہَا، إِذْ جَہَشَ النَّاسُ نَحْوَہٗ،فَقَالَ: ((مَاشَأْنُکُمْ؟)) قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہ!ِ إِنَّہُ لَیْسَ لَنَا مَائٌ نَشْرَبُ مِنْہُ وَلَا مَائٌ نَتَوَضَّأُبِہِ إِلَّامَا بَیْنَیَدَیْکَ، فَوَضَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدَیْہِ فِی الرَّکْوَۃِ، فَجَعَلَ الْمَائُ یَفُوْرُ مِنْ بَیْنِ أَصَابِعِہِ کَأَمْثَالِ الْعُیُوْنِ، فَشَرِبْنَا وَتَوَضَّأْنَا، فَقُلْتُ: کَمْ کُنْتُمْ؟ قَالَ: لَوْ کُنَّا مِائَۃَ أَلْفٍ لَکَفَانَا، کُنَّا خَمْسَ عَشْرَۃَ مِائَۃً۔ (مسند احمد: ۱۴۵۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدناجابربن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: حدیبیہ کے دن لوگوں کو شدید پیاس لگی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے چمڑے کا ایک چھوٹا سا برتن تھا، جس سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وضو کیا کرتے تھے، لوگ اس برتن کی طرف للچائی نظروں سے دیکھنے لگے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: کیا بات ہے؟ انہوں نے عر ض کیا: اللہ کے رسول! آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے موجود پانی کے علاوہ ہمارے پاس پینےیا وضو کرنے کے لیے پانی نہیں ہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ چمڑے کے اس برتن میں رکھ دیئے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگلیوں سے پانی چشموں کی مانند پھوٹنے لگا۔ہم نے پانی پیااور وضو کیا۔سالم بن ابی جعد کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا کہ اس دن آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے کہا: اگر ہم ایک لاکھ بھی ہوتے تو وہ پانی ہمیں کافی رہتا ،ویسے ہماری تعداد پندرہ سو تھی۔

11294

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11294

Sahih

۔ (۱۱۲۹۴)۔ حَدَّثَنَا عَبْدُالرََّزَّاقِ، أنَا سُفْیَانُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاہِیْمَ، عَنْ عَلْقَمَۃَ، عَنْ عَبْدِاللّٰہِ، قَالَ: کُنَّا مَعَ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی سَفَرٍ، فَلَمْ یَجِدُوْا مَائً، فَأُتِیَ بِتَوْرٍ مِنْ مَائٍ، فَوَضَعَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِیْہِیَدَہٗ وَفَرَّجَ بََیْنَ أَصَابِعِہِ، قَالَ: فَرَأَیْتُ الْمَائَ یَتَفَجَّرُ مِنْ بَیْنِ أَصَابِعِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، ثُمَّ قَالَ: ((حَیَّ عَلَی الْوَضُوْئِ وَالْبَرَکَۃِ مِنَ اللّٰہِ۔)) قَالَ الْأَعْمَشُ: فَأَخْبَرَنِی سَالِمٌ بْنُ أَبِی الْجَعْدِ، قَالَ: قُلْتُ لِجَابِرٍ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ: کَمْ کَانَ النَّاسُیَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: کُنَّا أَلْفًا وَخَمْسَ مِائَۃٍ۔ (مسند احمد: ۳۸۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم ایک سفر میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ساتھ تھے، صحابہ کو پانی نہ ملا، پھر پانی سے بھرا ہوا پیتل کا ایک برتن لایا گیا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس میں اپنا ہاتھ مبارک رکھ دیا اور اپنی انگلیوں کو کشادہ کر لیا۔میں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگلیوں سے پانی پھوٹ رہا ہے۔ پھر آپ نے ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فرمایا: وضو کے پانی اور اللہ کی طرف سے نازل ہونے والی برکت کی طرف آؤ۔ اعمش کہتے ہیں : مجھے سالم بن ابی جعد نے بتایا کہ انہوں نے جابربن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا: اس دن لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے بتایا: ہم پندرہ سو (1500) تھے۔

11295

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11295

Sahih

۔ (۱۱۲۹۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَصْبَحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَلَیْسَ فِی الْعَسْکَرِ مَائٌ، فَأَتَاہُ رَجُلٌ فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! لَیْسَ فِی الْعَسْکَرِ مَائٌ، قَالَ: ((ھَلْ عِنْدَکَ شَیْئٌ؟)) قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَأْتِنِیْ بِہِ۔)) قَالَ: فَأَتَاہُ بِإِنَائٍ فِیْہِ شَیْئٌ مِنْ مَّائٍ قَلِیْلٍ، قَالَ: فَجَعَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَصَابِعَہُ فِی فَمِ الْإِنَائِ وَفَتَحَ أَصَابِعَہُ، قَالَ: فَانْفَجَرَتْ مِنْ بَیْنِ أَصَابِعِہِ عُیُوْنٌ، وَأَمَرَ بِلَالاً فَقَالَ: ((نَادِ فِی النَّاسِ الْوَضُوْئَ الْمُبَارَکَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۶۸)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدناعبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس حال میں صبح کی کہ لشکر میں (لوگوں کے پاس اپنی ضروریات کے لیے) پانی (بالکل ) نہ تھا۔ ایک آدمی نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آکر عرض کیا: اللہ کے رسول! لشکرمیں پانی بالکل نہیںہے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: کیا تمہارے پاس کچھ پانی ہے؟ اس نے عرض کیا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم وہ پانی میرے پاس لاؤ۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: وہ ایک برتن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لایا گیا، جس میں تھوڑا سا پانی تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی انگلیاں برتن کے منہ میں ڈال کر انگلیوں کو ذرا کھولا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے پانی کے چشمے پھوٹ پڑے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بلال کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں اعلان کر دیں کہ وضو کے لیے بابرکت پانی موجود ہے۔

11296

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11296

Sahih

۔ (۱۱۲۹۶)۔ عَنْ حُمَیْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: نُوْدِیَ بِالصَّلَاۃِ، فَقَامَ کُلُّ قَرِیْبِ الدَّارِ مِنَ الْمَسْجِدِ وَبَقِیَ مَنْ کَانَ أَھْلُہُ نَائِیَ الدَّارِ، فَأُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِمِخْضَبٍ مِنْ حِجَارَۃٍ فَصَغُرَ أَنْ یَّبْسُطَ أَکُفَّہُ فِیْہِ، قَالَ: فَضَمَّ أَصَابِعَہٗ،قَالَ: فَتَوَضَّأَبَقِیَّتُہُمْ۔ قَالَ حُمَیْدٌ: وَسُئِلَ أَنَسٌ: کَمْ کَانُوْا؟ قَالَ: ثَمَانِیْنَ أَوْزِیَادَۃً۔ (مسند احمد: ۱۲۰۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نماز کے لیے آواز دی گئی، جن لوگوں کے گھر مسجد کے قریب تھے، وہ سب اٹھ کر گھروں کو چلے گئے، (تاکہ وضو کر کے آئیں)۔ صرف وہ لوگ رہ گئے جن کے گھر مسجد سے دور تھے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں پتھر کا ایک چھوٹا سا برتن لایا گیا، وہ اس قدر چھوٹا تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس میں ہتھیلی کو نہ پھیلا سکے۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے انگلیوں کو آپس میں ملالیا، سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: سب لوگوں نے وضوء کر لیا۔ حمید کہتے ہیں: سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا گیا کہ آدمی کتنے تھے؟ انہوں نے بتایا کہ اسییا اس سے کچھ زائد افراد تھے۔

11297

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11297

Sahih

۔ (۱۱۲۹۷)۔ عَنْ قَتَادَۃَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، أَنَّّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ بِالزَّوْرَائِ، فَأُتِیَ بِإِنَائٍ فِیْہِ مَائٌ لَا یَغْمُرُ أَصَابِعَہٗ،فَأَمَرَأَصْحَابَہُأَنْیَّتَوَضَّؤُوْا، فَوَضَعَ کَفَّہُ فِی الْمَائِ، فَجَعَلَ الْمَائُ یَنْبُعُ مِنْ بَیْنِ أَصَابِعِہِ وَأَطْرَافِ أَصَابِعِہِ حَتّٰی تَوَضَّأَ الْقَوْمُ، قَالَ: فَقُلْتُ لِأَنَسٍ: کَمْ کُنْتُمْ؟ قَالَ: کُنَّا ثَلَاثَمِائَۃٍ۔ (مسند احمد: ۱۲۷۷۲)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم زوراء مقام پر تشریف فرما تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں ایک برتن لایا گیا، جس میں محض اس قدر پانی بھی نہیں تھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگلیاں اس میں ڈوب جاتیں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے صحابہ کو وضو کرنے کا حکم دیااور اپنی ہتھیلی پانی میں رکھ دی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگلیوں کے درمیان سے اور ان کے کناروں سے پانی نکلنے لگا، یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضوء کر لیا۔ قتادہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے دریافت کیا : آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے بتایا: ہم تین سو تھے۔

11298

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11298

Sahih

۔ (۱۱۲۹۸)۔ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ، قَالَ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَحَانَتْ صَلَاۃُ الْعَصْرِ، فَالْتَمَسَ النَّاسُ الْوَضُوْئَ فَلَمْ یَجِدُوْا، فَأُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِوَضُوْئِہِ، فَوَضَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی ذٰلِکَ الْإِنَائِ یَدَہٗ وَأَمَرَ النَّاسَ أَنْ یَتَوَضَّؤُوْا مِنْہُ، فَرَأَیْتُ الْمَائَ یَنْبُعُ مِنْ تَحْتِ أَصَابِعِہِ، فَتَوَضَّأَ النَّاسُ حَتّٰی تَوَضَّؤُوْا مِنْ عِنْدِ آخِرِھِمْ۔ (مسند احمد: ۱۲۳۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ عصر کی نماز کے وقت میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو دیکھا، لوگوں نے وضو کرنے کے لیے پانی تلاش کیا، مگر انہیں پانی نہ مل سکا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا وضوء کرنے کا پانی پیش کیا گیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک اس برتن میں رکھا اور لوگوں کو حکم دیا کہ وہ اس پانی سے وضوء کریں۔میں نے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگشت ہائے مبارکہ کے نیچے سے پانی پھوٹتے دیکھا، لوگوں نے وضو کرنا شروع کیا،یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضو کر لیا۔

11299

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11299

Sahih

۔ (۱۱۲۹۹)۔ عَنْ ثَابِتٍ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: حَدِّثْنَا یَا أَبَا حَمْزَۃَ مِنْ ھٰذِہِ الْأَعَاجِیْبِ شَیْئًا شَہِدْتَّہُ لَا تُحَدِّثُہُ عَنْ غَیْرِکَ، قَالَ: صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صَلَاۃَ الظُّہْرِ یَوْمًا، ثُمَّ انْطَلَقَ حَتّٰی قَعَدَ عَلَی الْمَقَاعِدِ الَّتِی کَانَ یَأْتِیْہِ عَلَیْہَا جِبْرِیْلُ علیہ السلام ، فَجَائَ بِلَالٌ فَنَادَاہُ بِالْعَصْرِ، فَقَامَ کُلُّ مَنْ کَانَ لَہُ بِالْمَدِیْنَۃِأَھْلٌ یَقْضِی الْحَاجَۃَ وَیُصِیْبُ مِنَ الْوَضُوْئِ، وَبَقِیَ رِجَالٌ مِنَ الْمُہَاجِرِیْنَ لَیْسَ لَھُمْ أَھَالِی بِالْمَدِیْنَۃِ، فَأُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِقَدْحٍ أَرْوَحَ فِیْہِ مَائٌ، فَوَضَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَفَّہُ فِی الْإِنَائِ فَمَا وَسِعَ الْإِنَائُ کَفَّ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقَالَ بِہٰؤُلائِ الْأَرْبَعِ فِی الْإِنَائِ، ثُمَّ قَالَ: ((أُدْنُوْا فَتَوَضَّئُوْا۔)) وَ یَدُہُ فِی الْإِنَائِ، فَتَوَضَّؤُوْا حَتّٰی مَا بَقِیَ مِنْہُمْ أَحَدٌ إِلَّا تَوَضَّأَ۔ قَالَ: قُلْتُ: یَا أَبَا حَمْزَۃَ! کَمْ تَرَاھُمْ؟ قَالَ: بَیْنَ السَّبْعِیْنَ وَالثَّمَانِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

ثابت سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں:میں نے سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: اے ابو حمزہ! آپ ہمیں ان عجیب باتوں (یعنی معجزات) میں سے کچھ ایسے معجزات بیان فرمائیں جو آپ نے خودملاحظہ کئے ہوںاور وہ آپ کسی دوسرے سے روایت نہ کرتے ہوں۔ انہوں نے کہا: ایک دن رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم چل کر ان مقامات پر جا بیٹھے، جہاں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں جبریل علیہ السلام آیا کرتے تھے۔ اتنے میں سیدنا بلال ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے آکر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو عصر کی نماز کے لیے آواز دی۔ (یہ سن کر)جن لوگوں کے رہائش گاہیں مدینہ منورہ میں تھیں، وہ سب اپنے اپنے گھروں میں چلے گئے تاکہ قضائے حاجت کرکے باوضو ہو کر آئیں، کچھ مہاجرین جن کے اہل و عیال مدینہ منورہ میں نہ تھے، وہ رہ گئے۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس پانی کا ایک کھلا برتن لایا گیا۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی مبارک ہتھیلی اس میں رکھ دی۔مگر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی ہتھیلی برتن میں پوری نہ آسکی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے چار انگلیاںاکٹھی کرکے برتن میں رکھ دیں اور فرمایا: قریب آجاؤاور وضو کرلو۔ اس دوران آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ہاتھ برتن میں ہی رہا، یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضو کر لیا۔ میں نے دریافت کیا: ابو حمزہ! کیا خیال ہے وہ کتنے لوگ تھے؟ انہوں نے جواب دیا: ستر سے اسی کے درمیان تھے۔

11300

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #11300

Sahih

۔ (۱۱۳۰۰)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌، قَالَ: غَزَوْنَا أَوْ سَافَرْنَا مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَنَحْنُ یَوْمَئِذٍ بِضْعَۃَ عَشَرَ وَمِائَتَانِ، فَحَضَرَتِ الصَّلَاۃُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((ھَلْ فِی الْقَوْمِ مِنْ مَائٍ؟)) فَجَائَ رَجُلٌ یَسْعٰی بِإِدَاوَۃٍ فِیْہَا شَیْئٌ مِنْ مَائٍ، فَصَبَّہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فِی قَدَحٍ، قَالَ: فَتَوَضَّأَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَأَحْسَنَ الْوُضُوْئَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَتَرَکَ الْقَوْمَ، فَرَکِبَ النَّاسُ الْقَدَحَ یَمْسَحُوْا وَیَمْسَحُوْا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((عَلٰی رِسْلِکُمْ۔)) حِیْنَ سَمِعَہُمْ یَقُوْلُوْنَ ذٰلِکَ، قَالَ: فَوَضَعَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَفَّہٗفِی الْمَائِ وَالْقَدَحِ، ثُمَّ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بِسْمِ اللّٰہِ۔)) ثُمَّ قَالَ: ((أَسْبِغُوْا الْوُضُوْئَ۔)) فَوَالَّذِیْ ہُوَ ابْتَلَانِی بِبَصَرِیْ! لَقَدْ رَأَیْتُ الْعُیُوْنَ، عُیُوْنَ الْمَائِ یَوْمَئِذٍ تَخْرُجُ مِنْ بَیْنِ أَصَابِعِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَتّٰی تَوَضَّؤُوْا أَجْمَعُوْنَ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدناجابر بن عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہمراہ ایک غزوہ یا سفر میں تھے، ہماری تعداد دو سو دس سے کچھ زائد تھی، اسی دوران نماز کا وقت ہوگیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے دریافت فرمایا: کیا کسی کے پاس پانی ہے؟ (یہ سن کر) ایک آدمی دوڑتا ہوا ایک برتن لے کر آیاجس میں معمولی سا پانی تھا۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے وہ پانی ایک پیالہ میں انڈیلا اور خوب اچھی طرح وضو کیا۔ اس کے بعد آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پیچھے کو ہٹ گئے اور لوگوں کو وہیں رہنے دیا، سب لوگ پیالے کے قریب اکٹھے ہوگئے اور پانی کو چھونے لگے۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان لوگوں کا ازدحام اور شور دیکھا تو فرمایا: حوصلہ کرو۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی ہتھیلی پانی اور پیالے میں رکھی اور فرمایا: بسم اللہ۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وضوء مکمل کرو۔ (جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں کہ) اس ذات کی قسم جس نے مجھے بصارت کے متعلق آزمائش میں ڈالا ہے: اس دن میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی انگشت ہائے مبارکہ کے درمیان سے پانی کے چشمے رواں دیکھے،یہاں تک کہ سب لوگوں نے وضوء کر لیا۔